ایک شخص نے ایک مرغا پالا ہوا تھا۔
ایک دن اس نے سوچا کہ مرغے کو ذبح کیا جائے, لیکن تھا کم بخت بامروت، سوچا کوئی بہانہ بنا کر ذبح کروں گا، سو اس نے مرغے سے کہا:
’’کل سے اذان نہیں دینی، ورنہ ذبح کر دوں گا۔‘‘
مرغے نے کہا: ’’ٹھیک ہے آقا! جو آپ کی مرضی۔‘‘
صبح اذان کا وقت ہوا تو مالک نے دیکھا کہ مرغے نے اذان تو نہیں دی، مگر عادت کے مطابق اپنے پر زور زور سے پھڑپھڑا دیے۔
مالک نے اگلا فرمان جاری کیا:
’’کل سے پر بھی نہیں مارنے، ورنہ ذبح کر دوں گا۔‘‘
اگلی صبح مرغے نے حکم...
ایک شخص نے ایک مرغا پالا ہوا تھا۔
ایک دن اس نے سوچا کہ مرغے کو ذبح کیا جائے, لیکن تھا کم بخت بامروت، سوچا کوئی بہانہ بنا کر ذبح کروں گا، سو اس نے مرغے سے کہا:
’’کل سے اذان نہیں دینی، ورنہ ذبح کر دوں گا۔‘‘
مرغے نے کہا: ’’ٹھیک ہے آقا! جو آپ کی مرضی۔‘‘
صبح اذان کا وقت ہوا تو مالک نے دیکھا کہ مرغے نے اذان تو نہیں دی، مگر عادت کے مطابق اپنے پر زور زور سے پھڑپھڑا دیے۔
مالک نے اگلا فرمان جاری کیا:
’’کل سے پر بھی نہیں مارنے، ورنہ ذبح کر دوں گا۔‘‘
اگلی صبح مرغے نے حکم کی تعمیل کی۔ پر نہیں ہلائے، مگر عادت سے مجبور ہو کر گردن لمبی کر کے اوپر اٹھا لی۔
مالک نے اگلا حکم دیا: ’’کل سے گردن بھی نہیں ہلنی چاہیے۔‘‘
اگلے دن اذان کے وقت مرغا بالکل خاموش، مرغا بنا بیٹھا رہا۔
مالک نے سوچا، یہ تو بات نہیں بنی۔ اب اس نے ایک ایسی بات سوچی جو واقعی بے چارے مرغے کے بس کی نہ تھی۔
سو بولا: ’’کل صبح سے انڈا دینا ہے، ورنہ ذبح کر دوں گا۔‘‘
اب مرغے کو اپنی موت صاف نظر آنے لگی۔
وہ زار و قطار رونے لگا۔
مالک نے پوچھا: ’’کیا بات ہے؟ موت کے ڈر سے رو رہے ہو؟‘‘
مرغے کا جواب بڑا کمال کا تھا:
’’نہیں… اس بات پر رو رہا ہوں کہ انڈے سے بہتر تھا اذان پر مرتا۔‘‘
سو جب مرنا ہی مقدر ہے تو مالک دو جہاں سے جنگ کرکے کیوں مرا جاوے،
سود اللہ رب العزت سے کھلی جنگ ہے۔
مولانا محمد علی جوہر کے چند اشعار پیش خدمت ہیں:
تم یوں ہی سمجھنا کہ فنا میرے لیے ہے
پر غیب سے سامانِ بقا میرے لیے ہے
ہیں یوں تو فدا ابرِ سیہ پر سبھی مے کش
پر آج کی گھنگھور گھٹا میرے لیے ہے
کیا ڈر ہے جو ہو ساری خدائی بھی مخالف
کافی ہے اگر ایک خدا میرے لیے ہے
توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے
اے آئی مواد کا چغل خور سسٹم:
یہ گوگل کی تیار کردہ ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو انٹرنیٹ پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائے گئے جعلی مواد کی پہچان کرنے میں مدد کرتی ہے۔ اس سسٹم کا نام "سنتھ آئی ڈی (SynthID)" ہے۔
یہ سسٹم تصاویر اور ویڈیوز کے بیک گراؤنڈ میں ایک ایسا پوشیدہ یا غیر مرئی واٹر مارک لگا دیتا ہے جسے عام آنکھ سے نہیں دیکھا جا سکتا، جبکہ مخصوص سافٹ ویئر کے ذریعے اس کی موجودگی کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔
گوگل اب تک 100 ارب سے زائد ڈیجیٹل مواد پر یہ واٹر مارک لگا چکا ہے، جبکہ...
اے آئی مواد کا چغل خور سسٹم:
یہ گوگل کی تیار کردہ ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو انٹرنیٹ پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائے گئے جعلی مواد کی پہچان کرنے میں مدد کرتی ہے۔ اس سسٹم کا نام "سنتھ آئی ڈی (SynthID)" ہے۔
یہ سسٹم تصاویر اور ویڈیوز کے بیک گراؤنڈ میں ایک ایسا پوشیدہ یا غیر مرئی واٹر مارک لگا دیتا ہے جسے عام آنکھ سے نہیں دیکھا جا سکتا، جبکہ مخصوص سافٹ ویئر کے ذریعے اس کی موجودگی کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔
گوگل اب تک 100 ارب سے زائد ڈیجیٹل مواد پر یہ واٹر مارک لگا چکا ہے، جبکہ اب اوپن اے آئی، مائیکروسافٹ اور این ویڈیا جیسے بڑے عالمی ادارے بھی اس نظام کو اپنا رہے ہیں تاکہ اسے انٹرنیٹ پر تصاویر اور ویڈیوز کی اصل پہچان کا ایک متفقہ عالمی معیار بنایا جا سکے۔
تصاویر اور ویڈیوز کے ساتھ ساتھ سنتھ آئی ڈی میں تحریر (ٹیکسٹ) کی شناخت کا نظام بھی شامل کیا گیا ہے۔ جب کوئی اے آئی ماڈل تحریر بناتا ہے تو وہ ہر اگلے لفظ کے انتخاب کے لیے کئی متبادل الفاظ کا ایک خاص حسابی اسکور نکالتا ہے۔ سنتھ آئی ڈی ایک خفیہ کلید کا استعمال کرتے ہوئے حتمی انتخاب سے ذرا پہلے ان اسکورز میں نہایت باریک تبدیلی کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے الفاظ کی ترتیب میں ایک خاص ریاضیاتی رجحان پیدا ہو جاتا ہے۔
یہ حسابی تبدیلی اتنی خوبی سے ہوتی ہے کہ پڑھنے والے کے لیے اس کا اندازہ لگانا ناممکن ہوتا ہے اور جملوں کی روانی بالکل عام تحریر جیسی رہتی ہے، لیکن جب اس تحریر کو مخصوص اسکینر میں ڈالا جاتا ہے تو وہ اسکورز کا الٹا حساب لگا کر اس پوشیدہ ریاضیاتی پیٹرن کو اسکین کر لیتا ہے اور حتمی تصدیق کر دیتا ہے کہ یہ متن اے آئی نے ہی تیار کیا ہے۔
مارکیٹ میں موجود عام اے آئی ڈیٹیکٹرز اکثر انسانی تحریر کو بھی غلطی سے اے آئی قرار دے دیتے ہیں، لیکن سنتھ آئی ڈی کا یہ واٹر مارکنگ نظام محض اندازوں پر نہیں، بلکہ تحریر میں موجود ٹھوس حسابی ثبوت کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے، چنانچہ اب اسی کو انڈسٹری کا سب سے مستند اور پروفیشنل حل مانا جا رہا ہے۔
طویل ترین تحریر اگر ادبی چاشنی اور علمی حوالہ جات سے خالی ہو تو کاپی کرکے اے آئی کو دیجیے اور کہیے کہ ٹو دی پوائنٹ خلاصہ کردیجیے۔ 🙂
طویل ترین تحریر اگر ادبی چاشنی اور علمی حوالہ جات سے خالی ہو تو کاپی کرکے اے آئی کو دیجیے اور کہیے کہ ٹو دی پوائنٹ خلاصہ کردیجیے۔ 🙂
الحمدللہ ”اردوچہ“ کی برکت سے معیاری مطالعے کا بہترین سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ اب میں مطالعے کے لیے سب سے پہلے اردوچہ کا رخ کرتا ہوں، احباب کو اللہ جزائے خیر عطا فرمائے کہ سینکڑوں تحریریں اب تک اپلوڈ ہوچکی ہیں، کام بھی آسان ہے کہ جب بھی اردوچہ کھولو تو وہی تحریریں سامنے آتی ہیں جن کا مطالعہ نہیں کیا۔
نوٹ: تحریر پر موجود ”مزید دیکھیں“ پر کلک کرنے یا ”مطالعہ کرلیا“ والے بٹن کو دبانے سے وہ تحریر مطالعہ کردہ کی فہرست میں شامل ہوجاتی ہے۔
الحمدللہ ”اردوچہ“ کی برکت سے معیاری مطالعے کا بہترین سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ اب میں مطالعے کے لیے سب سے پہلے اردوچہ کا رخ کرتا ہوں، احباب کو اللہ جزائے خیر عطا فرمائے کہ سینکڑوں تحریریں اب تک اپلوڈ ہوچکی ہیں، کام بھی آسان ہے کہ جب بھی اردوچہ کھولو تو وہی تحریریں سامنے آتی ہیں جن کا مطالعہ نہیں کیا۔
نوٹ: تحریر پر موجود ”مزید دیکھیں“ پر کلک کرنے یا ”مطالعہ کرلیا“ والے بٹن کو دبانے سے وہ تحریر مطالعہ کردہ کی فہرست میں شامل ہوجاتی ہے۔
اے آئی ٹولز بہت تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، ہنر کی اصل ترقی کسی مخصوص ٹول کو سیکھنے میں نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی کے ارتقا کے ساتھ خود کو ڈھالنے کی صلاحیت میں پوشیدہ ہے۔ 🙂
اے آئی ٹولز بہت تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، ہنر کی اصل ترقی کسی مخصوص ٹول کو سیکھنے میں نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی کے ارتقا کے ساتھ خود کو ڈھالنے کی صلاحیت میں پوشیدہ ہے۔ 🙂
مرزا اقبال مرادآبادی کو ان کے نوتعیناتی بے ذوق ملازم نے چائے پیش کی تو انھوں نے پیالی ہاتھ میں لی اور محبت سے اسے پاس بٹھا کر اپنا فارسی زدہ بلکہ فارسی سے زیادہ پیچیدہ شعر ایسے سنایا گویا انعام سے نواز رہے ہوں۔
ملازم نہایت معصومیت سے بولا: ”حضور! اگر آپ کو سینے میں زیادہ درد ہے تو میں دوڑ کر حکیم صاحب کو بلا لاؤں؟“
مرزا صاحب بڑبڑائے: ”بندر کیا جانے ادرک کا سواد“ اور ملازم باہر چلا گیا، انھوں نے بھی بے اختیار سکھ کا سانس لیا۔
مگر یہ سکھ ایک گھنٹے بعد ہی دکھ میں بدل گیا...
