محمد اسامہ سَرسَری

لاگ اِن ہوکر 100 کوائنز مفت میں حاصل کریں۔

میں ظلمتِ شب میں دیپ بن کر، یہ فرض اپنا نبھا رہا ہوں

میں ظلمتِ شب میں دیپ بن کر، یہ فرض اپنا نبھا رہا ہوں میں ظلمتِ شب میں دیپ بن کر، یہ فرض اپنا نبھا رہا ہوں کہ بھولے بھٹکے مسافروں کو، نشانِ منزل دکھا رہا ہوں شکستہ پا ہیں نحیف راہی، حسین منزل ہے دور لیکنمیں تھک کے ٹوٹے مسافروں کا، متاعِ ہمت بندھا رہا […]

رخ دیکھ کر ہوا کا ہمدم بدل گئے

رخ دیکھ کر ہوا کا ہمدم بدل گئے رخ دیکھ کر ہوا کا ہمدم بدل گئےبارش سے پہلے جیسے مہماں نکل گئے صدموں سے میری حالت خستہ ہوئی ضرور کچھ ہم نشین شاکر خطرہ تھے، ٹل گئے دردِ جدائی دے کر عیّار نے کہالو ہم تمھاری ہستی سے جاں نکل گئے درد و الم خدا […]