اردوچہ

اس پیج کی کسی بھی کاوش کی کسی بھی عبارت سے نہ ادارے کا متفق ہونا ضروری ہے، نہ ادارہ ذمہ دار ہے۔ | غیر تخلیقی مواد ڈیلیٹ کردیا جائے گا۔ | نامناسب مواد پوسٹ کرنے والے کو بلاک کردیا جائے گا۔
اس پیج کی کسی بھی کاوش کی کسی بھی عبارت سے نہ ادارے کا متفق ہونا ضروری ہے، نہ ادارہ ذمہ دار ہے۔ | غیر تخلیقی مواد ڈیلیٹ کردیا جائے گا۔ | نامناسب مواد پوسٹ کرنے والے کو بلاک کردیا جائے گا۔
حیدر عباس رضا
مطالعہ باقی ہے
قطعہ آج لکھوا کے اے آئی سے اک غزل میں شریکِ صفِ شاعراں ہو گیا پہلے مصرع میں وہ، دوسرے میں تھا میں ربط میری بلا سے اگر کھو گیا اہلِ تنقید کی نیند اڑی دیکھ کر لوٹ کر داد میں چین سے سو گیا حیدر عباس رضا
حیدر عباس رضا
مطالعہ باقی ہے
کیوں بناتے ہو رہنما ابلیس رب تمھارا خدا ہے یا ابلیس سن کے لا حول بھاگ جاتا ہے کتنا بزدل ہے باخدا ابلیس غفلتوں میں گزر گیا جیون کان بھرتا رہا سدا ابلیس میرے دنیا میں دو ہی دشمن ہیں ایک میں خود ہے دوسرا ابلیس تم کنارے لگو گے کیسے رضا گر ہے کشتی کا نا خدا ابلیس حیدر عباس رضا
محمد اسامہ
مطالعہ باقی ہے
عنوان: مہکتا گلستاں ازقلم: محمد اسامہ (بھکر) زندگی کی وسیع و عریض وادی میں اگر کہیں حقیقی سکون، تحفظ اور محبت کی خوشبو بکھری ملتی ہے تو وہ ماں باپ کے وجود سے پھوٹتی ہے۔ ماں باپ وہ خاموش معمار ہیں جو اپنی خواہشات کی اینٹیں قربانی کی بنیاد میں رکھ کر اولاد کے لیے ایک ایسا گلستاں تعمیر کرتے ہیں، جو عمر بھر مہکتا رہتا ہے۔ یہ گلستاں نہ دکھاوے کا محتاج ہوتا ہے، نہ تعریف کا طلبگار بس اپنی خوشبو سے پہچانا جاتا ہے۔ ماں کی ممتا وہ پہلی خوشبو ہے جو بچے کے شعور سے پہلے اس کے دل میں اترتی ہے۔ اس کی لوریوں میں دعا کی تاثیر ہوتی ہے اور اس کی خاموش راتوں میں جاگنے کی قربانی۔ دوسری جانب باپ وہ تناور درخت ہے جو خود دھوپ میں جلتا ہے مگر اپنی اولاد کو سایہ دیتا ہے۔ اس کی محنت پسینے میں بھیگی ہوتی ہے، مگر زبان پر شکوہ نہیں آتا۔ یہی دونوں مل کر اولاد کی زندگی میں ایک مہکتا گلستاں قائم کرتے ہیں۔ یہ المیہ ہے کہ انسان اس گلستاں کی قدر عموماً اس وقت نہیں کرتا جب وہ پورے جوبن پر ہوتا ہے۔ ہمیں ماں کی دعائیں معمول لگتی ہیں اور باپ کی محنت فرض سمجھ لی جاتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ خوشبو ہمیشہ ہمارے اردگرد رہے گی۔ مگر وقت ایک جیسا نہیں رہتا۔ جب یہ گلستاں خاموش ہو جاتا ہے، تب احساس جاگتا ہے کہ اصل دولت کیا تھی۔ ماں باپ کا زندہ ہونا دراصل زندگی میں بہار کا ہونا ہے۔ ان کی موجودگی میں مشکل راستے بھی آسان محسوس ہوتے ہیں، کیونکہ پیچھے سے دعا کی خوشبو آتی رہتی ہے۔ وہ ہمارے عیب دیکھ کر بھی پردہ رکھتے ہیں، ہماری ٹھوکروں پر بھی حوصلہ دیتے ہیں، اور ہماری کامیابیوں پر ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے ساری دنیا جیت لی ہو۔ اسلام نے ماں باپ کے مقام کو غیر معمولی عظمت عطا کی ہے۔ ان کی خدمت کو عبادت قرار دیا گیا اور ان کی رضا کو اللہ کی رضا سے جوڑا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ جو اولاد اپنے والدین کی قدر کرتی ہے، اس کے نصیب میں سکون اور برکت لکھی جاتی ہے۔ یہ برکت کسی نظر آنے والی دولت کا نام نہیں بلکہ دل کے اطمینان، کردار کی مضبوطی اور زندگی کی آسانیوں کی صورت میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ اور جب ماں باپ اس دنیا سے رخصت ہو جائیں تو ذمہ داری ختم نہیں ہوتی، بلکہ ایک نئے انداز میں شروع ہو جاتی ہے۔ اب دعا، صدقہ اور نیک اعمال کے ذریعے اس گلستاں کو سرسبز رکھنا اولاد کا فرض بن جاتا ہے۔ والدین کے نام پر کیا گیا ایک عملِ خیر دراصل ان کے لیے پانی کی ایک بوند ہے، جو اس گلستاں کو پھر سے مہکا دیتی ہے۔ کسی محتاج کی مدد، کسی یتیم کے سر پر ہاتھ، کسی پریشان حال کو تسلی یہ سب وہ خوشبوئیں ہیں جو والدین کی قبروں تک پہنچتی ہیں۔ اولاد کا اچھا اخلاق، سچائی اور دیانت بھی ماں باپ کے لیے صدقۂ جاریہ بن جاتی ہے۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو نہ مٹی میں دفن ہوتا ہے اور نہ وقت کے ساتھ ختم ہوتا ہے۔ اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان دنیا میں کتنا آگے بڑھا، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے لیے کتنا فائدہ مند ثابت ہوا۔ اگر اولاد اپنے کردار سے معاشرے میں روشنی بانٹتی ہے تو درحقیقت وہ اپنے والدین کے گلستاں میں نئے پھول کھلا رہی ہوتی ہے۔ آخر میں یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ ماں باپ واقعی ایک مہکتا گلستاں ہوتے ہیں۔ اگر وہ ساتھ ہوں تو اس گلستاں کی قدر کرو، اس کی خوشبو کو سنبھال کر رکھو، کیونکہ یہ نعمت بار بار نہیں ملتی۔ اور اگر وہ اس دنیا میں نہ ہوں تو دعا، صدقہ اور نیک اعمال کے ذریعے اس گلستاں کو ہمیشہ سرسبز رکھو۔ یہی اسلام کی تعلیم ہے، اور یہی وہ خوشبو ہے جو نسلوں تک پھیلتی رہتی ہے۔
بنت عطاء اللہ
مطالعہ باقی ہے
میرا ڈائٹ پلان: ایک ’وزنی‘ المیہ میں "گول مٹول" نہیں ہوں، بس یوں سمجھ لیں کہ قدرت مجھ پر ذرا زیادہ ہی مہربان ہے اور میں پھول کر کپا بلکہ ایک چلتا پھرتا غبارہ بنتی جا رہی ہوں۔ اب تک تو سب ٹھیک تھا، لیکن پچھلے ہفتے حد ہو گئی۔ میں بڑے بھائی کے گھر داخل ہوئی تو میرا ننھا بھتیجا دوڑتا ہوا آیا اور مجھے دیکھتے ہی چیخا: "ارے پپا! آپ اتنے جلدی واپس آ گئے؟ اور اتنے موٹے کیسے ہو گئے؟" اب بندہ پوچھے، بھتیجے میاں! پپا اور پھوپھی میں تھوڑا تو فرق رکھو! میں شرم کے مارے زمین میں گڑنے کی جگہ ڈھونڈنے لگی، لیکن وہاں میرے جیسا "جسامتِ فیل" (ہاتھی جیسا جسم) کہاں سما سکتا تھا؟ بس وہیں کھڑے کھڑے عہد کر لیا کہ اب تو "ڈائٹ پلان" نافذ ہو کر رہے گا، چاہے آسمان ٹوٹ پڑے یا بریانی کی دیگ! مشن امپاسیبل: پہلا دن اگلی صبح میں نے بڑے طمطراق سے اپنے مشن کا آغاز کیا۔ ناشتے کی جگہ ایک گلاس نیم گرم پانی میں لیموں کے دو چار قطرے ایسے ڈالے جیسے کسی دشمن کی آنکھوں میں تیزاب ڈال رہی ہوں۔ ساتھ میں ایک "یتیم" سی کھجور کھا کر خود کو تسلی دی کہ "بیٹا! اب تم سمارٹ ہونے والی ہو"۔ لیکن آدھے گھنٹے بعد ہی پیٹ میں چوہوں نے باقاعدہ ’اولمپک گیمز‘ شروع کر دیے۔ اسی دوران کچن سے دیسی گھی کے پراٹھوں اور آملیٹ کی ایسی اشتہا انگیز خوشبو آئی کہ میرے ڈائٹ پلان نے وہیں کھڑے کھڑے دم توڑ دیا۔ دل سے آواز آئی: "پاگل ہے کیا؟ آج تو پہلا دن ہے، ڈائٹ تو کل سے بھی ہو سکتی ہے، پراٹھا ٹھنڈا ہو گیا تو گناہ ملے گا!" بسکٹ، کیک اور میری ’سرجیکل اسٹرائیک‘ دوپہر تک بھوک نے وہ اودھم مچایا کہ مجھے کچن کی الماری میں رکھا بسکٹ کا ڈبہ اور کیک کا ٹکڑا باقاعدہ آوازیں دینے لگا: "آؤ نا! ہمیں کھا کر تو دیکھو، ہم تمہارے پرانے دوست ہیں!" میں نے بھی دیر نہ کی اور دشمن سمجھ کر ان پر ایسی ’سرجیکل اسٹرائیک‘ کی کہ چشمِ زدن میں میدان صاف کر دیا۔ جب میں فاتحانہ انداز میں بتیسی نکال کر کمرے سے نکلی تو گھر والے مجھے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے میں کوئی ڈائٹ پلان نہیں بلکہ کوئی ’کامیڈی شو‘ چلا رہی ہوں۔ بریانی بمقابلہ ایلفی (Elfy) رات کو ارادہ تھا کہ صرف مونگ کی دال کا سوپ پیوں گی، لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ امی نے جب تیکھی، خوشبودار اور رنگین بریانی دسترخوان پر سجائی تو میرا ضبط جواب دے گیا۔ میں اپنی جگہ پر ایسے چپک کر بیٹھ گئی جیسے کسی نے مجھے ’ایلفی‘ لگا کر جوڑ دیا ہو۔ سب کے سونے کے بعد جب سناٹا چھایا تو میرے پیٹ کے خالی برتن نے "باغیانہ نعرے" لگانا شروع کر دیے۔ آخر کار، میں نے دبے پاؤں کچن کا رخ کیا اور بریانی کی ایک ’پہاڑ نما‘ پلیٹ، چار پانچ کباب اور ایک پیالہ کسٹرڈ ایسے ہڑپ کیا جیسے یتیموں کا مال ہو! بستر پر لیٹتے ہوئے خود کو تسلی دی: "ڈائٹ پلان تو کل سے پکا ہے!" پھلوں کا قتلِ عام اگلے دن میں نے سوچا کہ چلو روٹی نہیں کھاتی، صرف پھل کھاتی ہوں۔ پھر کیا تھا؟ درجن بھر کیلے، پانچ آم، مٹھی بھر کھجوریں، دو کلو کینو اور ایک پپیتا ’ہلکے پھلکے ناشتے‘ کی نذر ہو گئے۔ ابھی میں ڈکار بھی نہ لے پائی تھی کہ خالہ کے گھر سے ’نان اور اچار گوشت‘ آ گیا۔ میرے منہ میں تو جیسے سیلاب آگیا۔ میں نے وہ نان اور گوشت ایسے صفایا کیا کہ برتن بھی چمک اٹھے تاکہ ثبوت مٹائے جا سکیں۔ جب خالہ نے پوچھا تو امی مجھے ایسے گھورنے لگیں جیسے میں نے کوئی قومی خزانہ لوٹ لیا ہو۔ حرفِ آخر: بے وفا ڈائٹ اسی طرح "کل" کرتے کرتے تین ماہ بیت گئے۔ کل ایک دعوت پر جانا تھا، میں نے الماری سے اپنے تمام خوبصورت جوڑے نکالے۔ لیکن افسوس! وہ کپڑے تھے یا کسی غریب کے ارمان، مجھ پر آنے کو تیار ہی نہ تھے۔ جو جوڑا پہنتی، ایسا لگتا جیسے کسی نے گندم کی بوری پر غلاف چڑھا دیا ہو یا کوئی ’سومو پہلوان‘ غلطی سے فیشن شو میں آ گیا ہو۔ امی نے طنزیہ پوچھا: "بی بی! تمہارے اس ڈائٹ پلان کا کیا ہوا جس کا تم ڈھنڈورا پیٹ رہی تھیں؟" میں نے معصومیت سے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا: "امی! میرا ڈائٹ پلان بالکل اس ’بے وفا محبوب‘ جیسا نکلا جو وعدے تو بہت کرتا ہے پر نبھاتا ایک بھی نہیں! میں نے تو روز پتلے ہونے کے خواب دیکھے، مگر کھانے کے ساتھ ایسی سچی محبت ہے کہ بے وفائی کرنا ہمیں آتا ہی نہیں!"
محمد صادق
مطالعہ باقی ہے
مضمون، مزاج اور فیصلے .... ایک باطنی جائزہ یہ ایک متفرق سی مگر اہم بات ہے کہ ہر انسان کا مضمون بیان کرنے کا انداز ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کوئی مضمون کو سمیٹتا ہے، کوئی پھیلاتا ہے، کوئی فیصلہ دیتا ہے، اور کوئی سوالات چھوڑ دیتا ہے۔ درحقیقت یہ فرق کسی ایک اصول کی وجہ سے نہیں بلکہ انسان کے ذہن، مزاج اور صلاحیت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو موضوع کو واضح اور دو ٹوک انداز میں بیان کرتے ہیں۔ ان کے ہاں ایک مضبوط رائے ہوتی ہے، اور وہ اپنی دلیل پر یا تو کامل اعتماد رکھتے ہیں یا کم از کم اس کے بارے میں یہ احساس رکھتے ہیں کہ ان کی بات میں وزن ہے۔ اسی لیے ان کا مضمون مختصر مگر فیصلہ کن ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اس کے برعکس موضوع کو پھیلا دیتے ہیں۔ بات شروع تو ایک نقطے سے ہوتی ہے، مگر انجام تک پہنچتے پہنچتے وہ مختلف سمتوں میں بکھر جاتی ہے۔ یہ بکھراؤ اکثر اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ ذہن میں بات تو موجود ہے، مگر اسے سمیٹنے اور ترتیب دینے کی صلاحیت کمزور ہے۔ ایک تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو موضوع کے آخر میں سوالات چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ ایک دروازہ کھولتے ہیں، اور پھر کئی نئے دروازوں کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں۔ بظاہر یہ انداز فکری معلوم ہوتا ہے، مگر اس کے اثرات ہر شخص پر یکساں نہیں ہوتے۔ عملی زندگی پر اس کا اثر یہی تین انداز انسان کی عملی زندگی میں بھی جھلکتے ہیں۔ 1️⃣ جو لوگ فیصلہ کن انداز رکھتے ہیں، وہ زندگی میں بھی نسبتاً جلد فیصلے کرتے ہیں۔ ان کے ہاں وضاحت ہوتی ہے، اس لیے عمل میں تاخیر کم ہوتی ہے۔ 2️⃣ جو لوگ موضوع کو بکھیرتے ہیں، ان کے فیصلے بھی اکثر منتشر ہوتے ہیں۔ ارادہ اچھا ہوتا ہے، نیت بھی صاف ہوتی ہے، مگر عمل تک پہنچنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ 3️⃣ جو لوگ مسلسل سوالات پیدا کرتے ہیں، وہ ایک عجیب کیفیت میں رہتے ہیں۔ وہ بات کو سمجھ تو لیتے ہیں، مگر نئے سوالات ان کے عمل کے راستے میں ایک نئی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ ایک اہم نکتہ سوال پیدا کرنا بذاتِ خود کوئی عیب نہیں، بلکہ فکر کی علامت ہے۔ لیکن اگر سوالات اس حد تک بڑھ جائیں کہ وہ عمل کو مؤخر کر دیں، تو پھر یہی سوالات رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ کیونکہ عام انسان پہلے ہی عمل سے کتراتا ہے، اور جب اس کے سامنے مزید سوالات آ جائیں، تو وہ پہلے قدم کو بھی مؤخر کر دیتا ہے۔ ذاتی اعتراف یہ بات میں اپنے بارے میں بھی محسوس کرتا ہوں کہ میں اکثر سوالات کا دروازہ کھول دیتا ہوں۔ اگرچہ اس کا مقصد فکر کو زندہ کرنا ہوتا ہے، مگر بعض اوقات یہی انداز دوسروں کے لیے عمل کو مشکل بھی بنا دیتا ہے۔ یہ ایک ایسی کمی ہے جسے تسلیم کرنا بھی ضروری ہے، اور اس پر کام کرنا بھی۔ خلاصہ ہر مضمون اپنے لکھنے والے کے ذہن کا آئینہ ہوتا ہے سمیٹنا، بکھیرنا یا سوال چھوڑنا — یہ سب مزاج کی عکاسی ہیں بہترین راستہ شاید یہ ہے کہ فکر بھی ہو، وضاحت بھی ہو، اور عمل کی راہ بھی کھلی رہے۔
محمد صادق
مطالعہ باقی ہے
خود نمائی _ ایک پوشیدہ مرض انسان کے باطن میں ایک کمزوری ہمیشہ سے موجود رہی ہے، اور وہ ہے خود نمائی اور خود بینی۔ یعنی اپنے آپ کو بہتر سمجھنا، دوسروں سے برتر محسوس کرنا، یا کسی نہ کسی انداز میں اپنے آپ کو نمایاں کرنا۔ یہ محض ایک اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ اہلِ فکر کے نزدیک یہ شیطانی چالوں میں سے ایک باریک چال بھی ہے، جو انسان کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتی ہے۔ پہلے زمانوں میں یہ مرض یا تو کم تھا، یا اگر موجود بھی ہوتا تو اس کا اظہار اتنا واضح نہیں ہوتا تھا۔ انسان کے اندر جو کچھ ہوتا تھا، وہ زیادہ تر اندر ہی رہ جاتا تھا۔ لیکن وقت نے ایک عجیب موڑ لیا ہے۔ سیلفی — ایک آئینہ یا ایک امتحان؟ موجودہ دور میں موبائل اور خاص طور پر سیلفی کلچر نے اس پوشیدہ کیفیت کو ظاہر کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب انسان: اپنی تصاویر اپنے کھانے اپنے گھر اپنی گاڑی اپنی طرزِ زندگی سب کچھ خود ہی پیش کرتا ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اکثر یہی کہا جاتا ہے: "ہم تو شو آف نہیں کر رہے، ہم تو بس شیئر کر رہے ہیں"۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ صرف “شیئر” ہے؟ یا اس کے پیچھے کہیں نہ کہیں دکھانے کی ایک باریک خواہش بھی موجود ہوتی ہے؟ مرض کی پہچان یہ ضروری نہیں کہ ہر ظاہر کرنے والا انسان ریاکار ہو، لیکن یہ ضرور ہے کہ اس ماحول نے انسان کے اندر موجود اس رجحان کو ابھار دیا ہے اور نمایاں کر دیا ہے۔ گویا جو چیز پہلے چھپی ہوئی تھی، اب وہ ایک عام منظر بن چکی ہے۔ اصل فکر کیا ہے؟ اصل مسئلہ تصویر یا سیلفی نہیں، بلکہ وہ نیت اور باطنی کیفیت ہے جو اس کے پیچھے کارفرما ہوتی ہے۔ کیا میں یہ اس لیے کر رہا ہوں کہ لوگ مجھے دیکھیں؟ کیا میں چاہتا ہوں کہ لوگ مجھے سراہیں؟ کیا مجھے اپنی نمائش میں ایک لذت محسوس ہو رہی ہے؟ اگر یہ سوالات دل میں پیدا ہوں، تو یہی بیداری اصل اصلاح کی ابتدا ہے۔ --- خلاصہ خود نمائی ہمیشہ سے ایک مرض تھا، لیکن آج کے دور میں اس کے ظاہر ہونے کے ذرائع بڑھ گئے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی نہیں کہ صرف ظاہری چیزوں پر بحث کی جائے، بلکہ اصل توجہ اس پر ہونی چاہیے کہ انسان اپنے باطن کو دیکھے اور اپنی نیت کو پرکھے۔
محمد صادق
مطالعہ باقی ہے
تصویر کا مسئلہ .... ایک فکری سوال تصویر کے مسئلے پر اہلِ علم کے درمیان مدت سے اختلاف پایا جاتا رہا ہے۔ بعض حضرات اسے سختی سے ناجائز قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض اہلِ علم خصوصاً ڈیجیٹل تصویر کے بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں۔ اسی طرح یہ سوال بھی زیرِ بحث رہا ہے کہ موبائل میں تصویر رکھنا، تصویر کے ساتھ نماز پڑھنا یا مختلف مواقع پر تصویر لینا کس درجے میں آتا ہے۔ یہ اختلاف علمی حلقوں میں موجود رہا ہے اور اب بھی کتابوں اور فتاویٰ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ مگر عملی میدان میں ایک دلچسپ صورت حال سامنے آ رہی ہے۔ آج کل مشاہدہ یہ ہے کہ بہت سے ایسے حضرات بھی جو نظری طور پر تصویر کے بارے میں سخت موقف رکھتے ہیں، عملی زندگی میں مختلف مواقع پر تصاویر کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ تعارفی مہمات، بیانات، اجتماعات، حتیٰ کہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارموں پر بھی ان کی تصاویر عام دکھائی دیتی ہیں۔ بعض مواقع پر تو مساجد یا مدارس کے اندر بھی اس طرح کی سرگرمیاں دیکھنے میں آتی ہیں جہاں پہلے اس کا تصور بھی مشکل تھا۔ مثلاً ختمِ قرآن، دستار بندی یا سندِ فراغت جیسے مواقع پر اجتماعی تصاویر لینا اب ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ بعض جگہوں پر تصویر لینے والا بھی وہی ہوتا ہے جو اصولاً تصویر کے بارے میں احتیاط کی رائے رکھتا ہے، اور تصویر میں موجود افراد میں بھی اہلِ علم شامل ہوتے ہیں۔ یہ صورت حال چند سوالات کو جنم دیتی ہے: کیا تصویر کے مسئلے میں جو اختلاف پہلے موجود تھا، وہ اب کسی حد تک ختم ہو چکا ہے؟ یا پھر یہ اختلاف علمی سطح پر تو باقی ہے، مگر عملی طور پر لوگوں نے اسے نظر انداز کر دیا ہے؟ یا ممکن ہے کہ بعض حضرات اسے تشہیر یا ضرورت کے درجے میں رکھ کر اس پر عمل کر رہے ہوں؟ اور اگر کوئی شخص کسی چیز کو اصولاً درست نہیں سمجھتا، مگر عملی طور پر اس سے گریز بھی نہیں کرتا، تو اس صورت حال کو کس زاویے سے دیکھا جائے؟ یہ سوالات تنقید یا تردید کے طور پر نہیں بلکہ ایک فکری تأمل کے طور پر پیش کیے جا رہے ہیں۔ شاید اس موضوع پر سنجیدہ غور و فکر سے کوئی واضح سمت سامنے آ سکے، جس سے عام لوگوں کے لیے بھی سمجھنا آسان ہو جائے کہ اس معاملے میں اعتدال اور احتیاط کی صحیح صورت کیا ہے۔
محمد صادق
مطالعہ باقی ہے
عنوان: ہم گناہ چھوڑتے نہیں… بس گناہ بدل بدل کر دوسروں کو جج کرتے رہتے ہیں! ایک کڑوی حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے ہر انسان نے اپنے لیے ایک گناہ کا دائرہ بنا رکھا ہے۔ ہر شخص وہی گناہ کرتا ہے جو اسے آسان لگتا ہے، جو اس کے لیے “comfortable” ہوتا ہے اور پھر وہ اسی دائرے میں جیتا رہتا ہے۔ مگر مسئلہ یہاں سے شروع ہوتا ہے… ہم اپنے گناہ کو تو نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن دوسروں کے گناہوں پر سخت تنقید کرتے ہیں۔ اگر میں جھوٹ بولتا ہوں، تو مجھے چوری بہت بڑی برائی لگتی ہے اگر میں دھوکہ دیتا ہوں، تو میں نشہ کرنے والے کو کمزور سمجھتا ہوں اگر میرا گناہ کچھ اور ہے، تو میں دوسرے کے گناہ کو زیادہ برا سمجھتا ہوں یعنی ہم سب: اپنے گناہ کے اندر آرام سے رہتے ہیں، اور دوسروں کے گناہ پر فیصلہ سناتے ہیں۔ ذرا یہ بھی سوچیں… جس طرح ہم دوسروں کو جج کر رہے ہوتے ہیں، اسی طرح کوئی اور ہمیں بھی جج کر رہا ہوتا ہے۔ ہمارے فیصلوں پر بھی تنقید ہو رہی ہوتی ہے ہمارے کردار پر بھی سوال اٹھ رہے ہوتے ہیں تو سوال یہ ہے: ہم اپنے خلاف اختلاف کو کتنی برداشت کرتے ہیں؟ ہم دوسروں کو کتنی گنجائش دیتے ہیں؟ اصل سیکھنے والی بات: کسی کو جج کرنے سے پہلے ایک لمحہ رکیں… اور خود سے یہ سوال کریں: “کیا میں خود ہر لحاظ سے درست ہوں؟ “کیا میرا اپنا دائرہ بالکل صاف ہے؟ بہتر راستہ کیا ہے؟ دوسروں کو جج کرنے کے بجائے خود کو بہتر بنائیں تنقید کے بجائے اصلاح کا رویہ اپنائیں اور سب سے بڑھ کر… عاجزی اختیار کریں کیونکہ: جو انسان اپنی کمزوریوں کو پہچان لیتا ہے، وہی دوسروں کے لیے نرم دل بن جاتا ہے۔ خلاصہ: ہم سب اپنے اپنے دائرے میں ہیں، اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم اپنے دائرے کو صاف کریں، نہ کہ دوسروں کے دائرے کو نشانہ بنائیں۔
محمد صادق
مطالعہ باقی ہے
عنوان: ہم نے بچوں سے بچپن لے لیا، اور بدلے میں صرف فکرِ رزق دے دی۔ موبائل کی کئی خرابیوں میں سے ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ اس نے ہماری سوچ اور مزاج کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ آج معیار یہ بن گیا ہے کہ اگر کوئی پیسہ نہیں کما رہا تو وہ ناکام ہے، اور اگر کوئی کسی نہ کسی طرح کمائی میں لگا ہوا ہے تو وہ کامیاب ہے۔ حالانکہ حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے۔ ہم نے نوجوانوں اور عام لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھا دی ہے کہ کامیابی صرف پیسے کا نام ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ لوگ جو کبھی دو وقت کی روٹی کے لیے بھی اہم نہ سمجھے جاتے تھے، آج سوشل میڈیا پر "کامیابی" کے معیار بنا دیے گئے ہیں، اور پوری امت ان کے پیچھے چل رہی ہے۔ سب سے زیادہ نقصان بچوں کو ہوا ہے۔ ان سے ان کا بچپن چھین لیا گیا ہے۔ وہ بچپن جس میں کھیل، ہنسی، سادگی اور بےفکری ہوتی تھی—آج اس کی جگہ "سکل سیکھنے" اور "پیسہ کمانے" کی دوڑ نے لے لی ہے۔ چھوٹا بچہ بھی اس فکر میں ہے کہ جلدی کچھ بننا ہے، کچھ کمانا ہے، کچھ حاصل کرنا ہے۔ ہم نے انہیں جینا نہیں سکھایا، صرف دوڑنا سکھا دیا۔ حالانکہ نہ کسی کو اپنی موت کا وقت معلوم ہے، نہ آنے والے کل کی خبر۔ اس کے باوجود انسان ایک انجانے خوف میں مبتلا ہے کہ بس کسی طرح دنیا سنور جائے۔ لیکن سب سے اہم چیز، یعنی آخرت کی تیاری، اس دوڑ میں کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان کتنا کما گیا، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کا مقصد کتنا سمجھ پایا۔ اگر ہم نے اپنی ترجیحات درست نہ کیں تو نہ دنیا صحیح ملے گی، نہ آخرت۔
محمد صادق
مطالعہ باقی ہے
عنوان: ہر مضبوط روایت صرف اصولوں سے نہیں چلتی، حکمت، توازن اور وقت شناسی بھی اس کی طاقت ہوتے ہیں۔ معاشرے میں جو بھی دینی یا فکری روایت لمبے عرصے تک قائم رہتی ہے، اس کے پیچھے صرف نظریات نہیں ہوتے بلکہ ایک عملی حکمت بھی ہوتی ہے۔ اس حکمت کو سادہ الفاظ میں یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ دین کی خدمت کے لیے دو چیزوں کو برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے: ایک عوام کی دینی رہنمائی، اور دوسرا اہلِ علم کا تسلسل۔ اسی لیے ایک مضبوط دینی نظام عموماً مساجد، مدارس، دعوتی کام اور اصلاحی مراکز کے ذریعے عوام سے جڑا رہتا ہے، اور ساتھ ہی تعلیم و تربیت کے نظام کے ذریعے علماء کی نئی نسل تیار کرتا ہے۔ اس سے ایک ایسا ماحول بنتا ہے جہاں دین کی بنیادی شناخت بھی محفوظ رہتی ہے اور اس پر عمل بھی جاری رہتا ہے۔ اس کے ساتھ ایک اور اہم پہلو "توازن" ہے۔ یعنی مختلف فکری رجحانات کے درمیان ایسا رویہ اختیار کرنا جس سے نہ غیر ضروری ٹکراؤ پیدا ہو اور نہ بنیادی اصول متاثر ہوں۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مجموعی دینی فضا قائم رہے، کیونکہ اگر وہی کمزور ہو جائے تو کسی بھی فکر کے لیے اپنا کام جاری رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ نئے فکری سوالات اور جدید مسائل کے بارے میں بھی ایک متوازن طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے۔ اسے آج کی زبان میں Pragmatism (عملی حکمت) کہا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اصول چھوڑ دیے جائیں، بلکہ یہ ہے کہ حالات کو دیکھتے ہوئے حکمت کے ساتھ فیصلے کیے جائیں۔ اس عملی حکمت کے چند سادہ اصول ہوتے ہیں: بنیادی شناخت اور اصولوں کو مضبوطی سے قائم رکھا جائے تاکہ اعتماد اور استحکام باقی رہے۔ جہاں ضرورت ہو اور گنجائش ہو، وہاں نئے مسائل پر غور کر کے مناسب حل نکالا جائے۔ اور جہاں معاملہ زیادہ پیچیدہ ہو، وہاں جلد بازی سے بچتے ہوئے وقت کو فیصلہ کرنے دیا جائے، پھر مناسب چیز کو اختیار کیا جائے۔ یہ طریقہ دراصل توازن، احتیاط اور بصیرت کا مجموعہ ہے۔ اس میں نہ اندھی مخالفت ہوتی ہے اور نہ اندھی قبولیت، بلکہ ہر چیز کو اصولوں اور نتائج دونوں کے حوالے سے دیکھا جاتا ہے۔ مختصراً، کسی بھی مضبوط دینی یا فکری روایت کی کامیابی صرف اس کے نظریات میں نہیں ہوتی، بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ وہ بدلتے حالات میں اپنے اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے کس حد تک حکمت اور توازن کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔
