دوری رہی، وصال کی حد تک نہیں گیا ۔۔۔۔ غزل از محمد حسنین سہیل
دوری رہی، وصال کی حد تک نہیں گیا دوری رہی، وصال کی حد تک نہیں گیا یہ زخم اندمال کی حد تک نہیں گیا ہم نے اٹھائے ہاتھ دعا کی فقط دعا دستِ طلب سوال کی حد تک نہیں گیا ہے گردشِ مدام سے وحشت کشید کی دل جنبشِ مآل کی حد تک نہیں گیا […]