پرانے زخموں پہ رکھ کے مرہم ،نیا ہی منظر دکھا رہی ہیں
پرانے زخموں پہ رکھ کے مرہم ،نیا ہی منظر دکھا رہی ہیں
بہاریں ہم کو نجانے کیوں کرچمن میں پھر سے بلا رہی ہیں
اسی چمن کی عنایتوں سے ہوا تھا چھلنی یہ سینہ میرا
کتابِ ماضی کی تلخ یادیں لہو کے آنسو رلا رہی ہیں
یہ سِحر کیساہوا ہےمجھ پر کہ چل پڑاہوں میں اس نگرپھر
کہ جسکی گلیاں بھی خوں سےمیرےقدم قدم پرنہارہی ہیں
جنابِ منصف کاامتحاں ہےکہ حق میں کس کےوہ فیصلہ دے
یہ بلبلیں تو سب ایک گل پر جوحق کو اپنے جتارہی ہیں
فقط ہمی ہیں جو تشنہ لب ہیں وگرنہ محفل کا یہ ہے عالم
نگاٸیں ان کی ہر ایک طالب کو جامِ الفت پلا رہی ہیں
میں ایک مدت سےلطف و راحت کےنام کو بھی ترس رہا تھا
سفید جوڑےمیں لپٹی یادیں اب آکے مجھ کوسلا رہی ہیں
نہاں ہیں چہروں پہ اشک سب کےبچھی ہےماتم کی صف یہاں پر
مری یہ نظمیں ٗ یہ میری غزلیں فسانہ غم کا سنا رہی ہیں
ترانے غیروں کے جاری لب پر ہیں دیکھو ان کا تماشا داٸم
نٸی یہ نسلیں تو اپنے آبا ٕ کی شہرتوں کو بھلا رہی ہیں