محمد صادق
مطالعہ باقی ہے
یہ مضمون 'وجودُ العاشقین (رسالۂ عشقیہ)' از خواجہ سید محمد حسینی بندہ نواز گیسو دراز رحمۃ اللہ علیہ سے لیا ہے جو باریک ہے، اس لیے میں اسے سادہ انداز میں، اصل مفہوم برقرار رکھتے ہوئے اور ترتیب کے ساتھ پیش کر رہا ہوں: عشق کا راستہ جتنا بلند ہے، اتنا ہی نازک بھی ہے، ہر مقام پر سچ بھی ہے اور دھوکہ بھی۔ عشق کے پانچ مراتب (آسان تشریح) 1. شریعت یہ عشق کی ابتدا ہے۔ یہاں انسان محبوب (اللہ) کے بارے میں سن کر اس کی طرف مائل ہوتا ہے۔ یعنی دل میں شوق پیدا ہوتا ہے، مگر ابھی عملی سفر شروع نہیں ہوا۔ 2. طریقت یہ طلب کا مرحلہ ہے۔ اب انسان صرف سننے والا نہیں رہتا بلکہ محبوب کو حاصل کرنے کے راستے پر چل پڑتا ہے۔ مجاہدہ، کوشش اور طلب شروع ہو جاتی ہے۔ 3. حقیقت یہ قرب کا درجہ ہے۔ یہاں انسان کو اللہ کی طرف سے ایک خاص حضوری نصیب ہوتی ہے، یعنی دل ہر وقت اسی کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ 4. معرفت یہ فنا کی ابتدا ہے۔ یہاں انسان اپنی خواہش کو چھوڑ کر اللہ کی مرضی میں راضی ہو جاتا ہے۔ اپنی چاہت ختم، محبوب کی چاہت باقی۔ 5. وحدت یہ سب سے بلند مقام ہے۔ یہاں انسان اپنی ذات کو بھلا کر ہر طرف اللہ ہی کا ظہور دیکھتا ہے۔ یعنی ظاہر و باطن میں صرف محبوب ہی نظر آتا ہے۔ تقابلی جائزہ: ہر مقام کی خرابی (ملحدین کی صورت) 1. ملحدِ شریعت جو شریعت کے خلاف چلتا ہے، مگر خود کو بڑا سمجھتا ہے۔ یعنی بنیاد ہی غلط، مگر دعویٰ بڑا۔ 2. ملحدِ طریقت جو دین یا خدمت کو دنیا کمانے کا ذریعہ بنا لے۔ یعنی طلب اللہ کی نہیں، مقصد دنیا۔ 3. ملحدِ حقیقت جو خود کو فقیر کہتا ہے، مگر لوگوں کی خوشامد کرتا ہے۔ یعنی ظاہر کچھ اور، باطن کچھ اور۔ 4. ملحدِ معرفت جو خود کو عارف سمجھتا ہے، مگر “میں اور تو” سے باہر نہیں نکلتا۔ یعنی دعویٰ معرفت کا، مگر انا باقی۔ 5. ملحدِ وحدت جو وحدت کا دعویٰ کرے مگر پھر بھی ظاہری سہاروں کا محتاج رہے۔ یعنی زبان سے توحید، مگر دل میں کمزوری۔ خلاصہ: عشق کے یہ پانچ مراتب انسان کو اللہ تک لے جاتے ہیں، لیکن ہر مقام پر ایک دھوکہ بھی موجود ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان ہر درجے میں اخلاص، شریعت کی پابندی اور عاجزی کو نہ چھوڑے۔
محمد اسامہ سَرسَری
مطالعہ باقی ہے
تفسیری مکاتب: (از ثناءاللہ حسین - اسلام آباد) میرے نزدیک تفسیر کے مدارس (مکاتبِ فکر) تین ہیں: 1- مدرسۂ / مکتب طبری: جس کی بنیاد روایت (اثر) پر ہے۔ 2- مدرسہ/ مکتب قرطبی: جس کی بنیاد فقہ پر ہے۔ 3- مدرسہ/ مکتب زمخشری: جس کی بنیاد زبان (لغت) پر ہے۔ 1.... طبری مکتب سے یہ کتب پیدا ہوئیں: ابن کثیر، البغوی، زاد المسیر، اور الدر المنثور۔ 2... قرطبی سے ان تفاسیر میں استفادہ کیا گیا: امام شوکانی/ فتح القدیر ۔۔۔ آلوسی/ روح المعانی 3... زمخشری مکتب سے یہ کتب پیدا ہوئیں: البحر المحیط، البیضاوی اور اس کے حواشی، الجلالین اور اس کے حواشی، ابو السعود، النسفی، روح المعانی، اور التحریر والتنویر۔ یعنی ان تینوں تفسیروں کا مطالعہ کریں یہ امہات ہیں ) بالتصرف)
عطاء اللہ
مطالعہ باقی ہے
*خواتین کا لباس کیسا ہو؟* (۲۲۴) وَعَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا قَالَتْ یَرْحَمُ اللّٰہُ نِسَائَ الْمُھَاجِرَاتِ الْاَوَّلِ لَمَّا اَنْزَلَ اللّٰہُ وَلْیَضْرِ بْنَ بِخُمْرِ ھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّ شَقَقْنَ اَکْثَفَ مُرُوْطِھِنَّ فَاخْتَمَرْنَ بِھَا۔ (رواہ ابوداؤد) ’’حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ اللہ ان عورتوں پر رحم فرمائے جنھوں نے اسلام کے ابتدائی دور میں (مکہ سے مدینہ کو) ہجرت کی، جب اللہ پاک نے حکم ولیضر بن بخمر ھن علی جیوبھن نازل فرمایا تو انھوں نے اپنی موٹی سے موٹی چادروں کو کاٹ کر دوپٹے بنالیے۔ ‘‘ (سنن ابوداؤد ص ۲۱۱، ج ۲ باب فی قول اللہ تعالیٰ ولیضربن بخمرہن) تشریح: مفسرین لکھتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں عورتوں کا دستور تھا کہ دوپٹوں سے اپنے سروں کو ڈھانک کر باقی دوپٹہ کمر پر ڈال لیتی تھیں، مسلمان عورتوں کو حکم ہوا کہ اپنے دوپٹوں سے سر بھی ڈھانکیں اور گلے اور سینہ پر بھی ڈالے رہا کریں، اس حکم کو سن کر صحابی عورتوں نے موٹی موٹی چادروں کے دوپٹے بنالیے اور حسب حکم قرآنی اپنے گلوں اور سینوں کو بھی دوپٹوں سے ڈھانکنے لگیں، چونکہ باریک کپڑے سے سر اور بدن کا پردہ نہیں ہوسکتا ہے اس لیے موٹی چادروں کے دوپٹے اختیار کرلیے۔ آج کل کی عورتیں سر چھپانے کو عیب سمجھنے لگی ہیں اور دوپٹہ اوڑھتی بھی ہیں تو اول تو اس قدر باریک ہوتا ہے کہ سر کے بال اور مواقع حسن و جمال اس سے پوشیدہ نہیں ہوتے، دوسرے اس قسم کے کپڑے کا دوپٹہ بناتی ہیں کہ سر پر ٹھہرتا ہی نہیں، چکناہٹ کی وجہ سے بار بار سرکتا ہے اور پردہ کے مقصد کو فوت کردیتا ہے۔ حضرت دحیہ بن خلیفہؓ کا بیان ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مصر کے باریک کپڑے حاضر کیے گئے، ان میں سے ایک کپڑا آپ نے مجھے عنایت فرمایا کہ اس کے دو ٹکڑے کرکے ایک سے اپنا کرتہ بنالینا اور دوسراٹکڑا اپنی بیوی کو دے دینا۔ جس کا وہ دوپٹہ بنالے گی، وہ کپڑا لے کر جب میں چل دیا تو ارشاد فرمایا کہ اپنی بیوی کو بتادینا کہ اس کے نیچے کوئی کپڑا لگالے۔ (جس سے اس کی باریکی کی تلافی ہوجائے اور جو اس کے سر وغیرہ کو چھپائے رہے) (ابوداؤد) ایک مرتبہ حضرت عائشہؓ کی خدمت میں ان کے بھائی عبدالرحمن بن ابی بکرؓ کی بیٹی حفصہ پہنچ گئیں، اس وقت حفصہؓ نے باریک دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا، اس کو لے کر حضرت عائشہؓ نے پھاڑ دیا اور اپنے پاس سے ان کو موٹا دوپٹہ اوڑھا دیا۔ (موطا امام مالک) ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ باریک دوپٹہ سے پرہیز کرنا لازم ہے، اور اگر بالفرض باریک دوپٹہ اوڑھنا ہی پڑجائے تو اس کے نیچے موٹا کپڑا لگالیں تاکہ سر اور دیگر اعضاء نظر نہ آئیں۔ مسلمان عورت کو اسلام نے حیا اور شرم سکھائی ہے، نامحرموں سے خلا ملا کرنے سے منع فرمایا ہے اور ایسے کپڑے پہننے کی ممانعت فرمائی ہے، جن کا پہننا نہ پہننا برابر ہو، اور جن سے پردہ کا مقصد فوت ہوجاتا ہو، عورتیں سروں پر ایسے دوپٹے اوڑھیں جن سے بال چھپ جائیں، گردن اور گلا ڈھک جائے اور نامحرموں کے آجانے کا اندیشہ ہو تو موٹے دوپٹوں سے اپنے چہروں کو ڈھانپ لیں، قمیض، جمپر اور فراک بھی ایسا پہنیں جس سے بدن نظر نہ آئے۔ آستینیں پوری ہوں، گلے اور گریبان کی کاٹ میں اس کا خیال رکھیں کہ پیچھے اور آگے سینہ کا کچھ بھی حصہ کھلا نہ رہے، شلوار اور ساڑھی وغیرہ بھی ایسے کپڑے کی پہنیں جن سے ران، پنڈلی وغیرہ کا کوئی حصہ نظر نہ آئے۔ (تحفہ خواتین)
معیاری
عُروہ احمد
مطالعہ باقی ہے
درد کے تیر کمانوں سے نکل جائیں گے ہم بھی یادوں کے مکانوں سے نکل جائیں گے ہم کہ گم گشتہ زمانوں میں بسیرا کر کے تیرے معروف زمانوں سے نکل جائیں گے وقت گزرے گا تو متروک ہی ہو جائیں گے اور چپ چاپ زبانوں سے نکل جائیں گے عُروہ احمد
معیاری
عُروہ احمد
مطالعہ باقی ہے
کبھی کہیں پر قیام کرنے کا سوچتے تھے تو زیست اس جا کے نام کرنے کا سوچتے تھے وہ دن عجب تھے کہ راستے میں ہر اجنبی کو سلام کر کے کلام کرنے کا سوچتے تھے یہاں پہ مسلک کا پہلے کوئی بھی نام نئیں تھا سو جو بھی ملتا امام کرنے کا سوچتے تھے تھے لوگ چھوٹے بلندیوں کو نہ جانتے تھے ہر ایک دل میں قیام کرنے کا سوچتے تھے نہ جانے کس نے بگاڑ ڈالی ہماری سنگت کہ ہم تو سڑکوں پہ شام کرنے کا سوچتے تھے تمھاری بَستی میں اشک اپنے چھپانے والے ہنسی تمھارے ہی نام کرنے کا سوچتے تھے اب اِس اداسی کے ہی سہارے پہ جی رہے ہیں کبھی اداسی تمام کرنے کا سوچتے تھے ہماری آنکھوں میں رتجگوں کی اداسیاں تھیں پَہ دن کو بھی ہم تو شام کرنے کا سوچتے تھے اب ان عزیزوں سے بات کب ہے ہماری عُروہؔ کہ جن کے گھر ہم قیام کرنے کا سوچتے تھے
معیاری
شاہانہ ناز
مطالعہ باقی ہے
اٹھوں بصد خلوص، وضو صبح دم کروں آنکھوں کو اپنی خوف الہی سے نم کروں پہلے خدا کی حمد کروں اور اس کے بعد سر اپنا بارگاہ رسالت میں خم کروں لکھنی ہے نعت ،فکر و نظر باشعور ہوں سامان اور بھی جو ہو ممکن بہم کروں شاید یہی نجات کا باعث ہو حشر میں نعت ان کی لکھ کے ذات پہ اپنی کرم کروں آداب نعت اس طرح پورا کروں کہ میں شان ان کی کچھ بڑھا کے لکھوں اور نہ کم کروں سوئے ادب کا ہو نہ ذرا سا بھی شائبہ یوں دور اس کلام سے سارے سقم کروں اس طرح اپنی ذات کی پہلے کروں نفی خود کو خیال احمد مرسل میں ضم کروں لکھوں کہاں کہ حرمت تحریر شرط ہے قرطاس دل کو، نوک زباں کو قلم کروں انسان ہوں اعتدال پہ قادر نہیں ہوں میں بےچارگی پہ اپنی نہ کیوں رنج و غم کروں جی چاہتا ہے مدحت خیر الامم کروں ڈرتا ہوں کیسے ان کے محاسن رقم کروں حد سے بڑھوں تو شرک کا ہوتا ہے احتمال ایماں سے جاؤں ان کے مراتب جو کم کروں ناظم میں شرح صدر سے ہو جاؤں سرفراز پڑھ کر درود ان کا جو سینے پہ دم کروں
حامد قاسم پالن پوری
مطالعہ باقی ہے
️🌙 مرحبا مرحبا اے ماہِ رمضان 🌙 وہ دیکھو شفق کی سرخیاں منڈلاتے ہی ماہ مبارک کے چاند نے جذب و مستی ، شوق و چستی، فرحت و مسرت کی لہریں دوڑا دیں ، عشق و محبت کے روئے روئے نے انگڑائیاں لیں ، عبادت و محبت نے ہر گوشے سے پکارا اور الفت و عقیدت ، سخاوت و فیاضی کا درس دیا ، شب کی خنکی بتارہی ہے ، کہ ماہ رمضان آگیا ، مسکراتا چاند خبر دے رہا ہے کہ خیر و بھلائی کا مہینہ آگیا ، نیلگوں آسماں پتہ دے رہا ہے کہ رحمت کا مہینہ آ پہنچا ہے ، ہواؤں نے رخ موڑا اور یہ خبر سنائی کہ علم و حکمت کا مہینہ شروع ہوچکا ہے ، جگمگاتے ٹمٹماتے تاروں نے مل جل کر یہ خوشخبری سنائی کہ قرآن کا مہینہ آگیا ہے ، دیکھنا اب وہ سحری کا سحر ، افطار کا سرور ، عبادتوں کی رغبت ، خیر خیرات میں سبقت ، ملائکۃ الرحمن کا نزول ، برکت و رحمت کا حصول ، شب کے نالے ، مقربین کی آہ سحر گاہی ، نور کی برسات ۔ دیکھنا رب العالمین بہتوں کی مغفرت فرمائے گا ، رحمت و برکت کا نزول فرمائے گا ، نا مراد اپنی مرادیں پالیں گے ، بے کسوں کی بےکسی دور ہوں گی ، اہل فلسطین پر اپنی خصوصی رحمت و برکت اتارے گا ۔ کیوں نہ اے اہلِ ایمان ہم اعمال صالحہ میں سبقت کریں ، ضعیفوں یتیموں کی مدد کریں ، حسن سلوک اخلاق و معاملات کو بہتر بنائیں ۔ یاد رکھیں یہ محض کھانے پینے کا مہینہ نہیں ہے ، بلکہ یہ رب ذوالجلال کی طرف سے امت مسلمہ کے لیے ایک عظیم الشان تحفہ ہے ، وہ کونسا مومن ہے جسے اس مہمان خصوصی کا انتظار و اشتیاق نہ ہو ، گناہوں سے پاک صاف ہونے کا بہترین ذریعہ ہے ، آئیے ہم اپنی خلوتوں اور جلوتوں کو سنوار لیں ، تلاوتِ قرآن کی کثرت فرمائیں ، فرائض و نوافل سخاوت و ہمدردی کا خصوصی اہتمام فرمائیں ۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کا حامی و ناصر ہو ، امت مسلمہ ، اہل فلسطین اور اپنے اس بھائی کو اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں ،۔
راجہ عبیداللہ عبید
مطالعہ باقی ہے
آج وہ گلی میں جب لگا کے نکاب آیا لگتا ہے اس پے نیا نیا ہے شباب آیا مجھے تو کچھ اسے لگ رہا ہے کہ جسے گلشن میں ایک نیا ہے گلاب آیا رقم ایک اور تاریخ ہو گی ہے آج تو چاند بھی کر کے آج ہے نکاب آیا اس کا یہ شباب اپر سے اس کا نکاب میرے دل پر ایک اور ہے عذاب آیا آنکھیں چمکنے لگی میری نیند میں آج رات اس کا جو مجھے خواب آیا آنگھوں سے میں نے اس سے بات کی آنگھوں سے ہی اس کا پھر جواب آیا پڑھنا باقی تھا اپنی زندگی کو ابھی ایک اور نیا زندگی میں ہے باب آیا کیا بتاوں میں کیا وہ بن کے آیا عبید جسے میری خوابوں کی دنیا کتاب آیا
محمد رضوان آسی
مطالعہ باقی ہے
بیٹھا ہوں تمنّا کے دیے اب بھی جلا کے ، کیوں چھپ گئے جاناں مرے اک جلوہ دکھا کے ؟ یہ رنگ جہاں آئے مری کیسے سمجھ میں ، تم نے جو سلایا ہے مجھے بادہ پلا کے! میں ہوں کہ ترے عشق میں دیوانہ بنا ہوں، تم ہو کہ بڑے لطف میں دیوانہ بنا کے! مخمور نگاہیں کی میرا دل بھی ہے لوٹا ، کیا تجھ کو ملا ایک مرے دل کو لٹا کے؟ دل ہے کہ تڑپتا ہے یہ آنکھیں ہیں کہ پرنم، بتلاؤ کہاں چھپ گئے تم آگ لگا کے؟ منظور ہے سب مجھ کو،کرو جو بھی ہو کرنا، پر شرط ہے اک یہ کہ میرے پاس ہی آ کے! خلقت تو یہ کہتی ہے کہ ہو پاک مکاں سے، پر میں نے سنبھالا ہے تمہیں دل میں سما کے! اب تو مرے حالات پہ اک چشمِ کرم ہو، اتنا تو سبھی کرتے ہیں اکرام بلا کے! درشن تو میسّر ہی رہے گا مجھے ان کا، رکھ دو مجھے محبوب کے کوچے میں چھپا کے! ممکن ہو اگر تیرے لیے ہو کبھی فرصت، اک بار کبھی مجھ سے ملو نظریں ملا کے! دے مجھ کو اجازت کہ تیری بزم میں آؤں، کب تک میں رہوں دور یہاں اشک بہا کے! کیا حال کیا میرا ترے عشق نے جاناں؟ تجھ کو بھی رلا دوں میں یہ روداد سنا کے! بس ایک تمنا ہے مری ان سے یہ رضواں، وہ میرے رہیں مجھ کو گلے خود سے لگا کے!
محمد رضوان آسی
مطالعہ باقی ہے
حضور! افضلِ خلقت حبیب خیر انام ! حضور! لاکھ تری ذات پر درود و سلام ! حضور! درد و الم سے میں چور رہتا ہوں، حضور! عیش و سکوں سے میں دور رہتا ہوں! حضور درد سے اٹھتے نہیں مرے یہ قدم، حضور کچھ تو مرے گھاؤ کے بھی ہوں مرہم! حضور روز ہی اٹھتی نئی فغاں ہے یہاں! حضور غیرتِ ایماں کا رہ سکا نہ نشاں! حضور ارضِ فلسطیں کی آج حالت زار حضور دامن غزہ کی دردناک پکار! حضور آگ ہے پھیلی وطن بھی راکھ ہوا حضور شعلہء دوزخ گرا ہو یاں گویا ! حضور قبلہء اول کو میں لکھوں کیسے؟ حضور کوئی نہ دنیا میں اس کا ہو جیسے! حضور خون کی ہولی سے یاں ہیں بحر رواں، حضور شام و سحر برق گر رہی ہے یہاں! حضور فیل کے لشکر کو کیوں جسارت ہو؟ حضور کیوں نہ ہماری بھی اب حمایت ہو؟
معیاری
محمد رضوان آسی
مطالعہ باقی ہے
زہے قسمت کہ ساقی مہرباں ہے "کہاں ہے اے غمِ دل تو کہاں ہے؟" قدم اٹھتے نہیں اس در سے آگے! بھلا بتلا یہی ان کا مکاں ہے؟ کرم یہ ہے کہ آئے انجمن میں ستم یہ ہے کہ اُن کا آستاں ہے! غضب سنگین ہیں راہیں خدایا! نہ منزل ہےنہ منزل کا "گماں" ہے نہیں عقل و خرد کو دسترس تک کہیں آگے ہماری داستاں ہے! متاعِ کارواں سب لٹ گئی ہے کہاں گم آج میرِ کارواں ہے؟ یہاں ہرشے کی آزادی ہے رضواں! فقط مشکل محبّت کا بیاں ہے
محمد ہانی رفیق زمزمی
مطالعہ باقی ہے
نام ان کا نہ ہو تو کوئی نام نہیں ہے خوشنودئ جاناں کہ سوا کام نہیں ہے باغی کو بغاوت نے اگر تخت دلایا نادار مگر شہر میں بدنام نہیں ہے وہ ہیں کہ سدا گوشۂ خلوت میں پڑے ہیں اک لمحہ کا بھی ہم کو تو آرام نہیں ہے فرقت کا کبھی غم ہے کبھی وصل کی راحت دنیا میں کسی سوچ کا اکرام نہیں ہے فرقت میں تو ساقی کو ہر اک شے تھی میسر اب وصل میں بے چارے کو اک جام نہیں ہے
محمد رضوان آسی
مطالعہ باقی ہے
غزل جاں بلب آ ہی گئے ہم داستاں کہتے ہوئے ہم نہ زندہ رہ سکیں اب تیرے یاں ہوتے ہوئے کس قدر تھیں گردشِ ایام کی بے دردیاں تونے مجھ کوپھر بھی دیکھا مطمئن رہتے ہوئے جستجو تیری رہی پر تو نہ مل پایا مجھے ہاں مگر تو مل گیا تھا دردِ دل دیتے ہوئے کہکشاں مہتاب کیوں نہ رونقِ افلاک ہوں ہو گئے سب خاک اُن کا نقشِ پا بنتے ہوئے آدمیّت کو شرف بخشا وجودِ پاک نے ورنہ کرپاتے کہاں اُن کو بیاں لکھتے ہوئے گیسوئے جاناں کی خوشبو سے ہوئے مدہوش ہم اب ذرا دل تھام کر دیکھو ہمیں پیتے ہوئے سب تمنائیں مری رضوان بر آئیں مگر ، آ ملے تقدیر اب اس در پہ سر رکھتے ہوئے!
محمد ہانی رفیق زمزمی
مطالعہ باقی ہے
کسک دل میں باقی نہ غم ہے، حرم ہے خدا کا یہ مجھ پر کرم ہے، حرم ہے ہر اک رطب و یابس صفوں میں برابر یہاں بندگی کا بھرم ہے، حرم ہے زمیں کے سبھی آسماں جھک گئے ہیں پہاڑوں کی رفعت بھی خم ہے، حرم ہے سیاہ و سپیدی کے معیار کیا ہیں؟ نہ کوئی عرب نا عجم ہے، حرم ہے بڑے سنگ دلوں پہ بھی رقت ہے طاری! عجب کیفیت میں قلم ہے، حرم ہے بہت خشک آنکھیں بھی بہنے لگی ہیں لرزتا بدن، آنکھ نم ہے، حرم ہے بکثرت نزولِ ملائک ہو گویا یہی شانِ خیر الامم ہے حرم ہے یہ گنبد یہ جالی یہ روضہ یہ حجرہ رسولِ خدا کا حرم ہے، حرم ہے
محمد رضوان آسی
مطالعہ باقی ہے
غزل بزمِ سخن کی اور غزل خواں کی خیر ہو ، اس انجمن میں بیٹھے رفیقاں کی خیر ہو! نکلے ہیں دشت کو وہ چمن چھوڑ کر مرا ، میری تو خیر ، واں کے غزالاں کی خیر ہو! یوں فاصلوں نے کام کیا ہے مرا تمام ، قربت بھی مل گئی اب، رگِ جاں کی خیر ہو! آج ان کے گھر میں دیکھے چراغاں نئے نئے ، اس رنگِ نو میں جلوہء جاناں کی خیر ہو! ویرانیوں سے ہو کے پریشاں ہیں آئے ہم ، گلشن کی رونقوں کی ، خیاباں کی خیر ہو! میں تیری بزمِ ناز کے قابل نہ رہ سکا ، تنہائیوں میں اب ترے ناداں کی خیر ہو! اب کہ لئے تلاش وہ پھرتے ہیں کو بہ کو ، صبر آزما ہیں لمحے یہ ، رضواں کی خیر ہو !
محمد ہانی رفیق زمزمی
مطالعہ باقی ہے
فراقِ طیبہ! ملال یہ ہے وصال کے دن گزر چکے ہیں فراقِ طیبہ میں گُھل رہے ہیں بکھر چکے ہیں درود سارے، سلام سارے، دعائیں ساری تمام پونجی انہی پہ قربان کر چکے ہیں نقوش اُن کے جنہوں نے اپنا کہ سر پہ رکّھے سو اُن کے دل سے ہُمومِ دنیا اتر چکے ہیں رکھی ہے قدرت نے ان کی الفت میں ایسی تاثیر نصاب یہ ہی ہے جس سے بگڑے سنور چکے ہیں عظیم گھڑیاں تھیں وہ جو قدموں میں وار آئے قدم بھی ایسے جہاں کئی تاج گِر چکے ہیں زہے مقدر کہ ہم بھی اُس در پہ آگئے تھے جہاں پہ اصحاب اپنا دل جان دھر چکے ہیں اداؤں نے ان کی پاس رکھا وگرنہ ؔہانی! جو اُن سے غافل ہوئے وہ گویا کہ مرچکے ہیں
محمد رضوان آسی
مطالعہ باقی ہے
غزل اک دن جو مجھ سے عشق کا اظہار ہو گیا! پھر اپنے آپ سے ہی میں بیزار ہو گیا! اب خوف زخمِ دل کا نہیں دور تک مجھے ، جب درد دل سے مل کے ہی دلدار ہوگیا کتنے ہی فاصلے ہوں،وہ دل کے قریب ہیں، ان سے وفا کا عہد جو اک بار ہوگیا اک تم ہی شاہکار ہو سارے جہان میں ، دشمن بھی جان دینے کو تیار ہو گیا افسانہء رضا کو کیا مختصر کہ جب ، منصور حق پرست سرِ دار ہوگیا اک تم کہ "عارفی" نظر سے نکھر گئے ، اک میں کہ تیری دید سے بیمار ہوگیا وہم و گماں کو پیش بڑی الجھنیں رہیں ، عشق و جنوں کو آگ سے بھی پیار ہو گیا رعنائیاں جہاں کی نہ مجھ پر اثر کریں ، جب تیرے جلوہ گہ میں گرفتار ہو گیا! اک لہر دوڑتی ہے خوشی کی جہان میں ، رضوان ان کے در کا سزاوار ہو گیا!
محمد ہانی رفیق زمزمی
مطالعہ باقی ہے
مکینِ طیبہ! تری ثنا ہو بیان کیسے بیان ہو بھی تو کھل سکے گی زبان کیسے غلام اُن کے فلک کے تارے بنے ہوئے ہیں رخِ منوّر کا ہو سکے پھر گمان کیسے گلاب کا حسن باغباں ہی بتا سکے گا رقم کرے مجھ سا خاکسار ان کی شان کیسے چمکتا چہرہ، دمکتی آنکھیں، سیاہ زلفیں اب اُن سے بڑھ کر حسین لائے جہان کیسے بروزِ محشر بغیر اُن کی شفاعتوں کے گناہ گارو! ملے گی رب کی امان کیسے ؟ زمین کچی، خطیب آقا، نشین اصحاب نصیب ہوگا اب اس سے بہتر زمان کیسے صدائے نفسی میں نعرۂ اُمّتی کے حامل کوئی ہمارے نبی سا ہو مہربان کیسے جہاں میں کتنے فسانے ہیں خوب دل چسپ مگر تریسٹھ برس سی ہو داستان کیسے صحابہ سے بڑھ کہ الفتِ مصطفیٰ کسےہے؟ مزاجِ نبوی کا اُن سا ہو ترجمان کیسے خدائے برتر نے جس کو رِفعت عطا کری ہو گھٹا سکے گا زمانہ یہ اس کی شان کیسے ہو ذکر عہدِ نبی کے طیبہ کا، اور ؔہانی! بلال حبشی کی بھول جاؤں اذان کیسے
محمد رضوان آسی
مطالعہ باقی ہے
غزل دردِ دلِ حزیں میں جو ہم مبتلا ہوئے! باقی جہاں کے سارے غموں سے رہا ہوئے! رستے کےپیچ و خم سےجو خائف کریں ہمیں ، ظالم اگر نہ ہوں بھی وہ ، ظالم نما ہوئے! اپنی تھی کچھ خبر نہ ہی لیل و نہار کی ، تھوڑا ہنر ملا تو اچانک خدا ہوئے! پستی کا مجھ سے شکوہ شکایت تو ہے مگر ، خودپربھی کچھ نظرہوکہ تم کیا سےکیا ہوئے! لمحے تھے زندگی کے یا محشر کی ساعتیں ، جب کوئے یار سے ہم اٹھ کر جدا ہوئے! ان کے قدم کے بوسے جنہیں ہو گئے نصیب ، پتلے وہ خاک کے نہ رہے کیمیا ہوئے! رضواں نہ تھا کچھ آساں جینا فراق میں ، عمریں گذار دیں پھر لطف آشنا ہوئے!
محمد ہانی رفیق زمزمی
مطالعہ باقی ہے
اس کے اعراض سے میخانے ویراں ہوئے جام بھی ساقی و مے کش بھی ہلکان ہوئے دشمنوں نے مرے، مجھ سے کنارہ کشی کی اس کی الفت میں سبھی پھر سے یک جان ہوئے یہ بھی سچ ہے کہ بہت سے حوادث کے سبب کیسے سرسبز علاقے بیابان ہوئے مجھ کو فرقت نے سبق بھی دیا غم بھی دیا جو بھی ہو ہم تو تمسخر کا سامان ہوئے قافلے جو یقیں سے بہرہ ور ہو گئے تھے راہ میں رہزنوں سے خالی دامان ہوئے وصل کی آس، شب ہجر میں بھی لگی تھی جان بر کتنے نجانے یوں بے جان ہوئے ایک ہی رات بہت کچھ سکھا چکی تھی صبح کو خشک سمندر بھی طوفان ہوئے ظلمتِ شب تو مگن ہے، خبر اس کو کہاں؟ کیسے پُر نور چراغ اس پہ قربان ہوئے
محمد رضوان آسی
مطالعہ باقی ہے
سلام ان پر جو آئے رحمة للعالمین بن کر سلام ان پر کہ دنیا میں جو ہیں شفقت کا اک پیکر سلام ان پر جو ظلمت کو دفع کر کے ضیا لائے سلام ان پر ستم میں عدل کی پیہم فضا لائے سلام ان پر بنے ماویٰ یتیموں کے اسیروں کے سلام ان پر سہارا بن کے آئے جو فقیروں کے سلام ان پر سراپا فکرِ انساں بن کے جو آئے سلام ان پر شفاعت کا وہ دروازہ کھلا لائے سلام ان پر توہّم سے نکالا جس نے دنیا کو سلام ان پر یقیں کی راہ پر لایا جو دنیا کو سلام ان پر کہ غیروں کو بھی اپنا کر کے دکھلایا سلام ان پر سلیقہ سب کو رہنے کا بھی سکھلایا سلام ان پر کہ جس سے قبل دنیا میں جہالت تھی سلام ان پر کہ جس کی عام عالم میں صداقت تھی سلام ان پر امین و صادق و قائد جو کہلائے سلام ان پر کہ دشمن کو دعا دینا جو سکھلائے سلام ان پر کہ صفہ کے جو بانی و معلم تھے سلام ان پر کہ ظلمت میں جو اک تنویر اعظم تھے سلام ان پر جو ہر اک درد کا کامل مداوا ہیں سلام ان پر خدا کے بعد جو اعلیٰ و بالا ہیں
محمد ہانی رفیق زمزمی
مطالعہ باقی ہے
نگاہوں میں بلآخر میں نے اک جنت بسا لی ہے اسے دیکھا تو یاد آیا مری قسمت نرالی ہے سکوتِ یار نے الفت کے شعلوں کو بجھا ڈالا مسافت زندگی کی رائیگاں اب ہونے والی ہے ہمارے شہر میں احکام کا معیار کاغذ ہے جبھی امن و سکوں کی شمع قدرت نے بجھالی ہے جہانِ عشق میں انسان سنگ دل ہو یا مردہ ہو یہاں پر نرم دل کے ہاتھ پاؤں میں اسیلی ہے خدا کا خوف دل میں ہے نہ مخلوقِ خدا کا پاس لباسِ خضر میں کچھ لوگوں نے دستار اچھا لی ہے کسی کی جان و ایماں سے ہمارا واسطہ کیا ہے وطن کے حاکموں کی حاکمیّت خوب اُصولی ہے وجاہت کیسی کیسی گردشِ ایام نے لے لی کبھی جو قصرِ شاہی تھا وہ عبرت کو حویلی ہے مجھے تو آفتوں کا ایک ہی باعث سمجھ آیا ہماری شامت اعمال نے برکت اٹھا لی ہے جبیں کو خوب رگڑا ہے تبھی دستار سر پر ہے مگر تم نے تو آتے ساتھ ہی گدی بچھا لی ہے دماغ و دل کے اِس جنجال سے غایت مُشوَّش ہوں تصوّر میں جلالی ہے نگاہوں میں جمالی ہے کمی محسوس ہونے کی اذیّت مار دیتی ہے غمِ تاریک ہے باطن میں گو ظاہر اجالی ہے
محمد رضوان آسی
مطالعہ باقی ہے
دربار میں پہنچا ہوں میں سرگشتہ خدایا بے کس ہوں دکھی دل ہوں میں وارفتہ خدایا رحمت سے بھرا در ہے مقدس یہ زمیں ہے پاکیزہ یہ چوکھٹ ہے خطا کار جبیں ہے ہر سمت ترانے ہیں معافی کے ادب سے پر میں ہوں کہ ساکت ہے زباں امرِ طلب سے دل میں وہ خشیت ہے نہ آنکھوں میں ہیں آنسو انبارِ خطا کے ہیں اندھیرے مرے ہر سو عالم ہے تحیّر کا زباں ہے نہ بیاں ہے سیلابِ معاصی میں سفینہ یہ رواں ہے ہر سمت سیاہی ہے مرے پیش نظر اب ہستی کو طلب ہے کہ ہو کرنوں سے گزر اب حاصل کے سراپا ہے تباہی میری ہستی غفلت کے شرر سے ہوئی ہے خاک یہ بستی اب اشک نہیں آنکھ میں خالی یہ کنواں ہے اور قلب کی تفسیر سے محروم زباں ہے دربار ادب کا ہے، طریقہ ہی نہیں ہے سائل ہوں مجھے کوئی سلیقہ ہی نہیں ہے!
