تحریراتِ سَرسَری

سب انشائیہ نصیحت اے آئی اردوچہ طنز و مزاح کہانی لطیفہ الفاظ معانی فروق خلاصہ فلسفہ تحقیق قرآنیات مضمون دیگر ملفوظات شعری قواعد درسیات تذکرہ نگاری اردو قواعد تنقید نثرانچہ
کل تحریرات: 53
ایک شخص نے ایک مرغا پالا ہوا تھا۔
ایک دن اس نے سوچا کہ مرغے کو ذبح کیا جائے, لیکن تھا کم بخت بامروت، سوچا کوئی بہانہ بنا کر ذبح کروں گا، سو اس نے مرغے سے کہا:
’’کل سے اذان نہیں دینی، ورنہ ذبح کر دوں گا۔‘‘

مرغے نے کہا: ’’ٹھیک ہے آقا! جو آپ کی مرضی۔‘‘

صبح اذان کا وقت ہوا تو مالک نے دیکھا کہ مرغے نے اذان تو نہیں دی، مگر عادت کے مطابق اپنے پر زور زور سے پھڑپھڑا دیے۔

مالک نے اگلا فرمان جاری کیا:
’’کل سے پر بھی نہیں مارنے، ورنہ ذبح کر دوں گا۔‘‘

اگلی صبح مرغے نے حکم...
اے آئی مواد کا چغل خور سسٹم:
یہ گوگل کی تیار کردہ ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو انٹرنیٹ پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائے گئے جعلی مواد کی پہچان کرنے میں مدد کرتی ہے۔ اس سسٹم کا نام "سنتھ آئی ڈی (SynthID)" ہے۔
یہ سسٹم تصاویر اور ویڈیوز کے بیک گراؤنڈ میں ایک ایسا پوشیدہ یا غیر مرئی واٹر مارک لگا دیتا ہے جسے عام آنکھ سے نہیں دیکھا جا سکتا، جبکہ مخصوص سافٹ ویئر کے ذریعے اس کی موجودگی کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔
گوگل اب تک 100 ارب سے زائد ڈیجیٹل مواد پر یہ واٹر مارک لگا چکا ہے، جبکہ...
طویل ترین تحریر اگر ادبی چاشنی اور علمی حوالہ جات سے خالی ہو تو کاپی کرکے اے آئی کو دیجیے اور کہیے کہ ٹو دی پوائنٹ خلاصہ کردیجیے۔ 🙂
الحمدللہ ”اردوچہ“ کی برکت سے معیاری مطالعے کا بہترین سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ اب میں مطالعے کے لیے سب سے پہلے اردوچہ کا رخ کرتا ہوں، احباب کو اللہ جزائے خیر عطا فرمائے کہ سینکڑوں تحریریں اب تک اپلوڈ ہوچکی ہیں، کام بھی آسان ہے کہ جب بھی اردوچہ کھولو تو وہی تحریریں سامنے آتی ہیں جن کا مطالعہ نہیں کیا۔
نوٹ: تحریر پر موجود ”مزید دیکھیں“ پر کلک کرنے یا ”مطالعہ کرلیا“ والے بٹن کو دبانے سے وہ تحریر مطالعہ کردہ کی فہرست میں شامل ہوجاتی ہے۔
اے آئی ٹولز بہت تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، ہنر کی اصل ترقی کسی مخصوص ٹول کو سیکھنے میں نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی کے ارتقا کے ساتھ خود کو ڈھالنے کی صلاحیت میں پوشیدہ ہے۔ 🙂
مرزا اقبال مرادآبادی کو ان کے نوتعیناتی بے ذوق ملازم نے چائے پیش کی تو انھوں نے پیالی ہاتھ میں لی اور محبت سے اسے پاس بٹھا کر اپنا فارسی زدہ بلکہ فارسی سے زیادہ پیچیدہ شعر ایسے سنایا گویا انعام سے نواز رہے ہوں۔
ملازم نہایت معصومیت سے بولا: ”حضور! اگر آپ کو سینے میں زیادہ درد ہے تو میں دوڑ کر حکیم صاحب کو بلا لاؤں؟“
مرزا صاحب بڑبڑائے: ”بندر کیا جانے ادرک کا سواد“ اور ملازم باہر چلا گیا، انھوں نے بھی بے اختیار سکھ کا سانس لیا۔
مگر یہ سکھ ایک گھنٹے بعد ہی دکھ میں بدل گیا...
مستفید: فائدہ اٹھانے والا
مستفیض: پھیلنے والی خبر
مستفیظ: موت کا متمنی
مستفیذ اور مستفیز مہمل ہیں۔ 🙂
فلسفے کے طلبۂ کرام کے لیے پہلا سبق یہ ہے کہ چھ بنیادی ستون ہیں جن پر پورے فلسفے کی پوری عمارت کھڑی ہے:
(1) منطق (Logic):
یہ استدلال کا علم ہے۔ اس میں یہ بحث ہوتی ہے کہ صحیح اور غلط دلیل میں کیا فرق ہے اور درست نتیجہ کیسے نکالا جائے۔
(2) مابعد الطبیعیات (Metaphysics):
یہ کائنات، وجود، خدا، روح اور وقت جیسے موضوعات پر بحث کرتا ہے، یعنی وہ چیزیں جو ہمارے ظاہری حواس سے ماورا ہیں۔
(3) علمیات (Epistemology):
اس میں علم کی نوعیت پر بات ہوتی ہے کہ ہم جو کچھ جانتے ہیں وہ کیسے...
سورۂ فجر کی ابتدائی چار آیات میں اللہ تعالیٰ نے کائنات کی چند اہم نشانیوں اور بابرکت اوقات کی قسم کھائی ہے۔
پہلی آیت "وَالْفَجْرِ" میں اللہ تعالیٰ نے فجر کی قسم کھائی ہے۔ مفسرین کے اقوال کے مطابق اس سے مراد صبح صادق کی روشنی، فجر کی نماز یا مطلق دن کا وقت ہے۔
دوسری آیت "وَلَيَالٍ عَشْرٍ" میں دس راتوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ مفسرین کے ہاں اس حوالے سے مختلف اقوال پائے جاتے ہیں۔ بعض نے اسے محرم کا ابتدائی عشرہ یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وہ مخصوص دس راتیں قرار دیا ہے جن سے ان کے...
اپنا اپنا حمدیہ شعر دوبارہ لکھیں، میری غلطی سے سارے اشعار ڈیلیٹ ہوگئے ہیں، مگر مجھے رزلٹ یاد، لیکن اشعار یاد نہیں ۔ 🙂
اردو چہ کیا ہے؟
یہ ایک ویب سائٹ ہے، جیسے فیس بک اور ٹوئٹر(ایکس) ویب سائٹس ہیں، اردوچہ میں آپ فقط اردو تحریر پوسٹ کرسکتے ہیں، اس کے علاوہ یہاں وقتا فوقتاً مسابقت اور مشاعرے جیسے متفرق سلسلے بھی منعقد ہوتے رہتے ہیں۔
اس ویب سائٹ کی خوبی یہ ہے کہ یہاں پوسٹوں کی تعداد کئی لاکھ ہو جائے تب بھی آپ اس انبار میں سے اپنی مطلوبہ تحریر درج ذیل میں سے کسی بھی طریقے سے تلاش کرسکتے ہیں:
(1) اوپر سرچ خانے میں تحریر یا لکھاری کے مخصوص الفاظ لکھ کر
(2) سرچ خانے کے برابر میں بٹن ”شرکاء“ پر کلک...
اردوچہ اردو زبان کی ترقی میں کوشاں ایک بالکل مفت پلیٹ فارم ہے جسے ماہرین الحمدللہ رضاکارانہ چلا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین! اردوچہ کی مزید ترقی کے لیے درج ذیل خدمات کے ماہرین سے توجہ کی درخواست ہے: (1) اردوچہ اور Urducha کی خطاطی (2) اردوچہ کا لوگو ڈیزائن (3) سوشل میڈیا مارکیٹنگ (4) آن لائن سیکیورٹی حفاظت کے لیے ماہرانہ مشورے (5) اردوچہ کے تعارف میں تحریر لکھیں یا ویڈیو بنائیں۔ کمنٹ میں بتائیے کہ آپ ان میں سے کون سا تعاون کر سکتے ہیں۔
ٹیسٹنگ
ٹیسنگ
گزشتہ پوسٹ ایک تکنیکی خرابی کے باعث ڈیلیٹ ہوگئی۔
اللہ ہی ہمارا مالک ہے، سارا عالم اسی کا ہے، اس لئے دل کی گہرائی سے سارے مل کر کہو: اللہ لا الہ الا ھو
بغیر نقطے والی اردو کو ”اردوئے معراء“ کہتے ہیں، اس مسابقے میں آپ کو اردوئے معراء میں اللہ تعالیٰ کی تعریف لکھنی ہے، واضح رہے کہ آپ کے جواب میں ایک بھی ایسا حرف نہ ہو جس میں نقطہ ہو اور بات بھی بالکل مکمل ہو۔
تبصرہ خانے میں اردوچہ کے بارے میں اپنی قیمتی رائے سے نوازیں،آپ کو یہ کیسا لگا اور آپ اس میں مزید کیا کچھ چاہتے ہیں؟ 🙂
اردوچہ اردو زبان کی ترقی میں کوشاں ایک بالکل مفت پلیٹ فارم ہے جسے ماہرین الحمدللہ رضاکارانہ چلا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین!
اردوچہ کی مزید ترقی کے لیے درج ذیل خدمات کے ماہرین سے توجہ کی درخواست ہے:
(1) اردوچہ اور Urducha کی خطاطی
(2) اردوچہ کا لوگو ڈیزائن
(3) ویب سائٹ کی نگرانی کے لیے ماہر شاعر و ادیب کا وقت
(4) سوشل میڈیا مارکیٹنگ
(5) اخبارات و رسائل کے اشتہارات
(6) آن لائن سیکیورٹی حفاظت کے لیے ماہرانہ مشورے
(7) لکھنے والے اس کے بارے میں لکھیں۔
(8) یوٹیوبرز اور ٹک ٹاکرز اس پر ویڈیو بنائیں۔
(9) پوسٹ...
کمال یہ بھی نہیں کہ آپ اے کے خلاف یا موافقت میں لکھ رہے ہیں۔
کمال یہ بھی نہیں کہ آپ اے آئی کے بارے میں کیا کچھ جانتے ہیں؟
کیونکہ طرفین کے دلائل اور اے آئی کی معلومات آپ سے اچھی اے آئی دے سکتا ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ آپ اے آئی کو کتنا استعمال کر رہے ہیں؟ اور کتنا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ 🙂

طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
اے آئی سے کام لینے کا درست طریقہ یہ ہے کہ ساتھ اپنی تحقیق و مراجعت بھی کرلی جائے، وقت بہت بچتا ہے، اندھا اعتماد تو اپنے انسانی علمی معاون پر بھی کرنا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ 🙂

انسان بمقابلہ اے آئی = انسان 👍
اے آئی کا ماہر انسان بمقابلہ عام انسان = اے آئی کا ماہر 👍

طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
دینی شعبوں میں کام کرنے والے احباب جیسے مؤذن، امام، مدرس، مصنف وغیرہ (جن کا ذریعۂ معاش دینی خدمات سے وابستہ ہے) یہ نیت نہ رکھیں کہ یہ کام اس لیے کر رہے ہیں تاکہ پیسے ملیں، بلکہ یہ نیت کریں کہ پیسے اس لیے کمانے ہیں تاکہ دینی خدمات زیادہ سے زیادہ کرسکیں۔

طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
اگر کوئی مبتدی شاعر بڑے شعرا کے کلام کا مطالعہ کرتے ہوئے ان کے تخیل یا اسلوب سے متاثر ہو کر اپنے اشعار میں اسی قسم کی فکری فضا یا مشابہ انداز اختیار کرتا ہے تو یہ بذاتِ خود عیب نہیں، بلکہ ابتدائی درجے میں یہ ایک فطری عمل اور خوبی ہے، کیونکہ سیکھنے کے مرحلے میں ذہن پر اثرات پڑتے ہیں۔ البتہ اگر طویل فقرے یا مکمل مصرعے بغیر کسی تبدیلی کے لے لیے جائیں اور اپنی طرف منسوب کیے جائیں تو یہ ادبی سرقہ کہلایا جاسکتا ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ شاعر کو مطالعے کے ساتھ ساتھ اپنا...
شعراء کو چاہیے کہ فن میں مہارت حاصل کرلینے کے بعد اپنے اس فن کو محض ایک آلہ تصور کریں اور اپنا مقصد، نظریہ، اہداف سب کچھ طے کریں، اس کے مطابق اس فن کو استعمال کریں، اکثر شعراء کو دیکھا ہے کہ وہ اپنے فن کو استعمال کرنے کے بجائے خود اپنے فن کے ہاتھوں استعمال ہورہے ہوتے ہیں اور نام دیتے ہیں اسے الہامی شاعری کا، اللہ کے بندو! اگر الہام سے مراد آپ وحی لیتے ہیں تو اس کا دروازہ بند ہوچکا ہے، نیز یہ سوچ انتہائی خطرناک ہے اور اگر الہام سے مراد یہ ہے کہ...
آنکھوں اور کانوں کے راستے ہمیں جتنی باتیں معلوم ہورہی ہیں ان میں سب سے پہلا فلٹر یہ لگائیں کہ یہ بات خبر ہے یا اگلے کی رائے؟ اگر رائے ہے تو اسے بطور رائے کے رکھ کر اختلاف یا اتفاق کا حق اپنے پاس محفوظ رکھ لیں۔
اور اگر وہ خبر ہے تو اسے بھی من و عن قبول نہ کرلیا کریں، کیونکہ اس صورت میں آپ کا دماغ فقط ایک اخبار کی حیثیت اختیار کرلے گا جس میں جھوٹ اور سچ ساری خبریں ہوتی ہیں۔
بد قسمتی سے آج ہم سارا دن انھی خبروں کا بے تحاشا تبادلہ کرکے...
حالات حاضرہ سے باخبر رہنا ضروری ہے مگر باخبر رہنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ ہر بات پر آنکھ بند کرکے یقین نہ کریں، بلکہ یہ دیکھیں کہ جو نئی بات آپ کے سامنے آئی ہے خواہ وہ کسی بڑے سے بڑے عالم کی طرف سے آئے یا کسی اخبار سے یا کسی سوشل میڈیائی ذریعے سے، اسے فلٹر کریں اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ یہ دیکھیں کہ وہ بات خبر ہے یا رائے؟
خبر کی مثال:
فلاں جھڑپ میں اتنے لوگ جاں بحق ہوگئے۔
رائے کی مثال:
فلاں جھڑپ میں اتنے لوگ شہید ہوگئے۔
فلاں جھڑپ میں اتنے لوگ ہلاک ہوگئے۔
کرنا...
کلام کو نثر سے نکالنے والی چیز بحر ہے، بلاوجہ الفاظ کی نشست تبدیل کرنا درست نہیں، البتہ بحر و وزن کی خاطر اگر کسی لفظ کی نشست بدلنی پڑے تو اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ نہ معنی بدلے، نہ خلاف استعمال صورت بنے۔

اب ان سب کی مثالیں دیکھیے۔

نثر کی مثال:
تو نے محمد سے وفا کی تو ہم تیرے ہیں، یہ جہاں کیا چیز ہے، لوح اور قلم تیرے ہیں۔

بحر میں لانے کی مثال:
فاعلاتن فعِلاتن فعِلاتن فعلن
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

بلاوجہ نشست بدلنے...
اکائی، دہائی، سینکڑہ، ہزار، دس ہزار، لاکھ، دس لاکھ (یعنی ایک ملین)، کروڑ، دس کروڑ، ارب، دس ارب، کھرب، اور اسی طرح آگے بھی تعداد بڑھتی رہتی ہے۔ دہائی کا نظام دراصل ہر جگہ "دس کے گنا" پر قائم ہے، یعنی ہر دہائی گزرنے پر عدد میں ایک اضافی صفر آتا ہے۔ اعداد کی حد کوئی فطری حد نہیں ہے، جتنا حساب آگے بڑھتا جائے، دہائیاں بھی بڑھتی جاتی ہیں۔ مثلاً کھرب کے بعد نیل، نیل کے بعد شَنک وغیرہ نام دیے گئے ہیں، لیکن عام طور پر روزمرہ کے استعمال میں ارب یا کھرب تک کی دہائیاں ہی دیکھی...
درست رہنمائی:

جسمانی مسائل (طب) کے حل کے لیے اگر آپ از خود کتاب دیکھتے ہیں تو گمراہی کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور اگر اس سے پوچھتے ہیں جو اس لائن کا ماہر نہیں تو آپ اب بھی گمراہ ہوسکتے ہیں، لیکن اگر متعلقہ ماہر سے پوچھتے ہیں تو آپ ان شاء اللہ گمراہ ہونے سے بچ جائیں گے۔