مرزا اقبال مرادآبادی کو ان کے نوتعیناتی بے ذوق ملازم نے چائے پیش کی تو انھوں نے پیالی ہاتھ میں لی اور محبت سے اسے پاس بٹھا کر اپنا فارسی زدہ بلکہ فارسی سے زیادہ پیچیدہ شعر ایسے سنایا گویا انعام سے نواز رہے ہوں۔
ملازم نہایت معصومیت سے بولا: ”حضور! اگر آپ کو سینے میں زیادہ درد ہے تو میں دوڑ کر حکیم صاحب کو بلا لاؤں؟“
مرزا صاحب بڑبڑائے: ”بندر کیا جانے ادرک کا سواد“ اور ملازم باہر چلا گیا، انھوں نے بھی بے اختیار سکھ کا سانس لیا۔
مگر یہ سکھ ایک گھنٹے بعد ہی دکھ میں بدل گیا جب وہ ملازم ایک عدد بندر اور حکیم صاحب کے ساتھ مسکراتا ہوا کمرے میں داخل ہوا۔
اس سے آگے کی کہاوت آپ پر چھوڑتا ہوں۔ 🙂
مستفید: فائدہ اٹھانے والا
مستفیض: پھیلنے والی خبر
مستفیظ: موت کا متمنی
مستفیذ اور مستفیز مہمل ہیں۔ 🙂
مستفید: فائدہ اٹھانے والا
مستفیض: پھیلنے والی خبر
مستفیظ: موت کا متمنی
مستفیذ اور مستفیز مہمل ہیں۔ 🙂
فلسفے کے طلبۂ کرام کے لیے پہلا سبق یہ ہے کہ چھ بنیادی ستون ہیں جن پر پورے فلسفے کی پوری عمارت کھڑی ہے:
(1) منطق (Logic):
یہ استدلال کا علم ہے۔ اس میں یہ بحث ہوتی ہے کہ صحیح اور غلط دلیل میں کیا فرق ہے اور درست نتیجہ کیسے نکالا جائے۔
(2) مابعد الطبیعیات (Metaphysics):
یہ کائنات، وجود، خدا، روح اور وقت جیسے موضوعات پر بحث کرتا ہے، یعنی وہ چیزیں جو ہمارے ظاہری حواس سے ماورا ہیں۔
(3) علمیات (Epistemology):
اس میں علم کی نوعیت پر بات ہوتی ہے کہ ہم جو کچھ جانتے ہیں وہ کیسے...
فلسفے کے طلبۂ کرام کے لیے پہلا سبق یہ ہے کہ چھ بنیادی ستون ہیں جن پر پورے فلسفے کی پوری عمارت کھڑی ہے:
(1) منطق (Logic):
یہ استدلال کا علم ہے۔ اس میں یہ بحث ہوتی ہے کہ صحیح اور غلط دلیل میں کیا فرق ہے اور درست نتیجہ کیسے نکالا جائے۔
(2) مابعد الطبیعیات (Metaphysics):
یہ کائنات، وجود، خدا، روح اور وقت جیسے موضوعات پر بحث کرتا ہے، یعنی وہ چیزیں جو ہمارے ظاہری حواس سے ماورا ہیں۔
(3) علمیات (Epistemology):
اس میں علم کی نوعیت پر بات ہوتی ہے کہ ہم جو کچھ جانتے ہیں وہ کیسے جانتے ہیں، علم حاصل کرنے کے ذرائع کیا ہیں اور انسانی علم کی حدود کیا ہیں۔
(4) اخلاقیات (Ethics):
یہ انسانی رویوں کا مطالعہ ہے کہ خیر اور شر کا معیار کیا ہے اور انسان کو کیسی زندگی گزارنی چاہیے۔
(5) جمالیات (Aesthetics):
یہ خوبصورتی، ذوق اور فنون لطیفہ (آرٹ) کی حقیقت پر بحث کرتا ہے کہ حسن کیا ہے اور اسے کیسے محسوس کیا جاتا ہے۔
(6) سیاسیات (Political Philosophy):
اس میں ریاست، قانون، انصاف اور حکومت کے ڈھانچے پر بحث ہوتی ہے کہ ایک مثالی معاشرہ کیسے قائم کیا جائے۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
سورۂ فجر کی ابتدائی چار آیات میں اللہ تعالیٰ نے کائنات کی چند اہم نشانیوں اور بابرکت اوقات کی قسم کھائی ہے۔
پہلی آیت "وَالْفَجْرِ" میں اللہ تعالیٰ نے فجر کی قسم کھائی ہے۔ مفسرین کے اقوال کے مطابق اس سے مراد صبح صادق کی روشنی، فجر کی نماز یا مطلق دن کا وقت ہے۔
دوسری آیت "وَلَيَالٍ عَشْرٍ" میں دس راتوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ مفسرین کے ہاں اس حوالے سے مختلف اقوال پائے جاتے ہیں۔ بعض نے اسے محرم کا ابتدائی عشرہ یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وہ مخصوص دس راتیں قرار دیا ہے جن سے ان کے...
سورۂ فجر کی ابتدائی چار آیات میں اللہ تعالیٰ نے کائنات کی چند اہم نشانیوں اور بابرکت اوقات کی قسم کھائی ہے۔
پہلی آیت "وَالْفَجْرِ" میں اللہ تعالیٰ نے فجر کی قسم کھائی ہے۔ مفسرین کے اقوال کے مطابق اس سے مراد صبح صادق کی روشنی، فجر کی نماز یا مطلق دن کا وقت ہے۔
دوسری آیت "وَلَيَالٍ عَشْرٍ" میں دس راتوں کی قسم کھائی گئی ہے۔ مفسرین کے ہاں اس حوالے سے مختلف اقوال پائے جاتے ہیں۔ بعض نے اسے محرم کا ابتدائی عشرہ یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وہ مخصوص دس راتیں قرار دیا ہے جن سے ان کے چالیس دن مکمل ہوئے تھے، لیکن امام طبری اور جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے مراد ذی الحج کی ابتدائی دس راتیں ہیں، کیونکہ احادیث کی رو سے یہ سال کے افضل ترین ایام ہیں۔
تیسری آیت "وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ" میں جفت اور طاق کی قسم کھائی گئی ہے۔ اس کے متعدد مفاہیم بیان کیے گئے ہیں۔ ایک مشہور قول کے مطابق جفت سے مراد قربانی کا دن (دس ذج الحج) اور طاق سے مراد یومِ عرفہ (نو ذی الحج) ہے۔ ایک اور تفسیری رائے یہ ہے کہ جفت سے مراد کائنات کی تمام مخلوقات ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے جوڑوں میں پیدا کیا، جبکہ طاق سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذاتِ وحدہٗ ہے۔ علاوہ ازیں اسے فرض نمازوں کی رکعات (یعنی فجر، ظہر، عصر و عشا جفت اور مغرب و وتر طاق) سے بھی تعبیر کیا گیا ہے، چنانچہ امام طبری کے نزدیک اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عموم کے ساتھ ہر طاق اور جفت چیز کی قسم کھائی ہے۔
چوتھی آیت "وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ" میں رات کے چلنے کی قسم کھائی گئی ہے۔ اس سے مراد رات کا وہ وقت ہے جب وہ گزرنے اور رخصت ہونے لگے۔ بعض مفسرین نے اسے خصوصی طور پر حجاج کے لیے مزدلفہ کی رات سے بھی منسوب کیا ہے۔
اب غور کیجیے کہ ابھی جبکہ ذی الحج کا چاند ہوچکا ہے ہم ان چاروں آیات کے جزوی مصداق والے بابرکت لمحات میں یا ان کے آس پاس ہیں کہ اگلی نماز فجر ہے، آج ان دس میں سے پہلی رات ہے، یہ رات اکیلی دیکھیں تو بھی طاق ہے اور دس میں سے دیکھیں تو نمبر ایک بھی طاق عدد ہے، جبکہ دس کا عدد جفت ہے جوکہ ابھی شروع ہوچکا ہے اور چوتھی آیت میں قسم ہے اس رات کی جب وہ چل کھڑی ہو، یہ رات چل پڑی ہے، ہم میں سے کسی کی نیکیوں کے ساتھ اور کسی کی برائیوں کے ساتھ، مزید لطف کی بات یہ ہے کہ ان چار آیات میں ایک لوپ ہے کہ "وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ" کے بعد پھر سے "وَالْفَجْرِ" کا آغاز ہوجائے گا جو جفت اور طاق والی تمام چیزوں کے ساتھ "وَلَيَالٍ عَشْرٍ" میں سے ایک پر ہمیں پھر پہنچا دے گی اور اس پر "وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ" پھر صادق آئے گا "وَالْفَجْرِ" تک۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
اپنا اپنا حمدیہ شعر دوبارہ لکھیں، میری غلطی سے سارے اشعار ڈیلیٹ ہوگئے ہیں، مگر مجھے رزلٹ یاد، لیکن اشعار یاد نہیں ۔ 🙂
اپنا اپنا حمدیہ شعر دوبارہ لکھیں، میری غلطی سے سارے اشعار ڈیلیٹ ہوگئے ہیں، مگر مجھے رزلٹ یاد، لیکن اشعار یاد نہیں ۔ 🙂
اردو چہ کیا ہے؟
یہ ایک ویب سائٹ ہے، جیسے فیس بک اور ٹوئٹر(ایکس) ویب سائٹس ہیں، اردوچہ میں آپ فقط اردو تحریر پوسٹ کرسکتے ہیں، اس کے علاوہ یہاں وقتا فوقتاً مسابقت اور مشاعرے جیسے متفرق سلسلے بھی منعقد ہوتے رہتے ہیں۔
اس ویب سائٹ کی خوبی یہ ہے کہ یہاں پوسٹوں کی تعداد کئی لاکھ ہو جائے تب بھی آپ اس انبار میں سے اپنی مطلوبہ تحریر درج ذیل میں سے کسی بھی طریقے سے تلاش کرسکتے ہیں:
(1) اوپر سرچ خانے میں تحریر یا لکھاری کے مخصوص الفاظ لکھ کر
(2) سرچ خانے کے برابر میں بٹن ”شرکاء“ پر کلک...
