محمد اسامہ سَرسَری

لاگ اِن ہوکر 100 کوائنز مفت میں حاصل کریں۔

کرتا ہوں اللہ اللہ درویش ہوں سدا کا ۔۔۔۔ غزل از میر تقی میر

کرتا ہوں اللہ اللہ درویش ہوں سدا کا کرتا ہوں اللہ اللہ درویش ہوں سدا کاسرمایۂ توکل یاں نام ہے خدا کا میں نے نکل جنوں سے مشق قلندری کیزنجیرسر ہوا ہے تھا سلسلہ جو پا کا یارب ہماری جانب یہ سنگ کیوں ہے عائدجی ہی سے مارتے ہیں جو نام لے وفا کا کیا […]

میرے مالک نے مرے حق میں یہ احسان کیا ۔۔۔۔ غزل از میر تقی میر

میرے مالک نے مرے حق میں یہ احسان کیا میرے مالک نے مرے حق میں یہ احسان کیاخاک ناچیز تھا میں سو مجھے انسان کیا اس سرے دل کی خرابی ہوئی اے عشق دریغتو نے کس خانۂ مطبوع کو ویران کیا ضبط تھا جب تئیں چاہت نہ ہوئی تھی ظاہراشک نے بہ کے مرے چہرے […]

جلوہ نہیں ہے نظم میں حسن قبول کا ۔۔۔۔ غزل از میر تقی میر

جلوہ نہیں ہے نظم میں حسن قبول کا جلوہ نہیں ہے نظم میں حسن قبول کادیواں میں شعر گر نہیں نعت رسولؐ کا حق کی طلب ہے کچھ تو محمدؐ پرست ہوایسا وسیلہ ہے بھی خدا کے حصول کا مطلوب ہے زمان و مکان و جہان سےمحبوب ہے ملک کا فلک کا عقول کا احمدؐ […]

ہر ذی حیات کا ہے سبب جو حیات کا ۔۔۔۔ غزل از میر تقی میر

ہر ذی حیات کا ہے سبب جو حیات کا ہر ذی حیات کا ہے سبب جو حیات کانکلے ہے جی ہی اس کے لیے کائنات کا بکھری ہے زلف اس رخ عالم فروز پرورنہ بناؤ ہووے نہ دن اور رات کا در پردہ وہ ہی معنی مقوم نہ ہوں اگرصورت نہ پکڑے کام فلک کے […]

کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھا ۔۔۔۔ غزل از میر تقی میر

کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھا کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھاآنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا کس رات نظر کی ہے سوے چشمک انجمآنکھوں کے تلے اپنے تو وہ ماہ جبیں تھا آیا تو سہی وہ کوئی دم کے لیے لیکنہونٹوں پہ مرے جب نفس باز پسیں […]

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا ۔۔۔۔ غزل از میر تقی میر

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھاخورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا ہنگامہ گرم کن جو دل ناصبور تھاپیدا ہر ایک نالے سے شور نشور تھا پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تئیں معلوم اب ہوا کہ بہت […]