اسی طرح روحانی مسائل (تصوف) کے حل کے لیے اگر آپ از خود کتاب دیکھتے ہیں تو گمراہی کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور اگر اس سے پوچھتے ہیں جو اس لائن کا ماہر نہیں تو آپ اب بھی گمراہ ہوسکتے ہیں،...
ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں، جب ہم کہتے ہیں کہ یہ چیز شاعری میں عیب ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ یہ چیز آپ کو بڑے اور مستند شعراء کے اشعار میں نہیں ملے گی، کیونکہ ہر عیب سے پاک کلام فقط اللہ تعالی کا ہے، اچھے اچھے شعراء کے ہاں بڑے بڑے عیوب بھی تلاش کرنے پر مل جاتے ہیں اور عیب کا عیب یہی ہے کہ اسے بڑے شعراء کے ہاں بہت زیادہ تلاش کرنا پڑتا ہے، جبکہ خوبی کی خوبی یہ ہے کہ وہ ان کے ہر ہر شعر میں آپ کو ایک...
بازاری لب و لہجہ ہمیں ایک دوسرے سے مزید دور کررہا ہے، اصلاحِ اعمال اور مغفرت کا وعدہ قولِ سدید پر ہے، ہم سب کو اپنے اپنے رویوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، عوام کو تو ایک طرف رکھیں، اس وقت صورت حال یہ ہے کہ طرفین کے خواص کی جانب سے دوسری طرف والوں کے خلاف طنز اور بد زبانی کے بیانات مسلسل سامنے آرہی ہیں، طرفین کے بڑوں کو چاہیے کہ اپنے چھوٹوں کو مسلسل اس بد زبانی سے روکیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
چیٹ بوٹس (بالخصوص چیٹ جی پی ٹی) اب تقریبا سبھی لوگ استعمال کر رہے ہیں، آج آپ کو ایک زبردست ٹرِک بتارہا ہوں جو ہمیشہ کام آئے گی، آپ نے دیکھا ہوگا کہ اکثر آپ کا مطلوبہ کام چیٹ بوٹ کرکے نہیں دے رہا ہوتا، مثلا مطلوبہ کوڈ نہیں بنا رہا یا مطلوبہ تصویر جنریٹ نہیں کر رہا تو اس کا آسان سا ایک حل یہ ہے کہ آپ نئی چیٹ کھولیں اور اس سے یہ کہیں کہ مجھے اے آئی سے یہ کام کروانا ہے، بالکل درست پرومٹ تیار کردو، پرومٹ تیار ہوجائے گا، اب آپ نئی چیٹ کھولیں...
چند مسلم شعرائے کرام:

حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ، نبی کریم ﷺ کے صحابی اور شاعر، جنھوں نے اپنی شاعری سے اسلام کا دفاع کیا اور حضور ﷺ کی شان میں عمدہ اشعار کہے۔

امام شافعیؒ کا کلام حکمت، تقویٰ، اور اسلامی اصولوں پر مبنی ہے، جو دل کو چھوتا ہے اور عمل کی رغبت پیدا کرتا ہے۔

حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ کی مثنوی اور غزلیات میں عشقِ حقیقی اور اللہ تعالیٰ کی قربت کا بیان انتہائی گہرائی سے کیا گیا ہے۔

حضرت شیخ سعدیؒ کی گلستان اور بوستان حکمت، اخلاقیات اور دینی تعلیمات کا خزانہ ہیں۔

علامہ اقبالؒ کی شاعری میں...
تین کام کریں، آپ کو بام عروج پر پہنچنے سے ان شاء اللہ کوئی نہیں روک سکے گا:
(1) اپنے کام میں مہارت بڑھاتے جائیں۔
(2) اچھے اخلاق سے پیش آئیں۔
(3) نادار لوگوں کا خصوصی خیال رکھیں۔

طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
چیٹ جی پی ٹی ایک جدید ترین اور مفید ترین ٹول ہے، اگرچہ اس کی غلطیوں اور اس سے ہونے والے نقصانات سے بھی انکار ممکن نہیں، لیکن جس طرح واٹس ایپ ٹول کے بغیر آج روابط کی دنیا میں جینا ممکن نہیں اسی طرح ڈیجیٹل امور (تحریر، ترمیم، دنیاوی مشاورت، مواد کی دستیابی، پروگرامنگ، سوفٹ وئیر لرننگز وغیرہ) میں چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنے والے آگے سے آگے بڑھتے جارہے ہیں اور نہ کرنے والے پیچھے رہتے جارہے ہیں۔

ایک اصولی بات یہ یاد رکھنے کی ہے کہ جس فن میں ہمیں شد بد بھی نہ ہو اس میں...
وزن کے بارے میں چار موزوں باتیں:

(1) کبھی بھی غیر مستعمل بحر میں نہ لکھیں اور اپنی طرف سے نئی بحر بنانے کی کوشش تو بالکل بھی نہیں کرنی چاہیے۔

(2) کم مستعمل (مثلا مستفعلن چار بار) کی بنسبت زیادہ مستعمل (جیسے فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن) بہتر ہے۔

(3) تین سے کم اور چار سے زیادہ ارکان کے مقابلے میں تین رکن بہتر اور چار رکن تین رکن سے بھی زیادہ بہتر ہوتے ہیں۔

(4) شاعری کے لیے ہمیشہ خوب سے خوب تر کا انتخاب کرنا چاہیے چاہے الفاظ ہوں، یا بحور یا طرز بیان

طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
اردو شاعری میں بہترین لسانیاتی فضا فارسی کی ہے، پھر دوسرے نمبر پر اردو ہے، عربی الفاظ کا زیادہ استعمال شعر کو بھاری بھرکم کردیتا ہے۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
بہت سے احباب جب ”آؤ شاعری سیکھیں“ جیسا نام سنتے ہیں تو فوراً کہتے ہیں کہ شاعری سیکھنے کی چیز نہیں، شاعر تو خداداد ہوتا ہے۔ یہ اعتراض دراصل شاعری کو صرف جذبے کا اظہار سمجھ لینے سے پیدا ہوتا ہے۔ حالانکہ جذبہ اگر چشمہ ہے تو فن اس کے بہاؤ کا پیالہ ہے۔ چشمہ اپنی گدلاہٹ سمیت بہہ تو سکتا ہے، مگر پیالہ اسے شکل، سمت اور وقار دیتا ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ فطری صلاحیت بیج ہے اور علم و فن وہ خاک، پانی اور دھوپ ہیں، جن کے بغیر بیج کبھی سایہ دار درخت نہیں بنتا۔
یہ دعویٰ...
عمومی زحافات و اجازات:

(1) تسبیغ و اذالہ:
کسی بھی بحر کے آخری رکن میں ایک ساکن کے اضافے کو تسبیغ یا اِذالہ کہتے ہیں ، یہ دو نام عروضیوں نے دو الگ الگ صورتوں کے لیے رکھے ہیں ، یعنی اگر یہ اضافہ سبب پر (جیسے فعولن سے فعولان) تو اسے تسبیغ کہتے ہیں اور اگر یہ اضافہ وتد پر ہو (جیسے فاعلن سے فاعلان) تو اسے اِذالہ کہتے ہیں ، ساکن بڑھانے کی یہ اجازت ہر بحر میں ہوتی ہے اور کسی بھی غزل ، قطعہ وغیرہ کے کسی بھی ایک یا متعدد مصرعوں میں یہ ساکن بڑھایا جاسکتا ہے...
قطعہ اور رباعی میں فرق:

عام طور پر جب کوئی دو شعر ایسے ہوں کہ دونوں مقفی ہوں ، دونوں کا مضمون بھی ایک ہو تو عام قاری کے لیے یہ پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے کہ اسے رباعی کہیں یا قطعہ؟ نیز شاعری میں جو خواص کا طبقہ ہے وہ بھی ان دونوں اصطلاحات کے بیچ بعض غلط فہمیوں کا شکار ہے ، علاوہ ازیں فنی لحاظ سے اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ان دونوں کے درمیان جتنے بھی فرق ہیں ان سب کو مثالوں کے ساتھ واضح کیا جائے تاکہ علوم و فنون کے دیگر ابواب کی طرح...
تحصیل + تشکیل = تکمیل

یہ عنوان زندگی کو سمجھنے اور کامیاب بنانے کی ایک کنجی ہے۔ تحصیل سے مراد حاصل کرنا ہے، چاہے وہ مال ہو، علم ہو یا شہرت اور تشکیل سے مراد اس حاصل شدہ چیز کو سلیقے سے جوڑ دینا، ترتیب دے دینا اور مقصد کے ساتھ وابستہ کر دینا۔

تحصیل یعنی محض جمع کرتے جانے کو انگریزی میں کلیکشن کہتے ہیں، کلیکشن کے ساتھ اگر کنکشن (تشکیل) نہ ہو تو دل کو حقیقی چین نصیب نہیں ہوتا، اصل مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ ہمارے پاس کیا ہے بلکہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آپس میں کتنا...
تخلص خلاصے سے ہے، یہ اس مختصر نام کو کہتے ہیں جو شاعر اشعار میں خود کے لیے استعمال کرتا ہے، جیسے مرزا اسد اللہ خاں غالب کا تخلص غالب تھا، لیکن انھوں نے اپنے ابتدائی دور میں اسد کے نام سے بھی شاعری کی، بعد میں اسد نامی ایک اور شاعر سے مماثلت کی وجہ سے تخلص تبدیل کرکے غالب اختیار کیا جو ان کی پہچان بن گیا۔
شاعر کو تخلص رکھتے وقت درج ذیل باتیں مد نظر رکھنی چاہیے:
(1) نام اس کی شخصیت، مزاج اور شعری رجحان سے ہم آہنگ ہو۔ مثلا اگر کوئی شخص بہادر ہے اور شاعری...
ذہنی و قلبی سکون حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے اللہ تعالٰی سے مضبوط تعلق قائم کیا جائے، کیونکہ دلوں کا حقیقی سکون اسی کے ذکر میں ہے، نیز روزانہ پنج وقتہ نماز کا اہتمام، تلاوتِ قرآن کریم اور مختصر مگر مستقل ذکرِ الٰہی ہمیں اندر سے مضبوط کرتا ہے۔ علاوہ ازیں نیند پوری کرنا، موبائل اور سوشل میڈیا کا غیر ضروری استعمال کم کرنا، بازاری کھانوں اور فضول مصروفیات سے پرہیز بھی بہت مددگار ثابت ہوتا ہے، کیونکہ یہ سب چیزیں بھی اضطراب کو بڑھاتی ہیں۔ ان سب کے ساتھ ساتھ روزانہ پیدل چلنا، ورزش کرنا، لوگوں کے...
رباعی:
(شرائط و اوزان)