اردو چہ کیا ہے؟
یہ ایک ویب سائٹ ہے، جیسے فیس بک اور ٹوئٹر(ایکس) ویب سائٹس ہیں، اردوچہ میں آپ فقط اردو تحریر پوسٹ کرسکتے ہیں، اس کے علاوہ یہاں وقتا فوقتاً مسابقت اور مشاعرے جیسے متفرق سلسلے بھی منعقد ہوتے رہتے ہیں۔
اس ویب سائٹ کی خوبی یہ ہے کہ یہاں پوسٹوں کی تعداد کئی لاکھ ہو جائے تب بھی آپ اس انبار میں سے اپنی مطلوبہ تحریر درج ذیل میں سے کسی بھی طریقے سے تلاش کرسکتے ہیں:
(1) اوپر سرچ خانے میں تحریر یا لکھاری کے مخصوص الفاظ لکھ کر
(2) سرچ خانے کے برابر میں بٹن ”شرکاء“ پر کلک کریں، کسی بھی فرد پر کلک کریں تو اس کی تمام پوسٹیں آپ کے سامنے آجائیں گی۔
(3) سرچ خانے کے نیچے چھ فلٹر بٹن ہیں، ان میں شرکاء تو وہی ہے جو نمبر 2 میں بتایا، فرق یہ ہے کہ اس بٹن سے آپ ایک وقت میں ایک سے زائد شرکاء کو کلک کرکے سب کی پوسٹیں بیک وقت دیکھ سکتے ہیں۔
(4) چھ میں سے دوسرا بٹن ”ادباء“ کا ہے، اس پر کلک کرنے سے تمام تخلیق کاروں کی فہرست آجائے گی، ان میں سے کسی بھی ایک یا زیادہ پر کلک کرنے سے ان کی تمام شعری و نثری تخلیقات آجائیں گی۔ شرکاء اور ادباء کا فرق ضرور ملحوظ رکھیے گا، شرکاء وہ ہیں جنھوں نے یہاں پوسٹیں کی ہیں اور ادباء وہ ہیں جن کی تحریریں ان پوسٹوں میں ہیں۔
(4) تاریخ فلٹر سے مطلوبہ تاریخوں کی پوسٹیں دیکھ سکتے ہیں۔
(5) کاوشیں فلٹر سے آپ یہ طے کرسکتے ہیں آپ کو فقط شعری کاوشیں دیکھنی ہیں یا فقط نثری یا دونوں؟
(6) اصناف فلٹر سے آپ ہیئتی اور موضوعی تمام اصناف میں سے مطلوبہ اصناف فلٹر کرسکتے ہیں۔
(7) مزید ترتیبیں فلٹر سب سے دلچسپ ہے، اس میں آپ اپنے مطالعے، اپنی پسند، ادارے کے مقرر کردہ معیار، جاری سلسلے، اشتہاری پوسٹیں، زیادہ پسندکی جانے والی پوسٹیں، سب فلٹر کرسکتے ہیں۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
اردوچہ اردو زبان کی ترقی میں کوشاں ایک بالکل مفت پلیٹ فارم ہے جسے ماہرین الحمدللہ رضاکارانہ چلا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین! اردوچہ کی مزید ترقی کے لیے درج ذیل خدمات کے ماہرین سے توجہ کی درخواست ہے: (1) اردوچہ اور Urducha کی خطاطی (2) اردوچہ کا لوگو ڈیزائن (3) سوشل میڈیا مارکیٹنگ (4) آن لائن سیکیورٹی حفاظت کے لیے ماہرانہ مشورے (5) اردوچہ کے تعارف میں تحریر لکھیں یا ویڈیو بنائیں۔ کمنٹ میں بتائیے کہ آپ ان میں سے کون سا تعاون کر سکتے ہیں۔
اردوچہ اردو زبان کی ترقی میں کوشاں ایک بالکل مفت پلیٹ فارم ہے جسے ماہرین الحمدللہ رضاکارانہ چلا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین! اردوچہ کی مزید ترقی کے لیے درج ذیل خدمات کے ماہرین سے توجہ کی درخواست ہے: (1) اردوچہ اور Urducha کی خطاطی (2) اردوچہ کا لوگو ڈیزائن (3) سوشل میڈیا مارکیٹنگ (4) آن لائن سیکیورٹی حفاظت کے لیے ماہرانہ مشورے (5) اردوچہ کے تعارف میں تحریر لکھیں یا ویڈیو بنائیں۔ کمنٹ میں بتائیے کہ آپ ان میں سے کون سا تعاون کر سکتے ہیں۔
ٹیسٹنگ
ٹیسٹنگ
ٹیسنگ
ٹیسنگ
گزشتہ پوسٹ ایک تکنیکی خرابی کے باعث ڈیلیٹ ہوگئی۔
گزشتہ پوسٹ ایک تکنیکی خرابی کے باعث ڈیلیٹ ہوگئی۔
اللہ ہی ہمارا مالک ہے، سارا عالم اسی کا ہے، اس لئے دل کی گہرائی سے سارے مل کر کہو: اللہ لا الہ الا ھو
اللہ ہی ہمارا مالک ہے، سارا عالم اسی کا ہے، اس لئے دل کی گہرائی سے سارے مل کر کہو: اللہ لا الہ الا ھو
بغیر نقطے والی اردو کو ”اردوئے معراء“ کہتے ہیں، اس مسابقے میں آپ کو اردوئے معراء میں اللہ تعالیٰ کی تعریف لکھنی ہے، واضح رہے کہ آپ کے جواب میں ایک بھی ایسا حرف نہ ہو جس میں نقطہ ہو اور بات بھی بالکل مکمل ہو۔
بغیر نقطے والی اردو کو ”اردوئے معراء“ کہتے ہیں، اس مسابقے میں آپ کو اردوئے معراء میں اللہ تعالیٰ کی تعریف لکھنی ہے، واضح رہے کہ آپ کے جواب میں ایک بھی ایسا حرف نہ ہو جس میں نقطہ ہو اور بات بھی بالکل مکمل ہو۔
تبصرہ خانے میں اردوچہ کے بارے میں اپنی قیمتی رائے سے نوازیں،آپ کو یہ کیسا لگا اور آپ اس میں مزید کیا کچھ چاہتے ہیں؟ 🙂
تبصرہ خانے میں اردوچہ کے بارے میں اپنی قیمتی رائے سے نوازیں،آپ کو یہ کیسا لگا اور آپ اس میں مزید کیا کچھ چاہتے ہیں؟ 🙂
اردوچہ اردو زبان کی ترقی میں کوشاں ایک بالکل مفت پلیٹ فارم ہے جسے ماہرین الحمدللہ رضاکارانہ چلا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین!
اردوچہ کی مزید ترقی کے لیے درج ذیل خدمات کے ماہرین سے توجہ کی درخواست ہے:
(1) اردوچہ اور Urducha کی خطاطی
(2) اردوچہ کا لوگو ڈیزائن
(3) ویب سائٹ کی نگرانی کے لیے ماہر شاعر و ادیب کا وقت
(4) سوشل میڈیا مارکیٹنگ
(5) اخبارات و رسائل کے اشتہارات
(6) آن لائن سیکیورٹی حفاظت کے لیے ماہرانہ مشورے
(7) لکھنے والے اس کے بارے میں لکھیں۔
(8) یوٹیوبرز اور ٹک ٹاکرز اس پر ویڈیو بنائیں۔
(9) پوسٹ...
اردوچہ اردو زبان کی ترقی میں کوشاں ایک بالکل مفت پلیٹ فارم ہے جسے ماہرین الحمدللہ رضاکارانہ چلا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین!
اردوچہ کی مزید ترقی کے لیے درج ذیل خدمات کے ماہرین سے توجہ کی درخواست ہے:
(1) اردوچہ اور Urducha کی خطاطی
(2) اردوچہ کا لوگو ڈیزائن
(3) ویب سائٹ کی نگرانی کے لیے ماہر شاعر و ادیب کا وقت
(4) سوشل میڈیا مارکیٹنگ
(5) اخبارات و رسائل کے اشتہارات
(6) آن لائن سیکیورٹی حفاظت کے لیے ماہرانہ مشورے
(7) لکھنے والے اس کے بارے میں لکھیں۔
(8) یوٹیوبرز اور ٹک ٹاکرز اس پر ویڈیو بنائیں۔
(9) پوسٹ میں دی گئی تفصیلات اپنے اپنے واٹس ایپ گروپس میں شئیر کریں۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
کمال یہ بھی نہیں کہ آپ اے کے خلاف یا موافقت میں لکھ رہے ہیں۔
کمال یہ بھی نہیں کہ آپ اے آئی کے بارے میں کیا کچھ جانتے ہیں؟
کیونکہ طرفین کے دلائل اور اے آئی کی معلومات آپ سے اچھی اے آئی دے سکتا ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ آپ اے آئی کو کتنا استعمال کر رہے ہیں؟ اور کتنا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
کمال یہ بھی نہیں کہ آپ اے کے خلاف یا موافقت میں لکھ رہے ہیں۔
کمال یہ بھی نہیں کہ آپ اے آئی کے بارے میں کیا کچھ جانتے ہیں؟
کیونکہ طرفین کے دلائل اور اے آئی کی معلومات آپ سے اچھی اے آئی دے سکتا ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ آپ اے آئی کو کتنا استعمال کر رہے ہیں؟ اور کتنا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
اے آئی سے کام لینے کا درست طریقہ یہ ہے کہ ساتھ اپنی تحقیق و مراجعت بھی کرلی جائے، وقت بہت بچتا ہے، اندھا اعتماد تو اپنے انسانی علمی معاون پر بھی کرنا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ 🙂
انسان بمقابلہ اے آئی = انسان 👍
اے آئی کا ماہر انسان بمقابلہ عام انسان = اے آئی کا ماہر 👍
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
اے آئی سے کام لینے کا درست طریقہ یہ ہے کہ ساتھ اپنی تحقیق و مراجعت بھی کرلی جائے، وقت بہت بچتا ہے، اندھا اعتماد تو اپنے انسانی علمی معاون پر بھی کرنا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ 🙂
انسان بمقابلہ اے آئی = انسان 👍
اے آئی کا ماہر انسان بمقابلہ عام انسان = اے آئی کا ماہر 👍
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
دینی شعبوں میں کام کرنے والے احباب جیسے مؤذن، امام، مدرس، مصنف وغیرہ (جن کا ذریعۂ معاش دینی خدمات سے وابستہ ہے) یہ نیت نہ رکھیں کہ یہ کام اس لیے کر رہے ہیں تاکہ پیسے ملیں، بلکہ یہ نیت کریں کہ پیسے اس لیے کمانے ہیں تاکہ دینی خدمات زیادہ سے زیادہ کرسکیں۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
دینی شعبوں میں کام کرنے والے احباب جیسے مؤذن، امام، مدرس، مصنف وغیرہ (جن کا ذریعۂ معاش دینی خدمات سے وابستہ ہے) یہ نیت نہ رکھیں کہ یہ کام اس لیے کر رہے ہیں تاکہ پیسے ملیں، بلکہ یہ نیت کریں کہ پیسے اس لیے کمانے ہیں تاکہ دینی خدمات زیادہ سے زیادہ کرسکیں۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
اگر کوئی مبتدی شاعر بڑے شعرا کے کلام کا مطالعہ کرتے ہوئے ان کے تخیل یا اسلوب سے متاثر ہو کر اپنے اشعار میں اسی قسم کی فکری فضا یا مشابہ انداز اختیار کرتا ہے تو یہ بذاتِ خود عیب نہیں، بلکہ ابتدائی درجے میں یہ ایک فطری عمل اور خوبی ہے، کیونکہ سیکھنے کے مرحلے میں ذہن پر اثرات پڑتے ہیں۔ البتہ اگر طویل فقرے یا مکمل مصرعے بغیر کسی تبدیلی کے لے لیے جائیں اور اپنی طرف منسوب کیے جائیں تو یہ ادبی سرقہ کہلایا جاسکتا ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ شاعر کو مطالعے کے ساتھ ساتھ اپنا...
اگر کوئی مبتدی شاعر بڑے شعرا کے کلام کا مطالعہ کرتے ہوئے ان کے تخیل یا اسلوب سے متاثر ہو کر اپنے اشعار میں اسی قسم کی فکری فضا یا مشابہ انداز اختیار کرتا ہے تو یہ بذاتِ خود عیب نہیں، بلکہ ابتدائی درجے میں یہ ایک فطری عمل اور خوبی ہے، کیونکہ سیکھنے کے مرحلے میں ذہن پر اثرات پڑتے ہیں۔ البتہ اگر طویل فقرے یا مکمل مصرعے بغیر کسی تبدیلی کے لے لیے جائیں اور اپنی طرف منسوب کیے جائیں تو یہ ادبی سرقہ کہلایا جاسکتا ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ شاعر کو مطالعے کے ساتھ ساتھ اپنا فکری رنگ، اسلوب اور ندرت پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، تاکہ وہ نقل سے نکل کر اصل کی طرف آ سکے۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
شعراء کو چاہیے کہ فن میں مہارت حاصل کرلینے کے بعد اپنے اس فن کو محض ایک آلہ تصور کریں اور اپنا مقصد، نظریہ، اہداف سب کچھ طے کریں، اس کے مطابق اس فن کو استعمال کریں، اکثر شعراء کو دیکھا ہے کہ وہ اپنے فن کو استعمال کرنے کے بجائے خود اپنے فن کے ہاتھوں استعمال ہورہے ہوتے ہیں اور نام دیتے ہیں اسے الہامی شاعری کا، اللہ کے بندو! اگر الہام سے مراد آپ وحی لیتے ہیں تو اس کا دروازہ بند ہوچکا ہے، نیز یہ سوچ انتہائی خطرناک ہے اور اگر الہام سے مراد یہ ہے کہ...
شعراء کو چاہیے کہ فن میں مہارت حاصل کرلینے کے بعد اپنے اس فن کو محض ایک آلہ تصور کریں اور اپنا مقصد، نظریہ، اہداف سب کچھ طے کریں، اس کے مطابق اس فن کو استعمال کریں، اکثر شعراء کو دیکھا ہے کہ وہ اپنے فن کو استعمال کرنے کے بجائے خود اپنے فن کے ہاتھوں استعمال ہورہے ہوتے ہیں اور نام دیتے ہیں اسے الہامی شاعری کا، اللہ کے بندو! اگر الہام سے مراد آپ وحی لیتے ہیں تو اس کا دروازہ بند ہوچکا ہے، نیز یہ سوچ انتہائی خطرناک ہے اور اگر الہام سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی مدد فرمارہے ہیں تو اس کے لیے بھی ضابطہ یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے دین کو پھیلانے کی صحیح طریقے سے کوشش کر رہے ہوں، اس کے باوجود ہر انہونی کو اللہ کی مدد کہنا محض آپ کا گمان ہے، ہمارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ ہمارا یہ خیال ہم پر اللہ کی مدد ہے، شیطان کو بھی اللہ نے وسواس بنایا ہے، اسے بھی ہمارے تخیل کی راہ کا شکاری بنایا ہے، کیا آپ کے پیش کردہ خیالات شیطانی نہیں ہوسکتے؟ بالخصوص جبکہ بہت سے اشعار میں محسوس بھی یہی ہورہا ہوتا ہے کہ یا اللہ پر طنز ہوتا ہے یا اسلام پر یا کسی بھی شعائرِ اسلام پر بے باکانہ تبصرہ کیا جارہا ہوتا ہے، کیا یہ خیالات اللہ کی مدد کہے جاسکتے ہیں؟ ہرگز نہیں، سو پہلے اپنے نظریات ، اپنا راستہ، اپنا وژن چنیں، پھر اپنے اس فن کو بطور آلہ استعمال کریں۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
آنکھوں اور کانوں کے راستے ہمیں جتنی باتیں معلوم ہورہی ہیں ان میں سب سے پہلا فلٹر یہ لگائیں کہ یہ بات خبر ہے یا اگلے کی رائے؟ اگر رائے ہے تو اسے بطور رائے کے رکھ کر اختلاف یا اتفاق کا حق اپنے پاس محفوظ رکھ لیں۔
اور اگر وہ خبر ہے تو اسے بھی من و عن قبول نہ کرلیا کریں، کیونکہ اس صورت میں آپ کا دماغ فقط ایک اخبار کی حیثیت اختیار کرلے گا جس میں جھوٹ اور سچ ساری خبریں ہوتی ہیں۔
بد قسمتی سے آج ہم سارا دن انھی خبروں کا بے تحاشا تبادلہ کرکے...
آنکھوں اور کانوں کے راستے ہمیں جتنی باتیں معلوم ہورہی ہیں ان میں سب سے پہلا فلٹر یہ لگائیں کہ یہ بات خبر ہے یا اگلے کی رائے؟ اگر رائے ہے تو اسے بطور رائے کے رکھ کر اختلاف یا اتفاق کا حق اپنے پاس محفوظ رکھ لیں۔
اور اگر وہ خبر ہے تو اسے بھی من و عن قبول نہ کرلیا کریں، کیونکہ اس صورت میں آپ کا دماغ فقط ایک اخبار کی حیثیت اختیار کرلے گا جس میں جھوٹ اور سچ ساری خبریں ہوتی ہیں۔
بد قسمتی سے آج ہم سارا دن انھی خبروں کا بے تحاشا تبادلہ کرکے ایک دوسرے کو اخباروں کا پلندا بنانے میں مصروف ہے، یوں ہم اپنے اور دوسروں کے شعور کو شرور میں بدل کر بہت بڑا ظلم کر رہے ہیں۔
اس ظلم سے بچنے کے لیے ہمیں دو کام کرنے ہیں:
(الف) کسی ایک یا متعدد موضوعات میں مہارت حاصل کریں تاکہ غلط اور صحیح خبروں میں فرق کرسکیں۔
خبروں کے موضوعات عموما یہ ہوتے ہیں:
(1) مذہبی (2) سیاسی (3) طبی (4) سائنسی (5) تاریخی (6) جغرافیائی
ممکن ہے کہ مزید موضوعات بھی ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان میں سے کچھ موضوعات باہم مخلوط ہوجائیں جیسے یہ بھی ممکن ہے کہ ایک موضوع کے ذیلی موضوعات بھی کئی سارے ہوں۔
(ب) دوسرا کام یہ کرنا ہے کہ جو خبر بھی حاصل ہو اسے پہلے فلٹر کریں۔
فلٹر کرنے کے دو طریقے ہیں:
(1) وہ خبر جس موضوع کی ہے اس میں اتنی مہارت حاصل کرلیں کہ از خود آپ اس خبر کی تصحیح یا تغلیط کرسکیں۔
(2) وہ خبر جس موضوع پر ہے اگر خبر دینے والا اس موضوع کا ماہر ہے تو اس خبر میں صحیح ہونے کا امکان زیادہ ہے، لہٰذا اسے فی الحال قبول کرلیں۔ اور اگر وہ اس موضوع کا ماہر نہیں تو اس سے اختلاف یا اتفاق کا حق اپنے پاس محفوظ رکھ لیں۔
اب دو چیزیں حل طلب ہیں:
(1) دوسروں کی رائے
(2) وہ خبر جو کسی غیر ماہر سے حاصل ہوئی اور ہمیں بھی اس کی تحقیق نہیں۔
ان دونوں پر بات پھر کبھی سہی ان شاء اللہ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
حالات حاضرہ سے باخبر رہنا ضروری ہے مگر باخبر رہنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ ہر بات پر آنکھ بند کرکے یقین نہ کریں، بلکہ یہ دیکھیں کہ جو نئی بات آپ کے سامنے آئی ہے خواہ وہ کسی بڑے سے بڑے عالم کی طرف سے آئے یا کسی اخبار سے یا کسی سوشل میڈیائی ذریعے سے، اسے فلٹر کریں اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ یہ دیکھیں کہ وہ بات خبر ہے یا رائے؟
خبر کی مثال:
فلاں جھڑپ میں اتنے لوگ جاں بحق ہوگئے۔
رائے کی مثال:
فلاں جھڑپ میں اتنے لوگ شہید ہوگئے۔
فلاں جھڑپ میں اتنے لوگ ہلاک ہوگئے۔
کرنا...
حالات حاضرہ سے باخبر رہنا ضروری ہے مگر باخبر رہنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ ہر بات پر آنکھ بند کرکے یقین نہ کریں، بلکہ یہ دیکھیں کہ جو نئی بات آپ کے سامنے آئی ہے خواہ وہ کسی بڑے سے بڑے عالم کی طرف سے آئے یا کسی اخبار سے یا کسی سوشل میڈیائی ذریعے سے، اسے فلٹر کریں اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ یہ دیکھیں کہ وہ بات خبر ہے یا رائے؟
خبر کی مثال:
فلاں جھڑپ میں اتنے لوگ جاں بحق ہوگئے۔
رائے کی مثال:
فلاں جھڑپ میں اتنے لوگ شہید ہوگئے۔
فلاں جھڑپ میں اتنے لوگ ہلاک ہوگئے۔
کرنا یہ ہے کہ ہر خبر پر گہری نظر رکھیں اور ہر رائے کو خود پر اثر انداز ہونے سے روک کر اس سے اختلاف یا اتفاق کرنے کے لیے اسے معلق رکھیں۔
اگر کسی بابت اپنی رائے مصدقہ خبروں کی بنیاد پر آپ بنا چکے ہیں تو اس میں غلطی کے احتمال کو ہمیشہ مد نظر رکھیں۔
اور اگر کسی بابت اپنی رائے نہ بنا سکیں تو اس پر ہرگز کسی گفتگو میں حصہ نہ لیں الا یہ کہ آپ کا انداز سوالیہ ہو اور آپ کا سوال اس رائے کی ترویج کا باعث نہ بنے۔
یہ میری رائے ہے۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
کلام کو نثر سے نکالنے والی چیز بحر ہے، بلاوجہ الفاظ کی نشست تبدیل کرنا درست نہیں، البتہ بحر و وزن کی خاطر اگر کسی لفظ کی نشست بدلنی پڑے تو اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ نہ معنی بدلے، نہ خلاف استعمال صورت بنے۔
اب ان سب کی مثالیں دیکھیے۔
نثر کی مثال:
تو نے محمد سے وفا کی تو ہم تیرے ہیں، یہ جہاں کیا چیز ہے، لوح اور قلم تیرے ہیں۔
بحر میں لانے کی مثال:
فاعلاتن فعِلاتن فعِلاتن فعلن
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
بلاوجہ نشست بدلنے...
کلام کو نثر سے نکالنے والی چیز بحر ہے، بلاوجہ الفاظ کی نشست تبدیل کرنا درست نہیں، البتہ بحر و وزن کی خاطر اگر کسی لفظ کی نشست بدلنی پڑے تو اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ نہ معنی بدلے، نہ خلاف استعمال صورت بنے۔
اب ان سب کی مثالیں دیکھیے۔
نثر کی مثال:
تو نے محمد سے وفا کی تو ہم تیرے ہیں، یہ جہاں کیا چیز ہے، لوح اور قلم تیرے ہیں۔
بحر میں لانے کی مثال:
فاعلاتن فعِلاتن فعِلاتن فعلن
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
بلاوجہ نشست بدلنے کی مثال:
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم ہیں تیرے
چیز کیا ہے یہ جہاں، لوح و قلم ہیں تیرے
معنی بدلنے کی مثال:
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
چیز یہ کیا ہے جہاں، لوح و قلم تیرے ہیں
خلاف استعمال کی مثال:
کی محمد سے وفا تو نے، قلم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و ہم تیرے ہیں
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
اکائی، دہائی، سینکڑہ، ہزار، دس ہزار، لاکھ، دس لاکھ (یعنی ایک ملین)، کروڑ، دس کروڑ، ارب، دس ارب، کھرب، اور اسی طرح آگے بھی تعداد بڑھتی رہتی ہے۔ دہائی کا نظام دراصل ہر جگہ "دس کے گنا" پر قائم ہے، یعنی ہر دہائی گزرنے پر عدد میں ایک اضافی صفر آتا ہے۔ اعداد کی حد کوئی فطری حد نہیں ہے، جتنا حساب آگے بڑھتا جائے، دہائیاں بھی بڑھتی جاتی ہیں۔ مثلاً کھرب کے بعد نیل، نیل کے بعد شَنک وغیرہ نام دیے گئے ہیں، لیکن عام طور پر روزمرہ کے استعمال میں ارب یا کھرب تک کی دہائیاں ہی دیکھی...
اکائی، دہائی، سینکڑہ، ہزار، دس ہزار، لاکھ، دس لاکھ (یعنی ایک ملین)، کروڑ، دس کروڑ، ارب، دس ارب، کھرب، اور اسی طرح آگے بھی تعداد بڑھتی رہتی ہے۔ دہائی کا نظام دراصل ہر جگہ "دس کے گنا" پر قائم ہے، یعنی ہر دہائی گزرنے پر عدد میں ایک اضافی صفر آتا ہے۔ اعداد کی حد کوئی فطری حد نہیں ہے، جتنا حساب آگے بڑھتا جائے، دہائیاں بھی بڑھتی جاتی ہیں۔ مثلاً کھرب کے بعد نیل، نیل کے بعد شَنک وغیرہ نام دیے گئے ہیں، لیکن عام طور پر روزمرہ کے استعمال میں ارب یا کھرب تک کی دہائیاں ہی دیکھی جاتی ہیں۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
درست رہنمائی:
جسمانی مسائل (طب) کے حل کے لیے اگر آپ از خود کتاب دیکھتے ہیں تو گمراہی کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور اگر اس سے پوچھتے ہیں جو اس لائن کا ماہر نہیں تو آپ اب بھی گمراہ ہوسکتے ہیں، لیکن اگر متعلقہ ماہر سے پوچھتے ہیں تو آپ ان شاء اللہ گمراہ ہونے سے بچ جائیں گے۔
اسی طرح روحانی مسائل (تصوف) کے حل کے لیے اگر آپ از خود کتاب دیکھتے ہیں تو گمراہی کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور اگر اس سے پوچھتے ہیں جو اس لائن کا ماہر نہیں تو آپ اب بھی گمراہ ہوسکتے ہیں،...