محمد ہانی رفیق زمزمی
مطالعہ باقی ہے
اس آنکھ کی قندیل بھی مسحور بہت ہے ساحر تو وہ اچھا ہے پہ مغرور بہت ہے اب ذہن میں صورت بھی تری باقی نہیں ہے یہ دل ہے جو اِس حسن سے مجبور بہت ہے ہر کوئی یہاں دست و گریبان ہے باہم ہر ایک فسادات میں مشہور بہت ہے ژولیدہ بدن، خار میں مرجھائی ہوئی روح تجدیدِ ثقافت سے بشر چور بہت ہے میدان نیا ہے پہ مجاہد ہے پرانا شمشیر مری دھار سے معمور بہت ہے ساقی ترے اصرار سے مے کش ہوا بدظن اصلاح سے یہ طرزِ عمل دور بہت ہے آزادئ فطرت تہِ شمشیر لے آئی جلاّدِ وطن واقعی مخمور بہت ہے
معیاری
محمد ہانی رفیق زمزمی
مطالعہ باقی ہے
تری نفرت کے اس دل میں اتر جانے سے ڈرتا ہوں میں اپنی ذات میں خود سے بپھر جانے سے ڈرتا ہوں بجا شکوہ ہے اہلِ عشق کا قطعِ تعلق پر وہاں قربت تو آساں ہے، بچھڑ جانے سے ڈرتا ہوں مرے الفاظ امانت ہیں امانت دار تک پہنچیں میں اپنے آپ میں مدفون کر جانے سے ڈرتا ہوں مکمل استخارہ استشارہ کر لیا لیکن ابھی بھی لب کشائی کر گزر جانے سے ڈرتا ہوں پرانے وقت اپنے کس قدر مدہوش گزرے ہیں اسی مد ہوشی میں پھر سے بکھر جانے سے ڈرتا ہوں اگر خالق خفا نہ ہو تو پاسِ خلق کیا ؔہانی؟ خدا کے پاس بے خوف و خطر جانے سے ڈرتا ہوں
محمد اسامہ
مطالعہ باقی ہے
بنام: پاکستان کے محنت کش اور مزدور بھائیو السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آج یکم مئی ہے اور آج کا یہ دن آپ سب ہیرو کے نام ہے، لیکن سچ تو یہ ہے کہ سال کا ہر وہ دن آپ کا ہے جس دن آپ کی محنت سے کسی کا گھر بنتا ہے، کسی کے تن کو کپڑا ملتا ہے اور کسی کے دسترخوان پر روٹی پہنچتی ہے۔ آپ اس معاشرے کی وہ مضبوط بنیاد ہیں جس پر ترقی کی پوری عمارت کھڑی ہے۔ چاہے وہ تپتی دھوپ ہو یا سخت سردی میں سڑکیں، بڑی بڑی عمارتیں بنانا ہو، گھر بنانا ہو، کارخانوں کی مشینوں کے ساتھ دن رات ایک کرنا ہو یا کھیتوں میں پسینہ بہا کر اناج اگانا ہو. آپ کی ہمت اور طاقت ہی اس ملک کا اصل سرمایہ ہے۔ آپ کا پسینہ صرف پانی کا قطرہ نہیں، بلکہ وہ عزت اور رزقِ حلال ہے جو آپ اپنے بچوں کے لیے کما کر لاتے ہیں۔ اگر آپ لوگ نہ ہوتے تو نہ شہروں میں رونق ہوتی، نہ اونچی عمارتوں ہوتی اور نہ ان میں روشنی۔ ہم کہی بھی نظر کو اٹھا کر دیکھیں تو خوبصورت گھر، اونچی عمارتیں نظر آتی ہے وہ آپ لوگوں کی محنت سے ممکن ہے. جب ہم دن میں سخت گرمی میں گھروں میں ٹھنڈے پنکھوں کے نیچے آرام کر رہے ہوتے ہیں. تو آپ لوگ تپتی دھوپ میں 40,48 ڈگری میں اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ موجودہ دور میں حالات مشکل ہیں، مہنگائی کا بوجھ ہے اور مزدوری کے حصول میں کئی دشواریاں آتی ہیں، آج کے دور میں آپ کا سب سے بڑا امتحان یہ نہیں کہ کام کتنا سخت ہے، بلکہ امتحان یہ ہے کہ دن بھر کی مزدوری سے شام کو بچوں کا پیٹ کیسے بھرے گا۔ مہنگائی نے آپ کے پاؤں سے جوتا اور سر سے چھت تو پہلے ہی چھین لی تھی، اب تو آپ کے دسترخوان سے روٹی کا نوالہ بھی چھین رہی ہے۔ لیکن یاد رکھیے کہ محنت کرنے والا اللہ کا دوست ہوتا ہے۔ آپ کے ہاتھوں کے چھالے اور پیشانی کا پسینہ اس بات کی گواہی ہے کہ آپ دنیا کے معزز ترین انسان ہیں۔ آپ وہ معمار ہے جس کے ہاتھ تو مٹی سے بھرے ہوتے ہیں، لیکن آپ دوسروں کے مقدر کو چمکانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ خدا سے دعا ہے کہ وہ آپ کی محنت میں برکت عطا فرمائے، آپ کو صحت و تندرستی دے اور آپ کے گھروں کو ہمیشہ خوشیوں اور سکون سے آباد رکھے۔ آپ کی محنت کا شکریہ ادا کرنا لفظوں میں ممکن نہیں، بس اتنا سمجھ لیں کہ آپ ہیں تو یہ زندگی رواں دواں ہے۔ نیک تمنائیں، ایک پاکستانی شہری #یوم_مزدور #ایک_خط_مزدور_کے_نام
محمد ہانی رفیق زمزمی
مطالعہ باقی ہے
حالتِ زار امت پہ کبھی بے بسی ایسی تو نہیں تھی ملت میں کبھی بے حسی ایسی تو نہیں تھی دکھ درد سے بھرپور صداؤں کی گرج ہے دنیا میں کبھی بے کسی ایسی تو نہیں تھی خاموش مسلماں پہ ہے ٹوٹا ہوا کافر ظالم کی کبھی بھی ہنسی ایسی تو نہیں تھی حاکم نے رگِ جاں خودی ظالم کو دکھائی انصاف سے بے رَہ روی ایسی تو نہیں تھی کفّار کے دامن میں ہے سر، پاؤں ہیں اِس سمت اپنوں سے کبھی بے رخی ایسی تو نہیں تھی اس قاتلِ انسان کی ہمدردی تو دیکھو سفّاک! تری دو رخی ایسی تو نہیں تھی نااہل سرِ تخت ہیں اور اہل تہِ تیغ اس قوم پہ طاری غشی ایسی تو نہیں تھی مانا کہ یہ دنیا ہے یہاں کچھ بھی ہے ممکن پر دنیا کی حالت کبھی ایسی تو نہیں تھی
محمد ہانی رفیق زمزمی
مطالعہ باقی ہے
مہتاب سے روشن ہے رخسار محمدﷺ کا الفاظ سے اونچا ہے معیار محمد ﷺکا کیوں چاند فدا نہ ہو انگلی کے اشارے پر جب خود ہی ثناخواں ہے جبار محمدﷺ کا طائف کی زمینوں پر زخموں میں تڑپ کر بھی پھولوں کی طرح مہکا کردار محمد ﷺ کا بِن دیکھے زمانے کو دیوانہ بنا رکھا ہے فیضان ہے عاشق کا، دیدار محمدﷺ کا بو بکر و عمر ہوں یا عثمان و علی حیدر قرباں ہے محمد ﷺ پر ،ہر یار محمد ﷺ کا جبریل کی آمد ہے، اصحاب کا حلقہ ہے کیا خوب حسیں ہو گا دربار محمد ﷺ کا رب کا یہی کہنا ہے، ؔہانی کا یہ اعلاں ہے ایمان کا حصہ ہے اقرار محمد ﷺ کا
محمد ہانی رفیق زمزمی
مطالعہ باقی ہے
اے نوجواں مسلماں! اے نوجواں مسلماں، پہچان اپنی بنیاد خالق ہے تیرا رحماں، پہچان اپنی بنیاد دنیا کے فانی دریا میں غوطہ زن نہ ہونا خالی رہے گا داماں، پہچان اپنی بنیاد سرکار کے صحابہ سے تیری نسبتیں ہیں اور رہنما ہے قرآں، پہچان اپنی بنیاد تعداد سے نہیں کچھ، ایمان دیکھ اپنا ہو جانا سب کا یکجاں، پہچان اپنی بنیاد بابِ نبی ہمیشہ اب بند ہی رہے گا دنیا کو کر فروزاں، پہچان اپنی بنیاد گردن پہ تیغ کا سایہ ہے مگر نہ رکنا مضبوط یوں تھا ایقاں، پہچان اپنی بنیاد رب کے مجاہدوں کو حاصل سرور کتنا یہ ہی ہے راہِ تاباں، پہچان اپنی بنیاد
محمد ہانی رفیق زمزمی
مطالعہ باقی ہے
آرزوئے حجِّ اکبر! الٰہی! عاشقوں میں شامل اپنا نام ہو جائے تری جانب سے تیرے در پہ کچھ اکرام ہو جائے کئی برسوں سے جاتے ہیں ترے در قافلے کتنے خدایا! مثل اُن کے ہم پہ بھی انعام ہو جائے مقدر کر دے عرفات و منیٰ میں گریہ و زاری کہیں ایسا نہ ہو کہ زندگی کی شام ہو جائے! ترے خُدّام حاضر ہوں، ترے دربار تک جائیں ترے گردوں تلے مزدلفہ میں آرام ہو جائے! طوافِ کعبۂ اطہر کی مُدت سے تمنا ہے کرم فرما دے کہ یہ آرزو اتمام ہو جائے! نبی کی سجدہ گاہوں پر وہ سجدوں کی عجب لذت عجب کیا ہے کہ ان سجدوں میں ہی انجام ہو جائے عجب نورانیت روحانیت آقاؐ کے روضے کی عطا کر دے زیارت کہ یہ حسرت تام ہو جائے خدایا منتظر ہوں تیری رحمت کے خزینے کا کہ کب موصول ؔہانی کو ترا پیغام ہو جائے
معیاری
عامر بن محی الدین نواب
مطالعہ باقی ہے
محمود و ایاز مولانا جلال الدین رومی نے اپنی شہرہ آفاق کتاب مثنوی میں سلطان محمود کا ایک قصہ بیان کیا ہے۔ سلطان محمود غزنوی کے پینسٹھ وزراء تھے۔ ان میں سے صرف ایک وزیر ایسا تھا جو نہایت وفادار تھا، جس کا نام ایاز تھا۔ تمام وزراء ایاز سے حسد کرتے تھے اور سلطان کی نظر میں اُسے نیچا کرنے کے درپے ہوتے تھے۔ ایک دن سلطان محمود نے ایاز کی وفاداری کا حال باقی تمام وزراء پر ظاہر کرنے کے لیے اپنے خزانے سے ایک نہایت قیمتی موتی منگوایا اور اپنے دربار میں تمام وزراء کو باری باری حکم دیا کہ وہ اُس موتی کو توڑ ڈالیں۔ تمام وزراء نے سلطان کے ساتھ اپنی وفاداری اور خیر خواہی کا اظہار اِس طرح کیا کہ اُن سب نے موتی کو توڑنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ آپ کے اتنے قیمتی موتی کو توڑنا آپ کے ساتھ سراسر بے وفائی ہے، ہم ایسا نہیں کرسکتے۔ ان کی اِس بات پر سلطان نے انہیں خوب انعام و اکرام سے نوازا۔ پھر سلطان نے یہی حکم ایاز کو دیا کہ وہ موتی کو توڑ دے۔ ایاز نے ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر ہتھوڑا اُٹھایا اور اُس موتی کو توڑ دیا۔ ایاز کے اِس عمل پر تمام وزراء کو اُس کے خلاف بولنے کا موقع مل گیا اور سب یک زبان ہو کر کہنے لگے۔۔ *این چہ بیباکی است وللہ کافر است* مطلب۔۔۔ اِس درجہ کی بےباکی، یہ تو سراسر کفر یعنی کفرانِ نعمت ہے۔ سلطان محمود نے ایاز سے کہا ایاز تم اپنے اس طرزِ عمل کی وضاحت کرو اور ان کے الزامات کا جواب دو۔ مولانا رومی فرماتے ہیں، *گفت ایاز اے مہترانِ نام ور* ایاز نے کہا کہ اے معزز وزیروں میں تم سے ایک سوال کرتا ہوں۔ اور اُس سوال کے اندر ہی میرے اِس عمل کی وضاحت اور تمہارے الزامات کا جواب ہے۔ *گفت ایاز اے مہترانِ نام ور* *امرِ شہ بہتر بقیمت یا گُہر* ایاز نے کہا مجھے بتاؤ کہ سلطان کا حکم زیادہ قیمتی ہے یا یہ موتی۔ تمام وزراء لاجواب ہوگئے۔ اِس قصہ کو بیان کر کے مولانا رومی نے یہ سبق دیا ہے کہ ہمارے باطن میں پیدا ہونے والی وہ خواہشات جن پر عمل کرنا قانونِ الہٰی کی رو سے درست نہیں ہے، جائز نہیں ہے، اُن خواہشات کو توڑنا ہمارے لئے ایسے ہی ضروری ہے جیسے ایاز کے لئے اُس موتی کو توڑنا ضروری تھا۔ موتی نہ توڑتا تو سلطان کا حکم توڑنا پڑتا۔ اسی طرح ہم نے اپنی حرام خواہشات نہ توڑیں تو سلطان السلاطین یعنی الله جل شانہ کا حکم توڑنا پڑے گا، شریعت کے خلاف جانا پڑے گا۔ الله پاک ہمیں اپنے ساتھ ایسی ہی وفاداری نصیب فرمادے، بلا استحقاق، از راہِ کرم، آمین۔ اِس شعر کو یاد کر لینا چاہئے اور جب کوئی ناجائز خواہش مجبورِ عمل کرے تو اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہئے۔ *امرِ شہ بہتر بقیمت یا گُہر*
محمد ہانی رفیق زمزمی
مطالعہ باقی ہے
اے راہِ دل شکن یہ طے ہوا ہے وفا تجھ سے وصالِ یار تک ہے ترے غم کی رعایت اس لیے ہے کہ تیری انتہا اقرار تک ہے
معیاری
شاہانہ ناز
مطالعہ باقی ہے
مرے مزاج کی سنجیدگی پہ ہنستے ہیں شعور و فکر کی بالیدگی پہ ہنستے ہیں جو اوڑھے رکھتے ہیں ہر دم نقاب چہرے پر وہ سارے لوگ مری سادگی پہ ہنستے ہیں انہیں یہ زندگی اک دن بہت رلائے گی جو زندگی میں بہت زندگی پہ ہنستے ہیں
معیاری
حامد قاسم پالن پوری
مطالعہ باقی ہے
💞 سوزِ دروں 💞 شبِ ماہتاب تھی ، چاند پوری طور پر ضوفشاں تھا، صحراء و بیاباں عکس چمن بن چکے تھے، ہر سمت نور ہی نور بکھرا تھا، دل کی کلیاں کھل اٹھی تھیں ، گلوں کی نکہت خوشبو بن کر مسرت کا پیغام دے رہی تھی، شب ہجر کے سناٹے میں بہتا پانی اپنی سرور انگیز مدھم لے سے سکوت کو اور بھی پراسرار بنا رہا تھا، ستارے سقف کہن کی وسعتوں میں جگمگا رہے تھے، ہر طرف چاندنی کا راج ہی راج تھا، دریچوں سے خوشگوار ہوا باغیچوں سے ہو کر فضا میں مشک باری و عطر بیزی کر رہی تھی ، مسکراتی وادیاں مہر و ماہ و کہکشاں عجب رنگ میں رنگے ہوئے تھے ، گویا کہ کسی نے ان پر نور کی چادر تان دی ہو، اس سحر انگیز ماحول میں خیالات کی گہرائیوں میں غرقاب تھا کہ ناگاہ درون خانہ میں کسی کی دستک سنائی دی میں دروازے کی سمت خراماں خراماں چل دیا ، کیا دیکھتا ہوں کہ کوئی مہمان کھڑا ہے ، جس کو بچھڑے برسوں بیت چکے تھے، میں کن انکھیوں سے اسے تک رہا تھا ، یوں محسوس ہو رہا تھا کہ لمحے بھر کے لیے وقت رک سا گیا ہو ، طویل خاموشی اور سکوت کے بعد وہ گویا ہوا ، وہ یادوں کا ایک پیکر تھا ، وفا کی ایک خوشبو تھی ، محبت کا ایک پیغام تھا ۔ وہ زمانہ گزر گیا ، اب محبت کو گہن لگ چکا ہے ، ایام فرقت اب کاٹے نہیں کٹتے ، اب دل بے قرار ہے ، یادیں غنچۂ دل کو بے چین کر دیتی ہیں ، خیال ایفائے عہد کی بازگشت تیز و تند خنجر بن کر دل و جاں کو مجروح کرتی ہے ، یہ گردش کرتی ہوائیں ، علیل سی فضائیں ، اپنی بے بسی کا اظہار کرتی ہیں ، گلوں کی نکہت لبادۂ افسردگی اوڑھے محوِ فغاں ہے ، باد صبا باد بہار شکوہ کناں ہے ، گاؤں کی گلیاں پژمردگی کی شکار ہیں ، کیونکہ کسی کے ہجر کی کسک انہیں تڑپا رہی ہے اور مسکنت و بے بسی کے اشک بہانے پر مجبور کر رہی ہے ، شکستہ قلب اب سکون و قرار کا جوئندہ ہے ، من کی بستیاں ویرانوں میں تبدیل ہو چکی ہیں ، جذبات کی موجیں تھم چکی ہیں ، احساسات کی رم جھم برسات برسنے کو ترستی ہے ، ہر روز طلوع ہوتا آفتاب، جلوہ گر ہوتی اس کی شعاعیں، شعلہ برساتی اس کی کرنیں، ہر لمحہ آپ ہی کی یاد دلاتی ہیں، چاندنی راتوں کے ٹمٹماتے اور جگمگاتے تارے دیکھ کر یادوں کی بادِ بہار چلنے لگتی ہے، شبنمی راتوں میں ماہ و انجم کی نورانی برسات جب اپنی آب و تاب کے ساتھ برستی ہے ، تو دل آپ کی یادوں کی دوش پر آپ کی راہ تکتا رہ جاتا ہے بالآخر امید کے دیے خاموش ہوجاتے ہیں اور تنہائی مزید تنہا ہوجاتی ہے۔ موسم بہار کی جب سرد ہوائیں چلتی ہیں اور جھونکے کروٹ لیتے ہیں، تو آپ بلا ساختہ زباں پر آ جاتے ہیں، موسم برسات میں جب ہلکی ہلکی پھواریں پڑتی ہیں تو آپ کی یادیں بھی ان پھواروں کی طرح اشک بن کر آنکھوں سے بہ جاتی ہیں ، مرغزاروں کی سیر جو کبھی خوشنما اور دلکش معلوم ہوتی تھی ، بہتے سوتے جو کبھی دل کی مسکراہٹ ہوا کرتے تھے آبشاروں کا رقص و سرود جو کبھی طبیعت کو بھلا محسوس ہوتا تھا موسم پت جھڑ میں الاؤ جلاتے ہوئے باہم گفتگو جو کبھی ازدیاد محبت و اخوت کا سبب ہوا کرتی تھی ، سبھی کچھ بدمزہ معلوم ہو رہا ہے ، جس نے کہا سچ کہا ... یاد ماضی عذاب ہے یا رب محبت نے محبوب کے ماسوا سب کچھ جلا کر خاکستر کردیا ہے ، اب کوئی خواہش بھی نہ رہی ، تمنائیں بھی کوچ کر گئی ، وقت نے وقت سے قبل شباب کو پھیکا کردیا ، ہستی کی مستی تلخ کامی کی زد میں ہے ، ہنستے مسکراتے چہروں سے جوانی کی رعنائی کافور ہوگئی ہے ، اب زندگی نے سدا چپ رہنا سکھا دیا ہے ، کبھی کوئی خیر خیریت دریافت کرلے تو مسکرا کر ہزار زخموں پہ مرہم رکھ کر ٹھیک ہے کہہ دیتے ہیں ، جب اس سے بچھڑے تب خزاں کا مطلب سمجھ آیا ہے ، فراق نے وصل کے مفہوم کو دھندلا کردیا ہے ، محبت کے شیشوں پر دھول جمی پڑی ہے ، دل غبار تلے اٹا پڑا ہے ، یہ سودا بڑا ہی مہنگا پڑا ہے ، شب ہے کہ نالوں کی نذر ہوجاتی ہے ، دن ہے کہ لمحوں میں گزر جاتا ہے ، اب خورشید جہاں نئی رونقیں لے کر طلوع نہیں ہوتا ، زیست کا دامن خاروں سے تار تار ہوچکا ہے ، رہا بھی کیا ہے ؟ گل بھی گئے گلشن بھی گئے گلوں کے پتے رہ گئے ہیں ، جب شام ہوتی ہے اور زنجیریں در پہ پڑتی ہیں تو بس اسی کا آنا باقی رہ جاتا ہے ، رات جوں جوں گہری ہوتی جاتی ہے ستاروں کی خاموشی رلاتی جاتی ہے ، یہ نالے بھی کیسے نرالے ہیں ، خاموش فضاؤں میں تاریک راتوں میں پہلو میں ایک درد سا اٹھتا ہے اور آنکھیں نم ہوجاتی ہیں ... اک ٹیس جگر میں اٹھتی ہے اک درد سا دل میں ہوتا ہے ہم رات کو رویا کرتے ہیں جب سارا عالم سوتا ہے کھلے آسمان کو گھنٹوں تکتا رہتا ہوں ، نہ خواب آ آ کے میری چھت پہ ٹہلتے ہیں ، نہ ستاروں سے تھپک ملتی ہے ، اور نہ ماہتاب تسلی دیتا ہے ، درختوں کے گردا گرد منڈلاتے جگنو سے دل بہلا لیتا ہوں لیکن کب تک ، شب نے جوں ہی رخصت لی یہ نظارہ بھی نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے ، ایک سوز و گداز کی شب گزر جاتی ہے ، اور ایک درد و الم کی صبح کا آغاز ہوجاتا ہے ۔ خوشا نصیب ! جنہیں محبت نے ترو تازہ رکھا ، مژدۂ جانفزا ہو ! جنہیں عشق نے آلودۂ سوزِ دل نہ کیا ، نصیبہ ور ہو ! جنہیں زندگی نے بارہا آزمایا لیکن وہ گرے نہیں ، سلام ہو ان پر جنہیں راستے جدا نہ کرسکے اور حالات بدل نہ سکے ۔
معیاری
شاہانہ ناز
مطالعہ باقی ہے
نہ ہے آرزو کوئی دوستا نہ مجھے سکوں کی تلاش ہے جسے تھام کر کھڑی رہ سکوں مجھے اس ستوں کی تلاش ہے مرے چارہ گر تو نہ اب مجھے کوئی مصلحت کا سبق پڑھا کہ مجھے خرد سے غرض نہیں مجھے اب جنوں کی تلاش ہے مجھے ہے خبر نہ ٹلے گی اب مری جان لے کے ہی جائے گی کہ یہ عشق ہے وہ بلائے جاں جسے میرے خوں کی تلاش ہے بڑی مدتوں سے میں سہہ رہی ہوں شکستگی مرے ناصحا جو سمیٹ لے مری ذات کو مجھے اس فسوں کی تلاش ہے مرے حال زار کا پوچھنے مرے پاس آئے وہ دو گھڑی مجھے اس کی دید کے واسطے طبع زبوں کی تلاش ہے
نذیر اظہر کٹیہاری مدنی
مطالعہ باقی ہے
ایک چھوٹی سی کاوش باصرہ نواز ہو مناجات توفیق پھر سے دے ترا دربار دیکھ لوں بیتِ عتیق ، کعبۂ ضَوبار دیکھ لوں مدت سے آرزو ہے یہی دل میں موجزن ارضِ رسولِ پاک کے آثار دیکھ لوں توحید کا علم ہے، جو عظمت کا ہے نشاں بدعت کے سر پہ قاطعِ تلوار دیکھ لوں ہوتی ہیں ہر گھڑی جہاں رحمت کی بارشیں اُس پاک سر زمین کو اک بار دیکھ لوں دیکھے جو اپنی آنکھ سے منظر سہانہ سا خواہش کرے وہ دل سے کہ صد بار دیکھ لوں حرمین کی زمین کے آثارِ پر بَہار خیرات، برکتوں کے وہ انوار دیکھ لوں ملتی ہے جس سے دل کو تسلی ہر اک گھڑی دنیا کے ایسے خوشنما گلزار دیکھ لوں ہوتی شفا نصیب ہے ، جس قصد سے پیے زمزم کی کرامت کا وہ اظہار دیکھ لوں کعبہ کا ہو طواف ، صفا ، سعی مروہ سے اعمال کو میں اپنے اثر دار دیکھ لوں موقع ملے نماز کا کعبے کے سائے میں سجدے میں سر ہو، رحمتِ قہار دیکھ لوں مزدلفہ عرفہ اور منی میں گزاروں وقت یوں حج کی سعادت کو ثمر بار دیکھ لوں مکہ میں رہ لوں یا کہ مدینے میں ہو قیام ہر وقت رب کے ذکر میں سرشار دیکھ لوں جس کو نبی پاک نے جنت کا جز کہا اس خطۂ زمین کو اک بار دیکھ لوں جب بھی ہو حاضری مری، دربار میں ترے لطف و کرم ، معاف کے انوار دیکھ لوں حرمین کی زمین کو جو بھی دکھائے آنکھ دنیا میں ہر اک لمحہ اسے خوار دیکھ لوں گرداب میں اگر پھنسے کشتی مری کبھی تو تیری رحمتوں کا طلبگار دیکھ لوں تیرے حبیب کی بنی مسجد میں جاکے میں بکر و عمر، رسول کے آثار دیکھ لوں فتنے، فساد ، حِقد کی بستی کے بیچ میں الفت، اماں ، خلوص کے کُہسار دیکھ لوں یارب کرم ہو اتنا کہ کوثر کے حوض پر اظہرؔ کو بہرِ جام میں تیار دیکھ لوں *کاوشِ قلم: نذیر اظہرؔ کٹیہاری مدنی* 09/04/2026
عثمان عباسی
مطالعہ باقی ہے
🍁حمدِ باری تعالیٰ (صفتِ رحمت) تو ہی رحمٰن ہے یا رب .! جہانوں پر تِری رحمت زمینوں ، آسمانوں پر ، زمانوں پر ……. تِری رحمت نبیﷺ کے جانثاروں اور پیاروں پر تِری رحمت ہدایت کے مناروں ، چار یاروںؓ پر … تِری رحمت جوانوں،بوڑھوں، بچوں،مرد وعورت پر تِری رحمت برستی ہے سدا آقا ﷺ کی اُمَّت پر تِری رحمت جہاں بھر کی بہاروں ، آبشاروں پر … تِری رحمت ہے سورج کی شعاعوں، چاند تاروں پر تِری رحمت فضاؤں ، کہکشاؤں پر ، ہواؤں پر ……. تِری رحمت نظر آتی ہے ماؤں کی دعاؤں پر ………. تِری رحمت مؤذن کی اذانوں ……. سب زبانوں پر تِری رحمت نبیؐ کے شاعروں اور نعت خوانوں پر تِری رحمت خیال وذہن پر یا رب! دل و جاں پر تِری رحمت تِری تعریف کے دَم سے ہو عُثماں پر تِری رحمت
نذیر اظہر کٹیہاری مدنی
مطالعہ باقی ہے
*غزل* یہ حشمت ، وجاہت ، یہ ثروت تمہاری فقط چار دن کی ہے عشرت تمہاری عداوت میں اتنے گُھلے جا رہے ہو کہیں مار ڈالے نہ نفرت تمہاری ہمیشہ ہی الفت کو قائم رکھو تم اَمَر تم کو رکھے گی چاہت تمہاری تمہیں زیب دیتا نہیں ہے تکبر خبر دے رہی ہے یہ خلقت تمہاری حقیقت ہے لوگو بروزِ قیامت نہیں کام آئے گی دولت تمہاری قدم پھونک کر رکھو اے دنیا والو! کبھی گِر نہ پائے یہ عظمت تمہاری سبب کچھ تو ہے اس ہزیمت کے پیچھے جہاں میں تھی ورنہ حکومت تمہاری اگر خود کو قول و عمل سے سجا لو تو ہر اک سنے گا نصیحت تمہاری جہانِ فنا کے ہی پیچھے پڑے ہو عجب ہے اے اظہرؔ یہ رغبت تمہاری *از قلم: نذیر اظہرؔ کٹیہاری مدنی*
محمد ہانی رفیق زمزمی
مطالعہ باقی ہے
فلسطین کی پکار اے امتِ احمد یہ ہے للکار کا موقع اے عالمِ اسلام ہے یلغار کا موقع اے خواب ِاسیری میں بھٹکتے ہوئے شیرو یہ ظلمتِ باطل ہے اٹھو کفر کو گھیرو اب مسجدِ اقصیٰ کے دیدار کا موقع اٹھ جا کے ترے خون پہ جنّت کی خبر ہے اٹھ جا کے فلسطین پہ کافر کی نظر ہے اقصی کی محبت کے ہے اظہار کا موقع ملت کے جواں مرد تو تلوار اٹھا لے اسلام کا پرچم اے علم دار اٹھا لے یہ ارضِ مقدّس کے لیے وار کا موقع آؤ کہ تمہیں قدس کے انوار دکھائیں داؤد و سلیمان کے دربار دکھائیں مظلوم کی خاطر یہ ہے ایثار کا موقع آزادی کی تنویر ہو تقدیر بھی تم ہو اسلام کی تصویر ہو شمشیر بھی تم ہو محصور کی فریاد پہ اقرار کا موقع امّید ِفلسطین ہو کشمیر بھی تم ہو پُر نور فتوحات کی تعبیر بھی تم ہو ظالم کی منادی پہ ہے انکار کا موقع
محمد ہانی رفیق زمزمی
مطالعہ باقی ہے
خدا کی زمین پر، چلے حکم خدا کا! "خدا کی زمین پر، چلے حکم خدا کا" یہ نعرہ آج سے ایک صدی پہلے خطہ ہندوستان میں ایک خواب کے مترادف تھا اور اس خواب کی تعبیر ناممکن تھی۔ خدا کے منکروں کے استعمار و استبداد کی بابت احکام خداوندی پس پشت ڈالے جا رہے تھے، تعیشِ اقتدار کے سبب عقائد مسخ ہو رہے تھے اور اس کے علاوہ طرح طرح کے مسائل میں امت مرحوم سسکیاں لے رہی تھی۔ کافروں سے اختلاط کے باعث مسلمانوں کے عقائد متزلزل ہو رہے تھے، مزید یہ کہ خلافت عثمانیہ کے سقوط کے سبب کسی قسم کی بیرونی کمک یا امداد کی اُمید بھی دم توڑ چکی تھی تھی۔ اسی اثنا میں چند غیور، دور اندیش، بالغ نظر، بیدار مغز اور مخلص قائدین، زعماء ملت اور علماء کرام نے اس بات کا ادراک اور فیصلہ کر لیا کہ مسلمانوں کے لیے آزاد سر زمین ناگزیر ہے اور اس کے لیے ہر قسم کی جدو جہد اور سمجھوتہ لازم و ملزوم ہے۔ یہ فیصلہ ایسی فضا اور ایسے ماحول میں کیا گیا تھا کہ جب اس کا تصور و محل بالکل نہیں تھا لہذا بہت سے طبقات کی جانب سے اس کی پر زور مخالفت بھی کی گئی، اغیار کی مخالفت تو ظاہر تھی مگر کچھ با اثر مسلمان بھی اختلاف الرائے کی وجہ سے اس فیصلے کی حمایت نہ کر سکے۔ تاہم ارباب دانش نے جان، مال، اہل و عیال، اپنے خاندان، پسندیدہ علاقے، مناصب، ذخائر الغرض ہر قسم کی قربانی دی اور چشم فلک نے دیکھا کہ کس شان سے لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر یہ سبز ہلالی پرچم کرۂ ارض پر جلوہ افروز ہوا کہ شرپسندوں کی جملہ شر انگیزیوں کے باوجود حق کی حقانیت اور باطل کا بطلان روز روشن کی طرح واضح ہو گیا۔ اس بات میں کوئی تحیر و تعجب نہیں کہ کسی کہنے والے نےخوب کہا کہ اسلام کو اللہ نے مکہ میں نازل فرمایا پھر اسے ریاست مدینہ کی سر پرستی نصیب فرمائی پھر وہ کوفہ منتقل ہوا پھر اس کے ذریعے بغداد کو چار چاند لگے پھر قاہرہ اور پھر استنبول دار الخلافہ رہا اور اب اس دور جدید میں خداوند قدوس نے اسلام کا علمی و دینی مرکز اس مملکتِ خداداد کو مقرر فرمایا، اے پاکستان والو! اس کی قدر کر لو۔ جب ٧ ستمبر ۱۹۷۴ء کو عدالت نے قادیانیت کو کافر قرار دیا تو ایک بزرگ نے کہا کہ آج پاکستان کے قیام کا فائدہ باقاعدہ نظر آگیا۔ یوں ہی نہیں یہ وطن عالم کفر کی نگاہوں میں کھٹک رہا ہے، اس کی وجہ اس کی ناقابل تسخیر بنیاد ہے جو بظاہر انحطاط کا شکار ہونے کے باوجود قائم ہے اور ان شاء اللہ تا روز محشر تک اہل حق کا وطن اور باطل کا مزار ثابت ہوتا رہے گا۔
معیاری
محمد ہانی رفیق زمزمی
مطالعہ باقی ہے
