جگمگاتے گہر آؤ مل کر چنیں
مسکرا کر پڑھیں ، مسکرا کر سنیں
کونسی بات پر ، کس جگہ ، کس گھڑی
مسکرائے نبی ، مسکرائے نبی (ﷺ)
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
سب سے آخر میں نکلے گا جو آگ سے
دے گا جنت خدا مسکرا کر اُسے
راوی اس بات کے مسکرائے سبھی
مسکرائے نبی ، مسکرائے نبی(ﷺ)
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
شامِ عرفات میں مغفرت کی دعا
کر رہے تھے ہمارے لیے مجتبٰی(ﷺ)
اُس گھڑی دیکھ کر زاری ابلیس کی
مسکرائے نبی ، مسکرائے نبی(ﷺ)
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دودھ کا جام برکت سے بھرتے رہے
اہلِ صفّہ کو سیراب کرتے رہے
بوہریرہؓ سے فرماکے ”لے تو بھی پی“
مسکرائے نبی ، مسکرائے نبی(ﷺ)
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
شاہی جوڑا کیا زیبِ تن آپ(ﷺ) نے
تب کسی نے کہے شعر کچھ سامنے
راحتِ دو جہاں خوش ہوئے خوب ہی
مسکرائے نبی ، مسکرائے نبی(ﷺ)
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
سب جھکاتے نظر ، آتے جب مصطفٰی(ﷺ)
پیارے بوبکرؓ ، پیارے عمرؓ کے سوا
دونوں تکنے لگے باندھ کر ٹکٹکی
مسکرائے نبی ، مسکرائے نبی(ﷺ)
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
پڑھ رہے تھے نماز ایک دن مصطفٰی(ﷺ)
تب گزر جبرئیلِ امیں کا ہوا
مسکراہٹ سی جبریل کو آگئی
مسکرائے نبی ، مسکرائے نبی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جنگِ احزاب میں جب نبی(ﷺ) نے سنا
قصّہ حضرت حذیفہ کی جاسوسی کا
پیارے دندان سے اِک چمک سی اٹھی
مسکرائے نبی ، مسکرائے نبی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بنتِ احمد(ﷺ) کا جب رب نے چاہا نکاح
شجرِ طوبی سے پروانے گرنے لگے
فاطمہؓ اور علیؓ کی بشارت ملی
مسکرائے نبی ، مسکرائے نبی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
آخری دن تھا حضرت(ﷺ) کا دنیا میں جب
دیکھا ، اصحاب سب پڑھ رہے ہیں نماز
ہر جگہ روشنی آئی اے سَرسَری!
مسکرائے نبی ، مسکرائے نبی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
2008ء