محمد اسامہ سَرسَری

لاگ اِن ہوکر 100 کوائنز مفت میں حاصل کریں۔

آغاز ہی میں کہہ گیا وہ بات آخری

آغاز ہی میں کہہ گیا وہ بات آخری
ہونا ہی تھی یہ پہلی ملاقات آخری
کہہ دو امیرِ شہر کو بس ہو چکی بہت
اس شہر میں فقیر کی ہے رات آخری
جس دن عدو کو جان کے لالے پڑے رہے
ترکش میں اہنے تیر تھا اُس رات آخری
لایا گیا تھا دار پہ بارانِِ سنگ میں
اس شہر کی جو شخص تھا سوغات آخری
اب کے خروشِ ابر سے پرواز یوں لگا
ان بستیوں پہ جیسے ہو برسات آخری

شاعر: