محمد اسامہ سَرسَری

لاگ اِن ہوکر 100 کوائنز مفت میں حاصل کریں۔

میں ظلمتِ شب میں دیپ بن کر، یہ فرض اپنا نبھا رہا ہوں

میں ظلمتِ شب میں دیپ بن کر، یہ فرض اپنا نبھا رہا ہوں
کہ بھولے بھٹکے مسافروں کو، نشانِ منزل دکھا رہا ہوں

شکستہ پا ہیں نحیف راہی، حسین منزل ہے دور لیکن
میں تھک کے ٹوٹے مسافروں کا، متاعِ ہمت بندھا رہا ہوں

وہ جو مقدر کے تھے سکندر، نصیب اپنے کو رو رہے ہیں
میں ایسے عالی صفات لشکر کو پھر سے لڑنا سکھا رہا ہوں

بساط عالم پہ اپنی چالوں سے جو جفا کار حملہ کش ہیں
میں ان درندوں کو اپنی ہستی میں بند رہنا سکھا رہا ہوں

وہ آبِ آتش لباس جس نے دوام بخشا ہے بدّوؤں کو
میں ہندی بادہ کشوں کو شاکر مئے حجازی پلا رہا ہوں

شہِ مدینہ کی رہبری میں، درخشاں ہوگی حیات اپنی
کتاب سیرت کے بھولے بسرے سبق جہاں کو پڑھا رہا ہوں

اگرچہ مایوس ہیں مسافر، مگر میسر ہے طورِ مضطر
کلیم موسی کا درد شاکر، حجازی لے میں سنا رہا ہوں

شاعر:
حکیم شاکر فاروقی