محمد اسامہ سَرسَری

لاگ اِن ہوکر 100 کوائنز مفت میں حاصل کریں۔

سایہ ہی میسر ہے نہ کچھ ہم کو ثمر ہی (غزل – عاکف غنی)

سایہ ہی میسر ہے نہ کچھ ہم کو ثمر ہیہے باغ ہی اپنا نہ کوئی ایک شجر ہیآداب تو سیکھے ہیں زمانے میں ادب کےآیا نہ مگر دنیا کمانے کا ہنرہیتم چاند کو چھو لو یا فلک چوم کے آؤآخر کو تو ہونا ہے تمہیں خاک بسر ہیاس سا کوئی ناکام نہیں سارے جہاں میںہے […]