درست رہنمائی:
جسمانی مسائل (طب) کے حل کے لیے اگر آپ از خود کتاب دیکھتے ہیں تو گمراہی کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور اگر اس سے پوچھتے ہیں جو اس لائن کا ماہر نہیں تو آپ اب بھی گمراہ ہوسکتے ہیں، لیکن اگر متعلقہ ماہر سے پوچھتے ہیں تو آپ ان شاء اللہ گمراہ ہونے سے بچ جائیں گے۔
اسی طرح روحانی مسائل (تصوف) کے حل کے لیے اگر آپ از خود کتاب دیکھتے ہیں تو گمراہی کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور اگر اس سے پوچھتے ہیں جو اس لائن کا ماہر نہیں تو آپ اب بھی گمراہ ہوسکتے ہیں، لیکن اگر متعلقہ ماہر سے پوچھتے ہیں تو آپ ان شاء اللہ گمراہ ہونے سے بچ جائیں گے۔
اسی طرح شرعی مسائل (فقہ) کے حل کے لیے اگر آپ از خود کتاب دیکھتے ہیں تو گمراہی کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور اگر اس سے پوچھتے ہیں جو اس لائن کا ماہر نہیں تو آپ اب بھی گمراہ ہوسکتے ہیں، لیکن اگر متعلقہ ماہر سے پوچھتے ہیں تو آپ ان شاء اللہ گمراہ ہونے سے بچ جائیں گے۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں، جب ہم کہتے ہیں کہ یہ چیز شاعری میں عیب ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ یہ چیز آپ کو بڑے اور مستند شعراء کے اشعار میں نہیں ملے گی، کیونکہ ہر عیب سے پاک کلام فقط اللہ تعالی کا ہے، اچھے اچھے شعراء کے ہاں بڑے بڑے عیوب بھی تلاش کرنے پر مل جاتے ہیں اور عیب کا عیب یہی ہے کہ اسے بڑے شعراء کے ہاں بہت زیادہ تلاش کرنا پڑتا ہے، جبکہ خوبی کی خوبی یہ ہے کہ وہ ان کے ہر ہر شعر میں آپ کو ایک...
ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں، جب ہم کہتے ہیں کہ یہ چیز شاعری میں عیب ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ یہ چیز آپ کو بڑے اور مستند شعراء کے اشعار میں نہیں ملے گی، کیونکہ ہر عیب سے پاک کلام فقط اللہ تعالی کا ہے، اچھے اچھے شعراء کے ہاں بڑے بڑے عیوب بھی تلاش کرنے پر مل جاتے ہیں اور عیب کا عیب یہی ہے کہ اسے بڑے شعراء کے ہاں بہت زیادہ تلاش کرنا پڑتا ہے، جبکہ خوبی کی خوبی یہ ہے کہ وہ ان کے ہر ہر شعر میں آپ کو ایک سے زیادہ مرتبہ مسکراتی نظر آئے گی۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
بازاری لب و لہجہ ہمیں ایک دوسرے سے مزید دور کررہا ہے، اصلاحِ اعمال اور مغفرت کا وعدہ قولِ سدید پر ہے، ہم سب کو اپنے اپنے رویوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، عوام کو تو ایک طرف رکھیں، اس وقت صورت حال یہ ہے کہ طرفین کے خواص کی جانب سے دوسری طرف والوں کے خلاف طنز اور بد زبانی کے بیانات مسلسل سامنے آرہی ہیں، طرفین کے بڑوں کو چاہیے کہ اپنے چھوٹوں کو مسلسل اس بد زبانی سے روکیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
بازاری لب و لہجہ ہمیں ایک دوسرے سے مزید دور کررہا ہے، اصلاحِ اعمال اور مغفرت کا وعدہ قولِ سدید پر ہے، ہم سب کو اپنے اپنے رویوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، عوام کو تو ایک طرف رکھیں، اس وقت صورت حال یہ ہے کہ طرفین کے خواص کی جانب سے دوسری طرف والوں کے خلاف طنز اور بد زبانی کے بیانات مسلسل سامنے آرہی ہیں، طرفین کے بڑوں کو چاہیے کہ اپنے چھوٹوں کو مسلسل اس بد زبانی سے روکیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
چیٹ بوٹس (بالخصوص چیٹ جی پی ٹی) اب تقریبا سبھی لوگ استعمال کر رہے ہیں، آج آپ کو ایک زبردست ٹرِک بتارہا ہوں جو ہمیشہ کام آئے گی، آپ نے دیکھا ہوگا کہ اکثر آپ کا مطلوبہ کام چیٹ بوٹ کرکے نہیں دے رہا ہوتا، مثلا مطلوبہ کوڈ نہیں بنا رہا یا مطلوبہ تصویر جنریٹ نہیں کر رہا تو اس کا آسان سا ایک حل یہ ہے کہ آپ نئی چیٹ کھولیں اور اس سے یہ کہیں کہ مجھے اے آئی سے یہ کام کروانا ہے، بالکل درست پرومٹ تیار کردو، پرومٹ تیار ہوجائے گا، اب آپ نئی چیٹ کھولیں...
چیٹ بوٹس (بالخصوص چیٹ جی پی ٹی) اب تقریبا سبھی لوگ استعمال کر رہے ہیں، آج آپ کو ایک زبردست ٹرِک بتارہا ہوں جو ہمیشہ کام آئے گی، آپ نے دیکھا ہوگا کہ اکثر آپ کا مطلوبہ کام چیٹ بوٹ کرکے نہیں دے رہا ہوتا، مثلا مطلوبہ کوڈ نہیں بنا رہا یا مطلوبہ تصویر جنریٹ نہیں کر رہا تو اس کا آسان سا ایک حل یہ ہے کہ آپ نئی چیٹ کھولیں اور اس سے یہ کہیں کہ مجھے اے آئی سے یہ کام کروانا ہے، بالکل درست پرومٹ تیار کردو، پرومٹ تیار ہوجائے گا، اب آپ نئی چیٹ کھولیں اور وہ پرومٹ اسے دے دیں، کام ہوجائے گا ان شاء اللہ۔
یاد رکھیں، چیٹ جی پی ٹی سے ہر ایک فقط اپنے فن میں فائدہ اٹھا سکتا ہے، اگر آپ کو طب کی ابجد بھی نہیں پتا تو یہ آپ کو نیم حکیم سے بھی گیا گزرا بنادے گا۔
ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ چیٹ جی پی ٹی میں غیر ضروری ہسٹری کو صاف کرتے رہیں اور سیٹنگ میں جاکر میموری میں سے بھی غیر ضروری میموری ڈیلیٹ کرتے رہیں۔
اہم بات یہ ہےکہ چیٹ جی پی ٹی اور دیگر چیٹ بوٹس کو اپنا راز، ذاتی معلومات اور پاسورڈ وغیرہ کبھی نہ بتائیں۔
اور اہم بات یہ ہےکہ اے آئی کو استعمال کریں ورنہ یہ آپ کو استعمال کرلے گا۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
چند مسلم شعرائے کرام:
حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ، نبی کریم ﷺ کے صحابی اور شاعر، جنھوں نے اپنی شاعری سے اسلام کا دفاع کیا اور حضور ﷺ کی شان میں عمدہ اشعار کہے۔
امام شافعیؒ کا کلام حکمت، تقویٰ، اور اسلامی اصولوں پر مبنی ہے، جو دل کو چھوتا ہے اور عمل کی رغبت پیدا کرتا ہے۔
حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ کی مثنوی اور غزلیات میں عشقِ حقیقی اور اللہ تعالیٰ کی قربت کا بیان انتہائی گہرائی سے کیا گیا ہے۔
حضرت شیخ سعدیؒ کی گلستان اور بوستان حکمت، اخلاقیات اور دینی تعلیمات کا خزانہ ہیں۔
علامہ اقبالؒ کی شاعری میں...
چند مسلم شعرائے کرام:
حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ، نبی کریم ﷺ کے صحابی اور شاعر، جنھوں نے اپنی شاعری سے اسلام کا دفاع کیا اور حضور ﷺ کی شان میں عمدہ اشعار کہے۔
امام شافعیؒ کا کلام حکمت، تقویٰ، اور اسلامی اصولوں پر مبنی ہے، جو دل کو چھوتا ہے اور عمل کی رغبت پیدا کرتا ہے۔
حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ کی مثنوی اور غزلیات میں عشقِ حقیقی اور اللہ تعالیٰ کی قربت کا بیان انتہائی گہرائی سے کیا گیا ہے۔
حضرت شیخ سعدیؒ کی گلستان اور بوستان حکمت، اخلاقیات اور دینی تعلیمات کا خزانہ ہیں۔
علامہ اقبالؒ کی شاعری میں مسلمانوں کے عروج و زوال، خودی، ایمان اور عشقِ رسول ﷺ کے موضوعات نمایاں ہیں۔
حضرت امیر مینائیؒ کے کلام میں نعتیہ اشعار، درود و سلام اور اسلامی اقدار کو عمدگی سے پیش کیا گیا ہے۔
مولانا احمد رضا خان بریلویؒ کی نعتیہ شاعری اسلامی ادب کا ایک بہترین نمونہ ہے، جس میں عشقِ رسول ﷺ اور ادب کا بہترین امتزاج ہے۔
مولانا حالیؒ کی "مد و جزر اسلام" مسلمانوں کی تاریخ اور ان کی اصلاح پر مبنی ایک شاہکار نظم ہے۔
ان شاعروں کے کلام میں دینی تعلیمات، اخلاقیات اور روحانیت کا خوبصورت امتزاج موجود ہے۔ ان کی شاعری کا مطالعہ دل کو سکون، روح کو تقویت اور ایمان کو مضبوط کرتا ہے۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
تین کام کریں، آپ کو بام عروج پر پہنچنے سے ان شاء اللہ کوئی نہیں روک سکے گا:
(1) اپنے کام میں مہارت بڑھاتے جائیں۔
(2) اچھے اخلاق سے پیش آئیں۔
(3) نادار لوگوں کا خصوصی خیال رکھیں۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
تین کام کریں، آپ کو بام عروج پر پہنچنے سے ان شاء اللہ کوئی نہیں روک سکے گا:
(1) اپنے کام میں مہارت بڑھاتے جائیں۔
(2) اچھے اخلاق سے پیش آئیں۔
(3) نادار لوگوں کا خصوصی خیال رکھیں۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
چیٹ جی پی ٹی ایک جدید ترین اور مفید ترین ٹول ہے، اگرچہ اس کی غلطیوں اور اس سے ہونے والے نقصانات سے بھی انکار ممکن نہیں، لیکن جس طرح واٹس ایپ ٹول کے بغیر آج روابط کی دنیا میں جینا ممکن نہیں اسی طرح ڈیجیٹل امور (تحریر، ترمیم، دنیاوی مشاورت، مواد کی دستیابی، پروگرامنگ، سوفٹ وئیر لرننگز وغیرہ) میں چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنے والے آگے سے آگے بڑھتے جارہے ہیں اور نہ کرنے والے پیچھے رہتے جارہے ہیں۔
ایک اصولی بات یہ یاد رکھنے کی ہے کہ جس فن میں ہمیں شد بد بھی نہ ہو اس میں...
چیٹ جی پی ٹی ایک جدید ترین اور مفید ترین ٹول ہے، اگرچہ اس کی غلطیوں اور اس سے ہونے والے نقصانات سے بھی انکار ممکن نہیں، لیکن جس طرح واٹس ایپ ٹول کے بغیر آج روابط کی دنیا میں جینا ممکن نہیں اسی طرح ڈیجیٹل امور (تحریر، ترمیم، دنیاوی مشاورت، مواد کی دستیابی، پروگرامنگ، سوفٹ وئیر لرننگز وغیرہ) میں چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنے والے آگے سے آگے بڑھتے جارہے ہیں اور نہ کرنے والے پیچھے رہتے جارہے ہیں۔
ایک اصولی بات یہ یاد رکھنے کی ہے کہ جس فن میں ہمیں شد بد بھی نہ ہو اس میں چیٹ جی پی ٹی پر کلی انحصار ہمیں گمراہ کر سکتا ہے۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
وزن کے بارے میں چار موزوں باتیں:
(1) کبھی بھی غیر مستعمل بحر میں نہ لکھیں اور اپنی طرف سے نئی بحر بنانے کی کوشش تو بالکل بھی نہیں کرنی چاہیے۔
(2) کم مستعمل (مثلا مستفعلن چار بار) کی بنسبت زیادہ مستعمل (جیسے فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن) بہتر ہے۔
(3) تین سے کم اور چار سے زیادہ ارکان کے مقابلے میں تین رکن بہتر اور چار رکن تین رکن سے بھی زیادہ بہتر ہوتے ہیں۔
(4) شاعری کے لیے ہمیشہ خوب سے خوب تر کا انتخاب کرنا چاہیے چاہے الفاظ ہوں، یا بحور یا طرز بیان
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
وزن کے بارے میں چار موزوں باتیں:
(1) کبھی بھی غیر مستعمل بحر میں نہ لکھیں اور اپنی طرف سے نئی بحر بنانے کی کوشش تو بالکل بھی نہیں کرنی چاہیے۔
(2) کم مستعمل (مثلا مستفعلن چار بار) کی بنسبت زیادہ مستعمل (جیسے فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن) بہتر ہے۔
(3) تین سے کم اور چار سے زیادہ ارکان کے مقابلے میں تین رکن بہتر اور چار رکن تین رکن سے بھی زیادہ بہتر ہوتے ہیں۔
(4) شاعری کے لیے ہمیشہ خوب سے خوب تر کا انتخاب کرنا چاہیے چاہے الفاظ ہوں، یا بحور یا طرز بیان
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
اردو شاعری میں بہترین لسانیاتی فضا فارسی کی ہے، پھر دوسرے نمبر پر اردو ہے، عربی الفاظ کا زیادہ استعمال شعر کو بھاری بھرکم کردیتا ہے۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
اردو شاعری میں بہترین لسانیاتی فضا فارسی کی ہے، پھر دوسرے نمبر پر اردو ہے، عربی الفاظ کا زیادہ استعمال شعر کو بھاری بھرکم کردیتا ہے۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
بہت سے احباب جب ”آؤ شاعری سیکھیں“ جیسا نام سنتے ہیں تو فوراً کہتے ہیں کہ شاعری سیکھنے کی چیز نہیں، شاعر تو خداداد ہوتا ہے۔ یہ اعتراض دراصل شاعری کو صرف جذبے کا اظہار سمجھ لینے سے پیدا ہوتا ہے۔ حالانکہ جذبہ اگر چشمہ ہے تو فن اس کے بہاؤ کا پیالہ ہے۔ چشمہ اپنی گدلاہٹ سمیت بہہ تو سکتا ہے، مگر پیالہ اسے شکل، سمت اور وقار دیتا ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ فطری صلاحیت بیج ہے اور علم و فن وہ خاک، پانی اور دھوپ ہیں، جن کے بغیر بیج کبھی سایہ دار درخت نہیں بنتا۔
یہ دعویٰ...
