محمد اسامہ سَرسَری

لاگ اِن ہوکر 100 کوائنز مفت میں حاصل کریں۔

صفات و ذات میں کچھ تو خدا کا خوف کریں
خدا کی بات میں کچھ تو خدا کا خوف کریں

خیال آپ کو انسانیت کا کتنا ہے
الٰہیات میں کچھ تو خدا کا خوف کریں

“خدا نہیں ہے” ، “خدا ہے” میں احتیاط ہے کیا
مسلّمات میں کچھ تو خدا کا خوف کریں

خدا سہارا ہے ہر ایک بے سہارا کا
حوادثات میں کچھ تو خدا کا خوف کریں

اٹھی ہوئی اسی انگلی میں غور کیجے ذرا
مشاہدات میں کچھ تو خدا کا خوف کریں

تمھارے پاس بھی مفروضے کے سوا کیا ہے
مکالمات میں کچھ تو خدا کا خوف کریں

“ہر ایک بات ہمیں وہ نہیں بتاتا کیوں؟”
مطالبات میں کچھ تو خدا کا خوف کریں

یہ آسماں ہی ذرا دیکھ کر بتائیں نا
ترقیات میں کچھ تو خدا کا خوف کریں

قسم خدا کی فقط ایک زندگی ہے ملی
اس اک حیات میں کچھ تو خدا کا خوف کریں

خدا، رسول، عقیدہ، اسامہ! رکیے ذرا
مقدسات میں کچھ تو خدا کا خوف کریں

شاعر:
محمد اسامہ سَرسَری