محمد اسامہ سَرسَری

لاگ اِن ہوکر 100 کوائنز مفت میں حاصل کریں۔

وفا کی راہ پر بزدل کبھی جایا نہیں کرتے

وفا کی راہ پر بزدل کبھی جایا نہیں کرتے
کہ اس پر جانےوالے لوٹ کر آیانہیں کرتے

بنا دیتا ہے مردہ ، غم کسی کے چھوڑ جانے کا
کہ پتے چھوڑ جائیں تو شجر سایہ نہیں کرتے

یہ بِن سوچے گزرجاتےہیں اپنی جان سے اکثر
ارےواعظ وفا والوں کو سمجھایا نہیں کرتے

محبت کی ریاست کا ہراک دستور  انوکھا ہے
خزاں میں بھی وفا کے پھول مرجھایانہیں کرتے

یہی ہے سنت ِ صدیق چاہے سانپ بھی ڈس لے
کوئی سویا ہو جھولی میں تو چلایا نہیں کرتے


بھری محفل میں زائر کیوں کیا اظہار چاہت کا
ارے پاگل یہ باتیں سب کو بتلایانہیں کرتے

شاعر: