وہی تو اوجِ خِرَد پر براجمان ہوۓ ۔۔۔۔ غزل از شہزین وفا
وہی تو اوجِ خِرَد پر براجمان ہوۓ وہی تو اوجِ خِرَد پر براجمان ہوۓ جو غم پروتے ہوۓ آخرش جوان ہوۓ وہ جن کو ٹھوکریں ملتی گئیں زمانے سے وہ اپنی ذات کا خود آپ سائبان ہوۓ ہماری نیند سراسیمگی کی نذر ہوئی ہمارے خواب کسی مصلحت کی جان ہوۓ تمہی کو ہم نے بٹھایا […]