باتیں بنانے والے باتیں بنا رہے ہیں
باتیں بنانے والے باتیں بنا رہے ہیں
کرکے دکھانے والے کرکے دکھا رہے ہیں
دوزخ کو جانے والے دوزخ کو جارہے ہیں
جنت میں آنے والے جنت میں آرہے ہیں
روزہ، نماز، صدقہ، دعوت۔جہاد، سب میں
حصہ ملانے والے حصہ ملا رہے ہیں
تنقید کر رہے ہیں اے سی میں سونے والے
رب کو منانے والے رب کو منارہے ہیں
اے زر، زمیں کے عاشق! فتحِ مبیں کی خاطر
خود کو مٹانے والے خود کو مٹارہے ہیں
دنیا کی ظلمتوں میں خونِ جگر سے اپنے
مشعل جلانے والے مشعل جلارہے ہیں
محشر میں آج اسامہ! ہاتھوں میں لے کے نامہ
سب کو دکھانے والے سب کو دکھارہے ہیں
شاعر:
محمد اسامہ سَرسَری