محمد اسامہ سَرسَری

لاگ اِن ہوکر 100 کوائنز مفت میں حاصل کریں۔

گُلِ حریف تری زلف کی پناہ میں ہے

گُلِ حریف تری زلف کی پناہ میں ہے
عجب چراغِ رقابت شبِ سیاہ میں ہے
۔
دوآتشہ ہے یہ شعلہ جو میری آہ میں ہے
کہ میرے ساتھ مرا خواب قتل گاہ میں ہے
۔
کہیں اسے ہی نہ کہتے ہوں صورِ اسرافیل
عجیب شورِ قیامت دلِ تباہ میں ہے
۔
فصیلِ چشم پہ کتنے چراغ روشن ہیں
کوئی تو ہے جو ابھی دل کی خانقاہ میں ہے
۔
سنبھل کے تیر چلا، دل پہ لگ نہ جائے کہیں
یہ ایک تیرا سپاہی مری سپاہ میں ہے
۔
اثر نہ ہو کسی صحرا نورد کا ان پر
یہ اضطرابِ مسلسل جو مہر و ماہ میں ہے
۔
کچھ اور ہے تو کبھی سامنے وہ لے آئیں
یہ عرش و فرش تو کب سے مری نگاہ میں ہے
۔
اُڑی ہوئی ہیں ہوا کی ہوائیاں بھی جمال
کہ اک چراغ ابھی تک مری پناہ میں ہے