رباعی کی کل چار شرائط ہیں:
(1) چار مصرعے ہوں ، نہ کم نہ زیادہ۔
(2) پہلا ، دوسرا اور چوتھا مصرع ہم قافیہ ہو۔
(3) مضمون مکمل اور مربوط ہو اور آخری مصرع پر پوری رباعی معنوی لحاظ سے موقوف ہو۔
(4) رباعی اپنے مخصوص وزن میں ہے، جس کی تفصیل نیچے ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رباعی کا وزن آسان انداز میں:

رباعی کا یہ وزن ہے:
فعْلن فعْلن فعْلن فعْلن فعْلن

اس میں تین اجازتیں ہیں:

(1) دوسرے فعْلن میں 2 احتمال ہیں:
فعْلن / فعِلن

(2) تیسرے فعْلن میں 3 احتمال ہیں:
فعْلن / فعِلن /...
درس نظامی ایک بالکل غیر جانب دار اور بنیادی کورس ہے، اس کا مقصد نہ فرقہ واریت پڑھانا ہے نہ ہی مفتی بنانا، یہی وجہ ہے کہ یہ مکمل کورس طالبعلم کو نہ مربوط علم دیتا ہے، نہ کسی فن کا امام بناتا ہے، بلکہ یہ ہر ہر فن کی بیسک پڑھا کر طالبعلم کے اندر استعداد پیدا کردیتا ہے کہ وہ اپنے اس علمی سفر کو آگے جاری رکھ سکے، لہذا فضلائے درس نظامی درج ذیل امور ذہن میں رکھیں تو ان شاء اللہ ضرور ترقی کریں گے:
(1) لوگوں کو دینی مسائل بتانے میں حد درجے محتاط رہیں اور...
دورِ حاضر میں وقت بچانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے کلام لکھوا کر اس میں عروضی یا لسانی ترامیم کرنا تکنیکی اعتبار سے تو ممکن ہے ،لیکن ادبی و اخلاقی نقطہ نظر سے یہ عمل مستحسن نہیں ،کیونکہ شاعری خالصتاً انسانی جذبات، دلی کیفیات اور وجدان کی عکاس ہوتی ہے جو کسی مشین میں پیدا نہیں کیے جا سکتے۔ جہاں تک اس کلام کی ملکیت کا تعلق ہے ،چونکہ کلام کا بنیادی ڈھانچہ، خیال اور الفاظ کا انتخاب مشین کا ہوتا ہے اور انسان صرف اس کی نوک پلک سنوارتا ہے ،لہٰذا اسے مکمل طور پر اپنے...
شبِ برأت کے فضائل و اعمال

شبِ برأت کے فضائل:

(1) اس رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق کی تقسیم ہوتی ہے اور اسے اتارا جاتا ہے۔

(2) اس سال پیدا ہونے والے بچوں اور مرنے والے افراد کے نام لکھ لیے جاتے ہیں۔

(3) غروبِ آفتاب کے وقت سے ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت آسمانِ دنیا پر نزول فرماتی ہے اور پکارا جاتا ہے کہ ہے کوئی مغفرت، رزق یا عافیت طلب کرنے والا؟

(4) اللہ تعالیٰ قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ گناہ گاروں کی مغفرت کے فیصلے فرماتے ہیں۔

(5) اس رات میں بندوں کے...
ہر ماحول ہمیں کچھ نہ کچھ سکھاتا ہے۔

عیدی جمع کرتے بچوں سے مال کی وہ محبت سیکھیں جو جائز ہے اور زندگی کے بے شمار فرائض کی ادائیگی میں معاون ہوتی ہے۔

جائز درجے کے حبِّ مال سے مراد یہ ہے کہ مال کمانے کے لیے نہ حقوق اللہ کو پامال کیا جائے نہ حقوق العباد کو۔