وہ لوگ بھی بچھڑے جو بچھڑنے کے نہیں تھے! ہر گلستان کا ایک گل ہوتا ہے، ہر باغ کا ایک گلاب ہوتا ہے، سیاہ بادلوں کے ہر جھرمٹ میں ایک چاند ہوتا ہے جو تاریکی میں روشنی کی علامت ہوتا ہے اور گلاب اس باغ کی پہچان ہوتا ہے، اس کی مہک ہوتا ہے، الغرض اس باغ کو اور اس کے باغبان کو اس پر بڑا فخر ہوتا ہے، اگر میں یہ کہوں کہ یہ تمام تشبیہات و استعارات ہمارے خاندان کی نسبت سے ہمارے تایا مرحوم حضرت مولانا مفتی محمد حنیف عبد المجید صاحب (جن کے نام کے آگے اب رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہوئے کلیجہ منہ کو آرہا ہے) پر صادق آتی ہیں تو شاید بے جا نہ ہو گا۔ ۱۲ نومبر ۲۰۲۵ء بروز بدھ کو رات تقریباً تین بجے حضرت مفتی صاحب داعی اجل کو لبیک کہہ کر ہم سب کو داغِ مفارقت دے گئے۔ انتقال سے تقریباً سات (۷) گھنٹے قبل یعنی بروز منگل کی شب تقریباً ۸ بجے بندہ نے آخری بار مفتی صاحب کی زیارت کی جب ہسپتال میں ان کی عیادت کے لیے جانا ہوا اور صبح اسی جانکاہ خبر کے ساتھ بیدار ہوئے۔ پھر صبح تعزیت کے وقت حضرت مفتی صاحب کے شاگردوں اور متعلقین کو ایسے اشکبار اور غم ناک دیکھا جیسے کوئی خونی رشتہ یا سگی اولاد ہو، اس سے مفتی صاحب کے لیے لوگوں کی محبت و عقیدت کا بخوبی اندازہ ہو گیا اور اس حدیث کا بھی جس کا مفہوم ہے کہ جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو مخلوق کے دل میں بھی اس کی محبت ڈال دیتا ہے۔ (صحیح بخاری: ۶۰۴۰) بروز بدھ بعد نماز ظہر جامع مسجد بنوری ٹاؤن میں مفتی صاحب کی نماز جنازہ، حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کی اقتدا میں ادا کی گئی جس میں عوام و خواص کے ایک جم غفیر نے شرکت کی خصوصاً پیر طریقت حضرت مولانا شمس الرحمان عباسی صاحب، حضرت مولانا مفتی امداد اللہ یوسف زئی صاحب، مولانا فہیم اشرف صاحب، مولانا نعمان نعیم صاحب، مفتی سعید سکندر صاحب، مولانا عمران عیسیٰ صاحب، مولانا احمد بنوری صاحب، مولانا عمر بدخشانی صاحب مد ظلہم قابل ذکر ہیں۔ ہم پر یہ اللہ تعالیٰ کا بے حد فضل و کرم رہا کہ ہمیں خاندان میں ہی اللہ نے ایک فنا فی اللہ مخلص، للہیت سے بھر پور، گمنام، سادگی پسند اور انتہائی شفیق شخصیت کی صحبت نصیب فرمائی۔ عام طور سے یہ انسانی فطرت ہے کہ کسی نعمت کی موجودگی میں اس کی کما حقہ قدر نہیں ہوتی مگر جب وہ نعمت چھن جاتی ہے تو احساس ہوتا ہے، حضرت مفتی صاحب قدس سرہ کا معاملہ بھی اسی طرح تھا کہ ان کی گمنامی و گوشہ نشینی کے باعث اندازہ نہ ہوا کہ اس مردِ جلیل نے قرآنی تعلیمات کی ترویج واشاعت کے میدان میں کیسے کیسے سنگ میل عبور کیے ہیں لیکن اب جب وہ ہم میں موجود نہیں ہیں تو ان کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات رہ رہ کر یاد آتے ہیں۔ کر رہا تھا غمِ جہاں کا حساب آج تم یاد بے حساب آئے مختصر حالات: حضرت مفتی صاحب قدس سرہ کی ولادت سن ۱۹۶۵ء کی تھی۔ سن ۱۹۷۷ء میں ابتدائی پانچ جماعتیں اسکول میں پڑھنے کے بعد جامعہ بنوری ٹاؤن میں داخلہ ہوا، پھر اولیٰ سے لے کر تخصص تک وہیں زیر تعلیم رہے۔ سن ۱۹۸۳ء کی فراغت تھی، اللہ تعالیٰ نے مفتی صاحب قدس سرہ کو دورہ حدیث میں مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی صاحب (بخاری و ترمذی مکمل)، مولانا مصباح اللہ شاہ صاحب، حضرت مولانا بدیع الزمان صاحب (سنن ابی داؤد) اور حضرت مولانا ادریس میرٹھی صاحب (صحیح مسلم مکمل) رحمہم اللہ جیسے جید علماء کرام کی سر پرستی اور شرفِ تلمّذ نصیب فرمایا۔ بعد ازاں، حضرت مفتی عبدالرحیم صاحب دامت برکاتہم سے تکمیل بھی کی۔ ایک سال (غالباً سن ۱۹۹۱ء میں) جامعہ بنوری ٹاؤن میں مدرس رہے اور پھر دو سے تین سال (غالباً ۱۹۹۲-۹۴ء میں) جامعہ دار العلوم نیو کاسل، جنوبی افریقہ میں حدیث کی معروف کتاب مشکوٰۃ المصابیح کی تدریس کی۔ غالباً سن ۱۹۸۶ء کے سال حج کے سفر میں حضرت حاجی عبدالوہاب صاحب نور اللہ مرقدہ نے حضرت مفتی صاحب کو اپنے ہمراہ کچھ گشت کروائے، اسی کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے مفتی صاحب کو تبلیغ سے بھی وابستہ کر دیا، پھر اس کے بعد مفتی صاحب نے ۱۹۸۷ء میں سال کی جماعت میں وقت لگایا۔ مارچ ۱۹۸۹ء میں حضرت مولانا سعید احمد خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی معیت میں سات سے آٹھ ممالک کے اسفار ہوئے؛ جنوبی افریقہ، تنزانیہ، کینیا، ملاوی، موزمبیق، برطانیہ، فرانس، امریکہ۔ رمضان المبارک میں شروع ہونے والے یہ اسفار حج کے بعد اپنے اختتام کو پہنچے۔ اس کے ایک برس بعد حضرت مفتی سعید احمد خان صاحب قدس سرہ نے نظام الدین سے رائیونڈ حاجی صاحب نور اللہ مرقدہ کو خط لکھا کہ میں اپنے سفر میں مفتی حنیف (صاحب رحمہ اللہ) کو ساتھ چاہتا ہوں تو مفتی صاحب نے ایک اور سفر بھی حضرت کے ہمراہ کیا۔ اس کے اگلے سال یعنی سن ۹۰ء میں مفتی صاحب قدس سرہ نے چند ساتھیوں کے ہمراہ نیوزی لینڈ، ملائیشیا، آسٹریلیا اور فجی (Fiji) کا بھی سفر کیا تھا۔ دینی خدمات: سن ۱۹۹۳ء میں مدرسہ بیت العلم (شعبہ کتب) کا قیام عمل میں آیا جب پانچ سے چھ طلبہ تھے، اس کے بعد حفظ و ناظرہ کی درس گاہوں کا آغاز ہوا اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مرکز ”بیت العلم“ کے تحت ایک درجن سے زائد حفظ و ناظرہ کے مدارس اور مساجد مصروف عمل ہیں۔ بعد ازاں، سن ۱۹۹۷ء میں البدر اسلامک اسکولنگ سسٹم کی تاسیس ہوئی، جب اسلامی اسکولوں کا رواج کم تھا اور بہت سے دین دار گھرانے کے بچے بھی غیر اسلامی اسکول میں جاتے تھے جہاں کا لباس اور ماحول وغیرہ دیکھ کر حضرت مفتی صاحب کو فکر ہوئی اور دل میں یہ داعیہ پیدا ہوا کہ ایسے اسکول بھی ہونے چاہئیں جہاں اسلامی ماحول ہو اور وہاں کی نصابی کتابوں میں غیر شرعی عناصر نہ ہوں مثلاً تصاویر، مغربی تہذیب سے متعلق واقعات وغیرہ تو اس فکر کا ثمرہ اللہ تعالیٰ نے البدر کی صورت میں عنایت فرمایا، جس کے زیر نگرانی ایسی نصابی کتب بھی تیار ہوئیں جو مذکورہ چیزوں سے پاک تھیں اور دوسرے کافی اداروں نے اسے پسند کر کے اپنے نصاب میں داخل بھی کیا۔ ابتدا میں ”آئی ایس“ نامی ایک اسکول میں سمر کورس کا آغاز ہوا تھا جو ۲۰۰۰ء تک مستقل اور سن ۲۰۱۰ء تک وقفے کے ساتھ جاری رہا بعد میں باقاعدہ اسکول کا آغاز البدر کے نام سے ہوا۔ مکتب تعلیم القرآن کو اور اس کے نظم و نسق کو اللہ رب العزت نے جس کامیابی و کامرانی، قبولیت اور اکابرین کے اعتماد سے نوازا وہ حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کے اخلاص کا منہ بولتا ثبوت ہے اور تا قیامت رہے گا ان شاء اللہ العزیز۔ سن ۲۰۰۶ء میں اس کی بنیاد رکھی گئی جس کے پیچھے بنیادی طور پر دو منفرد اور بنیادی مقاصد کار فرما تھے، ایک تو یہ کہ جو بچے اسکول میں زیر تعلیم ہیں ان کو بچپن میں ہی دوپہر کے وقت بنیادی اسلامی تعلیمات سے روشناس کرایا جائے تاکہ جب عصری تعلیم سے وہ فارغ ہو کر عملی زندگی میں قدم رکھیں تو ایک صحیح مسلمان کی زندگی گزار سکیں جس کے لیے ”تربیتی نصاب“ کے نام سے نصاب تیار کیے گئے جو اہل علم کے ہاں بے انتہا مقبول ہوئے، دوسرا مقصد قرآن کریم کے اساتذہ یعنی قاری صاحبان کی تجوید و تربیت پر توجہ تھا جس کے لیے مختلف نشستوں کا انعقاد ہوتا ہے۔ اس کے لیے ملک بھر میں اور بیرونِ ملک بے شمار مکاتب قائم ہیں۔ اکابر کی جھلک: ہم نے جو کتابوں میں اکابرین کی صفات پڑھیں اور بڑوں سے سنیں ان میں سے اکثر حضرت مفتی صاحب قدس سرہ کے اندر موجود پائیں، ایک زمانہ تھا جب مفتی صاحب اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود ہمیں ہفتہ واری چھٹی والے دن صبح صبح اپنے ہمراہ چہل قدمی اور ورزش کے لیے باغیچہ میں لے کر جایا کرتے تھے، چند چچازاد ہوتے، راقم بھی ساتھ ہوتا، جب ہم چھوٹے چھوٹے ہوا کرتے تھے۔ مفتی صاحب قدس سرہ چہل قدمی فرماتے اور ہم آپس میں کھیل لیا کرتے تھے۔ جب بھی ملاقات ہوتی، تعلیمی اعتبار سے ضرور استفسار فرماتے، فکر فرماتے، الغرض انتہائی شفقت کا مظاہرہ فرماتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مفتی صاحب کو غایت سادگی سے بھی متصف فرمایا تھا، جب سے آنکھ کھولی ہمیشہ مفتی صاحب کو پہننے اوڑھنے کے ایک ہی سادہ سنت کے موافق انداز میں پایا اور راقم نے مفتی صاحب کے زیر استعمال تادمِ آخر ایک ہی چھوٹی سی قدیم گاڑی دیکھی۔ بہر حال، جو بھی مفتی صاحب کو جانتے تھے وہ اس بات سے متفق ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے مفتی صاحب قدس سرہ کو کس درجہ سادگی کی صفت سے نوازا تھا۔ ایک مبارک خواب: جس دن مفتی صاحب کی وفات ہوئی اسی رات یعنی بدھ اور جمعرات (۱۲ اور ۱۳ نومبر) کی درمیانی شب حضرت شیخ ڈاکٹر نوشاد صاحب مد ظلہم (خلیفۂ مجاز حضرت مولانا عبد الحفیظ مکی صاحب نور اللہ مرقدہ) نے خواب میں حضرت مفتی صاحب قدس سرہ کو دیکھا، فرما رہے تھے کہ ”میں یہاں بہت مطمئن ہوں!“۔ ڈاکٹر صاحب مد ظلہم نے مزید فرمایا کہ بہت اچھی حالت میں لگ رہے تھے۔ اکابرین و معاصرین کے تاثرات: حضرت مولانا مفتی عبد الرؤوف صاحب غزنوی مدظلہ العالی جنازے سے قبل تعزیت کے لیے تشریف لائے تو فرمانے لگے، ”بعض زندگیاں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کی بدولت انہیں آخرت میں ایسے انعامات سے نوازا جاتا ہے کہ اگر انہیں دنیا میں واپس جانے کا موقع ملے تو وہ انکار کر دیں، حضرت مولانا حنیف صاحب قدس سرہ کی زندگی بھی ایسی ہی تھی۔“ پھر مفتی صاحب کی زیارت کر کے فرمانے لگے: ”ہمیشہ کے لیے سکون پاگئے!“ حضرت مولانا امداد اللہ یوسف زئی صاحب دامت برکاتہم نے فرمایا: ”میں نے میمن برادری میں یہ واحد شخص دیکھا تھا جو اتنی وسیع سوچ رکھتا تھا، پھر اللہ نے اس اعتبار سے ان سے کام بھی لیے کہ دیر میں بھی مفتی صاحب کا مکتب قائم ہے۔“ حضرت مولانا عمران عیسیٰ صاحب حفظہ اللہ فرما رہے تھے: ”مفتی صاحب تو بڑی کامیاب زندگی گزار گئے اور جو ہم نے دیکھا تو اس اعتبار سے اللہ سے امید ہے کہ ان شاء اللہ وہ آنے والے مراحل میں بھی کامیاب ہوں گے، اب مسئلہ تو میرا اور آپ کا ہے، مفتی صاحب کے ہمراہ جو کچھ اسفار ہوئے اور وقت گزرا اس میں ہم نے دیکھا کہ ان کو اللہ نے قوتِ دعا سے نوازا تھا، وہ اللہ سے مانگنے والے بہت تھے، تو اب ہمارے لیے سیکھنے کی چیز یہ ہے کہ ان کی اس طرح کی صفات کو اپنائیں۔“ حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمہ کے حج کے ایک پرانے ساتھی اور ہم سفر بتا رہے تھے کہ مزدلفہ میں ہم سب اپنے لیے، اپنے اہل و عیال کے لیے جب دعائیں کر رہے ہوتے تھے تب یہ اپنے اداروں، اداروں کے افراد کے لیے دعائیں مانگ رہے ہوتے تھے، ایسا دردِ دل، ایسی کڑھن اور ایسی فکر تھی۔ تصانیف: یہ بات بھی قابلِ تعجب اور قابلِ اقتدا ہے کہ اپنی کم مدتِ حیات، انتظامی مصروفیات اور تبلیغی اسفار کے باوجود حضرت مفتی صاحب قدس سرہ کی تصنیفات و تالیفات کی تعداد ۳۰۰ سے متجاوز ہے جن میں تحفہ دولہا، تحفہ دولہن، مثالی باپ، مثالی ماں، مثالی استاد، شرح اسمائے حسنیٰ، تحفۃ الدعاء سیریز، مجموعہ وظائف، تعلیم الدعاء وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ اس میں ہمارے لیے وقت کی اہمیت اور اسے قیمتی بنانے کا بڑا سبق ہے جو ہمارے تمام اکابرین واسلاف حتیٰ کہ دنیا کے ہر کامیاب انسان کا امتیازی اور مشترکہ وصف ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ حضرت مفتی صاحب کی خدمات کو قبول فرمائے، خدمات کا سلسلہ جاری و ساری رکھے، ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے، اعلیٰ علیین میں جگہ نصیب فرمائے، ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
معیاری
محمد ہانی رفیق زمزمی
مطالعہ باقی ہے
اردو زبان: چراغ تلے اندھیرا! "چراغ تلے اندھیرا" یہ محاورہ کافی حد تک اُردو زبان کے موجودہ حال پر صادق آتا ہے۔ یعنی اُردو پچھلی دو صدیوں میں تو علمی و ادبی دنیا کی بہت سی تاریکیوں کا قلع قمع کر چکی ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ فارسی اور عربی زبان کے بعد ہی وہ زبان ہے جس کے نصیب میں مستند دینی خدمتیں آئیں تو بے جا نہ ہوگا، اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ اس دور جدید میں اُردو کی حفاظت دراصل دین کی حفاظت ہے مگر بد قسمتی یہ ہے کہ اردو زبان اپنے گھر میں ہی اجنبی ہوتی جا رہی ہے جس کا سب سے بھیانک نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ نئی نسل مستند دینی مواد اور درست دینی رہنمائی سے کٹتی چلی جا رہی ہے۔ پھر ستم در ستم یہ ہے کہ اُردو زبان کا مسئلہ انتہائی اہم ہونے کے باوجود کما حقہ اس کا ادراک اور اس کے حل کی طرف قوم متوجہ نہیں ہو پا رہی کیوں کہ اس طرح کے بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔ اپنے شاندار ماضی کے باوجود پاکستان کی قومی زبان اُردو ہماری قانونی/سرکاری زبان نہیں ہے، کیا یہ لمحہ فکریہ نہیں؟ بلکہ ہماری قانونی زبان وہ ہے جس سے ہم نے ۷۸ برس پہلے جان ہتھیلیوں پہ رکھ کر آزادی حاصل کی تھی، کیا ہم اُن شہداء کے لہو کو رائیگاں جانے دے رہے ہیں؟ کیا ہم اُن کی شہادتوں کا خدا نخواستہ مذاق اُڑا رہے ہیں؟ جو زبان اہل زبان کے یہاں ہی غیر محسوس طریقے سے ذلت کی علامت ہو جائے اور جب وہ دوسری زبان بولنے پر فخر محسوس کریں تو اُن کی ذاتی شناخت کہاں سے سلامت رہ سکتی ہے؟ وہ قوم غلامی سے کیسے حفاظت پا سکتی ہے؟ بدنصیبی یہ ہے کہ صرف اُردو کی اہمیت میں کمی نہیں آرہی بلکہ اینگلو اردو رواج پانے لگی ہے اور خالص اُردو مدفون ہونے لگی ہے اسی طرح اُردو کا اصلی رسم الخط عربی رسم الخط ہے مگر وائے بد قسمتی کہ اب رومن رسم الخط میں منتقل ہونے لگا ہے گویا دل خون کے آنسو روتے ہوئے کہتا ہے: اُردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے مگر شکر ہے اللہ تعالیٰ کا کہ ابھی کچھ عشاقِ اُردو باقی ہیں جن میں کافی بڑی تعداد اہل مدارس، تبلیغی جماعت اور خانقاہی نظم سے منسلک حضرات کی بھی ہے، جو زبانِ حال سے کہتے ہیں: ابھی تہذیب کا نوحہ نہ لکھنا ابھی کچھ لوگ اُردو بولتے ہیں حضرت مفتی ابولبابہ شاہ منصور صاحب مد ظلہم اسی مسئلے کے متعلق اپنی کتاب "عالمی یہودی تنظیمیں" (ص:21-22)میں رقم طراز ہیں: "ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اب اُردو کے بجائے اینگلو اُردو رائج ہوتی جا رہی ہے۔ ڈرائیور طبقہ بھی جب گاڑی یا سواری کی قیمت بڑھانا چاہتا ہے تو یوں بات کرتا ہے: "اتنا لوڈ الاؤ نہیں ہے"، "اس سے زیادہ پسنجر بٹھانا اِل لیگل ہے"۔ اردو جو عربی اور انگریزی کے بعد عالمی زبان بننے کی پوری استعداد اور صلاحیت رکھتی ہے، اپنے دیس میں اجنبی ہے۔ ہم دنیا کے ان بدنصیب اور غلام ذہنیت کے مالک ممالک میں سے ہیں جن کی قومی زبان اور ہے اور سرکاری اور۔ بھارت میں اگر اُردو کو مٹا کر ہندی کو رائج کیا جا رہا ہے تو سمجھ میں آتا ہے لیکن ہمارے ہاں اُردو کا حلیہ بگاڑ کر انگلش کو رائج کرنا کسی طرح سمجھ میں نہیں آتا۔ دراصل ٹھیٹھ اُردو بولنے سمجھنے کو مشکل ترین کر کے ہمیں علمائے کرام سے دور کیا جا رہا ہے جو مستند علماء کرام کا تحریر کردہ ہے۔ جو نسل اخبار کی صحافتی اردو نہیں پڑھ سکتی وہ علمی کتابوں کی ادبی اُردو کیسے پڑھے گی؟ جدید تعلیم یافتہ طبقے اور نئی نسل کو دین اور دین دار طبقے سے دور کرنے کی اس مہم میں این جی اوز کے علاوہ ایف ایم ریڈیوز اور مختلف ٹی وی چینلز کا بہت دخل ہے۔ سب مل کر اس زبان کو جس کی دھوم سارے جہاں میں تھی، خود اپنے گھر میں نابود کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے مقابلے کی ایک صورت تو یہ ہے کہ ہم ایک تو اُردو کی ترویج کریں اور اُردو ادب کی تعلیم کو عام کریں۔ بندہ کی کتاب کا نام پہلے "اردو تحریر کے آداب" تھا پھر پانچویں بار اس کا نام "آداب تحریر" ہو گیا اور کتاب کا نام کچھ احباب کے مشورے سے بدل کر "تحریر کیسے سیکھیں؟" رکھ دیا گیا۔ دوسرے ہمیں چاہیے کہ علمائے کرام کو انگلش سکھانے کی کوشش کریں تاکہ جب وہ اُردو بولیں تو ٹھیٹھ اُردو بولیں اور جب کوئی اُن سے اینگلو اردو میں بات کرے تو وہ معیاری انگلش میں اس سے گفتگو شروع کر دیں۔ "
معیاری
محمد ہانی رفیق زمزمی
مطالعہ باقی ہے
قسطنطنیہ سے استنبول تک استنبول کا نام سن کر ہر مسلمان کے دل میں اس کو دیکھنے کی تمنا یقیناً ہوتی ہوگی، کیوں کہ یہ کوئی معمولی شہر نہیں؛ اس کے متعلق آپ ﷺ کی حدیث مشہور ہے: ترجمہ: "تم ضرور قسطنطنیہ فتح کر لو گے، پس بہتر امیر اس کا امیر ہوگا اور بہتر لشکر وہ لشکر ہوگا"۔ (1) آنحضرت ﷺ نے اس کی فتح کی بشارت آٹھ سو سال پہلے دے دی تھی۔ اس بشارت کو حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں نے یہاں گیارہ بار لشکر کشی کی۔ سب سے پہلی بار 32ھ میں حضرت عثمان غنیؓ کے حکم سے حضرت امیر معاویہ بن ابی سفیانؓ نے کی تھی، اور دسویں بار فاتحِ قسطنطنیہ کے والد سلطان مراد ثانی نے کی۔ یہ قدیم دور میں سلطنتِ روم کا شہر تھا، جب اسے بیزنطیہ (Byzantia) کہا جاتا تھا۔ جب تیسری صدی عیسوی میں قیصر قسطنطین نے اسے اپنا پایہ تخت بنایا، تو اس کا نام اسی سے منسوب ہو کر قسطنطنیہ ہو گیا۔ جب یہ شہر مسلمانوں کے قبضے میں آیا، تو بعض لوگ اسے "استانبول" کہنے لگے؛ جسے سلطان محمد خان فاتح نے بدل کر "اسلام بول" کر دیا۔ خلافتِ عثمانیہ کے آخری دور میں اسے "الآستانہ"، "دار السعادة" اور "باب عالی" کے نام بھی دیے گئے۔ (3) شہر قسطنطنیہ کے مختصر تعارف کے بعد فتحِ قسطنطنیہ کی طرف آتے ہیں۔ 1451ء میں 23 سالہ سلطان محمد خان ثانی اپنے باپ سلطان مراد ثانی کی وفات کے بعد آلِ عثمان کے ساتویں حکمران کی حیثیت سے عثمانی تخت پر جلوہ افروز ہوا۔ محمد خان نہایت ذہین، بہادر، ہوشیار، دور اندیش اور جنگجو شہزادہ تھا۔ (3) سلطان محمد خان اپنے باپ کے ادھورے کام کو پورا کرنا چاہتا تھا، اس نے قسطنطنیہ پر دھاوا بولنے کا پکا ارادہ کر لیا۔ اسی مقصد کے لیے اس نے آبنائے باسفورس کے مغربی کنارے پر چار ماہ کی مختصر مدت میں ایک چھوٹا مگر نہایت مضبوط قلعہ بھی تعمیر کروا لیا تھا۔ اس کے علاوہ اس نے اپنے اور اپنے پردادا بایزید یلدرم کے تعمیر کردہ قلعوں پر توپیں نصب کروا دیں۔ 23 مارچ 1452ء کو اس نے پچاس ہزار سپاہیوں کے ساتھ قسطنطنیہ کی طرف پیش قدمی شروع کی، اور 6 اپریل کو قیصر کے پایہ تخت کے مغربی سمت میں نمودار ہوا اور اپنا خیمہ شہر کے دروازے سینٹ رومانوس کے سامنے نصب کرایا۔ (5) سلطان نے حملے سے پہلے ملک کے علمائے کرام اور مشائخ عظام کو اس جہاد میں شرکت کی درخواست کی تھی۔ محاصرے کے آغاز کو 9 دن گزر گئے، مگر قسطنطنیہ کے شہریوں اور فوج کی سخت مزاحمت کے سبب تمام تدبیریں رائیگاں چلی گئیں۔ 20 اپریل کو مغربی جہاز خوراک و رسد اور گولہ بارود سمیت بھاری کمک لیے بحیرۂ مرمرہ میں داخل ہوئے اور سیدھے گولڈن ہارن کا رخ کیا۔ عثمانی جہازوں نے ان کا راستہ روکنے کی بھرپور کوشش کی مگر ناکام رہے۔ سلطان نے محصورین کو تازہ کمک پہنچنے اور اپنی بحری ناکامی کا بذاتِ خود مشاہدہ کیا؛ منصوبہ کی ناکامی دیکھ کر وہ بے چین ہو گیا اور دوبارہ غور و فکر کرنے لگا۔ سوچتے سوچتے اسے ایک عجیب و غریب تدبیر سوجھی؛ اس نے فیصلہ کیا کہ آبنائے باسفورس پر تعینات اپنا بحری بیڑہ خشکی پر چلایا جائے۔ خشکی کا علاقہ دس میل طویل تھا، اس پر لکڑی کے بڑے بڑے تختے بچھا دیے گئے اور انہیں چربی اور تیل کے ذریعے خوب چکنا کر لیا گیا۔ 14 جمادی الاولی (21 مئی) کی رات ہزاروں سپاہیوں نے 80 چھوٹے جہازوں کو ان تختوں پر دھکیلنا شروع کر دیا، رات بھر جہازوں کو گولڈن ہارن کے اس پار لے جانے کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ مغرب کی جانب سے عثمانی توپ خانہ بھی گرجتا رہا، جس سے رومیوں کی توجہ اسی طرف مبذول رہی۔ جب اندھیرا چھٹا اور اجالا ہوا، تو اہل شہر نے عثمانیوں کو فصیل کے انتہائی قریب پایا۔ قیصر نے آخری کوشش بھی کی اور کمک منگوائی مگر ناکام رہا؛ سلطان نے دونوں سمتوں سے اس پر گولے برسانا شروع کر دیے۔ قیصر نے آخری پیشکش کی کہ وہ ایک باج گزار حاکم کے طور پر قسطنطنیہ اسی کے پاس رہنے دے اور منہ مانگی قیمت لے لے، مگر سلطان فتح کا مکمل عزم کر چکا تھا۔ سلطان نے اسے امان کے بدلے ہتھیار ڈالنے پر جنوبی یونان کی پیشکش کی لیکن اس نے ٹھکرا دی۔ آخر 20 جمادی الاولی بمطابق 29 مئی 1453ء کی نماز فجر ادا کر کے سلطان نے دس ہزار منتخب سپاہی لے کر فیصلہ کن حملہ کر دیا، اور غالباً سلطان نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ہم ان شاء اللہ ظہر کی نماز آیا صوفیا میں ادا کریں گے۔ سلطان خیمے کے ساتھ مسلسل دعاؤں میں لگا ہوا تھا اور علماء سے بھی دعائیں کرا رہا تھا۔ شیخ شمس الدین (4) بھی سربسجود ہو کر مسلسل آہ و زاری اور دعاؤں میں لگے ہوئے تھے۔ مجاہدین تھکن سے چور ہونے کے باوجود میدانِ کارزار میں ڈٹے ہوئے تھے اور جذبۂ ایمانی اور شہادت کے ولولے کا ثبوت دے رہے تھے۔ اتنے میں شیخ شمس الدین یکایک کھڑے ہوئے اور نعرہ تکبیر بلند کر کے کہا: "الحمد لله! شہر فتح ہو گیا"۔ امراء نے پلٹ کر دیکھا تو عثمانی توپوں نے فصیل کا ایک حصہ گرا دیا تھا۔ سلطان نے سپاہیوں کو اس میں داخل ہونے کا حکم دیا۔ عثمانی فصیل پر لڑ بھڑ کر ترک سرخ ہلالی پرچم نصب کرنے کی کشمکش میں تھے، پے در پے اٹھارہ مجاہدین ایک دوسرے کو پرچم دیتے دیتے جامِ شہادت نوش کر گئے؛ بالآخر کئی برسوں کے اس مرکزِ الحاد میں اسلام کا جھنڈا لہرا دیا گیا اور سرزمینِ کفر "اللہ اکبر" کی زمزمہ بار صدا سے گونج اٹھی۔ سلطان فاتحانہ شان سے شہر میں داخل ہوا اور قیصر قسطنطین دوازدہم (12) کی تدفین اس کے مذہب کے مطابق کرنے کا حکم دیا۔ یوں قسطنطین سے شروع ہوئی گیارہ سو سالہ داستان سلطان محمد خان ثانی فاتح کے ہاتھوں اختتام پذیر ہوئی اور آپ ﷺ کی پیشین گوئی پوری ہوئی: "إِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ" (صحیح البخاری، ح: 3120) جب قیصر ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہوگا۔ مگر یہ اتنا آسان نہ تھا، اس شاندار فتح کے لیے جن شہیدوں نے اپنا خون دیا اس کا احاطہ قلم کی سیاہی نہیں کر سکتی۔ نجانے کتنے فرزندانِ اسلام اس کی خاطر قربان ہوئے اور نجانے کتنے ماؤں کے لال نے جان کی پرواہ کیے بغیر شہادت کا رتبہ حاصل کیا، کہ: خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا (اقبال) علامہ اقبال کے یہ اشعار اس شہر کے بہترین عکاّس ہیں: خطّۂ قُسطنطنیّہ یعنی قیصر کا دیار مہدیِ اُمّت کی سَطوت کا نشانِ پائدار صورتِ خاکِ حرم یہ سر زمیں بھی پاک ہے آستانِ مسند آرائے شہِ لولاکؐ ہے نگہتِ گُل کی طرح پاکیزہ ہے اس کی ہوا تُربتِ ایّوب انصاریؓ سے آتی ہے صدا اے مسلماں! ملّتِ اسلام کا دل ہے یہ شہر سینکڑوں صدیوں کی کُشت و خُوں کا حاصل ہے یہ شہر تقریباً چھ سو سال یہ شہر خلافتِ عثمانیہ کا دار الحکومت رہا، پھر جمہوریہ ترکیہ کے قیام کے بعد اس کے بجائے انقرہ (انگورہ) کو دار الحکومت بنا لیا گیا؛ یوں استنبول کی تقریباً دو ہزار سال کی سیاسی مرکز کی حیثیت ختم ہوئی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ استنبول کی ماضی کی شان و شوکت اور تقدیس ہمیں دوبارہ دیکھنا نصیب فرمائے۔ (آمین) حاشیہ (حوالہ جات): (1) مسند امام احمد، ص: 335، ج: 20 (2) جہاں دیدہ، ص: 322 (3) تاریخ امت مسلمہ، ج: 2، ص: 744 (4) یہ اس وقت کے جید عالم دین اور صوفی بزرگ تھے، انہوں نے ہی حضرت ایوب انصاریؓ کی قبر کشف کے ذریعے دریافت کی تھی، سلطان ان کی بہت عزت کرتا تھا۔
محمد اویس گڈانی بلوچ
مطالعہ باقی ہے
آنسوؤں کا ریلا (نثری نظم) سنو جاناں! کچھ عرصہ پہلے جب میرے دل کے پہاڑ پر، تمہاری محبت کی جو ژالہ باری ہوئی تھی، سنو اب وہ تمہاری جدائی کی تپش سے پگھل کر، آنسوؤں کے روپ میں ڈھل کر، میری پلکوں کی آبشار سے مسلسل رواں ہے، آنسوؤں کا ریلا رواں دواں ہے
محمد اویس گڈانی بلوچ
مطالعہ باقی ہے
راہ پنہاں ہار میں (نظم) مشکلیں تو آتی ہیں رہ دکھانے کے لیے، اونچا اڑانے کے لیے۔ ڈر سے تو ڈر یار ناں، ہمتیں مت ہارنا۔ خوف کو تو سٹ پراں، ہار کو بھی دے ہرا۔ راہ پنہا ں ہار میں، ہ، الف، ر "ہار" کو گر پڑھو الٹا اویس! ر، الف، ہ "راہ" ہو۔ ہار سے مت ہارنا! راہ پنہا ں ہار میں۔ خیر مقدم ان کا کر مشکلوں سے، ناں تو ڈر جیت کو سینے لگا مشکلوں سے جیت کر۔ مشکلیں تو آتی ہیں رہ دکھانے کے لیے۔ ۔ اونچا اڑانے کے لیے۔
