کسی بھی زبان کو بولتے ہوئے اُس زبان کے آداب کا خیال رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ ورنہ آپ بے ادب اور زبان کے نہ جاننے والے کہلائیں گے۔ مثال کے طور پر بات کرتے ہوئے اپنے مخاطب کا لحاظ رکھ کر بولنا آداب میں سے ہے۔ اسی طرح اپنی طرف کمتر کی اور مخاطب کی طرف برتر کی نسبت بھی آداب میں سے ہے، درج ذیل کچھ باتیں کل ایک کمنٹ کی وجہ سے ذہن میں آگئیں تو پیش خدمت ہیں:
۔۔۔
زینت بخشنا اور چار چاند لگانا:
ہمارے رسالے میں اکثر خطوط میں، اپنی تحریروں کے لیے لکھا جاتا ہے کہ انھیں شائع کرکے رسالے کو زینت بخشیے یا یہ کہ انھیں شائع کر کے رسالے کو چار چاند لگائیے۔ ایسا اگر مزاحاً لکھا جائے تو خیر کوئی بات نہیں، لیکن اُسلوب سے تو اکثر یہی لگتا ہے کہ لکھنے والے نے سنجیدگی سے ایسا لکھا ہے، سو عرض یہ ہے کہ اپنی تحریر کے بارے میں خود سے ایسا کہنا یا لکھنا بالکل مناسب نہیں۔ یہ فیصلہ تو قابلِ اشاعت ہونے کی صورت میں مدیر اور پھر قارئین کریں گے کہ آپ کی تحریر کی اشاعت سے رسالے کو چارچاند لگے ہیں یا خود آپ کی تحریر کو…؟!
اپنے کسی بھی کام کو خود سے شاندار، شاہکار اور باکمال کہنا کوئی اچھی بات نہیں، ہاں البتہ کبھی کبھی اللہ تعالیٰ کے حکم ’’تحدیث بالنعمتہ‘‘ کے طور پر اللہ جل شانہ ہی کی طرف نسبت کرتے ہوئے خود کو ملی کسی نعمت یا صلاحیت کا عجزو انکسار کے ساتھ اعتراف کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ایک الگ بات ہے۔
۔۔۔
صاحب، صاحبزادہ، مولانا اور حاجی:
خود کو صاحب کہنا، اپنے بیٹے کو خود ہی صاحبزادہ کہہ کر متعارف کروانا، خود اپنے نام کے ساتھ مولانا، مخدوم اور حاجی لگانا بھی اسی طرح غلط ہے کہ یہ خود اپنے منہ میاں مٹھو بننے والی بات ہے۔ البتہ یہاں دوسری انتہا بھی رائج ہے، اپنے لیے احقر، بدکار، پرتقصیر کا راگ الاپے جانے کی، یہ بھی عجیب ہی ہے۔ سیدھا نام بتائیے۔
۔۔۔
دولت کدہ اور غریب خانہ:
اپنے گھر کو دولت کدہ اور دوسروں کے گھر کو غریب خانہ کہنا بھی اسی طرح بری بات ہے۔ یونہی اپنی تشریف نہیں ہوا کرتی، تشریف دوسرے لاتے ہیں، خود تو بندہ بس حاضر ہوتا ہے۔ نیز اپنی خدمت میں پیش نہیں کیا جاتا۔
نیز ملاقات کے شائق احباب سے یہ کہنا کہ ’’میں کوشش کروں گا کہ جلد آپ لوگوں کو وقت دے سکوں‘‘ بھی مناسب طرز نہیں، بلکہ اس کے برعکس کہنا چاہیے کہ ’’کوشش ہوگی کہ آپ لوگوں سے وقت لے کر زیارت کرسکوں!‘‘
۔۔۔
جیتے رہیے اور آداب:
ویسے تو ممنونیت اور شکریے کے اظہار کے لیے سب سے بہتر مسنون دعا ہی ہے: یعنی ’’جزاک اللہ خیراً‘‘ کہنا، لیکن عام طور پر بڑے اپنے چھوٹوں کو بطور شکریہ ’’جیتے رہیے‘‘ کی دعا دیتے ہیں اور چھوٹے بڑوں کو ’’آداب‘‘ کہتے ہیں، ہم نے مگر اِس کے برعکس بھی سنا ہے کہ چھوٹے بڑوں کو شکریے کے طور پر ’’جیتے رہیے‘‘ کہہ رہے ہیں اور بڑے چھوٹوں کو ’’آداب‘‘! ظاہر ہے یہ مناسب نہیں۔
۔۔۔
درخواست اور حکم:
ادب کا تقاضا ہے کہ عمر و مرتبے میں چھوٹے اپنے بڑوں سے کسی بات کی درخواست کریں، مثلاً دعا کی،
مگر جو بڑے ہیں انھیں بہرحال یہ نہیں کہنا چاہیے کہ فلاں نے ہم سے دعا کی درخواست کی ہے۔ اگر ازراہِ انکسار’’فلاں نے دعا کا حکم دیا ہے‘‘ کہنا آپ کو اچھا نہیں لگ رہا تو چلیں یہ کہہ دیں کہ ’’فلاں نے دعا کا کہا ہے۔‘‘
۔۔۔
ہدیہ اور عطیہ:
یہ دونوں مرادف الفاظ ہیں، مگر معنوی فرق رکھتے ہیں، جسے عموماً قارئین ایک ہی معنی میں لکھتے بولتے ہیں۔ یاد رکھیے کہ ادنیٰ سے اعلیٰ یعنی چھوٹا بڑے کو کچھ دے تو وہ تحفہ ہدیہ کہلاتا ہے، جب کہ اعلیٰ سے ادنیٰ،یعنی بڑا آدمی اپنے سے چھوٹے کو کچھ دے تو وہ انعام یا عطیہ کہلاتا ہے۔ یہاں چھوٹے بڑوں کو انعام دے رہے ہوتے ہیں!
۔۔۔
عرض کرنا اور فرمانا:
یہ غلطی پہلے کی نسبت کم دیکھنے میں آتی ہے۔
ادب کا تقاضا یہ ہے کہ چھوٹے چاہے عمر میں چھوٹے ہوں یا مرتبے میں، بڑوں سے عرض کرتے ہیں، اور بڑے چھوٹوں سے ’فرماتے‘ ہیں۔
جیسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا، جب کہ صحابہ نے حضور سے عرض کیا۔ اسی طرح صحابی رسول نے تابعی سے فرمایا اور تابعی نے صحابی سے عرض کیا وغیرہ۔
۔۔۔
اب ہمارا خیال ہے کہ آپ احباب سے مزید ’فرمانا‘ بند کر دیں۔ بس آپ سب ہمیں ’ہدیہ‘ دینے کے بارے میں عزم کرتے ہوئے چاہیں تو کمنٹ سیکشن میں کچھ عرض کرلیں۔ 😉🙃