زندگی میں معاشی کامیابی ہمیشہ محض دعاؤں یا تھکاوٹ کا نتیجہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک باقاعدہ حکمتِ عملی اور درست سمت میں کی گئی محنت کا ثمرہ ہے۔ دنیا آپ کو آپ کی تھکن کا معاوضہ کبھی نہیں دیتی، بلکہ اس بات کی قیمت...
اگر آپ از خود حالات کا تجزیہ نہیں کرسکتے تو ظاہر سی بات ہے کہ آپ کو دیگر تجزیہ کاروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے، بالکل کیجیے مگر دو باتوں کا خیال رکھیں ورنہ آپ حق تک نہیں پہنچ سکیں گے:
(1) کسی ایک تجزیہ کار سے عشق نہ فرمائیں بلکہ متعدد آراء رکھنے والوں کو پڑھیں۔
(2) اگر کسی نے تحریر میں کسی دوسرے انسان یا قوم یا ملک کی وہ بات لکھی ہو جو ابھی منظر پر نہیں آئی بلکہ ان کے دلوں میں ہی ہے تو اسے فورا قبول نہ کریں، مثلا: فلاں شخص یہ چاہتا ہے کہ...
جڑواں:

بڑا ہی سعادت مند بچہ ہے، ہر بات مانتا ہے۔ صرف ماننا کافی نہیں ہوتا، کام کو سمجھ کر اسے بخوبی پورا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے اس کام میں مکمل شوق اور توجہ کے ساتھ لگتا ہے۔

میرا کام چونکہ کئی جہات پر پھیلا ہوا ہے کہ ویب سائٹ بھی دیکھنی ہے، بلکہ ویب سائٹیں، یوٹیوب چینل کے بیسیوں کام، واٹس ایپ تدریس کی ہزارہا مصروفیات، پھر ان سب پر تصنیفی کام مستزاد، اکیلے بندے کا یہ کام ہی نہیں۔

میں نے سوچ رکھا تھا کہ اگر کوئی عالمِ دین مل گیا جو آئی ٹی کا بھی ماہر...
اپنا لکھا اپنا لکھا ہوتا ہے۔
اے آئی کو استعمال ضرور کرنا چاہیے، میں بھی کرتا ہوں مگر جو معلومات و کمالات میرے دائرۂ تحقیق سے باہر ہوں ان کی تحقیق یا ترمیم کرکے۔
ویسے میں سمجھتا ہوں کہ انسانی نگارشات بمقابلہ اے آئی زدہ تحریرات والا فرق و موازنہ بھی کچھ عرصے تک ہی کیا جائے گا، کیونکہ اے آئی بھی عام روٹین کا حصہ بنتا جارہا ہے، اب ہر بندہ "اپنی صلاحیت + اے آئی" سے تیار کردہ چیزیں ہی پیش کر رہا ہے۔ گویا پھر سب یکساں ہوگئے اور تنقید و تحسین کی کسوٹی بالآخر بتادے گی کہ تحریر...
صحبت اور انسانی مزاج پر ماحول کے اثرات ہوتے ہی ہوتے ہیں۔ انسان جس کے ساتھ زیادہ وقت گزارتا ہے لاشعوری طور پر اسی کے مزاج اور عادات کو اپنانے لگتا ہے۔ آپ اپنے تمام ان دوستوں اور ہم نشینوں کا ایوریج ہوتے ہیں جن کے ساتھ زیادہ تر وقت گزارتے ہیں۔
لہٰذا یہ دو فیصلے آپ کو لازمی کرنے چاہییں:
(1) آپ خود کو کیا بنانا چاہتے ہیں؟
(2) نمبر 1 کے لیے آپ کو کن لوگوں کے ساتھ زیادہ تر رہنا چاہیے۔

حتی کہ اگر آپ علم، عمل اور مال تینوں کی کثرت اور اعتدال چاہتے ہیں تو فقط ان لوگوں کے...
دین اور فہمِ دین میں فرق:

اسلامی معاشرے میں پیدا ہونے والے بیشتر فکری تنازعات اور شدت پسندی کی سب سے بڑی وجہ "دین" اور "فہمِ دین" کو ایک ہی درجے میں رکھنا ہے۔

دین وہ الہامی سچائی ہے جو قرآن و سنت میں محفوظ ہے اور ہر قسم کی غلطی سے پاک ہے، لہٰذا اس پر من و عن ایمان لانا ہر مسلمان پر فرض ہے، جبکہ فہمِ دین وہ انسانی کاوش ہے جس کے ذریعے کوئی عالم یا مفکر دین کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ چونکہ یہ ایک انسانی عمل ہے، لہٰذا اس میں غلطی کا امکان ہمیشہ...
طالبِ دعا: محمد اسامہ سَرسَری