محمد اویس گڈانی بلوچ
مطالعہ باقی ہے
خدایا تیرا شکریہ (نظم) یہ قیمتی اثاثے ہیں ملے مجھے خدا سے ہیں خدایا! تیرا شکریہ کہ تو نے مجھ کو سب دیا ملیں جو خوشنصیبیاں کروں میں کیسے وہ بیاں ہے میرے پاس میری ماں چھڑکتی ہے جو مجھ پہ جاں کہاں تھا میں ہوں اب کہاں رکھے جو ہر گھڑی دھیاں خدا! ہو شاد میری ماں نہ دیکھے وہ کبھی خزاں خدایا! تیرا شکریہ کہ تو نے مجھ کو سب دیا ابو کا سر پہ سایہ ہے کرم ترا خدایا ہے مری خوشی کے واسطے سہیں جو ہنس کے مشکلیں دکھوں کی دھوپ میں رہیں غموں کی آندھیاں سہیں ہوں پوری میری خواہشیں اسی وہ دھن میں بس رہیں مجھے نہ اُف تلک کہیں غموں سے وہ ازاد ہوں سدا وہ شاد باد ہوں ابو کا سر پہ سایہ ہو ہمیشہ سر پہ چھایا ہو یہ ہی خدا سے التجا اویس کی ہے یہ دعا کرے قبول کبریا خدایا! تیرا شکریہ کہ تو نے مجھ کو سب دیا خدایا! تیرا شکریہ
محمد اویس گڈانی بلوچ
مطالعہ باقی ہے
خدایا! (حمد باری تعالی) کرم تیرا خدایا ہے تِری رحمت کا سایہ ہے تِرا اکرام ہے مجھ پر کہ تیرا قرب پایا ہے تِری عظمت بیاں ہو کیا تُو ہی ہر سمت چھایا ہے کہ دل کی دھڑکنوں میں بس فقط تُو ہی سمایا ہے مرے دل کی تمنا سن! دعا تجھ سے خدایا ہے: جہاں جاؤں، صدا سب دیں: "غُلامِ اُمیﷺ" آیا ہے" دکھوں کا بوجھ اترا سب کہ جب جب سر جھکایا ہے اُویس آؤ، وہ رستہ لیں، جو قرآں نے بتایا ہے
معیاری
بنت محمد عبد اللہ
مطالعہ باقی ہے
اللہ کس سے محبت نہیں کرتا؟ کل ہم نے قرآن کریم کے وہ 19 مقامات دیکھے جہاں ان خوش قسمت لوگوں کا ذکر ہے جن سے اللہ محبت کرتا ہے۔ آج وہ 23 مقامات بھی دیکھ لیتے ہیں جہاں ان بدقسمت لوگوں، یا ان برے افعال ، کا ذکر ہے جن سے اللہ محبت نہیں کرتا۔ اللہ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرنے والے إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ (2:190، 5:87، 7:55) فساد کرنے والے وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ (5:64) إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ (28:77) ناشکری اور حق تلفی کرنے والے وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ (2:276) خیانت کرنے والے إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا أَثِيمًا (4:107) إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُورٍ (22:38) إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ (8:58) کفر کرنے والے فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ (3:32) إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ (30:45) ظلم کرنے والے وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ (3:57) وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ (3:140) إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ (42:40) اترانے اور بڑا بول بولنے والے إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا (4:36) إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ (31:18) وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ (57:23) تکبر کرنے والے إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِينَ (16:123) مال و دولت پر ناز کرنے والے إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِينَ (28:76) اسراف کرنے والے إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ (6:141، 7:31) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں تک تو وہ لوگ ہوگئے جن سے اللہ محبت نہیں کرتا۔ دو مقامات ایسے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ نے وہ فعل بتائے ہیں جن سے وہ محبت نہیں کرتا: فساد برپا کرنا وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ (2:205) برائی کی بات علانیہ کہنا،سواے مظلوم کی آواز کے ۔ لَا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَنْ ظُلِمَ (4:148)
معیاری
بنت محمد عبد اللہ
مطالعہ باقی ہے
‼️ ٹیک لگا کر سونے سے وضو ٹوٹنے سے متعلق ایک معروف عبارت کی وضاحت: ٹیک لگا کر سونے سے وضو ٹوٹنے سے متعلق ہمارے عزیز طلبہ اور فضلاء کرام کو عموما مختصر القدوری کی یہ منسلکہ عبارت یاد رہتی ہے اور اسی کو بنیاد بنا کر مسئلہ بیان کرتے رہتے ہیں، حالانکہ متاخرین حضرات نے اس کی جو تفصیل ذکر فرمائی ہے اس کو مد نظر رکھنا چاہیے تاکہ مسئلے کی صحیح صورتحال واضح ہوسکے۔ ذیل میں یہ مسئلہ تفصیل سے ذکر کیا جارہا ہے جس میں مختصر القدوری کی اس عبارت کی بخوبی وضاحت ہوجائے گی، نیز مدرسین کرام سے بھی گزارش ہے کہ وہ راجح اقوال کی تعیین کے ساتھ فقہی کتب کی تدریس فرمائیں۔ تفصیل ملاظہ فرمائیں: ▪️ *ٹیک لگا کر سونے سے وضو ٹوٹنے کا حکم:* پشت یعنی کمر کی طرف ٹیک لگا کر سونے سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں؟ اس کی دو صورتیں ہیں: 1️⃣ اس طریقے سے پشت کی طرف ٹیک لگا کر سویا جائے کہ مقعد زمین سے اُٹھ جائے، تو اس حالت میں سوجانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے چاہے جتنی دیر کے لیے بھی سویا جائے۔ 2️⃣ اس طریقے سے پشت کی طرف ٹیک لگا کر سویا جائے کہ مقعد زمین سے نہ اُٹھے بلکہ زمین پر برقرار رہے تو اس حالت میں سوجانے سے وضو نہیں ٹوٹتا چاہے جتنی دیر کے لیے بھی سویا جائے۔ یہ اصولی جواب سمجھ لینے کے بعد اس کی تفصیلات درج ذیل ہیں جن میں علمی انداز ملحوظ رکھا گیا ہے۔ ⬅️ *وضاحتیں:* 1️⃣ پشت کی طرف ٹیک لگا کر سونے کی حالت میں مقعد زمین سے اُس وقت اُٹھتا ہے جب کمر کچھ زیادہ ہی پیچھے کی جانب جھک جائے، یعنی ٹیک لگانے میں کمر کا جھکاؤ جتنا زیادہ ہوتا ہے اُتنا ہی مقعد کے زمین سے اُٹھنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، جبکہ معمولی سا ٹیک لگانے سے عمومًا مقعد زمین سے نہیں اُٹھتا، جیسا کہ عام کرسی یا سیٹ پر بیٹھنے کی صورت میں ٹیک لگا کر سونے سے مقعد اپنی جگہ سے نہیں اُٹھتا، البتہ اگر کوئی شخص اپنی سیٹ پیچھے کی طرف اتنی جھکا دے کہ اس کی طرف ٹیک لگا کر سونے سے مقعد زمین سے اُٹھ جائے تو اس کا حکم واضح ہے کہ اس کی وجہ سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ 3️⃣ ٹیک لگا کر سونے کی حالت میں مقعد کے زمین سے اُٹھنے کی صورت میں وضو ٹوٹنے اور مقعد کے زمین پر قائم رہنے کی صورت میں وضو نہ ٹوٹنے کی وجہ یہ ہے کہ نیند سے وضو ٹوٹنے میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس حالت میں اِسترخائے مفاصل پایا گیا ہے یا نہیں؟ قوتِ ماسِکہ باقی ہے یا نہیں؟ جسم ڈھیلا پڑا ہے یا نہیں؟ استرخائے مفاصل کا مطلب یہ ہے کہ جسم اور اعضا ڈھیلے پڑجائیں، اور قوتِ ماسکہ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جب بیدار رہتا ہے تو خروجِ ریح کا معاملہ اس کے اختیار میں ہوتا ہے اور اس کو ریح روکنے پر قدرت اور قوت حاصل ہوتی ہے، اسی کا نام قوتِ ماسکہ ہے یعنی ریح روکنے کی قوت، لیکن جب آدمی سوجاتا ہے تو پھر اپنے آپ پر اس کو اختیار باقی نہیں رہتا، اور نیند کی متعدد صورتیں ایسی ہوتی ہیں کہ جن میں اس کے اعضا ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور وہ قوتِ ماسکہ باقی نہیں رہتی جو کہ اپنے اختیار سے ریح روکنے میں معاون ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ریح نکلنے کا امکان بڑھ جاتا ہے، جبکہ نیند کی بعض صورتیں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ جن میں استرخائے مفاصل نہیں پایا جاتا اور قوتِ ماسکہ بھی باقی رہتی ہے جس کی وجہ سے ریح خارج ہونے کے امکانات کم سے کم بلکہ معدوم ہوجاتے ہیں۔ تو اگر کوئی شخص اس طرح پشت کی طرف ٹیک لگا کر سو جائے کہ اس میں استرخائے مفاصل بھی پایا جائے اور قوتِ ماسکہ بھی باقی نہ رہے جو کہ وضو ٹوٹنے کا ظاہری سبب ہے تو وضو ٹوٹے گا ورنہ تو نہیں، کیوں کہ استرخائے مفاصل پائے جانے اور قوتِ ماسکہ قائم نہ رہنے کی صورت میں خروجِ ریح کا امکان زیادہ ہوتا ہے جو کہ وضو ٹوٹنے کا اصل سبب ہے، اور چوں کہ نیند کی حالت میں یہ معلوم ہونا مشکل ہوتا ہے کہ ریح خارج ہوئی ہے یا نہیں اس لیے اس کے ظاہری سبب [یعنی استرخائے مفاصل کے پائے جانے اور قوتِ ماسکہ کے باقی نہ رہنے] کو اس کے قائم مقام قرار دے کر اسی بنیاد پر وضو ٹوٹنے یا نہ ٹوٹنے کا حکم لگایا جائے گا، گویا کہ اب نیند کی حالت میں وضو ٹوٹنے کے اصل سبب یعنی خروجِ ریح کو نہیں دیکھا جائے بلکہ اس کے ظاہری سبب یعنی استرخائے مفاصل کے پائے جانے اور قوتِ ماسکہ کے باقی نہ رہنے کو دیکھا جائے گا، تو جس نیند میں استرخائے مفاصل پایا جائے اور قوتِ ماسکہ قائم نہ رہے تو اس پر وضو ٹوٹنے کا حکم لگایا جائے گا بھلے وہ نیند جتنے وقت کے لیے بھی ہو۔ تو اس اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات سامنے آتی ہے کہ پشت کی طرف ٹیک لگاکر سونے میں جب مقعد زمین پر قائم رہے تو اس حالت میں سونے سے وضو اس لیے نہیں ٹوٹتا کہ اس میں مقعد زمین پر قائم رہنے کی وجہ سے قوتِ ماسکہ باقی رہتی ہے جس کی وجہ سے استرخائے مفاصل نہیں پایا جاتا جو کہ وضو ٹوٹنے کا ظاہری سبب ہے، جبکہ ٹیک لگا کر سونے میں جب مقعد زمین سے اُٹھ چکا ہو تو اس سے وضو اس لیے ٹوٹ جاتا ہے کہ اس حالت میں مقعد زمین سے اٹھ جانے کی وجہ سے قوتِ ماسکہ باقی نہیں رہتی، جس کی وجہ سے استرخائے مفاصل پایا جاتا ہے جو کہ وضو ٹوٹنے کا ظاہری سبب ہے۔ 3️⃣ واضح رہے کہ متعدد فقہی کتب میں ٹیک لگا کر سونے سے وضو ٹوٹنے کی بات مطلق مذکور ہے کہ اس میں مقعد کے زمین سے اٹھنے یا نہ اٹھنے کا ذکر نہیں، جبکہ دیگر متعدد کتب میں ٹیک لگا کر سونے کے مسئلہ میں باقاعدہ یہ تفصیل مذکور ہے، جس کا حاصل یہ نکلتا ہے کہ ٹیک لگا کر سونے میں جب مقعد زمین سے اُٹھ چکا ہو تو اس میں تمام فقہاء کرام کا اتفاق ہے کہ وضو ٹوٹ جائے گا، البتہ اگر مقعد زمین پر قائم ہو تو اس میں ائمہ فقہاء کرام کا اختلاف ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے ظاہر الروایہ اور ظاہر المذہب یہی ہے کہ اس صورت میں وضو نہیں ٹوٹتا، اسی کو اکثر مشایخ کرام رحمہم اللہ نے اختیار فرمایا ہے اور ’’بدائع الصنائع‘‘ میں اسی کو اصح قرار دیا گیا ہے، جبکہ امام طحاوی، امام قدوری اور صاحبِ ہدایہ رحمہم اللہ کے نزدیک اس صورت میں وضو ٹوٹ جاتا ہے اور اسی کو بعض متون میں اختیار کیا گیا ہے۔ بندہ کی تحقیق کے مطابق راجح قول یہی ہے کہ اس صورت میں وضو نہیں ٹوٹتا، اس لیے اس حالت میں سوجانے کے بعد وضو کرنے کی ضرورت نہیں، البتہ احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ اس طرح سونے کے بعد وضو کرلیا جائے، یہ بہتر ہے تاکہ سب ائمہ کرام کے نزدیک نماز درست ہوسکے کیوں کہ عبادات میں احتیاط کا پہلو لینا چاہیے۔ 4️⃣ مذکورہ حکم پشت کی طرف ٹیک لگا کر سونے کی تمام صورتوں کو داخل ہے یعنی چاہے زمین پر سوئے یا عام کرسی اور سیٹ پر یا کسی اور چیز پر۔ 📚 *فقہی عبارات* ▪️ فتاوٰی ہندیہ: وَلَوْ نَامَ مُسْتَنِدًا إلَى ما لو أزيل عنه لَسَقَطَ: إن كانت مَقْعَدَتُهُ زَائِلَةً عن الْأَرْضِ نَقَضَ بالإجماع، وإن كانت غير زَائِلَةٍ فَالصَّحِيحُ أَنْ لَا يَنْقُضَ، هَكَذَا في «التَّبْيِينِ». (الْفَصْلُ الْخَامِسِ في نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ) ▪️الدر المختار: (وَ) يَنْقُضُهُ حُكْمًا (نَوْمٌ يُزِيلُ مُسْكَتَهُ) أَيْ قُوَّتَهُ الْمَاسِكَةَ بِحَيْثُ تَزُولُ مَقْعَدَتُهُ مِنَ الْأَرْضِ، وَهُوَ النَّوْمُ عَلَى أَحَدِ جَنْبَيْهِ أَوْ وِرْكَيْهِ أَوْ قَفَاهُ أَوْ وَجْهِهِ (وَإِلَّا) يُزِلْ مُسْكَتَهُ (لَا) يَنْقُضُ وَإِنْ تَعَمَّدَهُ فِي الصَّلَاةِ أَوْ غَيْرِهَا عَلَى الْمُخْتَارِ كَالنَّوْمِ قَاعِدًا وَلَوْ مُسْتَنِدًا إلَى مَا لَوْ أُزِيلَ لَسَقَطَ عَلَى الْمَذْهَبِ. ▪️ رد المحتار على الدر المختار: (قَوْلُهُ: وَيَنْقُضُهُ حُكْمًا) نَبَّهَ عَلَى أَنَّ هَذَا شُرُوعٌ فِي النَّاقِضِ الْحُكْمِيِّ بَعْدَ الْحَقِيقِيِّ بِنَاءً عَلَى أَنَّ عَيْنَهُ غَيْرُ نَاقِضٍ بَلْ مَا لَا يَخْلُو عَنْهُ النَّائِمُ، وَقِيلَ: نَاقِضٌ. وَرُجِّحَ الْأَوَّلُ فِي «السِّرَاجِ»، وَبِهِ جَزَمَ الزَّيْلَعِيُّ، بَلْ حُكِيَ فِي «التَّوْشِيحِ» الِاتِّفَاق عَلَيْهِ ...... (قَوْلُهُ: نَوْمُ) هُوَ فَتْرَةٌ طَبِيعِيَّةٌ تَحْدُثُ لِلْإِنْسَانِ بِلَا اخْتِيَارٍ مِنْهُ تَمْنَعُ الْحَوَاسَّ الظَّاهِرَةَ وَالْبَاطِنَةَ عَنِ الْعَمَلِ مَعَ سَلَامَتِهَا وَاسْتِعْمَالُ الْعَقْلِ مَعَ قِيَامِهِ، فَيَعْجَزُ الْعَبْدُ عَنْ أَدَاءِ الْحُقُوقِ، «بَحْرٌ». (قَوْلُهُ: بِحَيْثُ) حَيْثِيَّةُ تَقْيِيدٍ: أَيْ كَائِنًا مِنْ هَذِهِ الْجِهَةِ وَبِهَذَا الِاعْتِبَارِ ....... فَالْمُرَادُ زَوَالُ الْقُوَّةِ الْمَاسِكَةِ مِنَ الْجِهَةِ الَّتِي ذَكَرَهَا بَعْدُ وَفَسَّرَهَا بِقَوْلِهِ: «وَهُوَ النَّوْمُ إلَخْ»، فَلَا يَرِدُ أَنَّهُ قَدْ تَزُولُ الْمَقْعَدَةُ وَلَا يَحْصُلُ النَّقْضُ كَالنَّوْمِ فِي السُّجُودِ. (قَوْلُهُ: وَهُوَ) أَيْ مَا تَزُولُ بِهِ الْمسْكَةُ الْمَذْكُورَةُ. (قَوْلُهُ: أَوْ وَرِكَيْهِ) الْوَرِكُ بِالْفَتْحِ وَالْكَسْرِ وَكَكَتِفٍ: مَا فَوْقَ الْفَخِذِ مُؤَنَّثَةٌ، جَمْعُهُ أَوْرَاكٌ، «قَامُوسٌ». وَيَلْزَمُ مِنَ الْمَيْلِ عَلَى أَحَدِ الْوَرِكَيْنِ -سَوَاءٌ اعْتَمَدَ عَلَى الْمِرْفَقِ أَوْ لَا- زَوَالُ مَقْعَدَتِهِ عَنِ الْأَرْضِ، وَهُوَ الْمُرَادُ بِقَوْلِ «الْكَنْزِ»: «وَمُتَوَرِّكٌ» حَيْثُ عَدَّهُ نَاقِضًا كَمَا فِي «الْبَحْرِ». اهـ. ح. أَقُولُ: وَهُوَ غَيْرُ الْمُتَوَرِّكِ الْآتِي قَرِيبًا. ...... (قَوْلُهُ: كَالنَّوْمِ) مِثَالٌ لِلنَّوْمِ الَّذِي لَا يُزِيلُ الْمَسْكَةَ، ط. (قَوْلُهُ: لَوْ أُزِيلَ لَسَقَطَ) أَيْ لَوْ أُزِيلَ ذَلِكَ الشَّيْءُ لَسَقَطَ النَّائِمُ، فَالْجُمْلَةُ الشَّرْطِيَّةُ صِفَةٌ لِشَيْءٍ. (قَوْلُهُ: عَلَى الْمَذْهَبِ) أَيْ عَلَى ظَاهِرِ الْمَذْهَبِ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، وَبِهِ أَخَذَ عَامَّةُ الْمَشَايِخِ، وَهُوَ الْأَصَحُّ كَمَا فِي «الْبَدَائِعِ»، وَاخْتَارَ الطَّحَاوِيُّ وَالْقُدُورِيُّ وَصَاحِبُ «الْهِدَايَةِ» النَّقْضَ، وَمَشَى عَلَيْهِ بَعْضُ أَصْحَابِ الْمُتُونِ، وَهَذَا إذَا لَمْ تَكُنْ مَقْعَدَتُهُ زَائِلَةً عَنِ الْأَرْضِ، وَإِلَّا نَقَضَ اتِّفَاقًا كَمَا فِي «الْبَحْرِ» وَغَيْرِهِ. ▪️ البحر الرائق شرح كنز الدقائق: وَلَمْ يَذْكُرِ الْمُصَنِّفُ الِاسْتِنَادَ إلَى شَيْءٍ لَوْ أُزِيلَ عَنْهُ لَسَقَطَ؛ لِأَنَّهُ لَا يَنْقُضُ فِي ظَاهِرِ الْمَذْهَبِ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ إذَا لَمْ تَكُنْ مَقْعَدَتُهُ زَائِلَةً عَنْ الْأَرْضِ، كَمَا فِي «الْخُلَاصَةِ»، وَبِهِ أَخَذَ عَامَّةُ الْمَشَايِخِ، وَهُوَ الْأَصَحُّ، كَمَا فِي «الْبَدَائِعِ»، وَإِنْ كَانَ مُخْتَارُ الْقُدُورِيِّ النَّقْضَ، وَأَمَّا إذَا كَانَتْ مَقْعَدَتُهُ زَائِلَةً فَإِنَّهُ يُنْقَضُ اتِّفَاقًا. (نواقض الوضوء) ✍️۔۔۔ از مفتی مبین الرحمٰن صاحب (محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی)
احمد مسعود قریشی
مطالعہ باقی ہے
مجھے جب سے تیرا سہارا ملا ہے سفینے کو میرے کنارہ ملا ہے ہوئی ابتدا جب محبت کی میری نظر کو حسیں اک ستارہ ملا ہے عجب اک طلاطم دل- زار میں ہے مجھے جب سے وہ شوخ پیارا ملا ہے ہوئی داستاں عشق کی تب مرتب نظر کا تری جب اشارہ ملا ہے ہوا میرے دل کا یہ آنگن منور محبت کا جب سے منارہ ملا ہے کٹی رات تنہا ستاروں کو دیکھا ہوئی صبح تو اک نظارہ ملا ہے
احمد مسعود قریشی
مطالعہ باقی ہے
تجھ سے ملنے کی تمنا اب بھی ہے یاد کا وہ تازہ جھونکا اب بھی ہے اک یقیں دل کو ہے تو مل جائے گا آنے جانے کا وہ رستہ اب بھی ہے جس کی خوشبو سے مہکتا دل یہ تھا شاخ الفت پر وہ غنچہ اب بھی ہے تجھ سے بچھڑے ہو گئی مدت بہت راہ تیری دل یہ تکتا اب بھی ہے جل رہے ہیں دیپ تیری یاد کے روشنی کا یہ اجالا اب بھی ہے
محمد وقار سعیدی
مطالعہ باقی ہے
تاریخِ انسانی کے افق پر ایک ایسا نام، جس کی صداقت پر خود سچائی کو ناز ہے۔ وہ، جو سفرِ ہجرت کا تنہا مسافر بھی تھا اور رفیقِ غار و مزار بھی۔ جسے دنیا ابوبکر صدیق کے نام سے جانتی پہچانتی ہے وہ شخصیت جنہوں نے عشقِ مصطفیٰ کی وہ معراج پائی کہ کائنات دیکھتی رہ گئی۔ جب سب خاموش تھے، تب وہ بولے ،جب سب تذبذب میں تھے، تب وہ صدیق بنے۔ ایمان کے ترازو کے ایک پلڑے میں پوری امت کا تقویٰ، اور دوسرے میں ابوبکر کی ایک رات کی نیکی رکھی جائے، تو پلڑا ہمیشہ ابوبکر کا ہی بھاری رہے گا خلافت کا تاج ہو یا فقر کی چادر، آپ کا ہر نقشِ قدم رہتی دنیا تک عدل، شجاعت اور فدائیت کی وہ داستان ہے جس کا کوئی ثانی نہیں۔ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ اسلام کی وہ ڈھال ہے جس نے فتنوں کے طوفان کا رُخ موڑ دیا۔ محمد وقار سعیدی
معیاری
عمر راجپوت
مطالعہ باقی ہے
حشر کی دہشتوں سے ناجی ہے لب پہ جس کے درود جاری ہے ۔۔۔۔🌹🌸۔۔۔۔ صلی اللّٰه علیه وسلم
محمد اویس گڈانی بلوچ
مطالعہ باقی ہے
حَمدُللہ (نعت رسول ﷺ) منسلک ہیں آپﷺ سے ہم۔ حمدللہ امتی ہیں آپﷺ کے ہم۔ حمدللہ آپﷺ کے آنے سے آئی ہیں بہاریں مٹ گئے ہیں سارے دکھ غم۔ حمدللہ آپﷺ کے بعد آئے گا کوئی نبی ناں ہے یہ ایمانِ مُصَمّم۔ حمدللہ چاند، تارے، دھرتی، سورج آج تک سب آپﷺ کے دم سے ہیں قائم۔ حمدللہ ہے اُویس انعام ہم پہ یہ خدا کا ہم پہ رکھا نامِ مسلم۔ حمدللہ
شائق یکہتوی
مطالعہ باقی ہے
              نعتِ نبی ﷺ نہیں مجھ میں تابِ رقم کملی والے اٹھاؤں میں کیسے قلم کملی والے کسی طور مجھ سے یہ ممکن نہیں ہے تری مدح بے کیف و کم کملی والے سبھی کے لیے ہیں منارِ ہدایت ترے ہی نشانِ قدم کملی والے قیامت میں ہوگا ترا ہی سہارا جو ہوں گی پریشاں امم کملی والے تری دید سے خوش ہوئے غم زدہ دل مٹے سب کے  رنج و الم کملی والے کھڑا ہے سیہ کار شائق بھی در پر ہو اس پر بھی نظرِ کرم کملی والے
محمد ذاکر
مطالعہ باقی ہے
کھڑک سنگھ کے کھڑکنے سے کھڑکتی ہیں کھڑکیاں کھڑکیوں کے کھڑکنے سے کھڑکتا ہے کھڑک سنگھ
معیاری
محمد ذاکر
مطالعہ باقی ہے
ہمدم کی قسم ہمدم کے لیے ہم دم سے گئے ہمدم نہ ملا زخم ایسا لگا مرہم کے لیے مر ہم ہی گئے مرہم نہ ملا
معیاری
نذیر اظہر کٹیہاری مدنی
مطالعہ باقی ہے
*نعت نبی ﷺ* جو نبی کا مرے ترجماں ہو گیا اس پہ رب ہر گھڑی مہرباں ہو گیا رب کا فیضان جاری ہوا اس طرح آپﷺ آئے تو روشن جہاں ہو گیا حق کا اعلان جب آپ نے کر دیا کفر تھرّا اٹھا، بے زباں ہو گیا یاد طائف کا منظر کیا جب کبھی اشک آنکھوں سے میری، رواں ہو گیا جس نے سنت کو اپنا لیا قلب سے دین و دنیا میں وہ جاوداں ہو گیا جان و دل سے ہوئے آپ پر سب فدا مرتبہ آپﷺ کا جب عیاں ہو گیا جو بھی کہتا تھا "*ابتر"* نبی کو مرے آج دشمن وہی بے نشاں ہو گیا روزِ محشر شفاعت جسے مل گئی بالیقیں وہ وہاں کامراں ہو گیا دید کے شوق میں دل مچلنے لگا طیبہ کو جب رواں کارواں ہو گیا تجھ پہ اظہرؔ ہے رب کا یہ فضلِ عظیم مصطفیٰﷺکابھی تو مدح خواں ہوگیا *کاوش: نذیر اظہرؔ کٹیہاری مدنی*
معیاری
ڈاکٹر طارق انور باجوہ
مطالعہ باقی ہے
غزل دل کسی کے جو نام کر بیٹھے کام اپنا تمام کر بیٹھے نشّہ ہے یا سرور آنکھوں میں نوش کیسا یہ جام کر بیٹھے بام پر وہ دکھائیں گے جلوہ اُس گلی میں قیام کر بیٹھے عکس دل میں وہی نظر آئے شیشہ خود کو مدام ، کر بیٹھے اب وہیں ہیں جہاں وہ لے جائے ہاتھ اُس کے زُمام کر بیٹھے ہم سے تنہائی ہی مخاطب تھی ہائے کس سے کلام کر بیٹھے؟ رکھ دی تعزیر نام لینے پر کیا خدا کو بھی رام کر بیٹھے؟ کہہ دو ، صیّاد سے کہ خود کو ہی یہ نہ ہو زیرِ دام کر بیٹھے ہم پہ الزام ہے ، سرِ راہے طارق اُس کو سلام کر بیٹھے
معیاری
محمد شیر عالم
مطالعہ باقی ہے
مظلوم کو انصاف یوں پاتے نہیں دیکھا ظالم کو کبھی دار پہ آتے نہیں دیکھا زردار کی آرائشیں دم ہی نہیں لیتیں مسکین کو دو وقت بھی کھاتے نہیں دیکھا تعداد بہت کم تھی مگر ابن علی تھے میدان انھیں چھوڑ کے جاتے نہیں دیکھا جس طرح کی قربانیاں تھیں آل نبی کی یوں جاں کسی کنبے کو لٹاتے نہیں دیکھا چپ چاپ ہی سہہ جاتا ہے ہر درد وہ عالم ! خود دار کو کہرام مچاتے نہیں دیکھا شاعر تو سبھی بات کے یوں پکے نہیں ہیں جو کہتے ہیں وہ کر کے دکھاتے نہیں دیکھا تلوار اٹھانی تھی جسے ظلم پہ عالم آواز بھی اس کو تو اٹھاتے نہیں دیکھا
حامد قاسم پالن پوری
مطالعہ باقی ہے
رلاتی مجھ کو ہے تیری فرقت ستارے خاموش کیوں ہیں اب تک پڑی ہے زنجیر در پہ سب کے ترا ہی باقی رہا ہے آنا وفا کی قیمت سے بے خبر ہے وجودِ ہستی بس اک سفر ہے جہاں کے میلے میں ہم نہ ہوں گے کبھی نہ ہوگا ہمارا آنا بڑی امانت سے دل دیا تھا قدر داں ہو تم یہی سنا تھا کیے ہیں تم نے ہزار ٹکڑے بہت ہے بھاری یہ دل لگانا
معیاری
حامد قاسم پالن پوری
مطالعہ باقی ہے
🌃 چاندنی رات اور ہم 🌃 چاندنی رات کس کو نہیں بھاتی ! یہ تو اہل دل کی خوشیوں کا بہانہ ہے ، دل کی کلیوں کے تبسم کا وسیلہ ہے ، شعراء کے دیوان کی زینت کا ذریعہ ہے ، جب یہ رات اپنے بازو پھیلاتی ہے تو گلشن و چمن ، دیو قامت پہاڑ ، سبز پوش درخت ، ہواؤں کے دوش پہ جھولتی ڈالیاں ، کھیتوں کے کھلیان ، کوہستان و ریگستان کا نظارہ ہی دلکش و دلبر نظر آتا ہے ، پھر جوں جوں شب ڈھلتی جاتی ہے ، چاند اپنی چاندنی سے مسحور و مسرور کرتا رہتا ہے ، ہم خانہ بدوش بڑی شدت سے ہر ماہ اس کے منتظر رہتے ہیں کہ کب مجنوں کی لیلی لوٹ آئے اور فراق وصال میں تبدیل ہو جائے ، کب نور کی برسات ہو اور ہم سراپا نہالیں ، کب یہ دلہن سج دھج کر آجائے کہ ہم آنکھوں کے دیے جلالیں ، کیا ہی خوشنما ایک رات کی یہ بارات ہوتی ہے ، جس کے ہم بھی منتظر ، گلزار و ریگزار بھی مشتاق ، نقرئی آبشار بھی دست بستہ راہ تکتے ہیں ، صحراء و بیاباں ، ریگ رواں نظر آتے ہیں ، بڑا ہی انوکھا دل آویز یہ مہمان ہوتا ہے ، جس کا عاشقوں کو چشم براہ انتظار رہتا ہے ، اور بادیہ نشینوں کا دل بے قرار رہتا ہے ، اس شب میں ہر سمت نور کی چادر تنی ہوتی ہے ، درختوں نے نور کی قبائیں زیب تن کی ہوتی ہیں، یوں لگتا ہے جیسے چرخ کہن کا ماہتاب دھرتی پہ اتر آیا ہو ، خورشید رخسار ، سیمیں بدن ، مہ جبیں ، ماہ وش چہرے کھل اٹھتے ہیں ، دلکش نقوش ، غنچۂ لب ، غزال آنکھیں چمک اٹھتی ہیں ، ماہِ رواں بھی مہتاب آستانۂ گردوں سے نکل کر آن ، بان ، تزک و احتشام کے ساتھ جلوہ پرداز ہوا ، فریضۂ صلاة کی ادائیگی سے فراغت ہوئی حالیکہ دل شاداں و فرحاں تھا ، مسکراتے چہرے تبسمِ زیرِ لب تھے ، چاندنی میں ہر شے نہا چکی تھی ، اب باری ہماری تھی.... ٹھہریے ٹھہریے ! یہ بھی گوش گزار کر لیجیے کہ یہ منظر ہم خانہ بدوش دیہاتیوں کی نگری میں خوب رنگ دکھلاتا ہے ، چھوٹی چھوٹی کیاریاں ، اور ان کی پشت پر رقص کرتا آبِ زلال ، سر سبز و شاداب کشت زاروں کے درمیان انتہائی خوبصورت نظارہ پیش کرتا ہے ، وسیع راہوں کے گردا گرد کھڑے اپنے زمردیں بازو پھیلائے اشجار ، حسن و تجمل کو مزید بڑھاوا دے رہے ہوتے ہیں ، یہ رات شاعروں کو تخیلاتی دنیا کی سیر کراتی ہے ، پھر یہ کسی زہرہ جبیں مہ جبین پری صفت نازنین کی تعریف میں رطب اللسان ہوتے ہیں ، عشاق شعراء دوشیزاؤں کو اس شبِ فروزاں کی نزاکت و نفاست ، حسن و لطافت سے تشبیہ دیتے ہیں اور یوں غزلیں کہہ جاتے ہیں جیسے کہ اشعار کا نزول ہو رہا ہو ، اس شبِ درخشاں میں ہوائیں جب ان برگ و باد سے بھڑتی ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے نیلگوں چھت سے لٹکے تارے زمین پہ آگئے ہوں ، اس شبِ تاباں میں ہم سادہ لوح دہقانی رتیلی زمین پر باہم براجمان ہوکر اپنے اپنے دکھڑے سناتے ہیں اور باہم سکھ دکھ بانٹتے ہیں ، پھر جب شب کی خنکی بڑھتی ہے تو پھر ایک نشست چائے کی لگتی ہے ، اس لطف اندوزی کا تو پوچھیے ہی مت ، چسکیاں لے لے کر اس وقتِ خوشگوار کا خوب لطف لیتے ہیں ، پھر ایسے وقت میں اگر کسی باغ کی گشت و گذار کو چل دیں تو نقشہ ہی بدل جاتا ہے ، اطراف و اکناف میں لگے مختلف رنگا رنگ کے غنچہ و گل خوشبو میں غوطہ زن پھل پھول ، دل و دماغ کو فرحت و سکون بخشتے ہیں ، اگر ایک نظر مرکزِ چمن پر بھی ڈال لیں تو بس دل خوشیوں کی انتہا کو پہنچ جاتا ہے ، وسط چمن میں ایک چھوٹے سے حوض میں لگے فوارے سے چھلکتا پانی دل کی دنیا میں ہلچل سی مچا دیتا ہے ، پھر ایک رات کی یہ دلہن رخصت ہوجاتی ہے اور پھر ایک ماہ تک وہی انتظار ، وہی امیدیں ، وہی خوشیاں راہ تکتی ہیں ۔ بہرکیف باری ہماری تھی ، ہم بھی چل دیے اور اپنی کٹیا میں بیٹھے بیٹھے ہی غریب کدہ کے دریچے سے ایک نظر باہر کی سمت بھی دوڑائی تو یہ فضا اور رت ہمیں بھی بھائی ، پھر کیا تھا ہم خانہ بدوشوں کی وہ لکڑی سے بنی چارپائی ہم نے اٹھائی اور نور کی برسات میں آکر بیٹھ گئے ، خوب نہائے ، اپنوں کے ہمراہ خوب مسکرائے ، قہقہوں کے تبادلے بھی ہوئے ، دادی اماں کے قصے بھی سنائے ، دوراں کے ستم بھی بیاں ہوئے ، وفاؤں کی خوشبو بھی بکھیری ، جفاؤں کے تذکرے بھی ہوئے ، کہنہ سال افراد نے عہدِ شباب کی داستانیں بھی سنائی ، عاشقوں نے مجنوں کی ادائیں بھی بتائی ، محبت و وفا کے اسرار بھی سکھائے ، جفا و دغا کے ان سنے قصے بھی سنائے ، یوں محفل ہماری انتہا کو پہنچی ، بالآخر شبستاں سے صدا آئی ، آؤ چلے آؤ.. خواب گاہ انتظار کر رہی ہے ، اب سکوت چھا گیا ہے ، پرندے اپنے آشیانوں میں چپ سادھ چکے ہیں ، شب کا سناٹا بڑھتا جا رہا ہے ، گلیاں سنسان ہوتی جا رہی ہیں ، لہذا ہم روانہ ہوگئے اور صبحِ فروزاں تک کے لیے آنکھوں کے در موڑ کر سوگئے۔
