کچے مکان ٹوٹ کے ۔۔۔۔ غزل از شاہد حسین استوری
کچے مکان ٹوٹ کے اب غار ہو گئے کچے مکان ٹوٹ کے اب غار ہو گئےاس پار کے جو زخم تھے اس پار ہو گئےکھیلا تھا کمسنی میں بہت دوستوں کے ساتھاب کیا کریں کہ وہ بھی سمجھدار ہو گئےگاوں میں جو سکون تھا وہ شہر میں کہاںڈھونڈا سکون شہر میں اور خوار ہو گئےتنہا […]