کچے مکان ٹوٹ کے ۔۔۔۔ غزل از شاہد حسین استوری
کچے مکان ٹوٹ کے اب غار ہو گئے کچے مکان ٹوٹ کے اب غار ہو گئےاس پار کے جو زخم تھے اس پار ہو گئےکھیلا تھا کمسنی میں بہت دوستوں کے ساتھاب کیا کریں کہ وہ بھی سمجھدار ہو گئےگاوں میں جو سکون تھا وہ شہر میں کہاںڈھونڈا سکون شہر میں اور خوار ہو گئےتنہا […]
غربت نے، در بدر کیا ہے ۔۔۔۔ غزل از محمد شیر عالم
غربت نے، در بدر کیا ہے غربت نے، در بدر کیا ہےبزدل کو بھی، نڈر کیا ہےجتنا بھی دکھ ملا ہے تم سےہم نے وہ در گزر کیا ہےتم جس کا سوچتے ہی ڈر جاوہم نے طے وہ سفر کیا ہےنکلا ہوں میں اُسی کی خاطردل میں جس کے بھی گھر کیا ہےمیں تیرا تو […]