لگا ہوا ہوں میں اسکا بھی حل نکالوں گا
لگا ہوا ہوں میں اسکا بھی حل نکالوں گا
تمھاری یاد کا نعم البدل نکالوں گا
تمھارے ہجر کی کثرت سے میں توانا ہوں
مجھے یقین ہے صحرا سے جل نکالوں گا
کرشمہ سازیِ انساں سے کچھ بعید نہیں
ازل ابد سے ابد سے ازل نکالوں گا
یہ عشق مجھ سے نکمے کے بس کی بات نہیں
ترے دماغ سے یہ بھی خلل نکالوں گا
اداس شام کا نقشہ ابھی بھی ازبر ہے
میں اطمینان سے تازہ غزل نکالوں گا