محمد اسامہ سَرسَری

لاگ اِن ہوکر 100 کوائنز مفت میں حاصل کریں۔

محبت میں لپٹی ردا چاہتا ہوں ۔۔۔۔ غزل از راشد حسین بٹ

محبت میں لپٹی ردا چاہتا ہوں محبت میں لپٹی ردا چاہتا ہوں “مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں” مُجسم بدن اب ہٹا دو یہاں سے نہیں بُت کدہ میں! خدا چاہتا ہوں یہ ممکن نہیں پر ہے دل کی تمنا کہ تجھ سے تری میں وفا چاہتا ہوں عیاں مت کرو اپنا حُسنِ نگارش حِجابوں […]

خدا جانے یا وہ جانیں ۔ نعت

خدا جانے یا وہ جانیں مقامِ مصطفٰی کیا ہے؟ خدا جانے یا وہ جانیںمحمد پر عطا کیا ہے؟ خدا جانے یا وہ جانیں خدا کا علم کامل ہے ، ہمارا فہم ناقص ہےنبی کو علم کیا کیا ہے؟ خدا جانے یا وہ جانیں یہیں تک حوصلہ بخشا گیا میرِ ملائک کواب آگے سلسلہ کیا ہے؟ […]

پاک پیمبر پیارا نبی ﷺ ۔ نعت

پاک پیمبر پیارا نبی ﷺ کون منور بے حد ہےکس کا نام محمد ہےکون ہے حامد احمد ہے پاک پیمبر ، پیارا نبی ﷺ خالق کا مطلوب ہے کون؟مالک کا محبوب ہے کون؟بندہ سب سے خوب ہے کون؟ پاک پیمبر ، پیارا نبی ﷺ سچا دین ہے بس اسلامجنت اس کا ہے انعاملایا کون ہے […]

رسول الراحة ﷺ کی مبارک مسکراہٹیں ۔ نعت

جگمگاتے گہر آؤ مل کر چنیںمسکرا کر پڑھیں ، مسکرا کر سنیںکونسی بات پر ، کس جگہ ، کس گھڑیمسکرائے نبی ، مسکرائے نبی (ﷺ)۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔سب سے آخر میں نکلے گا جو آگ […]

نبی الملاحم ﷺ کے مقدس آنسو ۔ نعت

نبی الملاحم ﷺ کے مقدس آنسو نہ آبِ نُقرہ، نہ آبِ گوہر، نہ آبِ زمزم، نہ آبِ کوثرکوئی نہ اس دم سنبھل رہا تھا، نبی ﷺ کے انسو نکل رہے تھے خدا نے پاس اپنے جب بلایا وہ ماریہ کے جگر کا ٹکڑادلِ منور پگھل رہا تھا، نبی ﷺ کے انسو نکل رہے تھے ہوئے […]

ہے فقط تو ہی ، اور بشانِ اتم ۔ حمد

ہے فقط تو ہی ، اور بشانِ اتم ہے فقط تو ہی ، اور بشانِ اتمہیچ تر ہے مرا وجود و عدم سوچتا ہی رہے تجھے یہ دلاور لکھتا رہے تجھے یہ قلم شعر کیا ہے؟ بیانِ موزوں تراور بیاں ہے بشر پہ تیرا کرم آدمی کیا ہے ، کون ہے ، کیوں ہے؟اے خدائے […]

رکھتے ہیں آئنوں کو بہت ہی سنبھال کر ۔۔۔۔ غزل از مصعب شاہین

رکھتے ہیں آئنوں کو بہت ہی سنبھال کر رکھتے ہیں آئنوں کو بہت ہی سنبھال کر کچھ اس لیے بھی خاص مری دیکھ بھال کر میرا ہی نام آئے گا تیرے نصیب میں تو دیکھ لے ہواؤں میں سکہ اچھال کر ہم لائے جاچکے ہیں جہانِ خراب میںیہ ہوچکا ہے دوست! اب اگلا سوال کر […]

خیر کا ہر قرینۂ معروف ۔۔۔۔ نعت از مقصود علی شاہ

خیر کا ہر قرینۂ معروف خیر کا ہر قرینۂ معروفہے ترے لطفِ خاص پر موقوف اے ضیا بخشِ عالمِ امکاں ! قمرِ شوقِ دید ہے مکسوف ایک نسبت سے ہیں میانِ شمارورنہ تھے ہم شمارۂ محذوف وہ عطا تب بھی تھی طلب پرورعرض جب تھی خیال میں ملفوف غم گزیدانِ بے طرب کے لیےہے مدینہ […]

بجا کہ ہیں سوال و حرف و جذب و شوق مضمحل ۔۔۔۔ نعت از مقصود علی شاہ

بجا کہ ہیں سوال و حرف و جذب و شوق مضمحل بجا کہ ہیں سوال و حرف و جذب و شوق مضمحلعطا کے التفات میں مگر نہیں کوئی مخل سکوتِ تام ہی سے ہو تو ہو کوئی بیانِ دلکہ بابِ نعت میں ہیں سارے حرف و صوت منفصل کرم خصال ! اب کسی طلوعِ خواب  […]