کچھ پروں کو ملا کے رکھا ہے
کچھ پروں کو ملا کے رکھا ہے
گھونسلہ یوں بنا کے رکھا ہے
جا لپکتا ہے ہر حسینہ کو
دل کو سر پر چڑھا کے رکھا ہے
دل نہیں ملتے بھائیوں کے جب
کیوں گھروں کو ملا کے رکھا ہے
ایک باغی نے اس بغاوت میں
سر بھی اپنا کٹا کے رکھا ہے
روگ جیسا بھی تھا محبت کا
ہم نے دل سے لگا کے رکھا ہے
زخم اپنے چھپا نہیں پاۓ
راز تیرا چھپا کے رکھا ہے
اک نشیلی سی آنکھ نے یارو
ہوش سب کا اڑا کے رکھا ہے
شاعر: