گُلِ حریف ۔۔۔۔ غزل از حسیب جمال
گُلِ حریف تری زلف کی پناہ میں ہے گُلِ حریف تری زلف کی پناہ میں ہےعجب چراغِ رقابت شبِ سیاہ میں ہے۔دوآتشہ ہے یہ شعلہ جو میری آہ میں ہےکہ میرے ساتھ مرا خواب قتل گاہ میں ہے۔کہیں اسے ہی نہ کہتے ہوں صورِ اسرافیلعجیب شورِ قیامت دلِ تباہ میں ہے۔فصیلِ چشم پہ کتنے چراغ […]