پہلا سبق: (قافیہ و ردیف)
محترم دوستو! ہم آپ کو ایک خوشی کی بات بتاتے ہیں۔
مگر پہلے یہ بتائیے کہ کیا آپ نے کبھی کوئی شعر یا نظم کہنے کی کوشش کی ہے؟
اگر آپ کا جواب ”نہیں“ میں ہے تو آئیے، ہم آپ کو سکھاتے ہیں۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یہ تو آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ حروف سے مل کر لفظ بنتا ہے اور لفظوں سے مل کر جملہ اور جملوں سے مل کر مضمون یا کہانی وغیرہ بنتے ہیں۔
بالکل اسی طرح نظم بنتی ہے شعروں سے مل کر اور شعر بنتا ہے مصرعوں اور قافیے سے مل کر اور مصرع بنتا ہے ارکان سے مل کر اور قافیہ بنتا ہے دماغ سے۔
معلوم ہوا کہ اگر آپ کو قافیہ اور ارکان بنانا آگیا تو مصرع اور شعر کہنا بھی آجائے گا اور جب شعر کہنا آجائے گا تو چند اشعار کہہ کر آپ ایک نظم بھی کہہ لیں گے، پھر آپ کی اس نظم سے آپ کے بڑوں کو خوشی ہوگی اور وہ فخر سے آپ کو دعائیں دیں گے تو آپ کو کتنی خوشی ہوگی۔
ہے نا خوشی کی بات!
تو آئیے، اب ہم شعر، مصرع، ارکان اور قافیہ کی کچھ ابتدائی باتیں سیکھتے ہیں۔
سب سے پہلے ہم آپ کو قافیے سے متعلق کچھ فائدے کی باتیں بتاتے ہیں۔
شعر کے آخر میں جو ہم آواز الفاظ آتے ہیں، انھیں ’’قافیہ‘‘ کہتے ہیں، جیسے:
خوشیوں کو کرلیں عام کہ ہے عید کا یہ دن
سب کو کریں سلام کہ ہے عید کا یہ دن
اس شعر میں ’’عام‘‘ اور ’’سلام‘‘ قافیے ہیں۔
ان دونوں لفظوں میں غور کیجیے، دونوں کے آخر میں ’’م‘‘ ہے، اسے ’’حرفِ روی‘‘ کہتے ہیں۔
آپ کے ذہن میں سوال پیدا ہورہا ہوگا کہ ’’عام‘‘ اور ’’سلام‘‘ قافیے ہیں تو ان دونوں کے بعد ’’کہ ہے عید کا یہ دن‘‘ بھی تو آرہا ہے، یہ کیا ہے؟ تو یہ بھی جان لیجیے کہ ایسے الفاظ جو نظم میں قافیے کے بعد بار بار آرہے ہوں، انھیں ’’ردیف‘‘ کہا جاتا ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
تین چیزیں:
ماشاءاللہ اب تک آپ کے سامنے تین چیزیں آگئیں:
(1)قافیہ (2)حرفِ روی (3)ردیف
اب انھی تین چیزوں کو ایک اور شعر سے سمجھ لیتے ہیں:
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا ، لوح و قلم تیرے ہیں
علامہ اقبال کے اس خوب صورت شعر میں ’’ہم‘‘ اور ’’قلم‘‘ قافیے ہیں۔
ان دونوں لفظوں میں ’’م‘‘ حرفِ روی ہے۔
’’تیرے ہیں‘‘ ردیف ہے۔
کام:
(1) اس غزل میں غور کیجیے اور اس کے تمام قافیے، ان قافیوں میں آنے والا حرفِ روی اور ردیف لکھیے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دے کوئی طبیب آ کے ہمیں ایسی دوا بھی
لذت بھی رہے درد کی ، مل جائے شفا بھی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
روح و بدن و طاقت اسی رب نے ہیں بخشے
اعمال ہوں اچھے تو وہی دے گا جزا بھی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ناداں! طلبِ علم خود آغازِ عمل ہے
پھر پوچھتے کیوں ہو کہ عمل تم نے کیا بھی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اچھوں سے تو اچھائی سبھی اچھے ہیں کرتے
اچھا یہ ہے ، اچھائی کا قائل ہو برا بھی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ہے میرے خیالات کی پرواز جو محتاط
بدعت سے بھی بچنا ہے ، دکھانا ہے نیا بھی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
محرومِ عنایت نہ سمجھ خود کو اسامہ!
ہے نعمتِ عظمیٰ تجھے توفیقِ دعا بھی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(2) آپ بھی کوشش کرکے اچھے سے دو جملے اس طرح لکھیے کہ ان کے آخر میں قافیہ و ردیف بھی ہو ، پھر اس قافیے ، حرف روی اور ردیف کی نشان دہی کیجیے۔