یہ ختم نبوت کی محفل (غزل)
یہ ختم نبوت کی محفل آباد ہے آج بھی ویسی ہیجو قوم بھی اس کی منکر ہے، برباد ہے آج بھی ویسی ہی کہہ دیجیے ہر اک آندھی سے، آنا ہے تو آکر دیکھ لو تمٹوٹی ہیں اگرچہ کچھ شاخیں، بنیاد ہے آج بھی ویسی ہی اسلام کے پیارے فرزندو! بنیادی عقائد مت چھیڑومحمود کی […]
دلِ ناداں تجھے روکا بہت تھا ۔۔۔۔ غزل از محمد شیر عالم
دلِ ناداں تجھے روکا بہت تھا دلِ ناداں تجھے روکا بہت تھامگر تو کر عشق میں بھولا بہت تھا وہ رونق پھر نہ دیکھی آئینے میںتری صحبت میں میں ہنستا بہت تھا کوئی بھی غم نہیں تھا زندگی میں ترا دیدار جب ہوتا بہت تھا مجھے سلجھا نہیں پایا کوئی پھر تری زلفوں میں میں […]
گوگل (قطعہ)
تحقیق کر رہا تھا کہ “چڑیا” ہے یا “چڑی”لیکن تلاش کرنے پہ مجھ کو ملی “چڑیل”گوگل پہ سرچ کرنے لگا پھر جو “راگ” کوپھیلا دی اس نے ساری “پراگندہ” کی ڈٹیل محمد اسامہ سَرسَری
مصنوعی ذہانت (رباعی)
جس گھر کے اندھیرے کا ذریعہ ہے دیاجس گھر کے در و بام میں بستی ہے ریااُس گھر پہ بنا رونے کی مصنوعی شکلجو گھر تو نے مصنوعی ذہانت سے لیا محمد اسامہ سَرسَری
لال شہباز قلندر کی فارسی غزل کا منظوم اردو ترجمہ
شیخ سید عثمان شاہ مروَندی علیہ الرحمہ معروف بہ “لال شہباز قلندر” کی مشہور فارسی غزل “نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم” کا منظوم ترجمہ کرنے کی ایک کوشش:۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ […]
امیر خسرو کی غزل کا منظوم اردو ترجمہ
ہر شب منم فتادہ بہ گرد سرای توتا روز آہ و نالہ کنم از برای توترجمہ:ہر رات چھانتا ہوں ترے در کی خاک میںہر صبح آبِ چشم سے ہوتا ہوں پاک میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ […]
فقہاء ۔ رباعی
جذبات بناتے ہیں جو پیارے علماءجذبات وہ بھڑکاتے ہیں سارے خطباءجذبات بھی احکام کے تابع ہی رہیںیہ بات بتاتے ہیں ہمارے فقہاء
ہماری جان پاکستان ۔ نظم
ہماری جان پاکستانہماری شان پاکستانمحبت کے لیے تقدیر کا اعلان پاکستانپاکستان، پاکستان، پاکستان، پاکستان۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔نکھرتی زندگی دیکھوابھرتی روشنی دیکھونہ ہو کیوں رس بھری اردویہ شعر و شاعری دیکھوکہاں ہے ایسی زرخیزی؟یہاں کی تازگی دیکھویہ جو باحوصلہ ہیں ہمہماری فوج دیکھوخلاصہ ساری باتوں کا ہے عالیشان پاکستانپاکستان، پاکستان، […]
خدا کے نام پر جو مر نہیں سکتا ۔۔۔۔ غزل از محمد شیر عالم
خدا کے نام پر جو مر نہیں سکتا خدا کے نام پر جو مر نہیں سکتاوہ کچھ بھی زندگی میں کر نہیں سکتا جو جاں پر کھیل کر آیا ہے منزل تککسی طوفاں سے اب وہ ڈر نہیں سکتا نہ ہو جس دل میں احساساتِ انسانیکسی کا بھی بسا وہ گھر نہیں سکتا نہیں جس […]
بنتے بنتے برانڈ بنتا ہے ۔ شعر
بنتے بنتے برانڈ بنتا ہےورنہ اک اور بھانڈ بنتا ہے