ہائے کیسے جل رہا تھا ہجر میں جلتا وجود ۔ غزل از محمد حفیظ عازم
ہائے کیسے جل رہا تھا ہجر میں جلتا وجودزندگی کی سرحدوں پہ ڈھل گیا ڈھلتا وجود یہ بھی ہے اضداد کے پیمان میں جکڑا بدناور وہ تکلیف دیتے شبد کا گلتا وجود منزلوں سے دور ہوتے شخص کے بھٹکے قدماور اُس کے نقش پہ دوگام یہ چلتا وجود آگ پر رکھی تغاری میں پڑی مٹی […]