بہت سے احباب جب ”آؤ شاعری سیکھیں“ جیسا نام سنتے ہیں تو فوراً کہتے ہیں کہ شاعری سیکھنے کی چیز نہیں، شاعر تو خداداد ہوتا ہے۔ یہ اعتراض دراصل شاعری کو صرف جذبے کا اظہار سمجھ لینے سے پیدا ہوتا ہے۔ حالانکہ جذبہ اگر چشمہ ہے تو فن اس کے بہاؤ کا پیالہ ہے۔ چشمہ اپنی گدلاہٹ سمیت بہہ تو سکتا ہے، مگر پیالہ اسے شکل، سمت اور وقار دیتا ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ فطری صلاحیت بیج ہے اور علم و فن وہ خاک، پانی اور دھوپ ہیں، جن کے بغیر بیج کبھی سایہ دار درخت نہیں بنتا۔
یہ دعویٰ کہ شاعر سیکھنے کا محتاج نہیں ہوتا، انسانی فطرت کی بنیادی حقیقت سے بھی ٹکراتا ہے۔ انسان ماں کے پیٹ سے کچھ بھی سیکھا ہوا نہیں آتا۔ ایک ایک لفظ اسی دنیا میں سیکھنا پڑتا ہے، اپنی زبان کے لہجے سے لے کر چلنے پھرنے کے آداب تک سب کچھ ماحول اور تربیت سے حاصل ہوتا ہے۔ اگر روزمرہ کی گفتگو تک سیکھے بغیر ممکن نہیں تو شاعری جیسا لطیف اور دقیق فن کس طرح بغیر رہنمائی کے کما حقہ نشوونما پا سکتا ہے۔
تاریخِ ادب کے بڑے شعرا کو دیکھ لیجیے، ہر ایک نے کسی نہ کسی استاد سے اصلاح لی، کسی دبستان کی روایت سے فیض اٹھایا، دیوان ہائے اساتذہ کا مطالعہ کیا اور اپنے خام کلام کو تراش خراش کر قابلِ سماعت بنایا۔ جب فن اپنی انتہا کو پہنچتا ہے تو دیکھنے والے کو وہ سراسر قدرتی محسوس ہوتا ہے، جیسے کسی ماہر معمار کا تیار کردہ گھر دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ اینٹیں خودبخود ترتیب پا گئی ہوں۔ لیکن پسِ پردہ پیمائش، محنت اور اصول ہوتے ہیں، جو ناظر کی آنکھ سے اوجھل رہتے ہیں۔
اعتراض کرنے والے دراصل شاعری کے دو پہلوؤں کو خلط کرتے ہیں۔ ایک پہلو احساس اور وجدان کا ہے، جو واقعی کسی استاد کا مرہونِ منت نہیں۔ دوسرا پہلو اس احساس کو زبان کے سانچے میں ڈھالنے کا ہے، جہاں وزن، قافیہ، محاورہ اور بیان کی دنیا شروع ہوتی ہے۔ یہ دوسرا حصہ مکمل طور پر سیکھنے کے قابل ہے۔ اگر یہ سیکھنے کی چیز نہ ہوتا تو اصلاحِ سخن، دبستانوں کی روایت اور اساتذہ کے حلقے کیوں صدیوں تک قائم رہتے۔
”آؤ شاعری سیکھیں“ کا مقصد کسی پر سانچے مسلط کرنا نہیں، بلکہ اس بیج کو نگہداشت دینا ہے جو اس کے اندر پہلے ہی موجود ہے۔ یہ کورس اس چنگاری کو روشنی دینے کے لیے ہے جو اکثر غلط قافیوں، بگڑے ہوئے اوزان اور بے جوڑ ترکیبوں کے نیچے دب جاتی ہے۔ سیکھنے کا عمل فطانت کو ختم نہیں کرتا، اسے محفوظ اور مؤثر بناتا ہے۔ خداداد صلاحیت اور سیکھا ہوا فن ایک دوسرے کی ضد نہیں، بلکہ وہ دو بازو ہیں جن سے شاعری کی پرواز مکمل ہوتی ہے۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
عمومی زحافات و اجازات:
(1) تسبیغ و اذالہ:
کسی بھی بحر کے آخری رکن میں ایک ساکن کے اضافے کو تسبیغ یا اِذالہ کہتے ہیں ، یہ دو نام عروضیوں نے دو الگ الگ صورتوں کے لیے رکھے ہیں ، یعنی اگر یہ اضافہ سبب پر (جیسے فعولن سے فعولان) تو اسے تسبیغ کہتے ہیں اور اگر یہ اضافہ وتد پر ہو (جیسے فاعلن سے فاعلان) تو اسے اِذالہ کہتے ہیں ، ساکن بڑھانے کی یہ اجازت ہر بحر میں ہوتی ہے اور کسی بھی غزل ، قطعہ وغیرہ کے کسی بھی ایک یا متعدد مصرعوں میں یہ ساکن بڑھایا جاسکتا ہے...
عمومی زحافات و اجازات:
(1) تسبیغ و اذالہ:
کسی بھی بحر کے آخری رکن میں ایک ساکن کے اضافے کو تسبیغ یا اِذالہ کہتے ہیں ، یہ دو نام عروضیوں نے دو الگ الگ صورتوں کے لیے رکھے ہیں ، یعنی اگر یہ اضافہ سبب پر (جیسے فعولن سے فعولان) تو اسے تسبیغ کہتے ہیں اور اگر یہ اضافہ وتد پر ہو (جیسے فاعلن سے فاعلان) تو اسے اِذالہ کہتے ہیں ، ساکن بڑھانے کی یہ اجازت ہر بحر میں ہوتی ہے اور کسی بھی غزل ، قطعہ وغیرہ کے کسی بھی ایک یا متعدد مصرعوں میں یہ ساکن بڑھایا جاسکتا ہے ، یعنی شاعر کو اختیار ہے کہ اپنی نظم یا غزل کے کسی بھی مصرعے کے آخر میں ایک ساکن بڑھادے ، اس تبدیلی کو بحر کا بدلنا نہیں کہتے۔
جس رکن یا بحر میں یہ تبدیلی کی جاتی ہے اسے "مُسَبَّغ" یا "مُذال" کہتے ہیں۔
(2) تسکین اوسط:
کسی بھی بحر میں تین متحرک اگر ایک ساتھ آجائیں تو شاعر کو یہ اختیار ہے کہ وہ درمیانے متحرک کو ساکن کردے ، اسے تسکینِ اوسط کہتے ہیں اور جس رکن یا بحر میں یہ تبدیلی کی جاتی ہے اسے "مُسَکَّن" کہتے ہیں۔ البتہ اس میں دو باتوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے:
(الف) تسکین اوسط کے نتیجے میں بحر تبدیل نہ ہوجائے ، چنانچہ بحر کامل "متفاعلن متفاعلن متفاعلن متفاعلن" میں کسی بھی ایک یا زیادہ متفاعلن کو مستفعلن کرسکتے ہیں ، مگر بیک وقت سب کو کرنا ٹھیک نہیں کیونکہ اس صورت میں یہ بحر رجز میں تبدیل ہوجائے گی۔
(ب) تسکین اوسط کا رواج بھی ہو ، جیسے کسی بھی بحر کے "فعِلن" کو "فعْلن" کرنا عام طور پر مروج ہے ، جبکہ "مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن" کو "مفعول فاعلاتن مفعول فاعلن" کرنا مروج نہیں ہے ، مروج نہ ہونے کی صورت میں صرف تب تسکین اوسط سے کام لینا چاہیے جب تسکین کیے بغیر مطلوبہ خیال کو اس بحر میں پیش کرنا شاعر کے نزدیک ممکن نہ رہے۔
(3) سالم بحر کے ارکان میں کمی بیشی:
ہر وہ بحر جو سالم مستعمل ہے اس میں عام اجازت ہے کہ ہم اس کے ایک مصرع میں دو ارکان رکھ کر اسے "مربَّع" استعمال کریں ، یا تین ارکان رکھ کر "مسدس" یا چار ارکان رکھ کر "مثمَّن" برتیں یا اس سے بھی زیادہ کرلیں ، کوئی حرج نہیں ، چنانچہ بحر ہزج (مفاعیلن) کو درجِ ذیل ہر طرح سے استعمال کرسکتے ہیں:
٭ مربع: مفاعیلن مفاعیلن
٭ مسدس: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
٭ مثمن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
٭معشر: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
٭ مسدس مضاعف: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
٭ مسبع مضاعف: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
مربع کا مطلب ہے چار رکنی ، مسدس کا مطلب ہے چھ رکنی ، مثمن کا مطلب ہے آٹھ رکنی ، معشر کا مطلب دس رکنی اور مسبع کا مطلب ہے سات رکنی ، یہ گنتی پورے شعر کے ارکان کو مد نظر رکھ کر بنائی جاتی ہے ، جبکہ مضاعف کا مطلب ہے دوگنا ، یعنی مسدس وہ بحر ہوتی ہے جس کے ارکان کی تعداد دونوں مصرعوں میں کل ملا کر چھ ہو جبکہ مسدس مضاعف وہ بحر ہوتی ہے جس کے ارکان کی تعداد دونوں مصرعوں میں کل ملاکر بارہ ہو۔
(4) تعدد بحر:
ایک منظوم کاوش میں ایک ہی بحر استعمال کرنی چاہیے ، مثلا اگر کسی غزل کا مطلع "مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن" ہے تو اب اس غزل کا ہر شعر اسی بحر میں ہونا چاہیے ، یہ نہیں کہ ایک شعر تو اس میں ہو اور دوسرے شعر کا وزن "مفاعیلن مفاعیلن فعولن" ہو ، اسے تعدُّدِ بحر کہتے ہیں ، یہ اگر غلطی سے ہوجائے تو اس غلطی کو دور کرلینا چاہیے اور کسی شاعر نے قصدا یہ کیا ہو تو اسے ہم نہ بالکل غلط کہہ سکتے ہیں نہ بالکل صحیح ، بلکہ یہ محض اس کا ذاتی تجربہ کہلائے گا ، البتہ آزاد نظم میں معمولی فرق کے ساتھ بحر کو بدلا جاسکتا ہے ، اسی طرح پابند نظم کے اندر اگر مختلف بند ہوں اور ہر بند کی الگ بحر ہو تو اس کی بھی گنجائش معلوم ہوتی ہے ، آج کل گیت وغیرہ میں متعدد بحروں سے کام لیا جارہا ہے ، تاہم رباعی کے تو چوبیس اوزان مخصوص ہیں ، ان سے باہر نکالنا درست نہیں ، قطعہ ، غزل اور مثنوی میں ایک ہی بحر رکھنی چاہیے اور جہاں کسی بڑے شاعر نے ایسا کیا ہو تو ہم اسے غلط کہنے کے بجائے ان کا ایک تجربہ کہہ سکتے ہیں۔
(5) غیر مستعمل بحر:
بعض شعراء محض تجربہ کرنے کے لیے ایسی بحروں میں بھی لکھنے کی کوشش کرتے ہیں جو مروج و مستعمل نہیں ہوتیں ، یہ ایک طرح کا رسک ہوتا ہے ، کیونکہ اب انھیں ہر قاری کو بتانا پڑتا ہے کہ یہ فلانی بحر ہے کیونکہ زیادہ تر لوگ عروض اور بحور سے مکمل واقفیت نہیں رکھتے ہیں ، مبتدی حضرات کو ایسا تجربہ ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔
(6) نئی بحر:
بعض دوستوں کو یہ کرتے ہوئے بھی دیکھا کہ وہ از خود اپنی طرف سے ایک مصرع کا عجیب و غریب نامانوس سا وزن دریافت کرنے کے بعد اگلا مصرع بلکہ بقیہ اشعار اسی وزن میں کہہ کر کہتے ہیں کہ یہ ہم نے اپنی بحر خود بنائی ہے ، اللہ کے بندو! بحر کا مطلب وہ وزن ہے جو آپ کی زبان میں رائج ہو اور جس میں کوئی کلام کہتے ہوئے اہلِ زبان ایک خاص آہنگ محسوس کریں ، ورنہ ہم اپنے کسی بھی جملے کے افاعیل نکال کر اسے موزوں جملہ کہہ سکتے ہیں۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
قطعہ اور رباعی میں فرق:
عام طور پر جب کوئی دو شعر ایسے ہوں کہ دونوں مقفی ہوں ، دونوں کا مضمون بھی ایک ہو تو عام قاری کے لیے یہ پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے کہ اسے رباعی کہیں یا قطعہ؟ نیز شاعری میں جو خواص کا طبقہ ہے وہ بھی ان دونوں اصطلاحات کے بیچ بعض غلط فہمیوں کا شکار ہے ، علاوہ ازیں فنی لحاظ سے اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ان دونوں کے درمیان جتنے بھی فرق ہیں ان سب کو مثالوں کے ساتھ واضح کیا جائے تاکہ علوم و فنون کے دیگر ابواب کی طرح...
