راہِ الفت میں ۔۔۔۔ غزل از محمد اسماعیل سیفی
راہِ الفت میں نہ احساسِ زیاں رہتا ہے راہِ الفت میں نہ احساسِ زیاں رہتا ہےجان جاتی ہے مگر ہوش کہاں رہتا ہےاب کسی چیز کا غم ہے نہ گلہ ہے کوئیاب فقط کوچۂ جاناں کا گماں رہتا ہےباغ الفت کے مقدر میں بہاریں ہی نہیںموسمِ گل میں خزاؤں کا سماں رہتا ہےیہ زمانے کے […]