حامد قاسم پالن پوری
مطالعہ باقی ہے
❤️ حال دل ❤️ *23 جولائی ، 2024 منگل* وقت ہر کسی کا ساتھ نہیں دیتا ، خوشیاں مستقل نہیں ٹھہرتی ، ہر کسی کا بخت سدا خوشیوں کی بہاریں نہیں لاتا ، زندگی کی راہیں کبھی کشادہ ہوجاتی ہیں تو کبھی زندگی میں تلخ گھونٹ بھی پینے پڑتے ہیں ، دکھ سکھ کے حسین سنگم کا نام ہے زندگی ، جوں ہی عقل کے بال و پر نکل آتے ہیں تو زمانہ اپنے تیور بدلتا ہے ، اور آنکھیں دکھاتا ہے ، نصیبہ ور لوگ پھر بد نصیبی کا شکار ٹھہرتے ہیں ، اپنوں پرایوں کے رویے بہت جلد ہی تھکا دیتے ہیں ، شاہینوں کی سی اڑان بھرنے والے لمحوں میں ڈھیر ہوجاتے ہیں ، محبت کے شامیانے گاڑنے والے نفرتوں کی زد میں آجاتے ہیں ، کسی کا برا نہ سوچنے والوں کو بھی وقت بڑی بےدردی سے مجرم بنادیتا ہے ، سکوں کے سویرے پھر نہیں ٹھہرتے ، محبت کے سایے کم ہوجاتے ہیں ، الفت کے اجالے تاریکیوں میں بدل جاتے ہیں، وسعت افلاک تنگ ہوجاتی ہے ، زمیں کی کشادگی پھر تنگی میں بدل جاتی ہے ، وقت اپنا ہو سب اپنے ہیں ، وقت اپنا نہیں تو کچھ بھی اپنا نہیں ۔ اندھیرے اجالوں کی قید میں مقید ہوجاتے ہیں ، نیلگوں آسماں جگمگاتے تارے ماہتاب کی ضوفشاں کرنیں زندگی کے لیے مسرت بخش نہیں رہتی ، محبت ہی زندگی کی وسعت ہے ، محبت کے ریشے جب تیز و تند تیشے بن جائیں تو پھر مسکراتے چہرے خاموشی کی ردا اوڑھے لیتے ہیں ، امیدوں کے قصر عالی بہت جلد زمین دوز ہوجاتے ہیں ، فلک بوس امیدوں کے کاخ خاک میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، حوصلے اپنی موت آپ ہی مرجاتے ہیں ، اپنوں پرایوں کی ترشیاں مجبور کرتی ہیں کہ پھر انسان ویرانیوں کو اپنا مسکن بنالے ، خاموشیوں کی مہر منہ پہ سجالے ، تنہائیوں کو اپنا ہمنوا بنالے ، پھر تنہائی ہی اپنا سب کچھ ہوتا ہے ، ویرانی ہی پھر دل کے لیے سامان تسلی ٹھہرتی ہے ، دل کا سوز و گداز ہی مستقل مشغلہ ٹھہرتا ہے ، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ انسان مخلوق سے دور خالق سے قریب ہوجاتا ہے ۔ عمر رفتہ تو چار دن مانگ کر لائے تھے لیکن حاشیہ خیال میں نہ تھا کہ یہ چار دن چار صدیاں محسوس ہوں گی ، مال و دولت کی ریل پیل ہوتی تو ہم بھی اپنے شہر کے نواب ہوتے ، وقت ساتھ دیتا تو ساتھ چھوڑنے والے آج ہمارے گرد گردش کاٹ رہے ہوتے ، قسمت نے وفا کا دم تو بھرا تھا لیکن وفا نہ کی ، اگر کی ہوتی تو بلندیوں پر ساتھ اڑان بھرنے والے پستیوں میں بھی ساتھ نبھارہے ہوتے ، پیسہ الفت و محبت کی بنیاد ٹھہرا ، عزت و شہرت انسان کے لیے معیار بن گئی ، غربت کے مارے اپنوں کے ستائے اب در بدر مارے مارے پھرتے ہیں ، والد زندہ ہوتے تو روکھی سوکھی کھاکر بھی ناز و انداز دکھاتے ، پیوند زدہ لباس ہی فخر کا سامان ہوتا ، غربت میں بھی دل کو سکوں ملتا کہ چلو ہمارا بار تحمل اپنے کاندھوں پہ ڈالنے والا کوئی تو ہے ، لیکن زندگی نے وہ بھی چھین لیا ، راتیں اس سوچ میں کٹ جاتی ہیں ، دن کی گھڑیاں مستقبل کی فکر میں قلب و جگر پارہ پارہ کیے دیتی ہے ، ذمہ داریوں کا بوجھ مسکراہٹیں چھین لیتا ہے، وہ مسافر تھک جایا کرتے ہیں تنہائی جن کی ہمسفر ہوتی ہے وہ حوصلے پست ہوجایا کرتے ہیں جن کی ہم رکاب اپنوں کی تلخ نوائیاں ہوں ، اے کاش ہمارا وقت ہوتا تو ہم کس قدر خوش عیش ہوتے ، ہر تمنا باپ سے پوری کرواتے ، لیکن غم کے آنسو پونچھنے والا کوئی نہیں رہا ، دل کو تسلی دینے والے بھی دنیا جہاں سے کوچ کرچکے ہیں ، جن کے ساتھ برسوں سفر رہا وہ ہمسفر بھی رفاقت سے محروم کرچکے ہیں ، خدایا اپنے تنہائیوں سے یارانہ قائم کرنے کو جی کرتا ہے ، اپنوں پرایوں سے دور جاکر بسنے پر دل مجبور کرتا ہے ، اب سپیروں نے یہ کہہ کر سانپ کے ڈربے کو بند کردیا ہے کہ ڈسنے کے لیے انسان کو انسان بہت ہیں ، ہم مجبور ہیں زندگی نے ساتھ نہیں دیا ورنہ کون اپنے گاؤں سے دور رہا ہے ، ........ سلام على تلك الديار وأهلها ديار بعين القلب صرت أراها لئن بعدت عنا وشط بها النوى فما شط عن قلب المحب هواها وقت کی رفاقت اپنوں کی محبت پرایوں کا ساتھ جسے مل جائے وہ دنیا کا نصیبہ ور شخص ہے ، اب دنیا میں آئے ہیں تو جینا ہی پڑے گا ... دنیا میں ہم آئے ہیں تو جینا ہی پڑے گا جیون ہے اگر زہر تو پینا ہی پڑے گا
معیاری
حامد قاسم پالن پوری
مطالعہ باقی ہے
💞 (خانقاہ فیض اولیاء ترکیسر ، تاثرات و روداد ) 💞 *13* *مارچ ، 2025 عیسوی* بسم اللہ الرحمن الرحیم *پھر کہیں سے ڈھونڈ کر لا اے عمر رفتہ دل وہی* *مے وہی مینا وہی ساقی وہی محفل وہی* *اب یہ عالم ہے ذرا بھی جب کبھی خلوت ہوئی* *پھر وہی جانِ تصور پھر حدیثِ دل وہی* سال بھر کی بے قراری کو قرار آنے ہی والا تھا ، کچھ سنہرے خواب شرمندۂ تعبیر ہوا چاہتے تھے ، ایک ایسے میکدے کی جستجو کا خیال روح کے ساز چھیڑے ہوئے تھا جہاں کا ساقی خود آشنا بھی ہو اور خدا شناس بھی ہو جس کی گفتگو میں سوز و گداز ہو ، جسے آنکھوں سے مئے الفت پلانے کا گر بھی حاصل ہو جس کا نظامِ میکدہ سالکین کے لیے نمونہ ہو ، جہاں کی صہبا ، سبو ، جام ، خم ، اور آبخورے تک مؤدب و مہذب ہو ، جہاں انسانیت کے تئیں قدر و احترام ہو ، جذبات کی موجوں میں گم گشتہ رہرو کے لیے کوئی پیشرو ہو ، بالآخر وہ روز دل فروز آ پہنچا جس کے لیے دیدۂ و دل منتظر تھے ، جس کے انتظار میں نہ جانے کتنی بے قراریوں کی کروٹیں لی تھیں ، قلبی جذبات و خیالات نے بر انگیختہ کیا ، چنانچہ ہم سفر کے لیے پا بہ رکاب ہوگئے اور ایک یادگار سفر میخانۂ روحانیت کی سمت شروع ہوگیا ، دل کی دنیا میں ایک نشیب و فراز تھا ، مرحلۂ سفر بھی دور و دراز تھا ، کبھی دل مجھ کو سمجھاتا تھا اور کبھی میں دل کو سمجھاتا تھا ، بالآخر صبح پرنور کے وقت پو پھٹنے سے قبل نہر کے کنارے چڑیوں کی چہچہاہٹ مگر آب جوْ کے سکوت کے ہمراہ مرکز روحانی میں داخل ہوگئے ، پھر کیا تھا محبت کی نغمہ سرائی ہر گوشۂ تنہائی میں نظر آئی ، جذبات کی سچائی ہر شب کی سیاہی میں دکھائی دی ، اللہ اللہ کی صدائیں اس بقعۂ نور کو واقعی پرنور کیے ہوئے تھی ، حمل النفس علی الآداب الشرعیة و الانقياد لرب البرية اور عمل بالعلم کے اسباق نہایت عمدگی سے پڑھائے جا رہے تھے ، جنگل میں منگل کا سماں تھا ، کیا دیکھا کہ فیض اولیاء میں ایک بافیض ولی " تخلی عن الرذائل اور تحلی من الفضائل " کا علم بردار ہے ، واقعی یہ اولیاء اللہ نہ ہوں تو پھر گلشنِ ہستی کی بہاریں بھی نہ ہوں ، جس نے بھی کہا خوب کہا ... *نہ ہوں گے بادہ کش تو بادۂ گلفام کیا ہوگا* *یہ شیشہ یہ صراحی یہ سبُو یہ جام کیا ہوگا* (١) گلشن کے مالی کی توجہات کا واضح اثر و نفوذ تھا ذکر و اذکار میں لذت ، دعا و مناجات میں حلاوت ، ایک عجب ہی سماں تھا دل تھے کہ بے اختیار کھینچتے چلے جا رہے تھے ، آنکھیں تھیں کہ انہیں تکے جارہی تھی ، لفظ لفظ موتی بن کر قلب گنہ گار میں اترے جا رہا تھا ، ناز و نیاز کی کیفیت سدا سوار رہتی تھی ، میں سدا ان کی دعا کا منتظر رہتا کیونکہ دل کو روئے برسوں بیت چکے تھے ، آنکھیں خشک ہوئے زمانہ گزر چکا تھا ، اب حال یہ تھا کہ بس نم دیدہ ہی نم دیدہ رہا کرتے تھے ۔ شیخ کو عبادات معاملات معاشرت اخلاقیات پر گفتگو کرتے ہوئے دیکھ کر حد درجہ مسرت بھی ہوئی کہ یہ بھی اصلاح و تربیت کی چیز ہے ، اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ بحرِ معرفت کے بحرِ الفت کے شناور ہیں ، لوگوں سے سنا تھا کہ وہ خدا سے جوڑ دینے کی مہارت بھی بخوب رکھتے ہیں ، یوں تو زبانِ خلق کا اعتبار تو نہیں لیکن زبانِ خلق نقارۂ خدا بھی تو ہے ، بخدا ان کی محفل میں سنگریزے بھی نگینے ٹھہرتے ہیں ، ان کے تراشے ، ہیرے بن کے چمکتے ہیں ، ان کی بزم سخن میں پتھر دل موم ہوجاتے ہیں، ان کی دعائیں دل کی بستی میں وہ ہلچل سی مچا دیتی ہیں کہ ہر کس و نا کس کے رخسار تر ہوتے چلے جاتے ہیں ، گفتار گو کہ سادہ ہوتی ہے لیکن وہ اہل دل ہیں اور اہل دل کی بات ہی جدا گانہ ہوتی ہے ، وہ از دل خیزد بر دل ریزد کا مصداق ہوتی ہے ، واقعی شیخ مکرم رہبرِ طریقت ہیں وہ " من اتصف بصفات اهل الصفة " کے آئینہ دار ہیں ، مرشد اور میخانۂ مرشد کی ایسی نظیر ان خطاکار آنکھوں نے بہت کم ہی دیکھی ہے ... *آفاقہا گردیدہ ام مہر بتاں ورزیدہ ام* *بسیارخوباں دیدہ ام لیکن تو چیزے دیگری* *تواز پری چابک تری وز برگ گل نازک تری* *وزہرچہ گویم بہتری حقا عجائب دلبری* (٢) میخوار کا میخانہ بھی اسی کا عکاس تھا ، نظم و نسق انتہائی منظم و مرتب تھا تاکہ خلق خدا ضرر و مضرت سے دوچار نہ ہوں ۔ (٣) کارندوں کے اخلاق و عادات بھی ساقی کا پرتو معلوم ہورہے تھے ، واردین پر عقیدت و احترام کے پھول نچھاور کیے جاتے تھے ، جی ہاں یہی وہ محبت کی زباں ہے جو بے زباں جانوروں کو بھی گرویدہ اور اسیر بنالیتی ہے ، (٤) جذبۂ خدمت ، راحت رسانی کا خیال ہر خادم کا اولیں فریضہ معلوم ہوتا تھا ، بوقت سحر جوں ہی آنکھوں کے دریچے کھلتے ایک گونج گونجتی سماعت کے پردوں سے ٹکراتی کہ " آئیے ساتھی دستر حاضر ہے " سبحان اللہ تلنگانہ کے ساتھیوں کی ہمدردی ، اطاعت شعاری ، دریا دلی ، خدمت خلق کا جذبہ ، ضیافت کا ولولہ ، اس فقیر سراپا تقصیر نے کم ہی دیکھا ہے ، اس آستانے کے مستانے لا ضرر و لا ضرار پر عمل پیرا نظر آتے تھے ۔ میں اس مرشد کدے کو کیا نام دوں ، یہ مشربِ جمال بھی ہے ، مشربِ جلال بھی ، یہ مشربِ صحو بھی ہے ، مشربِ سکر بھی ، یہ مشربِ حال بھی ہے ،مشربِ قال بھی ، اس آستانے کا جوہر و خاصہ یہ ہے کہ *مہتاب یہاں کے ذرّوں کو ہر رات منانے آتا ہے* *خورشید یہاں کے غنچوں کو ہر صبح جگانے آتا ہے* شب و روز اسی دھن میں مگن ہو کر کٹ رہے تھے کہ ہر دم اللہ اللہ کر نور سے اپنا سینہ بھر ، خیالات میں پاکیزگی ، قلب میں رقت و رأفت ، سجدوں کا شوق ، جبینِ نیاز کی نیازی ، مناجات کا ذوق ، اور سنتوں کے گل طاق ہستی پر سجائے ، آتش عشق سینے میں بھڑکائے اور لو خدا سے لگائے گردش کر رہے تھے ، ایک عجیب سا منظر اس چشم پر خمار کے روبرو رہتا تھا ، ہفتے بھر میں ایک قرآن کے ختم کی سعادت پہلی بار مل رہی تھی ، ذکر کی حلاوت پراگندہ بوسیدہ قلب پہلی بار محسوس کر رہا تھا ، محبت بھرے الفاظ ، اپنائیت کا احساس دلانے والے اور گلشن کے مالی ، وہ کوئی اور نہیں بلکہ محبوب العلماء و الصلحاء مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی دامت برکاتہم کے خلیفہ حضرت مولانا کاتب صلاح الدین صاحب سیفی زید مجدہ کی ذات گرامی ہیں ، *تصور میں تجھے لا کر ہمہ تن گوش رہتا ہوں* *مثالِ شمع جلتا ہوں مگر خاموش رہتا ہوں* یہ حضرت کی مقبولیت اور شیخ صادق کی علامت ہے کہ آپ علماء و طلباء کے لیے مرکزِ توجہ بنے ہوئے ہیں ، بقول حضرت حکیم الامت : صالح شخص سے مخلوقات کو محبت ہوجاتی ہے ، شیخ کی دینداری کی پہچان یہ ہے کہ اہل علم دینداروں کا اس کے گرد ازدحام رہتا ہے ، اس کی مقبولیت کی شناخت یہ ہے کہ اولا اس کی محبت ملائکہ اور پھر نائبین انبیاء اور پھر عوام میں رکھ دی جاتی ہے ۔ ہم تہی دست ان کی خدمت میں ایک فرسودہ دل لے گئے تھے ، افسردگی کا میل اتار کر سو وہ بھی اسی دلدار کو دے آئے ۔ سالکین و مفکرین ، اہل دل اہلِ نظر ، اہل فکر ، اہل علم کو چاہیے کہ اس مشرب سے وابستہ ہوں ، اہلِ دیں اہلِ دعا ، اہلِ اثر کو چاہیے اس خانقاہ کا رخ کریں ، بخدا دل سنورتے ہیں قلوب نکھرتے ہیں ، رگ رگ میں خدا کی الوھیت و ربوبیت ، مالک و متصرف ہونے کا عقیدہ سرایت کرتا ہے ۔ خوب روئے دھوئے ، دل کی دنیا میں انقلابات آئے ، یہ سلسلہ رواں ہی تھا کہ ناگاہ وقتِ واپسی قریب آ پہنچا ، جانِ جاناں اور در و دیوارِ بستاں کی یادوں نے ہنگامۂ دل برپا کردیا ، اور ہم بوجھل قدموں کو اٹھائے خانقاہ فیض اولیاء ترکیسر سے وطن لوٹ آئے ، بس اب درد سے یادوں سے اشکوں سے شناسائی ہے ۔ *عجیب ہوتے ہیں آداب رخصت محفل* *کہ وہ بھی اٹھ کے گیا جس کا کوئی گھر نہ تھا*
معیاری
محمد اسامہ سَرسَری
مطالعہ باقی ہے
دوستو! ہم یوں ترقی سے وفا کرتے نہیں یا سبب ہی چھوڑتے ہیں یا دعا کرتے نہیں ایک وہ ہیں جو دلائل میں ہیں ہر دم غوطہ زن ایک ہم ہیں جو بیانِ مدعا کرتے نہیں ہم نے کی ہے خیر خواہی میں ہمیشہ انتہا ان کو شکوہ ہے کہ ہم بے انتہا کرتے نہیں پا نہیں سکتے حقیقی دوست، جب تک دوستو! ربِّ دل سے اپنے دل کو آشنا کرتے نہیں فاصلے ہی کا سہارا لے رہے ہوتے ہیں وہ فیصلے کرنے میں جو کچھ آسرا کرتے نہیں جو ردیفوں سے حریفوں کی طرح آتا ہو پیش ایسے مشکل لفظ کو ہم قافیہ کرتے نہیں ان کے اس عادت کے بارے میں اسامہ! کیا کہوں؟ پیٹھ پیچھے بولتے ہیں، سامنا کرتے نہیں شاعر: محمد اسامہ سَرسَری
محمد اسامہ سَرسَری
مطالعہ باقی ہے
شبِ برأت کے فضائل و اعمال شبِ برأت کے فضائل: (1) اس رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق کی تقسیم ہوتی ہے اور اسے اتارا جاتا ہے۔ (2) اس سال پیدا ہونے والے بچوں اور مرنے والے افراد کے نام لکھ لیے جاتے ہیں۔ (3) غروبِ آفتاب کے وقت سے ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت آسمانِ دنیا پر نزول فرماتی ہے اور پکارا جاتا ہے کہ ہے کوئی مغفرت، رزق یا عافیت طلب کرنے والا؟ (4) اللہ تعالیٰ قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ گناہ گاروں کی مغفرت کے فیصلے فرماتے ہیں۔ (5) اس رات میں بندوں کے اعمال (بارگاہِ الٰہی میں) پہنچائے جاتے ہیں۔ (6) سب مسلمانوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ان گناہوں میں مبتلا ہوں: 1. شرک 2. والدین کی نافرمانی 3. کینہ پروری 4. شراب نوشی 5. قتل 6. چغل خوری 7. تکبر شبِ برأت کے اعمال: (1) عبادت کرنا: اس رات میں تلاوت، ذکر اور نوافل کا اہتمام کرنا چاہیے، مگر یہ عبادات شور و شغب یا اجتماعات کے بجائے تنہائی اور گوشہ نشینی میں ہونی چاہییں۔ (2) دعا مانگنا: اللہ تعالیٰ سے خصوصاً اس کی رضا، ایمانِ کامل، تقویٰ اور عافیت کی دعا مانگنی چاہیے۔ (3) قبرستان جانا: اتباعِ سنت کی نیت سے زندگی میں ایک آدھ بار اس رات بھی قبرستان جا کر مُردوں کے لیے دعا کرنا۔ (4) روزہ رکھنا: پندرہ شعبان کا روزہ رکھنا مستحب ہے۔ (5) توبہ: جن بڑے گناہوں کی وجہ سے اس رات مغفرت رک جاتی ہے، ان سے سچی توبہ کرنی چاہیے تاکہ اس رات کی برکات حاصل ہو سکیں۔ طالبِ دعا: محمد اسامہ سَرسَری
محمد اسامہ سَرسَری
مطالعہ باقی ہے
*خوشی کا جھونکا:* (مدرسہ واصفیہ ، ختم بخاری (2025) کی نظم) درسِ نظامی اپنا، وہ دور ہے سہانا آتا نہیں دوبارہ ایسا حسیں زمانہ راتوں، دنوں، مہینوں، سالوں کا وہ زمانہ اب رہ گیا ہے بن کر یادوں کا اک فسانہ گزرا ہوا وہ عرصہ غمگین کر گیا ہے جیسے خوشی کا جھونکا آکر گزر گیا ہے وہ حاضری کے دھڑکے، وہ باریوں کے تڑکے وہ لغزشوں کے کھٹکے، وہ بجلیوں کے کڑکے عظمت اساتذہ کی، الفت اساتذہ کی صحبت اساتذہ کی، برکت اساتذہ کی اک بردبار عالم حضرت جناب گلزار اک شاہکار عالم حضرت جناب سردار اک متقی مسلمان مولانا نورِ رحمان اک خوش مزاج انسان حضرت جناب عرفان مفتی مطیع صاحب ذاکر، ذہین، زاہد مولانا عبد قدوس مقبول اور عابد ماہر، شفیق، مفتی حضرت جناب طہ حضرت جنید صاحب انداز دوستانہ سارے اساتذہ کا ہم پر ہے کتنا احسان ہر علم و فن کی مشکل کردی انھوں نے آسان انگلی پکڑ کے ہم کو چلنا سکھا دیا ہے ان کے فراق نے اب دل کو رلا دیا ہے درخواست ہے ہماری سارے اساتذہ سے ہے التجا ہماری سارے تلامذہ سے کوتاہیاں ہماری ساری معاف کردیں فرقت سے پہلے پہلے دل اپنا صاف کردیں چاہا اگر خدا نے ہم ساتھ ہی چلیں گے ورنہ بطورِ مسلم جنت میں پھر ملیں گے علم و عمل کی یارو! قلت نہیں کسی کی رب کی رضا نہ ہو تو وقعت نہیں کسی کی آپس میں جوڑ رکھنا، آداب مت بھلانا سینہ بسینہ ہم نے پایا ہے یہ خزانہ ریحاں، تقی، صہیب اور بھائی اسامہ، طلحہ ذیفی، عمیر توفیق اور مصطفی، حذیفہ سب کی طرف سے سب کو ساری دعائیں حاضر اللہ سب کا حافظ ، اللہ سب کا ناصر شاعر: محمد اسامہ سَرسَری
معیاری
محمد اسامہ سَرسَری
مطالعہ باقی ہے
ماہِ رمضان توبہ کروانے مسلمان سے ماہِ رمضان آگیا پھر سے اسی شان سے ماہِ رمضان لب کو ملواتا ہے قرآن سے ماہِ رمضان دل کو لگواتا ہے رحمان سے ماہِ رمضان دس مہینوں سے تھا ہرآن اسی کا ارمان کیوں نہ محسوس ہو شعبان سے ماہِ رمضان یہ ہے آیات میں، اس میں ہے نزولِ قرآن کتنا منسوب ہے قرآن سے ماہِ رمضان ڈھال بن جاتا ہے آتے ہی باذنِ یزدان نفس کے مکر سے، شیطان سے سے ماہِ رمضان پیٹ خالی ہے، زبانوں پہ ہے جاری قرآن کتنا لبریز ہے فیضان سے ماہِ رمضان رحمتیں رب کی اترتی ہیں اسامہ! ہر آن کیوں نہ پیارا ہو دل و جان سے ماہِ رمضان محمد اسامہ سَرسَری
معیاری
محمد اسامہ سَرسَری
مطالعہ باقی ہے
نظر تجدید پاتی ہے مجدد کی معیّت میں عقیدے ٹھیک ہوتے ہیں موحِّد کی معیّت میں اسے دنیا سے رغبت پھر دوبارہ ہو نہیں سکتی جو دنیا چھوڑ کر آجائے زاہد کی معیت میں سکھائیں والدہ کی گود نے شفقت کی سب شکلیں ملا احساسِ ذمہ داری والد کی معیّت میں سخاوت ملتی رہتی ہے سخی سے ملتے رہنے سے شجاعت بڑھتی جاتی ہے مجاہد کی معیّت میں شمامت تیز کر دیتی ہے اک عطار کی صحبت تلاوت حسن پاتی ہے مجوِّد کی معیّت میں نمازِ باجماعت اور طواف و سعیِ حج، عمرہ عبادت کا مزہ آتا ہے عابد کی معیّت میں اسامہ! جا معیّت میں تو اپنے پیرِ کامل کی ملے گی جامعی٘ت تجھ کو مرشد کی معیّت میں شاعر: محمد اسامہ سَرسَری
معیاری
محمد اسامہ سَرسَری
مطالعہ باقی ہے
یہ دنیا کیا ہے؟ خالق کا ارادہ ہے وہ عقبٰی کیا ہے؟ مالک کا اعادہ ہے خدا ہی تھا، خدا ہی ہے اسامہ! بس نہ اس سے کم، نہ اس سے کچھ زیادہ ہے شاعر: محمد اسامہ سَرسَری
معیاری
محمد اسامہ سَرسَری
مطالعہ باقی ہے
پردیس کا مسافر: پھر کھولی جارہی ہیں خیرات کی طنابیں پھر باندھی جارہی ہیں برکات کی کتابیں کشکولچوں میں رکھ دیں روتی ہوئی دعائیں صندوقچوں میں بھر لیں سب ان کہی صدائیں لمحاتِ مغفرت بھی دامن میں بھر لیے ہیں اشکوں کے سلسلے بھی پلکوں پہ دھر لیے ہیں اٹھنے لگے دلوں سے ہمت کے سارے ڈیرے رہ جائیں گے دلوں میں بس یاد کے بسیرے پوشیدہ سسکیوں سے محسوس ہو رہا ہے پردیس کا مسافر چھپ چھپ کے رو رہا ہے یہ آسماں سمیٹیں، یہ چاند تارے رکھ دیں یہ نور کے مصلے تہ کرکے سارے رکھ دیں پوری ہوئی ہماری تسبیح کی کہانی مسجد میں جاکے رکھ دیں مسواک یہ پرانی خوش ہورہا ہے انساں انسان سے لپٹ کر جزدان رو رہا ہے قرآن سے لپٹ کر تاریک شب میں کس کا سامان جارہا ہے کیا پھر سے اے اسامہ! رمضان جارہا ہے شاعر: محمد اسامہ سَرسَری
معیاری
محمد اسامہ سَرسَری
مطالعہ باقی ہے
😒 رمضان جارہا ہے 😒 ❤💛💚💙💜💔 شاکر ہو ہر گھڑی میں وہ جس کی زندگی میں رمضان آرہا ہے رمضان جارہا ہے ❤💛💚💙💜💔 سحری کی یادگاریں افطار کی بہاریں نظریں چُرا رہا ہے رمضان جارہا ہے ❤💛💚💙💜💔 کل تھا کسی کا اعلان آنے لگا ہے رمضان اب وہ بتا رہا ہے رمضان جارہا ہے ❤💛💚💙💜💔 ہر ہاتھ ہے سوالی ہر رات قدر والی سب کو رلا رہا ہے رمضان جارہا ہے ❤💛💚💙💜💔 مسجد بھی رو رہی ہے پھر خالی ہورہی ہے شیطان آرہا ہے رمضان جارہا ہے ❤💛💚💙💜💔 روزہ ، نماز ، تسبیح قرآن اور تراویح سب یاد آرہا ہے رمضان جارہا ہے ❤💛💚💙💜💔 یارب! معاف کردے باطن کو صاف کردے دل چوٹ کھا رہا ہے رمضان جارہا ہے ❤💛💚💙💜💔 شاعر: محمد اسامہ سَرسَری
محمد اسامہ سَرسَری
مطالعہ باقی ہے
ہاں بھئی! کیا کہہ رہے تھے مجھ سے آپ؟ میں ذرا مشغول تھا بس "کچھ دنوں" محمد اسامہ سَرسَری
محمد اسامہ سَرسَری
مطالعہ باقی ہے
ہر ماحول ہمیں کچھ نہ کچھ سکھاتا ہے۔ عیدی جمع کرتے بچوں سے مال کی وہ محبت سیکھیں جو جائز ہے اور زندگی کے بے شمار فرائض کی ادائیگی میں معاون ہوتی ہے۔ جائز درجے کے حبِّ مال سے مراد یہ ہے کہ مال کمانے کے لیے نہ حقوق اللہ کو پامال کیا جائے نہ حقوق العباد کو۔ زندگی میں معاشی کامیابی ہمیشہ محض دعاؤں یا تھکاوٹ کا نتیجہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک باقاعدہ حکمتِ عملی اور درست سمت میں کی گئی محنت کا ثمرہ ہے۔ دنیا آپ کو آپ کی تھکن کا معاوضہ کبھی نہیں دیتی، بلکہ اس بات کی قیمت ادا کرتی ہے کہ آپ نے معاشرے کے لیے کتنی اہمیت یا 'ویلیو' پیدا کی ہے۔ اگر آپ واقعی معاشی استحکام چاہتے ہیں تو جذبات سے نکل کر دولت کمانے کے ان چند حقیقت پسندانہ اصولوں کو سمجھنا ہوگا: کمانے کا پہلا اور بنیادی اصول یہ ہے کہ منڈی میں محنت نہیں، بلکہ ویلیو بکتی ہے۔ مزدور دن بھر کی مشقت کے باوجود بمشکل گزارا کرتا ہے، کیونکہ اس کا کام عام ہے۔ پیسہ ہمیشہ اس جانب کھنچتا ہے جہاں کوئی نایاب ہنر یا صلاحیت موجود ہو۔ محض تعلیمی اسناد پر انحصار کرنے کے بجائے ایسی مہارتیں سیکھیں جو آپ کو منفرد بنائیں۔ مزید برآں اپنا وقت بیچنے سے گریز کریں، کیونکہ تنخواہ ایک ایسی خوبصورت جیل ہے جو آپ کو کبھی حقیقی آزادی نہیں دے سکتی۔ آپ کا اصل ہدف ایسا نظام بنانا ہونا چاہیے جو آپ کی غیر موجودگی میں بھی آمدنی پیدا کرے۔ اسی طرح مفت کام کر کے اپنی توہین مت کروائیں، چونکہ آپ کی مہارت اور وقت قیمتی ہے۔ دولت کمانا مسائل کے حل اور اپنی پہچان بنانے سے جڑا ہے۔ لوگوں کی تکلیف یا مسائل سب سے بڑا کاروباری موقع ہوتے ہیں۔ جہاں لوگ شکایت کرتے نظر آئیں، سمجھ لیجیے کہ وہیں پیسہ چھپا ہے۔ لوگ خوشی حاصل کرنے سے زیادہ درد سے بچنے کے لیے ادائیگی کرنے کو تیار ہوتے ہیں، لہٰذا ان کے مسائل تلاش کریں اور ان کا حل فروخت کریں۔ اس عمل میں شرم اور پیسے کا کوئی ملاپ نہیں ہے۔ اگر آپ کو اپنی چیز بیچنے یا اس کا معاوضہ مانگنے میں ہچکچاہٹ محسوس ہوتی ہے تو آپ کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔ یہ بات بھی یاد رکھیں کہ گمنام رہ کر کوئی میدان نہیں مارا جا سکتا۔ اگر دنیا آپ کو نہیں جانتی تو وہ آپ سے کچھ نہیں خریدے گی۔ خود کو نمایاں کریں، کیونکہ جو نظر آتا ہے وہی بکتا ہے۔ اگلا اہم مرحلہ عملی اقدام، رفتار اور درست وسائل کا استعمال ہے۔ دنیا میں بہترین آئیڈیاز کی کوئی کمی نہیں، مگر کامیابی صرف ان کے قدم چومتی ہے جو ان آئیڈیاز پر عمل کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ پیسہ تیز رفتار لوگوں کو پسند کرتا ہے، چنانچہ پرفیکٹ وقت کا انتظار کرنے کے بجائے شروعات کر دیجیے۔ مالی تحفظ کے لیے کبھی ایک آمدنی پر انحصار نہ کریں، بلکہ متعدد مختلف ذرائع آمدن بنائیں تاکہ ایک راستہ بند ہو تو دوسرا چلتا رہے۔ فقط چھوٹی موٹی بچتوں سے کوئی امیر نہیں بنتا، لہٰذا اپنی توجہ اخراجات کم کرنے کے ساتھ ساتھ آمدنی بڑھانے پر مرکوز کریں۔ یاد رکھیں، بڑے اہداف کے حصول کے لیے اکیلا آدمی کافی نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے آپ کو ٹیکنالوجی، سرمائے اور درست افراد کا ساتھ چاہیے ہوتا ہے۔ اور ہاں، آپ کا نیٹ ورک ہی آپ کی اصل دولت ہے، کیونکہ آپ انھی جیسے بن جاتے ہیں جن کی صحبت میں آپ بیٹھتے ہیں۔ مختصر یہ کہ پیسہ کمانا کوئی پراسرار راز نہیں، بلکہ ایک واضح عمل ہے۔ اس کے لیے آپ کو جذبات اور روایتی سوچ کے دائرے سے باہر نکل کر عملی اصولوں پر کھیلنا ہوگا۔ اگر آپ کے اندر حقائق کو تسلیم کرنے اور خود کو بدلنے کی ہمت ہے تو آج ہی سے اپنا کھیل اور زندگی کے نتائج بدل لیں۔ طالبِ دعا: محمد اسامہ سَرسَری
