محمد اسامہ سَرسَری

لاگ اِن ہوکر 100 کوائنز مفت میں حاصل کریں۔

بلا کی تھیں ذہیں امِّ عُمَارہ
رہیں خندہ جبیں امِّ عُمَارہ

کیا اسلام پر سب کچھ ہی قرباں
رہِ حق میں جمیں امِّ عُمَارہ

سرِ میدان پانی زخمیوں کو
پلاتی ہی رہیں امِّ عُمَارہ

سدا کفار کے چھکے چھڑائے
شجاعت سے لڑیں امِّ عُمَارہ

مصائب کرتی تھیں برداشت ، ہمت
کبھی ہاری نہیں امِّ عُمَارہ

اسامہ! نظم کا ہے یہ خلاصہ
سعادت مند تھیں امِّ عُمَارہ