محمد اسامہ سَرسَری

لاگ اِن ہوکر 100 کوائنز مفت میں حاصل کریں۔

چلیں ہم فارم ہاؤس دوستو! ۔ نظم

آؤ اب پھر سے چلیں ہم فارم ہاؤس دوستو!جاکے کردیں دور ہر غم فارم ہاؤس دوستو! آؤ پوچھیں بس میں ہم اک دوسرے کا حال چالیوں ہمیں ملوائے باہم فارم ہاؤس دوستو! شام چائے اور نمکو دے گا بن کر میزباناور شب مرغِ مسلَّم فارم ہاؤس دوستو! اک طرف ہم ، دوسری جانب یہ پانچوں […]

کیوں نہ ہوغم اور خوشی سے آشنا میرا وجود ۔۔۔۔ غزل از عطا راٹھور عطار

کیوں نہ ہوغم اور خوشی سے آشنا میرا وجود کیوں نہ ہوغم اور خوشی سے آشنا میرا وجود جانتا ہے عشق کا ہر ذائقہ میرا وجود ریت کا ہر ایک ذرہ ہجر کی تفسیر ہے دشت میں پھیلا ہوا ہے جابجا میرا وجود اے فراتِ عصر تو اس کو بجھا سکتا نہیں ہے مسلسل پیاس […]

کھیل کھیلا ہے شجر نے ہر نگر ہر گاوں میں ۔۔۔۔ غزل از محمد سلمان مانی

کھیل کھیلا ہے شجر نے ہر نگر ہر گاوں میں کھیل کھیلا ہے شجر نے ہر نگر ہر گاوں میں خود حرارت کے مزے اور ہم کو رکھا چھاوں میں ۔ جس شجر پر گھونسلوں کی جا بجا بہتات ہو سانپ کا بل بھی وہیں دیکھا ہے اس کے پاوں میں ۔ ریگزارِ زندگی میں […]

نت نیا ہنگامۂ محشر ۔۔۔۔ غزل از تصور سمیع

نت نیا ہنگامۂ محشر بپا مٹی میں ہے نت نیا ہنگامۂ محشر بپا مٹی میں ہےدیکھ کتنا ظرف، کتنا حوصلہ مٹی میں ہےخاک کے پتلوں کو سعیِ غیر حاصل مت سمجھاس جہاں کا ہر خزانہ ہی چھپا مٹی میں ہےمبتلائے عشق کو لاؤ، مسیحائی کریںلادوا سارے مریضوں کی دوا مٹی میں ہےخاک زادوں کو کہاں […]

عیوبِ سخن ۔ نظم

منظوم عیوبِ سخن مع امثلہ: اس نظم کے ہر شعر میں بندے نے جس عیب کی طرف اشارہ کیا ہے وہ عیب بھی اس شعر میں رکھا ہے۔ مثلاشعر کے الفاظ میں تعقید بھی معیوب ہے“عمدہ” لفظوں کی نشست انسان کو مرغوب ہے اس شعر میں تعقید لفظی کا عیب بیان کیا ہے اور خود […]