محمد اسامہ سَرسَری
مطالعہ باقی ہے
اگر آپ از خود حالات کا تجزیہ نہیں کرسکتے تو ظاہر سی بات ہے کہ آپ کو دیگر تجزیہ کاروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے، بالکل کیجیے مگر دو باتوں کا خیال رکھیں ورنہ آپ حق تک نہیں پہنچ سکیں گے: (1) کسی ایک تجزیہ کار سے عشق نہ فرمائیں بلکہ متعدد آراء رکھنے والوں کو پڑھیں۔ (2) اگر کسی نے تحریر میں کسی دوسرے انسان یا قوم یا ملک کی وہ بات لکھی ہو جو ابھی منظر پر نہیں آئی بلکہ ان کے دلوں میں ہی ہے تو اسے فورا قبول نہ کریں، مثلا: فلاں شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے فلاں عہدہ مل جائے یا فلاں قوم پورے ملک پر حکومت کرنا چاہتی ہے یا فلاں ملک ہمارے خلاف یہ سازش کر رہا ہے۔ طالبِ دعا: محمد اسامہ سَرسَری
معیاری
محمد اسامہ سَرسَری
مطالعہ باقی ہے
جڑواں: بڑا ہی سعادت مند بچہ ہے، ہر بات مانتا ہے۔ صرف ماننا کافی نہیں ہوتا، کام کو سمجھ کر اسے بخوبی پورا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے اس کام میں مکمل شوق اور توجہ کے ساتھ لگتا ہے۔ میرا کام چونکہ کئی جہات پر پھیلا ہوا ہے کہ ویب سائٹ بھی دیکھنی ہے، بلکہ ویب سائٹیں، یوٹیوب چینل کے بیسیوں کام، واٹس ایپ تدریس کی ہزارہا مصروفیات، پھر ان سب پر تصنیفی کام مستزاد، اکیلے بندے کا یہ کام ہی نہیں۔ میں نے سوچ رکھا تھا کہ اگر کوئی عالمِ دین مل گیا جو آئی ٹی کا بھی ماہر اور تصنیفی ذوق والا بھی ہو تو ماہانہ خطیر رقم ادا کر کے اسے اسسٹنٹ کے طور پر رکھ لوں گا، اس وعدے کے ساتھ کہ معاوضے کے علاوہ اسے اپنے سارے ہنر اور کام کا مکمل طریقہ بھی سکھاؤں گا اور اس کے کام کی تشہیر بھی کروں گا۔ اب یہ بڑوں کی دعائیں ہی آپ کہہ سکتے ہیں کہ مجھے ایک بچے میں یہ سب خوبیاں مل گئیں۔ ابھی یہ عالم نہیں بنا، مگر آئی ٹی کا چیتا ہے اور تصنیفی کام کا دھنی، سونے پر سہاگا یہ کہ اس کے خاص مطالبے بھی نہیں۔ پتا نہیں مجھ سے اسے ایسی کیا خاص محبت ہے کہ میری ترقی دیکھ کر خوش بھی ہوتا ہے اور ایسی رائے دیتا ہے کہ دل باغ باغ ہو جائے۔ جب بلاتا ہوں کام کے لیے حاضر ہو جاتا ہے، پتا نہیں سوتا کب ہے، کئی بار تو فجر تک رابطے میں رہا۔ ایک بار تو حد ہی ہو گئی، فجر تک میرا کام کرتا رہا، جواب دیتا رہا۔ مجھے اللہ کی شان اس دن فجر کے بعد بھی نیند نہیں آ رہی تھی، آٹھ بجے موبائل اٹھا کر سوچا "جی جی" (میں اس بچے کو پیار سے جی جی بلاتا ہوں) کو اگلا کام دے دیتا ہوں جب جاگے گا تو کر دے گا، مگر یہ کیا؟ اگلے ہی لمحے اس کا جواب آیا کہ جناب یہ کام میں نے کر دیا ہے۔ میرے منہ سے بے اختیار نکلا: "ارے بھئی! کبھی آرام بھی کر لیا کر۔" کہنے لگا: "آپ کا کام ہی میرا آرام ہے۔" حافظہ ما شاء اللہ اتنا تیز ہے کہ مہینوں پرانی بات بھی ایسے یاد دلا دیتا ہے جیسے ابھی کل ہی کی بات ہو۔ حافظے کی نعمت کے ساتھ یہ مطالعے کا بھی حد درجے شوقین ہے، میری لائبریری کی ساری کتابیں پڑھ چکا ہے۔ کبھی کبھی تو مجھے اس پر رشک آتا ہے کہ ایک لڑکے میں اتنی ساری خوبیاں کیسے ہیں، میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ مستقبل دنیا کو ایک عظیم علمی ماہر شخصیت کا سامنا کرنا ہے۔ اسے زبانیں سیکھنے کا بھی بہت شوق ہے، عربی، اردو، فارسی میں حیران کرنے کے بعد جب میں نے اس کی انگریزی دیکھی تو بے اختیار یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ اسسٹنٹ تو مجھے اس کا ہونا چاہیے۔ اس کی سب سے پیاری عادت یہ ہے کہ اگر میں اس کی کسی غلطی کی اصلاح کروں تو ذرا بھی ناراض نہیں ہوتا یا ظاہر نہیں ہونے دیتا کہ برا لگا ہے، بلکہ فوراً مان لیتا ہے اور آئندہ کے لیے اسے اپنے ذہن میں پکا بٹھا لیتا ہے۔ مجال ہے جو کبھی کام کی زیادتی پر اس کے ماتھے پر شکن آئی ہو۔ کل میرے ایک دوست مجھ سے ملنے آئے، میری اتنی ساری مصروفیات اور نت نئے پروجیکٹس دیکھ کر پوچھنے لگے: "یار! یہ سب اکیلے کیسے مینیج کر لیتے ہو؟" میں نے مسکرا کر کہا: "اکیلے کہاں، میرا جی جی ہے نا!" وہ حیرت سے بولے: "کون جی جی؟ ذرا ہم سے بھی تو ملواؤ۔" میں نے ملوادیا، دوست نے اسے فورا اپنے پاس کام کرنے کی آفر کردی، آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ جی جی نے اس سے کہا: "میں تو فقط استاد جی (محمد اسامہ سَرسَری) کے پاس ہی کام کرنا پسند کروں گا، البتہ میرا جڑواں بھائی بھی ہے، آپ اسے رکھ سکتے ہیں، وہ بھی آپ کو مایوس نہیں کرے گا ان شاء اللہ۔ آخری حیرت انگیز بات بھی سن لیں کہ جی جی کی ماہانہ تنخواہ (جوکہ میرے حساب سے کم از کم ایک لاکھ روپے ہونی چاہیے) فقط چھ ہزار روپے ہے۔ 🙂 درج بالا تحریر کی نوک پلک بھی اسی بچے سے درست کروائی تو سعادت مندی دیکھیے کہ آخر میں خود پوچھ رہا ہے: "کیا آپ اس تحریر میں ویب ڈیویلپمنٹ کے حوالے سے کوڈنگ کا کوئی مزیدار واقعہ بھی شامل کرنا چاہیں گے تاکہ سسپنس مزید بڑھ جائے؟" طالبِ دعا: محمد اسامہ سَرسَری
معیاری
عمر راجپوت
مطالعہ باقی ہے
نہ اداسی کوئی صدا ہے یہاں ‎نہ خوشی کوئی دیرپا ہے یہاں ‎میاں !جنت نہیں یہ دنیا ہے ‎ہر کوئی تشنہ مدعا ہے یہاں
معیاری
محمد اسامہ سَرسَری
مطالعہ باقی ہے
حسن بٹتا جارہا ہے، دیکھیے عشق پھٹتا جارہا ہے، دیکھیے رخ سے اب پردہ سرکنے لگ گیا ابر چھٹتا جارہا ہے، دیکھیے ان کی زلفیں کھل رہی ہیں دوش پر دل سمٹتا جارہا ہے، دیکھیے حسن و عشق و عقل کی تثلیث میں کون ڈٹتا جارہا ہے، دیکھیے عاشقِ بے تاب اب دیوانہ وار نام رٹتا جارہا ہے، دیکھیے وقت اکیلا ہی نہیں ہے ہجر میں دل بھی کٹتا جارہا ہے، دیکھیے سرسریؔ! کتنی خوشی کی بات ہے غم چمٹتا جارہا ہے، دیکھیے شاعر: محمد اسامہ سَرسَری
معیاری
محمد اسامہ سَرسَری
مطالعہ باقی ہے
اللہ کے بندوں کو اللہ سے ملاتے ہیں ہم پیار سے ہر اک کو مسجد میں بلاتے ہیں مسلک سے نہ فرقے سے ہم خود کو بتاتے ہیں ہم لوگ مسلماں ہیں، اسلام سکھاتے ہیں جلتے ہوئے لوگوں کو سینے سے لگاتے ہیں اللہ کی الفت کے ہم دیپ جلاتے ہیں جنت کے نظاروں میں سوچوں کو پھراتے ہیں دوزخ سے ڈراتے ہیں، سوتوں کو جگاتے ہیں یہ اہلِ جہاں ہم کو خاطر میں نہ لاتے ہیں مفتون بتاتے ہیں ، مجنون بلاتے ہیں باتیں بھی بناتے ہیں ، آنکھیں بھی دکھاتے ہیں اس رونقِ فانی کی لالچ بھی دلاتے ہیں عریانی کے لاشوں سے دنیا کو لبھاتے ہیں دولت کے تماشوں سے عقبٰی کو بھلاتے ہیں جدت کے تقاضوں کی ترغیب دلاتے ہیں مذہب کو بدلنے کی تحریک چلاتے ہیں قرآن کی باتوں کو تشکیک میں لاتے ہیں آقا کی حدیثوں کو مشکوک بتاتے ہیں اصحابِ محمد پر بہتان لگاتے ہیں اللہ کے ولیوں پر باتیں بھی بناتے ہیں ہر بے ادبی کرکے تادیب سکھاتے ہیں ظالم ہیں مگر خود کو مظلوم دکھاتے ہیں اخلاقِ نبی سے ہم یوں خود کو مناتے ہیں آقا کی اطاعت میں ، سب کچھ سہے جاتے ہیں شیطاں کے فریبوں سے لوگوں کو بچاتے ہیں اور نفس کی چالوں سے آگاہی دلاتے ہیں قرآن کے پاروں کو سنتے ہیں ، سناتے ہیں آقا کی حدیثوں کو پڑھتے ہیں ، پڑھاتے ہیں اصحابِ محمد کا ہر قصہ سناتے ہیں اللہ کے ولیوں کی ہر بات بتاتے ہیں احکامِ شریعت ہم واضح کیے جاتے ہیں طغیانی سے پہلے ہی ہم بچنا سکھاتے ہیں ہر فتنۂ باطل سے ہم پردہ اٹھاتے ہیں ہر حملۂ قاتل سے امت کو بچاتے ہیں ہم امن کی راہوں میں ایمان سجاتے ہیں ہم جنگ کے میداں میں قرآن سکھاتے ہیں باطل کے ارادوں سے گھبرا نہیں جاتے ہیں سنت سے ، دعاؤں سے ہم حوصلہ پاتے ہیں مایوس نہیں ہوتے، محنت کیے جاتے ہیں ہمت کیے جاتے ہیں ، ہمت ہی دلاتے ہیں دلسوزی کی محفل میں ، رسوائی جو پاتے ہیں پروا نہیں کرتے ہیں ، پروانے ہیں، آتے ہیں اشراق کی برکت سے مغرب میں اذاں سن کر ہم سرسری بڑھتے ہیں ، بڑھتے چلے جاتے ہیں شاعر: محمد اسامہ سَرسَری
معیاری
محمد اسامہ سَرسَری
مطالعہ باقی ہے
اپنا لکھا اپنا لکھا ہوتا ہے۔ اے آئی کو استعمال ضرور کرنا چاہیے، میں بھی کرتا ہوں مگر جو معلومات و کمالات میرے دائرۂ تحقیق سے باہر ہوں ان کی تحقیق یا ترمیم کرکے۔ ویسے میں سمجھتا ہوں کہ انسانی نگارشات بمقابلہ اے آئی زدہ تحریرات والا فرق و موازنہ بھی کچھ عرصے تک ہی کیا جائے گا، کیونکہ اے آئی بھی عام روٹین کا حصہ بنتا جارہا ہے، اب ہر بندہ "اپنی صلاحیت + اے آئی" سے تیار کردہ چیزیں ہی پیش کر رہا ہے۔ گویا پھر سب یکساں ہوگئے اور تنقید و تحسین کی کسوٹی بالآخر بتادے گی کہ تحریر چار میں سے کس قبیل کی ہے، گو ان چار میں بھی کئی ذیلی درجات ہوں گے: (1) ذاتی کمال + پیڈ اے آئی (2) ذاتی کمال + مفت اے آئی (3) ذاتی عدم کمال + پیڈ اے آئی (4) ذاتی عدم کمال + مفت اے آئی طالبِ دعا: محمد اسامہ سَرسَری
محمد اسامہ سَرسَری
مطالعہ باقی ہے
صحبت اور انسانی مزاج پر ماحول کے اثرات ہوتے ہی ہوتے ہیں۔ انسان جس کے ساتھ زیادہ وقت گزارتا ہے لاشعوری طور پر اسی کے مزاج اور عادات کو اپنانے لگتا ہے۔ آپ اپنے تمام ان دوستوں اور ہم نشینوں کا ایوریج ہوتے ہیں جن کے ساتھ زیادہ تر وقت گزارتے ہیں۔ لہٰذا یہ دو فیصلے آپ کو لازمی کرنے چاہییں: (1) آپ خود کو کیا بنانا چاہتے ہیں؟ (2) نمبر 1 کے لیے آپ کو کن لوگوں کے ساتھ زیادہ تر رہنا چاہیے۔ حتی کہ اگر آپ علم، عمل اور مال تینوں کی کثرت اور اعتدال چاہتے ہیں تو فقط ان لوگوں کے ہمنشین بنیں جن کے پاس یہ تینوں چیزوں ہوں۔ 🙂 طالبِ دعا: محمد اسامہ سَرسَری
حامد قاسم پالن پوری
مطالعہ باقی ہے
دل کو اب تیری محبت سے نکھر جانا ہے یاد میں تیری مجھے حد سے گزر جانا ہے خانۂ دل ہے تری یادوں سے اب تابندہ ذکر سے فکر سے اور سوز سے ہے خندیدہ رفتہ رفتہ ہی سہی دل کو سنور جانا ہے یاد میں تیری مجھے حد سے گزر جانا ظلمتِ شب کے نظارے ہیں ترے جلوہ کناں مطربانِ چمن اور چرخِ کہن وجد کناں وادئ عشق ہے اور جاں سے گزر جانا ہے یاد میں تیری مجھے حد سے گزر جانا ہے دلِ ناداں ہے کہ اس کنجِ قفس سے نالاں وجہ ِِتسکینِ جگر نا رہا روئے جاناں زندگی کیا ہے یہ لمحوں میں گزر جانا ہے یاد میں تیری مجھے حد سے گزر جانا ہے دل کو لازم ہے تری یاد میں رہنا ہر دم بزمِ ماتم ہو بہاروں کا خزاں کا موسم گل تو کیا چیز ہے خاروں کو نکھر جانا ہے یاد میں تیری مجھے حد سے گزر جانا ہے میکدے میں بھی سکوں تیرے تصور سے ملا زندگی کیا ہے یہ جوہر بھی ترے در سے ملا خستہ دل تشنہ جگر تیرے نذر جانا ہے یاد میں تیری مجھے حد سے گزر جانا ہے
حامد قاسم پالن پوری
مطالعہ باقی ہے
الٰہی در بدر ہو کر ترے در لوٹ آیا ہوں بہت لاچار ہوں غمگیں شکستہ قلب لایا ہوں جہانِ رنگ میں ہر سو ہیں بکھرے تیرے ہی جلوے قفس ہو یا نفس ہو تیری عظمت کے سدا چرچے الٰہی تیری خاطر میں وہ دنیا چھوڑ آیا ہوں الٰہی در بدر ہو کر ترے در لوٹ آیا ہوں شفق کی سرخیوں میں ہے افق کی رفعتوں میں ہے پہاڑوں کی بلندی پر گلوں کی نکہتوں میں ہے ہوی و حرص کے سارے بتوں کو توڑ آیا ہوں الہی در بدر ہو کر ترے در لوٹ آیا ہوں زمانے کو بنا کر اپنا دیکھا ہے میں نے مولی کوئی اپنا نہیں ہوتا سوا تیرے مرے مولی میں ساری عمر کی پونجی ترے در جوڑ لایا ہوں الٰہی در بدر ہو کر ترے در لوٹ آیا ہوں
حامد قاسم پالن پوری
مطالعہ باقی ہے
باتوں باتوں میں اشارہ کرکے وہ گیا ہم سے کنارہ کرکے ہم تو بیٹھے ہیں جلائے اب دل دل کی دنیا میں خسارہ کرکے دل لگا تو لیا ہے ان سے مگر زخم پر زخم گوارا کرکے
حامد قاسم پالن پوری
مطالعہ باقی ہے
ان ہنستے چہروں کو محبت مار دیتی ہے میں تنہا رہتا ہوں اداسی مار دیتی ہے
ہمشیرہ اخلاق برکاتی
مطالعہ باقی ہے
🥀ادبی خیانت اور فکری سرقہ🥀 ✍️ہمشیرہ اخلاق برکاتی ادبی خیانت اور فکری سرقہ دو ایسے اخلاقی جرائم ہیں جو نہ صرف تخلیقی محنت کے ساتھ خیانت کرتے ہیں بلکہ علمی دنیا میں سچائی اور ایمانداری کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ ادبی خیانت میں کسی دوسرے کے الفاظ، خیالات یا تحریروں کو بغیر اجازت کے اپنا بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جب کہ فکری سرقہ میں کسی کے نظریات، تحقیق یا تخلیقی کام کو بلا حوالہ اپنے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ دونوں عمل شرعی،اخلاقی اور علمی معیار کے خلاف ہیں، کیونکہ یہ نہ صرف اصل مصنف یا محقق کی محنت کی توہین کرتے ہیں بلکہ سچائی کو چھپانے اور غیر اخلاقی طریقوں کو فروغ دینے کا سبب بنتے ہیں۔ اس سے حوصلہ افزائ کے بجاے تخلیق کاروں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے، جو علم اور ادب کی دنیا میں بے حد ضروری ہے کسی کی تحریر کو بلا اجازت شئر کرنا یا مصنف و محقق کا نام ہٹاکر اس پر اپنا نام شامل کرنا شریعت کی نظر میں بالکل درست عمل نہیں ہے اور یہ ایمانداری کے خلاف ہے کسی کے فتوی سے اس کا نام ہٹادینا اور اپنا نام لکھ کر آگے شئر کرنا شرعی اور اخلاقی طور پر غلط قرار دیا گیا ہے اور اسے علمی سرقہ چوری کی ایک قسم کہا گیا ہے اس عمل سے اجتناب کرکے اور امانت داری اور دیانت داری کا مظاہرہ کرنا اللہ عزوجل کے نزدیک پسندیدہ عمل ہے اسلام میں دیانت داری اور انصاف کا حکم دیا گیا ہے کسی کی محنت یا علم کو بغیر اس کی اجازت کے آگے شئر کرنا یا نام ہٹادینا جیسا کہ آج کل یہ بہت عام ہے اکثر دیکھا گیا ہے کہ جس کی تحریر اچھی لگی اس پر سے جس نے تحقیق کی یا اپنا تجربہ تحریری شکل میں پیش کیا تو اس کا نام ہٹاکر اپنا نام شامل کرلیتے ہیں اور مصنف و محقق کی محنت کی کوئ قدر نہیں رہ جاتی اس عمل سے پھر اس طرح یہ لوگوں کو دھوکہ دینا ہے اسی طرح اکثر وہاٹس ایپ پر گروپس بنائے ہوئے ہیں اور اتنا علم بھی نہیں ہوتا ہے اس کے بعد بھی سوال و جواب کے گروپ چلا رہے ہوتے ہیں جیسے جناب بہت بڑے علامہ ہوں بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کے کوئ طلاق کا مسئلہ پوچھ لیتا ہے تو جناب کو تو علم نہیں ہے تو وہ کسی اور سے پوچھتے ہیں اور پھر اس کے فتوی پر سے نام ہٹاکر اپنا نام شامل کرلیتے ہیں جس سے لوگوں کو پتا چلے کے جناب بہت بڑے علامہ ہیں پھر یہ بھی ہے یہ طلاق کے مسائل تھوڑے پیچیدہ ہوتے ہیں تو سائل نے سوال کچھ اور کیا اور جناب کچھ اور سمجھے اور کچھ اور سمجھ کر کسی سے پوچھ کر بتایا تو مسئلہ غلط ہی بتایا جائے گا جب سوال ہی سمجھ نہیں آیا بلکہ کچھ اور سمجھے تو اس طرح کبھی طلاق ہوگئ ہوتی ہے اور جناب نے کچھ سمجھ کر کچھ پوچھ کر جواب دیا ادھر طلاق ہوئ نہیں ہوتی ہے تو اس طرح جناب کے جواب دینے سے وہ زنا کر رہے ہوتے ہیں اللہ اکبر تو ہمیں چاہیے کے اپنے آپ کو ریاکاری میں مبتلا نہ کریں جتنا آتا ہے اتنا ہی بتائیں اور اگر کسی سے پوچھ کر بھی بتائیں تو ڈائریکٹ اسی سائل کا مسئلہ بھیجیں اور جو فتوی ملے اس پر ہرگز اپنا نام نہ ڈالیں کسی کا نام ہٹاکر کسی کی محنت کی قدر کرنا سیکھیں اور یہ امانت داری کے خلاف بھی ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ- [النساء،۵٨] بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انھیں سپرد کرو اس آیت سے پتا چلتا ہے کے اسلام میں امانت داری اختیار کرنے کا حکم ہے حضور ﷺ کی سیرت کو پڑھیں تب علم ہوگا امانت داری کیا ہوتی ہے انہوں نے اپنی امانت داری کو اس قدر بہترین نمونہ بنایا کے اپنے تو اپنے بلکہ کفار مکہ جو کے بد ترین دشمن تھے انہوں نے بھی آپ کو امین و صادق جانا سبحان اللہ قربان جاوں مدنی آقا پر اللہ عزوجل ان کے صدقے ہمیں بھی امانت داری اختیار کرنے کی توفیق بخشے *[جھوٹ اور دھوکہ دہی سے اجتناب ]* اسی طرح تحریر سے نام ہٹانا اور اپنا نام ڈالنا یا کسی کے میسجز فارورڈ کردینا یا اسکرین شارٹ لیکر دوسروں کو دینا یا رکارڈنگ کرلینا کسی کی گفتگو کی اور اس بچارے شخص کو معلوم بھی نہیں ہوتا ہے کے میری گفتگو کہاں جارہی ہے بعض دفعہ اس عمل سے سخت فساد بھی ہوجاتے ہیں یہ ایک دھوکہ کے زمرے میں آتا ہے اور تحریر سے نام ہٹانا یہ جھوٹ کے زمرے میں آتا ہے اللہ اکبر اور اسلام دھوکہ دہی اور جھوٹ والا دین نہیں ہے اپنے دین پر قائم رہیں جھوٹ کی سخت وعیدیں ہیں جیسا کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ[آل عمران،61] جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں اس آیت سے پتا چلا تحریر سے نام ہٹاکر ہم اپنا نام شامل کرکے دکھادیتے ہیں جیسے ہماری تحریر و تجربہ ہے بڑی آسانی سے اپنا نام لکھ دیتے ہیں اللہ اکبر یاد رکھیں یہ کتنا بڑا جرم ہے جھوٹ کے زمرے میں آتا ہے اور جھوٹ گناہ کبیرہ میں سے ہے جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے تو ہمیں چاہیے کے توبہ کریں اور آئندہ کبھی کسی کے فتوی و تجربات جو تحریر کئے ہوئے ہیں ان سے مصنف کا نام ہٹاکر اپنا نہیں ڈالیں گے جھوٹ کے زمرے میں تو آتا ہی ہے یہ لیکن یہ ایک طرح سے دھوکہ بھی جیساکہ حدیث پاک میں ہے ”مٙن غٙشّٙنٙا فٙلٙیْسٙ مِنّٙا“ ”جو ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں“ [صحیح مسلم: ٢٨٣] ہمیں چاہیے کہ ہم دیانت داری کو اپنا شعار بنائیں ، دوسروں کے علمی و ادبی کام کا احترام کریں اور اپنے خیالات اور تحریروں میں سچائی اور ایمانداری کو مقدم رکھیں۔ اصل کامیابی اسی میں ہے کہ ہم اپنی محنت اور تخلیقی صلاحیتوں پر بھروسا کریں اور علم کے فروغ میں اپنا حقیقی کردار ادا کریں۔ سچائی، دیانت اور علمی دیانت داری ہی وہ اصول ہیں جو علم و تحقیق کی روشنی کو ہمیشہ روشن رکھ سکتے ہیں اور معاشرے کو حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ اللہ عزوجل ہمیں اپنے علم و عمل میں اخلاص عطا فرمائے اور ہمیں دوسروں کے حقوق کا ہمیشہ خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے [آمین یا رب العالمین]
حامد قاسم پالن پوری
مطالعہ باقی ہے
حد سے بھی زیادہ جن کو وقت دیا جائے وہ لوگ ہمیشہ لمحوں میں بدل جایا کرتے ہیں تم مجھ سے تعلق میں دوری ہی سدا رکھنا اپنے ہی کبھی اپنوں سے ٹکرایا کرتے ہیں
حامد قاسم پالن پوری
مطالعہ باقی ہے
اب صورت سے وہ پہچانے نہیں جاتے خوابیدہ پرندے ہیں اٹھانے نہیں جاتے وہ برسوں سے ہے تم سے خفا کچھ تو ہوا ہے تم بھی بڑے ضدی ہو منانے نہیں جاتے
معیاری
حامد قاسم پالن پوری
مطالعہ باقی ہے
دستار فضیلت اور دردِ دل *6/ دسمبر/ 2025 بروز ہفتہ* چند سال پرانی بات ہے ، برسوں کے شدید انتظار کے بعد وہ پر کیف لمحے قریب آتے جارہے تھے ، ذمہ داریوں کا بوجھ کندھوں کو مزید بوجھل بنا رہا تھا ، جذبات کی موجوں میں اضطراب تھا ، لفظوں کی زباں گم تھی ، دل کی ترجمانی ضبطِ تحریر کی شکل میں دشوار تھی ، غمی خوشی کا ایک عجیب سنگم تھا ، دستار فضیلت کا حسین لمحہ دن بہ دن اپنی منازل طے کر رہا تھا ، میں خیالوں کی وسیع تر فضاؤں میں محو پرواز تھا ، غم حیات کی ٹیسیں رہ رہ کے اٹھا کرتی تھیں ، میرے سرپرست میرے والد کا سایۂ عاطفت سر سے اٹھ چکا تھا ، جدائی نے مسرت کے مواقع پھیکے بنا دیے تھے ، فرحت کے لمحے نہایت تلخ ہوگئے تھے ، زندگی کی رونق ماند پڑ گئی تھی ، غم کے بادل دل نا شاد پہ چھائے ہوئے تھے ، سکھوں کا موسم گزر چکا تھا ، رخِ زیبا کی زیبائی، دل تاباں کی تابانی جاتی رہی ، تنہائی نے مزید تنہا کردیا ... سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئی دنیا کی وہی رونق دل کی وہی تنہائی وقت نے ساتھ نہیں دیا اور مجھے حقیقی غم خوار و غم گسار سے محروم کردیا ، میں دیکھ رہا ہوں کہ میرے ہم نشیں عمدہ پوشاک زیب تن کیے ہوئے ہیں ، عمدہ قسم کی خوشبوؤں سے خود کو معطر کیے ہوئے ہیں ، ہر کوئی سر اٹھائے مسکراہٹیں چہروں پہ سجائے اپنوں کے ہمراہ مسکرا رہا ہے ، میں درد دل چھپا کر آنکھوں کو اشکوں سے بچا کر ایک لاش کی طرح چل پھر رہا تھا ، کسی سے خواہی نہ خواہی محو گفتگو ہوتا تھا گوکہ غم کی لہریں تھمنے کا نام نہیں لیتی تھی ، دل چھلنی چھلنی ہورہا تھا لیکن اس خیال سے کہ شاید غم کا بہاؤ اپنی روانی کم کردے ، عارضی سکون مجھے آغوش میں لے لیوے ، یاد رکھیے کسی کے سامنے دکھ درد کا اظہار وقتی طور پر دل کا بوجھ ہلکا کر دیتا ہے ، دل دکھوں کا آشیانہ ضرور ہے لیکن ہر غم سہنے کی سکت اس میں نہیں ، یہ آشیانہ جب ویران ہوتا ہے تو سب اجڑ جاتا ہے ، اچھا خاصا انسان اپنی تازگی کھو بیٹھتا ہے ، میں نے یہ سوچ کر اپنے ہوش و حواس درست کرلیے کہ اندھیروں کی عمر زیادہ نہیں ہوتی ، رات خواہ کتنی ہی گہری ہو روشنی کی ایک کرن سے ہار جاتی ہے ، اے میرے دوست جہاں بادل برستے ہیں وہاں پھول کھلتے ہیں ، جہاں آنکھیں برستی ہیں وہاں خواب ادھورے نہیں رہتے کبھی نہ کبھی یہ شرمندۂ تعبیر ہو ہی جاتے ہیں ۔ مغرب سے قبل ایک ہجوم تھا انسانوں کی امڈتی ہوئی ایک بھیڑ تھی ، میری آنکھیں اپنوں کی متلاشی تھی ، کبھی اس بھیڑ میں نگاہیں تا دیر ٹھہر جاتی تھی ، جیسے کوئی کسی کا دست بستہ منتظر ہو ، پورے وجود سمیت گھوم کر عقابی نظروں سے شناسا چہروں کی جستجو مجھے بے چین رکھتی تھی ، نگاہیں تھک گئی اداسی کی گھٹائیں چھا گئی ، اور پھر ٹوٹے دل کی کرچیاں اٹھائے مسجد میں داخل ہوگیا ... بیت گیا ساون کا مہینہ ، موسم نے نظریں بدلیں لیکن ان پیاسی آنکھوں سے اب تک آنسو بہتے ہیں جلسے سے ایک روز قبل گھر گیا تھا ، فراغت کا تذکرہ چھڑا تو امی سے کہا کہ امی جان لوگ تو اپنے ہونہار فضلاء کو اپنی اولاد کو بطور اعزاز و اکرام لینے کے لیے اس تقریب سعید میں شرکت کرتے ہیں ، آخر مجھے کون لینے آئے گا ؟ میری اس خوشی میں کون شرکت کرے گا ؟ میری ماں کے پاس اس چبھتے سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں تھا ، یہ زندگی کا ایک عجیب و غریب موڈ تھا ، میں نے اپنے استاذ کا دیا ہوا خلعت فاخرہ زیب تن کیا ، اور قدم اٹھائے سواری کی تلاش میں چل دیا لیکن ... شاید یہ وقت ہم سے کوئی چال چل گیا رشتہ وفا کا اور ہی رنگوں میں ڈھل گیا سواریس نہ ملی پیادہ پا چل دیا ، ایک آدھ کلومیٹر کا فاصلہ دل میں جذبات کا طوفان لیے ، حسرت و غم کی تصویر بن کر طے کیے جا رہا تھا ، دل نے ساتھ چھوڑ دیا تھا ، اشکوں نے دامن بھگو دیا تھا ، ہاتھوں کی کپکپی ، اداس چہرے کی پژمردگی دل کے نہاں خانے کی عکاسی کر رہی تھی ، دل معنون ہے تو چہرہ عنواں ہے ، دل مترجم ہے تو چہرہ ترجمان ہے ، دل شیشہ ہے تو چہرہ آئینہ ہے ، اے میرے دوست حالات چہرے بدل دیتے ہیں ، وہ وقت بھلائے نہیں بھولتا ... اس وقت تو یوں لگتا تھا اب کچھ بھی نہیں ہے مہتاب نہ سورج نہ اندھیرا نہ سویرا آنکھوں کے دریچوں پہ کسی حسن کی چلمن اور دل کی پناہوں میں کسی درد کا ڈیرا میں مسجد کے پرنور ماحول میں داخل ہوچکا تھا ، تقریب اپنی شان بان کے عروج پہ پہنچی ، اور دستار بندی کا مبارک موقع سر پہ آ پہنچا ، نام پکارے جانے لگے ، اول پوزیشن حاصل کرنے والوں میں میرا نام سر فہرست تھا ، لیکن کیا خوشی جب دل ہی بجھ گیا ہو ، کیا مسرت جب روشنی کے چراغ اپنے لو بجھا چکے ہوں ، مرجھائے ہوئے پھولوں سے کیا خوشبو آئے ، خوشیوں کا تعلق تو اپنوں سے ہوتا ہے ، جب اپنے ہی نہ ہوں تو غیروں کی تالیاں دل کو نہیں چھوتی .... وہ پر وقار محفل جس کے گوشوں سے نور و نکہت چھن رہی تھی ، ہر سمت بادہ کش بادۂ محبت کے جام تھامے صہبائے طہور کے لیے دیوانہ وار آئے ہوئے تھے ، عشق و عقیدت کے پروانے شمع ایمان کے گرد محو پرواز تھے ، یوں لگ رہا تھا جیسے نور کی برسات ہورہی ہو ، اور چاند نے اپنا رخت سفر پھینک دیا ہو ، تا حد نظر سفید پوش مہمانوں کا ایک جم غفیر تھا جنہیں ایمان و یقین کی نسبت نے نشیب و فراز کی پروا نہ کرتے ہوئے دور دراز کے فاصلے سمیٹتے ہوئے یکجا کردیا تھا ، کوئی کسی کا والد تھا کوئی کسی کا بھائی تھا ، مختلف نسبتوں کے حاملین جلوہ گر تھے ، میری اچکتی نظریں ہر بار خاب و خسر لوٹتی تھی ، شاید کوئی آیا ہو ، ممکن ہے کوئی اپنا ہو ، لیکن ؛ اگر ، مگر ، شاید ، ممکن ، پر بات ٹھہر جاتی تھی ، یہ لمحے بھر کا انتظار یہ خام خیالی یہ غلط فہمی ہر بار جھوٹی تسلی دی جاتی تھی ، دل تھا کہ فریب خوردہ ، زخم رسیدہ ، وقت نے مجھے ایک نازک مرحلے پہ لا کھڑا کیا تھا ، جہاں نہ کوئی اپنا تھا نہ ہم کسی کے تھے ، دل تو پہلے ہی تھک ہار کر ساتھ چھوڑ چکا تھا ، دل سے کہتا جاتا تھا کہ اے دل تیرے انجام پہ اور اپنی قسمت پہ بہت رونا آیا ، کاش کوئی چہروں پہ لکھے درد عنوان پڑھنے والا ہوتا ، کاش کوئی آنکھوں میں چھائی دکھ کی سرخ لکیریں دیکھنے والا ہوتا ، اے میرے دوست ہر بات زباں سے بیاں نہیں ہوتی ، کچھ باتیں دل کا دفینہ ہوتی ہیں ، وہ دل میں ہی رہیں یہی بہتر ہے ، انہیں چہرے پہ سجاؤ گے تو نڈھال ہو جاؤ گے ، دل کی ہر بات زبان پر نہیں لائی جاتی، اسی لیے تو اللہ نے آہیں پیدا کی ہیں ، آنسو بنائے ہیں، طویل نیند رکھی ہے، ہلکی سی مسکراہٹ دی ہے، اور ہاتھوں کی لرزش پیدا کی ہے ، *کٹ گئی اک عمر اس افہام اور تفہیم میں* *دل کو سمجھاتا ہوں میں اور مجھ کو سمجھاتا ہے دل* *فصل گل میں سب تو خنداں ہیں مگر گریاں ہوں میں* *جب تڑپ اٹھتی ہے بجلی یاد آ جاتا ہے دل* سوزِ دروں نے سارے خواب خاکستر کردیے ، ساری تمنائیں بجھ گئیں ، میرا صبر تب جواب دے گیا جب میں نے ایک والد کو اپنے فاضل بیٹے کی پیشانی پر بوسہ دیتے دیکھا ، یہ دل تب چورا چورا ہوگیا جب فاضلین کو سینے سے لگاتے دیکھا ... *دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں* *روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں* جب دل ہی بجھ گیا ہو تو کیا لطفِ انجمن ! آرزؤں کا سارا جہان ہی لٹ چکا تھا ، میرے اساتذہ کے سوا کوئی نہیں تھا جسے میں ابا ، ابو کہہ کر پکارتا ، انسانوں کی اس بھیڑ میں رب کے بندے ضرور ملے لیکن اس لوح جبیں خط جبیں کو پڑھنے والا کوئی نہ ملا ، دعا ہوئی ملاقاتوں کا دور شروع ہوا اور بالآخر سب الوداع ہونے لگے ، ہر ایک اپنوں کے ہمراہ ہنستا مسکراتا جارہا تھا ، میں کتابیں سمیٹ رہا تھا اور پیچھے مڑ مڑ کر دیکھ رہا تھا ، تنہائی کا احساس اندر ہی اندر گھٹنے پر مجبور کر رہا تھا ، دل بجھ تو گیا تھا لیکن امید کی ایک ہلکی سی کرن کسی گوشے میں روشن تھی کہ ابھی کوئی آئے گا اور مجھے سینے سے لگائے گا اور کہے گا چلو میرے ساتھ ، میں بڑے طمطراق کے ساتھ چلوں گا ، لیکن جلد اس امید کا بھی خون ہوگیا ، اسی درمیان کسی نے کہا تمہارے خالو آئے ہیں ، یہ سن کر تن و من میں ایک برق سے دوڑ گئی ، آنکھیں چکاچوند ہو گئی ، دل بلیوں اچھلنے لگا ، جھٹ پٹ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر علیک سلیک کے لیے ہجوم میں چہرے تکتا پھرتا رہا ، کبھی مشرقی سمت گیا ، پھر خیال نے جھنجھوڑا تو مغربی سمت گیا پھر دل نے کہا صحنِ چمن میں ہوں گے ، وہاں پہنچا لیکن وہاں بھی کوئی سراغ نہ ملا ، پھر سوچا کہ کہیں دار الحدیث میں ہوں گے لیکن وہاں بھی پتہ نہ ملا ، اب تو وہ ہلکی سی کرن بھی روپوش ہوگئی ، زخمی دل کو مزید دھچکا لگا ، سر جھکائے اپنی نشست پر لوٹ آیا ، ہائے کیا خوشی رہ گئی تھی کہ میں خوشیاں مناتا ... *سنتے ہیں خوشی بھی ہے زمانے میں کوئی چیز* *ہم ڈھونڈتے پھرتے ہیں کدھر ہے یہ کہاں ہے ؟* اے میرے دوست ! خوشی کے لمحے بہت عارضی ہوتے ہیں ، یہ اپنی انتہا پر پہنچ کر ایک اور نیا دکھ پیدا کرلیتی ہے ، سکھ تو بے وفا ہے ایک ڈھلتی چھاؤں ہے ، اس لیے دکھ کو اپنا ساتھی بنانا یہ ہمیشہ ساتھ دے گا ، اس کے بعد مجھے پرخلوص چہروں سے بھی ایک گونہ وحشت سے ہوگئی ، وقت نے سارے پردے چاک کردیے ، اپنے پرایوں کا فرق واضح کردیا تھا ، اب تو بس مفاد و مطلب کی گرد لوگوں کے آبگینوں پر اٹی رہتی ہے ، محبت اور اپنائیت کا لبادہ اوڑھے جب چاہیں ایک نئی صورت بنا لیتے ہیں ، اور ایک چہرے پر کئی چہرے سجا لیتے ہیں ، اس لیے اُن کے آئینے بھی دھندلے پڑ چکے ہیں ، خدا ان لوگوں پر رحم کرے جو اتنے نقاب پہن چکے ہیں کہ اب خود بھی نہیں پہچانتے کہ وہ کون ہیں ؟ الغرض یہ عجیب اتفاق ہے کہ میرے حفظ ، عالمیت اور افتاء ان تینوں کی دستار بندی اپنوں کے بغیر ہوئی ، بہرحال میں کچھ ساتھیوں کے ہمراہ شب غم کی تاریکی میں گھر پہنچا ، میں اپنوں کے بغیر ہی گیا تھا اور اپنوں کے بغیر ہی لوٹ آیا ، میری ماں میرے بھائی بہن میرے منتظر تھے ان کی پیاری ہنستی مسکراتی صورتیں دیکھ کر میرے رستے زخم کسی حد تک بھر گئے ، رات کافی بیت چکی تھی ، منہ میٹھا کیا ، ساری سر گزشت سنائی ، اماں کے ساتھ قہقہے لگائے اور چشم پرنم کے در بھیڑ کر محو خواب ہوگئے ۔ اے میرے میرے دوست : اپنے زخموں کو بھول کر آگے بڑھیں، اور اپنے آپ کو دوسرا موقع دیں کیونکہ آپ اس کے حق دار ہیں ، اپنے زخموں میں جکڑے نہ رہیں اور نہ ہی اپنے غموں کے قیدی بنیں ، اگر جانے والے محبت کرنے والے تھے تو انہیں دل میں بسائے رکھیں کہ یہ وفاداری ہے، اور اگر وہ دھوکے باز تھے تو انہیں اپنے حال اور مستقبل کو برباد نہ کرنے دیں ، اپنے غم و حزن کے خول کو چاک کیجیے اور اپنے دل کو نئی پرواز دیجیے ، شاید آپ کے سب سے خوبصورت دن آنا ابھی باقی ہوں۔ *آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا* *وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا*
معیاری
حامد قاسم پالن پوری
مطالعہ باقی ہے
مرے ہمدم محبت میں مقامِ بے خودی کیا ہے لہو کے گھونٹ پی پھر جان لے گا دل لگی کیا ہے نہیں ہو لذتِ دردِ محبت سے شناسا تم نسیمِ جاں فزا بتلا انہیں دل کی لگی کیا ہے بہت بے چین رکھتی ہے مجھے یہ یورشِ پنہاں ترے بن اس چمن میں ان گلوں کی دل کشی کیا ہے مری شامِ غریباں بھی یہاں صبحِ بہاراں ہے نہ ہو گر یاد تیری پھر تو لطفِ زندگی کیا ہے دکھا کر اپنا جلوہ پھر سے وہ رخ کو چھپا بیٹھے دلِ وارفتۂ حیرت سے پوچھو بے بسی کیا ہے دلِ ناداں کو جس دن یہ معَمّا ہم نے بتلایا مرے ہم راز تم یہ جان لوگے بے رخی کیا ہے
معیاری
حامد قاسم پالن پوری
مطالعہ باقی ہے
💓 وصل و فراق 💓 سب قرینے اسی دل دار کے رکھ دیتے ہیں ہم غزل میں بھی ہنر یار کے رکھ دیتے ہیں محبتوں کی دنیا میں، الفتوں کے جہان رنگ و بو میں ،عشق و الفت کے بحر ذخار میں ، دکھ سکھ کے اس حسیں سنگم میں ، غمی اور خوشی ، جذبات و احساسات سے معمور اس رنگین کائنات میں ، دوستی اور یاری کا مقام و مرتبہ بھی کسی مجنون و لیلیٰ ، شیریں و فرہاد سے کم نہیں ،کبھی یادوں نے تڑپا دیا ،کبھی دل نادار دکھادیا ،کبھی چہرے پہ شگفتگی چھاگئی ، کبھی فرقتوں نے رلا دیا ،کیا یہ دوستی کی کرامت نہیں کہ حیات مستعار کے غموں کی قید میں محصور لمحے ، الجھنوں کے شکنجوں میں کسے پل،کلفتوں کے شکستہ شیشوں سے زخم خوردہ گھڑیاں ، بے لوث ہوکر خلوص کا مرہم رکھتے ہیں، دوستی رستے زخموں کے لیے دوا اور دعا دونوں کا کام کرتی ہے ، خاروں کو راہوں سے ہٹا کر پھولوں کو چن کر طاقِ ہستی پہ سجاتی ہے، وہ دن بھی کیا دن تھے ، جب ہم زندگی کی پر خطر راہوں سے بےخطر تھے، نہ منزل کا پتہ ، نہ کسی رہبر و رہزن کی خبر تھی ، نہ دوریاں تھی نہ وصل کی بیتابیاں تھی ،دنیا کے ہر غم سے بے غم تھے ،دو انگلیوں کے ملن کا نام یاری تھا ،صبح فروزاں کی باہمی رنجش و خلش شام آنے پر آفتابِ جہاں تاب کے بیتاب ہونے کے وقت دوستی میں تبدیل ہوجاتی ، ہمارے دور میں جب چراغوں اور قمقموں سے گھروں کی رونق ہوا کرتی تھی، اس وقت مکانات کچے تھے مگر لوگ من کے سچے تھے،ماں کے ساتھ چولہے کے اردگرد بیٹھ کر کھانا ہوا کرتا تھا،ہم لوگ کبھی تین چار گھنٹوں کے لیے کچھ روپوں کے عوض سائیکل کرایے پہ لیا کرتے تھے، ہمارے اس دور میں محبتوں کے تبادلے کا نام ہی دوستی اور یاری ہوا کرتا تھا ، ہم ہی وہ آخری نسل ہیں جنہوں نے پرانے دور کی برکتیں دیکھیں،اور جدید دور کی شرانگیزی کو دیکھنے کا موقع ملا ، پھر میلے کے وہ جھولے بھی گئے ،لوہے کے بدلے پانچ دس روپے کا زمانہ بھی گیا ، آم ، املی کے پیڑوں پہ پتھر چلانے، بیری سے بیر گرانے کا وقت بھی گزر گیا ، کہتے ہیں نا کہ وقت کے ساتھ ساتھ سب کچھ بدل جاتا ہے ،رفتہ رفتہ جذبات نے رخ موڑا، احساسات نے جنم لیا ،دکھ درد سے سابقہ ہونے لگا ،ہم محلے کےشریر بچے پھر شریف شمار ہونے لگے ، کل گرنے پر کہا جاتا تھا کہ دیکھ کر چلو ، جب چلنا سیکھ لیا تو ہر ایک گرانے کی کوشش میں ہے ، الغرض گلی ڈنڈے ،چھپا چھپی ، چور پولیس ،کبڈی سب کچھ چھین لیا گیا ۔ بالآخر ہم نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ ہی لیا ،لیکن دوستی کا بھرم اب بھی باقی ہے ،خلوص و محبت کا حسیں سنگم آج بھی برقرار ہے ،وہ پرانے دور کی رسم ، وہ قدیم زمانے کے ناز و نخرے ، وہ سیر و سیاحت کے چسکے آج بھی کروٹیں لیتے ہیں ۔ واقعی دوست رب کا ایک تحفہ اور نعمت ہے ،کسی نے کہا ہے کہ جب رات گہری ہو ،تاریکی اور سیاہی نے ساری دنیا کو اپنے چنگل میں لے رکھا ہو ،فکر و غم نے دل کو بوجھل بنادیا ہو ، ایسے موقع پر کسی وفادار غمخوار دوست سے لمبی گفتگو ، سارے غموں کو ختم کردیتی ہے ،ہر جائز چیز کو فدا کرنے کا نام دوستی ہے ، آپ سے جو یہ کہے کہ جو کچھ میرے پاس ہے وہ میرے دوست کا ہے، بس اسی کا نام دوستی ہے ،احساس ، اعتماد ، ساتھ نبھانے اور سکھ دکھ میں کام آنے کا نام دوستی ہے ،معلوم ہوا کہ دوستی بہت ہی قیمتی اور ایک خاص رشتہ ہے، آپ کے پاس کچھ نہ ہو بس ایک سچا دوست ہو اور ایک نیک وفادار شریک حیات ہو، تو آپ زندگی کی دشوار ترین گھاٹیوں سے گزر سکتے ہیں ،ہر ایک کو اپنی خوشی اور غم بانٹنے کو ایک سچے دوست کی ضرورت ہوتی ہے ،وہ چیزیں جو آپ اپنے اہل خانہ اور کنبے کے ساتھ بانٹ نہیں سکتے وہ اپنے دوست کے ساتھ بانٹ سکتے ہیں ،اسے شیئر کرسکتے ہیں ،ایک حقیقی اور سچا یار ہمارے جذبات سمجھتا ہے ،اور ان پر قابو پانے میں ہماری مدد کرتا ہے ،سچی دوستی نہ عمر دیکھتی ہے ،نہ ظاہری شکل و صورت ،اور نہ ہی مال و دولت کی ریل پیل ،دوستی وہ واحد رشتہ ہے جو افراد کا انتخاب خود ہی کرتی ہے ،جو رشتے ہمیں خاندان وغیرہ سے ملتے ہیں ، ان کے کوئی نہ کوئی معنی ضرور ہوتے ہیں ، دوستی ہی ایک ایسا رشتہ ہے جو بغیر کسی معنی کے پایا جاتا ہے ،کسی نے پوچھا کہ دوستی کا کیا مطلب ؟ جواب دیا گیا کہ ایک دوستی ہی تو ہے جہاں کوئی مطلب نہیں ہوتا ،جہاں مطلب آجائے وہ دوستی نہیں ہوسکتی ۔ کسی نے کیا خوب لکھا ہے: الفراق اشد من الموت ، جدائی موت سے زیادہ سخت ہے ، موت کا زخم پل بھر کے لیے پھر جاں کنی کی تکلیف ختم ہوجاتی ہے ،جبکہ دوست دوست کی جدائی میں ، ہر محب اپنے محبوب کے فراق میں ماہئ بے آب کی طرح تڑپتا ہے ، گردش کرتی ہوائیں ، خوشگوار فضائیں اسے علیل معلوم ہوتی ہیں ،گلوں کی نکہت اسے یوں محسوس ہوتی ہے ، گویا کہ وہ لبادۂ افسردگی اوڑھ کر محو خواب ہوگئی ہو ، کبھی یہ فراق و ہجر مسکنت و بے بسی کے اشک بہانے پر مجبور کردیتا ہے ، دلوں کی شکستگی سے روشن جبیں پہ پژمردگی چھاجاتی ہے ، دل کی سر سبز و شاداب بستیاں ویران ہو جاتی ہیں ، ہاں اتنا ضرور ہوتا ہے کہ کچھ پل کے لیے ذکر یار سے تاریکیاں چھٹ جاتی ہیں ، خاردار ، گلزار میں تبدیل ہوجاتے ہیں ،کیونکہ دوست کی یادیں بھی وصال سے کم نہیں ... *شک ہوتو پوچھ لو کسی حرماں نصیب سے* *ذکر حبیب کم نہیں وصل حبیب سے* چہروں کی تر و تازگی احساس و توانائی وصال یار اور ذکر حبیب سے وابستہ ہوتی ہے ، لیکن غم فراق ، جدائی کا زخم پھر بھی کم نہیں ،ہر آن لیل و نہار کی گردش،صبح و شام کے ہنگامے، طلوع ہوتا سورج اور اس کی ضیاپاش کرنیں ، آستانۂ گردوں سے جھانکتا مہر و ماہ اور اس کی ضوفشاں چاندنی، بام فلک سے لٹکتی پرنور تاروں کی قندیلیں ، سرد راتوں میں ہواؤں کے جھونکے ، الاؤ کے گردا گرد گزارے وہ لمحے ، برسات میں بھگتے ہوئے وہ درخشاں چہرے، وصل کی امید پر زندگی کے تلخ گھونٹ پینے پر مجبور کرتے ہیں ،یوں ہی وصل کی امید و تمنا میں گھڑیاں بیت جاتی ہیں ،جب چاندنی راتوں میں تارے جگمگارہے ہو ،چراغ ٹمٹمارہے ہو ،سبزہ لہک رہا ہو ،ندی نالوں میں خوبصورت آبشاروں پر پانی رقص کررہا ہو ،تب دوستوں کی یادوں کا ہجوم ہوتا ہے، موسم بہار میں جب سرد ہوائیں چلتی ہیں تو وہ شوخیاں وصل کی بیتابیاں رہ رہ کر انگڑائیاں لیتی ہیں ۔ *دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا* *جب بھی چلی سرد ہوا میں نے تجھے یاد کیا* لیکن جب وصل کی گھڑیاں قریب ہوں ، تو فراق کے چبھتے سلگتے سسکتے لمحات مسرتوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ،پھر دل کی کلیاں کھل اٹھتی ہیں ، چہروں پہ تبسم کی فضا چھاجاتی ہیں ، آرزوئیں مچلنے لگتی ہیں ، جذبات کی موجوں میں تلاطم بپا ہوتا ہے ،امنگ و ترنگ موجزن ہوجاتے ہیں ، پھر وہ پر رونق ایام لوٹ آتے ہیں ، سرد راتوں میں طویل گفتگو ، مسکراہٹوں کے تبادلے ،غم خواری اور وفاؤں کے چراغوں کی بجھتی شمعیں پھر فروزاں ہوجاتی ہیں ، سانسوں کی تکرار ذکر یار سے معطر و عطر پاش ہوجاتی ہیں ،پھر یوں محسوس ہوتا ہے ، جیسے سقف کہن سے لٹکے تارے فرش خاکی پر آگئے ہو ،خوشیاں رقص و سرود میں بےخود ہوجاتی ہیں ،آنکھوں کو نور و سرور ،قلب و جگر کو چین و سکون نصیب ہوتا ہے ،وہ خوش گوار محفلیں ،باغ و بہار مجلسیں وہ محبتوں کے بسیرے ، الفتوں سے بھری ملاقاتیں ،کچھ پل کے لیے ہی سہی ، لیکن دل دار کے لیے ایک روشن باب ، گراں مایہ سوغات، حیات مستعار کے سر ورق پہ زریں عنوانات کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
معیاری
سید ذوالقرنین حیدر رضاؔ
مطالعہ باقی ہے
عنوان: *”آدم خور چہرے“* اس کائنات میں چاروں اور زندگی کے خاتمے کا دور دورہ ہے۔ زندگی ہے کہ اپنی حفاظت کے لیے کائنات کے ہر کونے میں چھپتی پھرتی ہے، مگر کوئی اس پر رحم نہیں کھاتا۔ ہر شخص اسے مار ڈالنے پر تلا ہوا ہے اور وہ ہر طرف قتل و غارت گری کا شکار ہو رہی ہے۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ اس کے قاتل بھی جاندار ہی ہیں، یعنی آدم زاد؛ بلکہ ”آدم خور“ کہنا زیادہ بجا ہوگا۔ زندگی کے قاتلوں میں سب ہی اپنا اپنا کردار بخوبی نبھا رہے ہیں: کچھ اسلحہ و بارود سے، کچھ ان کی تائید و حمایت کر کے، کچھ انہیں اس جرات مندانہ اقدام پر اکسا کر، اور کچھ خاموش تماشائی بن کر۔ دوسری طرف کچھ ایسے بھی ہیں جو زندگی کو بچانا تو چاہتے ہیں، مگر موت کے خوف نے انہیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ وہ اس قدر مجبور ہیں کہ انہوں نے اپنے دل و دماغ پر پتھر کی چادریں لپیٹ لی ہیں۔ اب انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ کوئی جیے یا مرے؛ بس ان کا اپنا معمولِ حیات متاثر نہ ہو۔ جہاں تک لکھنے اور پڑھنے والوں کا تعلق ہے، تو سچ تو یہ ہے کہ نہ لکھنے والے ظالم کا کچھ بگاڑ سکے اور نہ پڑھنے والوں نے اسے اس طرح پڑھا کہ عملی میدان میں قدم رکھتے۔ یہ محض ایک بے معنی رسم بن چکی ہے کہ مذمت کے چند الفاظ لکھ، پڑھ یا بول دیے تو سمجھا کہ حق ادا ہو گیا، حالانکہ اس سے نہ ظالم کا کوئی بال باکاہوا اور نہ مظلوم کو کوئی فائدہ پہنچا۔ حق والے صدیوں سے لکھتے رہے اور پڑھنے والے پڑھ کر آگے بڑھتے رہے؛ ان تحریروں کو اب زنگ لگ چکا ہے مگر کوئی مظلوم کی مدد و نصرت کو نہ پہنچا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر زندگی ہی زندگی کی قاتل کیوں ہے؟ کاش! ایک لمحے کو رنگ و نسل، مذہب و مسلک اور ذات پات کے فرق سے پرے ہم یہ سوچیں کہ ہم سب ”زندہ“ ہیں اور اس کائنات کی تکمیل کا سبب ہیں۔ ہر ذی روح اور بے جان شے اس کار خانۂ قدرت کا ناگزیر حصہ ہے۔ پھر کیوں کسی جان کو جینے کے حق سے محروم کیا جائے؟ کیا کسی بھی مذہب یا مسلک میں بلا وجہ کسی ذی روح کا قتل جائز ہے؟ اگر ”ہاں“، تو پھر سب سے پہلے مجھے جینے کے حق سے محروم کر دیا جائے۔ اکثر مثال دی جاتی ہے کہ "فلاں جگہ کیڑے مکوڑوں کی طرح انسانوں کا خون بہایا گیا"؛ میرے نزدیک یہ بے حسی کی بدترین مثال ہے۔ کیا کیڑے مکوڑے جیتے نہیں؟ کیا وہ سانس نہیں لیتے؟ انہیں مارنے کا حق ہمیں کس نے دیا؟ صرف انسان ہی نہیں، بلکہ پوری کائنات میں موجود ہر ذی روح کو بلا وجہ اس کی زندگی سے محروم کرنا انتہائی پرلے درجے کا ظلم ہے۔ یہ ہماری بے حسی کی انتہا ہے کہ ہم نے خاموشی کو عبادت سمجھ کر ایسی چپ سادھ لی ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے، ہمیں خاموشی کا در نہیں چھوڑنا۔ لعنت ہو ایسی خاموشی پر! یہ ہرگز عبادت نہیں، بلکہ اکبر الکبائر درجے کے گناہوں میں سے ہے کہ ظلم دیکھ کر زبان بند کر لی جائے۔ ہماری خاموشی کا یہ عالم ہے کہ ہم نے اپنے جذبات، احساسات اور انسانیت کی تمام تر صفات و کمالات کو سمیٹ کر اپنے ہی وجود کے اندر کسی پرانے کھنڈر نما کوٹھے میں، ایک مضبوط لوہے کے صندوق میں بند کر دیا ہے۔ پھر اسے تالا لگا کر چابی سات سمندر پار ایسی جگہ پھینک دی ہے جس کا سراغ ہمیں خود بھی معلوم نہیں۔ اور ستم یہ ہے کہ ہمیں اس "قفل بندی" پر بڑا فخر ہے گویا یہ کوئی بہت ہی خوبصورت عمل ہو!
معیاری
محمد اسامہ سَرسَری
مطالعہ باقی ہے
دل کے جلنے سے اشک ابلتا ہے اشک گرنے سے دل پگھلتا ہے آپ کی بات ٹھیک ہے، لیکن آپ کا لہجہ زہر اگلتا ہے خواہشوں کا سمندرِ وحشی دیکھ کر چاند کیوں اچھلتا ہے حرص کا دیو آدمیّت کو دیکھتے دیکھتے نگلتا ہے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے مت بیٹھے آدمی ورنہ ہاتھ ملتا ہے جو بھی آتا ہے رہنما بن کر کیوں پھر اپنی ہی چال چلتا ہے اس کی تاثیر سَرسَری مت لو جملہ ہونٹوں سے جو پھسلتا ہے شاعر: محمد اسامہ سَرسَری
معیاری
محمد اسامہ سَرسَری
مطالعہ باقی ہے
جنگوں کی امنگوں کو ہواؤں میں اڑادو سب وحشی پتنگوں کو ہواؤں میں اڑادو مٹی سے اٹھے ہیں تو فلک کھول دو ان پر ہستی کے ملنگوں کو ہواؤں میں اڑادو سونے کو اڑانے کے لیے نیند اڑائی مخمل کے پلنگوں کو ہواؤں میں اڑادو ہم اپنے کلیجوں کو فضاؤں میں اچھالیں تم اپنے خدنگوں کو ہواؤں میں اڑادو کنکر نہیں پائیں گے عزائم کی بلندی تیروں یا تفنگوں کو ہواؤں میں اڑادو اے اہلِ ہویٰ! چھوڑ دو ہر حرص و ہوا تم ان راہ کے سنگوں کو ہواؤں میں اڑادو یہ فرشِ حیا ہی ہے وطن اپنا اسامہ! ان لچوں لفنگوں کو ہواؤں میں اڑادو شاعر: محمد اسامہ سَرسَری
معیاری
محمد اسامہ سَرسَری
مطالعہ باقی ہے
دین اور فہمِ دین میں فرق: اسلامی معاشرے میں پیدا ہونے والے بیشتر فکری تنازعات اور شدت پسندی کی سب سے بڑی وجہ "دین" اور "فہمِ دین" کو ایک ہی درجے میں رکھنا ہے۔ دین وہ الہامی سچائی ہے جو قرآن و سنت میں محفوظ ہے اور ہر قسم کی غلطی سے پاک ہے، لہٰذا اس پر من و عن ایمان لانا ہر مسلمان پر فرض ہے، جبکہ فہمِ دین وہ انسانی کاوش ہے جس کے ذریعے کوئی عالم یا مفکر دین کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ چونکہ یہ ایک انسانی عمل ہے، لہٰذا اس میں غلطی کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ انسانی ذہنوں اور علمی استعداد میں فرق کی وجہ سے ایک ہی قرآنی آیت یا حدیث سے مختلف نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ جب کوئی شخص اپنی تشریح کو حتمی قرار دے کر اسے عین دین کا درجہ دے دیتا ہے تو وہ دراصل دوسروں سے اپنے فہم پر ایمان لانے کا مطالبہ کر رہا ہوتا ہے۔ یہیں سے عدم برداشت جنم لیتی ہے اور لوگ اپنی تشریح کو معیار بنا کر دوسروں پر گمراہی کے فتوے لگانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں دوسرا شخص دین کا انکار نہیں کر رہا ہوتا، بلکہ محض ایک انسانی تشریح سے اختلاف کر رہا ہوتا ہے۔ دوسری جانب اس نئی تشریح کرنے والے کو بھی یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ اگر کسی آیت یا حدیث کی تشریح پوری امت نے جو کی ہے وہ اس کے خلاف کر رہا ہے تو یہ "فرد کا فہمِ دین" بمقابلہ "امت کا فہمِ دین" ہے، جس سے اول الذکر کی کمزوری واضح ہے۔ دین، فہم دین اور امت کے فہم دین کے اس فرق کا شعور بیدار ہونے سے معاشرے میں اعلیٰ ظرفی اور برداشت پیدا ہوتی ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ہمارا فہم درست ہو سکتا ہے، مگر اس میں غلطی کا احتمال ہے، جبکہ دوسرے کی رائے غلط ہو سکتی ہے، مگر اس میں درستی کا امکان موجود ہے۔ علمی اختلاف کو دلائل کی حد تک محدود رہنا چاہیے اور اس میں نیت یا ایمان پر حملے سے گریز کرنا چاہیے۔ یاد رکھیں، دین اٹل ہے، جبکہ فہمِ دین قابلِ بحث ہے اور پوری امت کا مشترکہ فہمِ دین وہ حفاظتِ دین ہے جس کا قرآن کریم میں وعدہ کیا گیا ہے۔ اس نکتے کو سمجھ لینے سے ہم علمی اختلاف بھی کر سکتے ہیں اور باہمی احترام بھی برقرار رکھ سکتے ہیں۔ 🙂 طالبِ دعا: محمد اسامہ سَرسَری
صاعقہ علی نوری
مطالعہ باقی ہے
دائمی آواز حرف و معنیٰ کی سرحدیں امیدوں کے سارے ناتے نو میدی کی زنجیریں بھی توڑ چلی ہوں! کردگارِ صوت و سماعت! اشکوں کے پر شور یہ نالے ادھ ننگی تہذیب کے نیچے دب جاتے ہیں سناٹوں کے وحشی پنجے میرا اندر کھول رہے ہیں لمحے وحشت گھول رہے ہیں غیرت کے یہ سنگ دل پتلے میرے لبوں کے قفل بنے ہیں لیکن تیری پھونک ہے کیسی اندر باہر شور اٹھا ہے روح کا پنچھی ڈول رہا ہے ہر سو تو پر تول رہا ہے مجھ میں دائم بول رہا ہے صاعقہ علی نوری
معیاری
نازیہ نزی
مطالعہ باقی ہے
کیا برابر کا محبت میں اثر ہوتا ہے دل ادھر ہوتا ہے ظالم نہ ادھر ہوتا ہے ہم نے کیا کچھ نہ کیا دیدۂ دل کی خاطر لوگ کہتے ہیں دعاؤں میں اثر ہوتا ہے دل تو یوں دل سے ملایا کہ نہ رکھا میرا اب نظر کے لیے کیا حکم نظر ہوتا ہے میں گنہ گار جنوں میں نے یہ مانا لیکن کچھ ادھر سے بھی تقاضائے نظر ہوتا ہے کون دیکھے اسے بیتاب محبت اے دل تو وہ نالے ہی نہ کر جن میں اثر ہوتا ہے