محمد اسامہ سَرسَری

لاگ اِن ہوکر 100 کوائنز مفت میں حاصل کریں۔

نبی کا فیض ہوا عام ، ہم خدا سے ملے ۔ غزل

نبی ﷺ کا فیض ہوا عام ، ہم خدا سے ملےخدا کے فضل سے یوں ہم بھی مصطفٰی ﷺ سے ملے امام بن کے وہ ﷺ اِسرا میں انبیا سے ملےکمال پاکے وہ ﷺ معراج میں خدا سے ملے ہمیں بقا کے جمالات مرتضٰی سے ملےہمیں فنا کے کمالات کربلا سے ملے ملے طفیلِ صحابہ […]

وہی تو اوجِ خِرَد پر براجمان ہوۓ ۔۔۔۔ غزل از شہزین وفا

وہی تو اوجِ خِرَد پر براجمان ہوۓ وہی تو اوجِ خِرَد پر براجمان ہوۓ جو غم پروتے ہوۓ آخرش جوان ہوۓ وہ جن کو ٹھوکریں ملتی گئیں زمانے سے وہ اپنی ذات کا خود آپ سائبان ہوۓ ہماری نیند سراسیمگی کی نذر ہوئی ہمارے خواب کسی مصلحت کی جان ہوۓ تمہی کو ہم نے بٹھایا […]

گُلِ حریف ۔۔۔۔ غزل از حسیب جمال

گُلِ حریف تری زلف کی پناہ میں ہے گُلِ حریف تری زلف کی پناہ میں ہےعجب چراغِ رقابت شبِ سیاہ میں ہے۔دوآتشہ ہے یہ شعلہ جو میری آہ میں ہےکہ میرے ساتھ مرا خواب قتل گاہ میں ہے۔کہیں اسے ہی نہ کہتے ہوں صورِ اسرافیلعجیب شورِ قیامت دلِ تباہ میں ہے۔فصیلِ چشم پہ کتنے چراغ […]

لگا ہوا ہوں ۔۔۔۔ غزل از صائم جی

لگا ہوا ہوں میں اسکا بھی حل نکالوں گا لگا ہوا ہوں میں اسکا بھی حل نکالوں گاتمھاری یاد کا نعم البدل نکالوں گاتمھارے ہجر کی کثرت سے میں توانا ہوںمجھے یقین ہے صحرا سے جل نکالوں گاکرشمہ سازیِ انساں سے کچھ بعید نہیںازل ابد سے ابد سے ازل نکالوں گایہ عشق مجھ سے نکمے […]

اُمید کس سے کریں ۔۔۔۔ غزل از اقبال ثاقب

اُمید کس سے کریں؟ اِعتبار کس کا ہے؟ اُمید کس سے کریں؟ اِعتبار کس کا ہے؟دلِ ملول! تجھے اِنتظار کس کا ہے؟یہاں پہ روز دکھوں کے آلاؤ جلتے ہیںمجھے بتاؤ یہ ٹوٹا مزار کس کا ہے؟شکستہ دل، تِری یادیں ہیں اور تنہائیمگر میں جھوم رہا ہوں خُمار کس کا ہے؟چمن کے بیچ ترانے نہ چھیڑ […]

خدا کی بات میں کچھ تو خدا کا خوف کریں ۔ غزل

صفات و ذات میں کچھ تو خدا کا خوف کریںخدا کی بات میں کچھ تو خدا کا خوف کریں خیال آپ کو انسانیت کا کتنا ہےالٰہیات میں کچھ تو خدا کا خوف کریں “خدا نہیں ہے” ، “خدا ہے” میں احتیاط ہے کیامسلّمات میں کچھ تو خدا کا خوف کریں خدا سہارا ہے ہر ایک […]