قطعہ اور رباعی میں فرق:
عام طور پر جب کوئی دو شعر ایسے ہوں کہ دونوں مقفی ہوں ، دونوں کا مضمون بھی ایک ہو تو عام قاری کے لیے یہ پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے کہ اسے رباعی کہیں یا قطعہ؟ نیز شاعری میں جو خواص کا طبقہ ہے وہ بھی ان دونوں اصطلاحات کے بیچ بعض غلط فہمیوں کا شکار ہے ، علاوہ ازیں فنی لحاظ سے اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ان دونوں کے درمیان جتنے بھی فرق ہیں ان سب کو مثالوں کے ساتھ واضح کیا جائے تاکہ علوم و فنون کے دیگر ابواب کی طرح یہ باب بھی تشنگی اور سوال کے ہر گوشے کو بند کرسکے۔
قطعہ اور رباعی میں عنوان ، مصرعوں کی تعداد ، بحر ، قافیہ اور مضمون کئی لحاظ سے فرق ہے۔
بندے کی تحقیق کے مطابق قطعہ اور رباعی میں کل آٹھ فرق ہیں:
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(1) عنوان کے لحاظ سے فرق:
قطعے کا عنوان رکھا جاسکتا ہے اور رکھا جاتا ہے ، مگر رباعی کا عنوان نہیں رکھا جاتا۔
جیسے غالب کے اس قطعے کا نام ”شریکِ غالب“ ہے:
سیہ گلیم ہوں لازم ہے میرا نام نہ لے
جہاں میں جو کوئی فتح و ظفر کا طالب ہے
ہوا نہ غلبہ میسر کبھی کسی پہ مجھے
کہ جو شریک ہو میرا، شریکِ غالبؔ ہے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(2) تعدادِ مصارع کے لحاظ سے فرق:
رباعی میں ہمیشہ چار مصرعے ہوتے ہیں ، جبکہ قطعے میں کم از کم چار مصرعے اور زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے۔
غالب کا یہ شاہکار قطعہ ملاحظہ فرمائیے:
اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل
زنہار اگر تمہیں ہوسِ نائے و نوش ہے
دیکھو مجھے! جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو
میری سنو! جو گوشِ نصیحت نیوش ہے
ساقی بہ جلوہ دشمنِ ایمان و آگہی
مطرب بہ نغمہ رہزنِ تمکین و ہوش ہے
یا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گوشۂ بساط
دامانِ باغبان و کفِ گل فروش ہے
لطفِ خرامِ ساقی و ذوقِ صدائے چنگ
یہ جنّتِ نگاہ وہ فردوسِ گوش ہے
یا صبح دم جو دیکھیے آ کر تو بزم میں
نے وہ سرور و سوز نہ جوش و خروش ہے
داغِ فراقِ صحبتِ شب کی جلی ہوئی
اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(3) قافیہ و ردیف کے لحاظ سے فرق:
دوسرے اور چوتھے مصرع کا مقفی (اور اگر ردیف ہو تو مردَّف) ہونا قطعہ اور رباعی دونوں میں ضروری ہے ، مگر پہلے مصرع کا مقفی (اور اگر ردیف ہو تو مردَّف) ہونا صرف رباعی میں ضروری ہے ، قطعے میں نہیں۔
جیسے غالب کے اس قطعے میں پہلا مصرع مقفی و مردف نہیں ہے:
سرمۂ مفتِ نظر ہوں مری قیمت یہ ہے
کہ رہے چشمِ خریدار پہ احساں میرا
رخصتِ نالہ مجھے دے کہ مبادا ظالم
تیرے چہرے سے ہو ظاہر غمِ پنہاں میرا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(4) بحر کے لحاظ سے پہلا فرق:
رباعی بحر ہزج کی دو بحروں کے ساتھ مخصوص ہے: (1)مفعول مفاعیل مفاعیل فعَل (2) مفعول مفاعلن مفاعیل فعَل ، انھی دو میں تسکین اوسط اور آخر میں اضافۂ ساکن سے کل چوبیس اوزان حاصل ہوتے ہیں ، ایک رباعی کے چار مصرعوں کو ان میں سے کسی بھی ایک یا چار مصرعوں کے مطابق لکھا جاسکتا ہے۔ جبکہ قطعہ کے لیے کوئی بحر مخصوص نہیں ہے ، قطعہ کسی بھی مانوس بحر میں کہہ سکتے ہیں۔
جیسے کامل کا یہ خوبصورت قطعہ بحر رمل میں ہے:
ابر تھا، بارش تھی، وقتِ گُل تھا، تم تھے، میں نہ تھا
قہقہے تھے،خندۂ قُلقُل تھا، تم تھے، میں نہ تھا
اک طرف آہیں تھیں، غم تھا، رنج تھے اور اک طرف
قُمریاں تھیں، نغمۂ بُلبُل تھا، تم تھے، میں نہ تھا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(5) بحر کے لحاظ سے دوسرا فرق:
پانچواں فرق چوتھے فرق سے ملتا جلتا ہے ، مگر باریک سا فرق ہونے کی وجہ سے اسے الگ سے ذکر کیا جارہا ہے اور وہ یہ کہ رباعی کے لیے مذکورہ بالا دو بحروں میں سے کسی ایک کا ہونا ضروری ہے جبکہ قطعے میں مفعول مفاعیل مفاعیل فعَل خلاف اولیٰ ہے کیونکہ رائج مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن ہے اور مفعول مفاعلن مفاعیل فعَل درست ہی نہیں کیونکہ یہ رائج ہی نہیں۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(6) بحر کے لحاظ سے تیسرا فرق:
رباعی میں مفعول مفاعیل مفاعیل فعَل اور مفعول مفاعلن مفاعیل فعل کو جمع کرسکتے ہیں مگر قطعے میں نہیں۔
جیسے غالب کے اس رباعی میں یہ دونوں بحریں جمع ہیں:
بعد از اِتمامِ بزمِ عیدِ اطفال
ایّامِ جوانی رہے ساغر کَش حال
آ پہنچے ہیں تا سوادِ اقلیم عدم
اے عُمرِ گُذشتہ یک قدم استقبال
اس رباعی میں پہلے ، تیسرے اور چوتھے مصرع کی بحر ایک ہے اور دوسرے مصرع کی بحر دوسری ہے۔
انجام کے آغاز کو دیکھا میں نے
ماضی کے ہر انداز کو دیکھا میں نے
کل نام ترا لیا جو بُوئے گُل نے
تا دیر اُس آواز کو دیکھا میں نے
جوش صاحب کی اس رباعی میں تیسرے مصرع کی بحر باقی تینوں مصرعوں کی بحر سے جدا ہے۔
قطعہ میں ان دو بحروں کا جمع کرنا درست نہیں ہے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(7) غزل کے لحاظ سے فرق:
قطعہ کسی غزل کا بھی حصہ ہوسکتا ہے ، مگر رباعی نہیں۔
جیسے غالب کی اس غزل میں مقطع سے پہلے والے دو شعر بصورتِ قطعہ ہیں:
وہ بات چاہتے ہو کہ جو بات چاہیے
صاحب کے ہم نشیں کو کرامات چاہیے
مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے
بھَوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیے
عاشق ہوئے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پر
آخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے
دے داد اے فلک! دلِ حسرت پرست کی
ہاں کچھ نہ کچھ تلافیِ مافات چاہیے
سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوّری
تقریب کچھ تو بہرِ ملاقات چاہیے
مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو
اک گونہ بیخودی مجھے دن رات چاہیے
ہے رنگِ لالہ و گل و نسریں جدا جدا
ہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے
ق
سر پائے خم پہ چاہیے ہنگامِ بے خودی
رو سوئے قبلہ وقتِ مناجات چاہیے
یعنی بہ حسبِ گردشِ پیمانۂ صفات
عارف ہمیشہ مستِ مئے ذات چاہیے
نشو و نما ہے اصل سے غالبؔ فروع کو
خاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیے
شعراء کی عادت ہے کہ وہ جب غزل میں قطعہ بند اشعار پیش کرتے ہیں تو ان کے شروع میں "ق" لکھ دیتے ہیں۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(8) مضمون کے لحاظ سے فرق:
قطعے کے اشعار میں بلحاظ مضمون تسلسل ہوتا ہے ، یہی تسلسل رباعی میں بھی ہوتا ہے ، مگر رباعی کے چوتھے مصرع کا معنوی لحاظ سے سب سے زیادہ جاندار ہونا ضروری ہے ، یہاں تک کہ رباعی کے ابتدائی تینوں مصرعوں کا معنوی لحاظ سے دار و مدار چوتھے مصرع پر ہوتا ہے ، یہ قید قطعے میں ملحوظ نہیں ہوتی۔
جیسے صوفی تبسم کا یہ قطعہ ملاحظہ فرمائیے:
کتنی ہنگامہ خُو تمنّائیں
مضمحل ہو کے رہ گئیں دل میں
جیسے طوفاں کی مضطرب موجیں
سو گئی ہوں کنارِ ساحل میں
اب غالب کی اس رباعی میں غور کیجیے:
مشکل ہے زبس کلام میرا اے دل
سُن سُن کے اسے سخنورانِ کامل
آساں کہنے کی کرتے ہیں فرمائش
گویم مشکل و گر نگویم مشکل
ان دونوں کے چوتھے مصرع کی معنویت میں غور کرنے سے رباعی اور قطعہ کا یہ فرق بخوبی واضح ہوجائے گا۔
یہ عنوان زندگی کو سمجھنے اور کامیاب بنانے کی ایک کنجی ہے۔ تحصیل سے مراد حاصل کرنا ہے، چاہے وہ مال ہو، علم ہو یا شہرت اور تشکیل سے مراد اس حاصل شدہ چیز کو سلیقے سے جوڑ دینا، ترتیب دے دینا اور مقصد کے ساتھ وابستہ کر دینا۔
تحصیل یعنی محض جمع کرتے جانے کو انگریزی میں کلیکشن کہتے ہیں، کلیکشن کے ساتھ اگر کنکشن (تشکیل) نہ ہو تو دل کو حقیقی چین نصیب نہیں ہوتا، اصل مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ ہمارے پاس کیا ہے بلکہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آپس میں کتنا...
تحصیل + تشکیل = تکمیل
یہ عنوان زندگی کو سمجھنے اور کامیاب بنانے کی ایک کنجی ہے۔ تحصیل سے مراد حاصل کرنا ہے، چاہے وہ مال ہو، علم ہو یا شہرت اور تشکیل سے مراد اس حاصل شدہ چیز کو سلیقے سے جوڑ دینا، ترتیب دے دینا اور مقصد کے ساتھ وابستہ کر دینا۔
تحصیل یعنی محض جمع کرتے جانے کو انگریزی میں کلیکشن کہتے ہیں، کلیکشن کے ساتھ اگر کنکشن (تشکیل) نہ ہو تو دل کو حقیقی چین نصیب نہیں ہوتا، اصل مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ ہمارے پاس کیا ہے بلکہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آپس میں کتنا جڑا ہوا ہے۔ جب کنکشن پیدا ہو جاتا ہے تو تکمیل کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔
تحصیل و تشکیل کا تعلق مال، علم اور شہرت تینوں کے ساتھ ہے۔
مال کی تحصیل بہت لوگ کر لیتے ہیں، مگر اس کی تشکیل کم لوگ ہی کرتے ہیں۔ جس کے پاس بہت پیسہ ہو مگر اس کا کوئی نظام اور کنکشن نہ ہو وہ بے سکون سا رہتا ہے اور جو محدود وسائل کو درست لوگوں، درست وقت اور درست فیصلوں سے جوڑ لیتا ہے وہ آگے نکل جاتا ہے۔ یعنی مال کے اعتبار سے کامیاب اور ناکام لوگوں کے درمیان فرق عموما مال کی مقدار میں نہیں، بلکہ اسی کنکشن کی سمجھ میں ہوتا ہے۔
علم میں یہ فرق اور بھی نمایاں ہے۔ کتابیں پڑھ لینا، کورسز کر لینا اور معلومات اکٹھی کر لینا تحصیل ہے، پھر اپنے اس علم کو عمل، تفکر اور سکھانے سے جوڑ دینا تشکیل ہے۔ جو علم صرف ذہن میں جمع رہے وہ بالآخر بوجھ بن جاتا ہے اور جو علم زندگی سے جڑ جائے وہ حکمت بن جاتا ہے۔ اسی لیے کچھ لوگ کم علم حاصل کرکے بھی مؤثر ہوتے ہیں اور بہت سے لوگ زیادہ علم والے ہوکر بھی منتشر الذہن ہی رہتے ہیں۔
اسی طرح شہرت کی تحصیل (جوکہ آج سب سے آسان ہوچکی ہے) کے بعد حاصل شدہ شہرت کی تشکیل سب سے مشکل کام ہے۔ نام کا پھیل جانا تحصیل ہے، اعتماد، کردار اور افادے کے ساتھ اس کا جڑ جانا تشکیل ہے۔ فینز مل جانا کلیکشن ہے، ان کا فیوریٹ بن جانا کنکشن ہے۔ جو شہرت خدائے لم یزل ولایزال تک پہنچنے کا سبب بنے وہ لازوال ہوجاتی ہے اور جو محض شور بن جائے وہ گھٹیا ہوکر شر بن جاتی ہے۔
خلاصہ یہ کہ زندگی میں چیزیں جمع کرنا مسئلہ نہیں، مسئلہ انھیں ٹھیک طرح جوڑنا ہے۔ جب تحصیل اور تشکیل اکٹھے ہو جائیں تو تکمیل وجود پاتی ہے۔ جو شخص اس کنکشن کی حقیقت پالے گا وہ کم میں بھی مکمل ہوتا چلا جائے گا۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
تخلص خلاصے سے ہے، یہ اس مختصر نام کو کہتے ہیں جو شاعر اشعار میں خود کے لیے استعمال کرتا ہے، جیسے مرزا اسد اللہ خاں غالب کا تخلص غالب تھا، لیکن انھوں نے اپنے ابتدائی دور میں اسد کے نام سے بھی شاعری کی، بعد میں اسد نامی ایک اور شاعر سے مماثلت کی وجہ سے تخلص تبدیل کرکے غالب اختیار کیا جو ان کی پہچان بن گیا۔
شاعر کو تخلص رکھتے وقت درج ذیل باتیں مد نظر رکھنی چاہیے:
(1) نام اس کی شخصیت، مزاج اور شعری رجحان سے ہم آہنگ ہو۔ مثلا اگر کوئی شخص بہادر ہے اور شاعری...
تخلص خلاصے سے ہے، یہ اس مختصر نام کو کہتے ہیں جو شاعر اشعار میں خود کے لیے استعمال کرتا ہے، جیسے مرزا اسد اللہ خاں غالب کا تخلص غالب تھا، لیکن انھوں نے اپنے ابتدائی دور میں اسد کے نام سے بھی شاعری کی، بعد میں اسد نامی ایک اور شاعر سے مماثلت کی وجہ سے تخلص تبدیل کرکے غالب اختیار کیا جو ان کی پہچان بن گیا۔
شاعر کو تخلص رکھتے وقت درج ذیل باتیں مد نظر رکھنی چاہیے:
(1) نام اس کی شخصیت، مزاج اور شعری رجحان سے ہم آہنگ ہو۔ مثلا اگر کوئی شخص بہادر ہے اور شاعری بھی جنگوں اور تحریکوں سے متعلق کرتا ہے تو اسے شجاع، اسد، لیث، غضنفر جیسا تخلص رکھنا چاہیے۔
(2) زبان پر آسانی سے آجائے اور سننے میں بھلا معلوم ہو، بہت طویل یا مشکل تخلص یاد نہیں رہتا اور اشعار میں بھی بوجھ بن جاتا ہے۔
(3) یہ بھی ضروری ہے کہ تخلص پہلے سے کسی بہت مشہور شاعر کے ساتھ اس حد تک منسوب نہ ہو کہ الجھن پیدا ہو، اگرچہ ہم نام ہونا منع نہیں لیکن انفرادیت شاعر کی پہچان بنتی ہے۔
(4) اسی طرح تخلص ایسا ہو جو شعر میں مختلف مواقع پر برتا جا سکے، یعنی صیغہ، ندا یا خطاب کی صورت میں لانا مشکل نہ ہو، مثلا اگر ”تحفہ“ تخلص کیا تو حرف ربط سے پہلے امالے کی وجہ سے ”تحفے“ کرنا پڑے گا۔
(5) تخلص میں یہ بھی مد نظر رہے کہ اگر کسی قاری کو شاعر کا تخلص معلوم نہ ہو تو وہ شعر کا مطلب کچھ اور نہ سمجھ بیٹھے، مثلا ”رنگ“ اگر تخلص ہو تو ہر مقطع الجھن میں ڈالنے والا ہوگا۔
(6) تخلص ایسا ہو کہ اصل نام کے ساتھ مل کر ایک بالکل منفرد نام بن جائے تاکہ گوگل سرچ میں ایک سے زیادہ شعراء نہ آجائیں۔
(7) گوگل سرچ ہی کی مناسبت سے نام میں یہ بھی ملحوظ رکھا جائے کہ اس کی انگریزی اسپیلنگ میں لکھنے والوں کو تذبذب نہ یو، مثلا ”میعاد“ جیسا کوئی لفظ نہ ہو ورنہ لوگ یہی سوچتے رہ جائیں گے کہ اسے Meeaad، Miaad، Miad، Mia'ad، Mea'ad وغیرہ میں سے کیا لکھیں۔
(8) شاعر کو یہ دھیان رکھنا چاہیے کہ تخلص وقتی جوش یا دیکھا دیکھی میں نہ رکھا جائے، کیونکہ یہی نام عمر بھر اس کی شناخت بن جاتا ہے، اس لیے سوچ سمجھ کر تخلص رکھے، سرسری سا نہ رکھے۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
ذہنی و قلبی سکون حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے اللہ تعالٰی سے مضبوط تعلق قائم کیا جائے، کیونکہ دلوں کا حقیقی سکون اسی کے ذکر میں ہے، نیز روزانہ پنج وقتہ نماز کا اہتمام، تلاوتِ قرآن کریم اور مختصر مگر مستقل ذکرِ الٰہی ہمیں اندر سے مضبوط کرتا ہے۔ علاوہ ازیں نیند پوری کرنا، موبائل اور سوشل میڈیا کا غیر ضروری استعمال کم کرنا، بازاری کھانوں اور فضول مصروفیات سے پرہیز بھی بہت مددگار ثابت ہوتا ہے، کیونکہ یہ سب چیزیں بھی اضطراب کو بڑھاتی ہیں۔ ان سب کے ساتھ ساتھ روزانہ پیدل چلنا، ورزش کرنا، لوگوں کے...
ذہنی و قلبی سکون حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے اللہ تعالٰی سے مضبوط تعلق قائم کیا جائے، کیونکہ دلوں کا حقیقی سکون اسی کے ذکر میں ہے، نیز روزانہ پنج وقتہ نماز کا اہتمام، تلاوتِ قرآن کریم اور مختصر مگر مستقل ذکرِ الٰہی ہمیں اندر سے مضبوط کرتا ہے۔ علاوہ ازیں نیند پوری کرنا، موبائل اور سوشل میڈیا کا غیر ضروری استعمال کم کرنا، بازاری کھانوں اور فضول مصروفیات سے پرہیز بھی بہت مددگار ثابت ہوتا ہے، کیونکہ یہ سب چیزیں بھی اضطراب کو بڑھاتی ہیں۔ ان سب کے ساتھ ساتھ روزانہ پیدل چلنا، ورزش کرنا، لوگوں کے ساتھ رویوں کو مثبت رکھنا بھی ذہنی بوجھ کم کرتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنی حد کو پہچانیں، ہر چیز اپنے بس میں سمجھنے کے بجائے اللہ تعالیٰ پر بھروسا کریں، کیونکہ جب ذمہ داریوں کا بوجھ دل سے اترتا ہے تو سکون خود بخود آنا شروع ہو جاتا ہے۔ ایک مختصر ترین عمل مسکرانا بھی ہے، سنت سمجھ کر مسکرانا سونے پر سہاگا کا کام کرتا ہے۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
رباعی:
(شرائط و اوزان)
رباعی کی کل چار شرائط ہیں:
(1) چار مصرعے ہوں ، نہ کم نہ زیادہ۔
(2) پہلا ، دوسرا اور چوتھا مصرع ہم قافیہ ہو۔
(3) مضمون مکمل اور مربوط ہو اور آخری مصرع پر پوری رباعی معنوی لحاظ سے موقوف ہو۔
(4) رباعی اپنے مخصوص وزن میں ہے، جس کی تفصیل نیچے ہے۔
رباعی کی کل چار شرائط ہیں:
(1) چار مصرعے ہوں ، نہ کم نہ زیادہ۔
(2) پہلا ، دوسرا اور چوتھا مصرع ہم قافیہ ہو۔
(3) مضمون مکمل اور مربوط ہو اور آخری مصرع پر پوری رباعی معنوی لحاظ سے موقوف ہو۔
(4) رباعی اپنے مخصوص وزن میں ہے، جس کی تفصیل نیچے ہے۔
یوں 2 × 3 × 4 کا حاصل ضرب 24 ہے، رباعی کے چوبیس اوزان سے یہی مراد ہیں۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
درس نظامی ایک بالکل غیر جانب دار اور بنیادی کورس ہے، اس کا مقصد نہ فرقہ واریت پڑھانا ہے نہ ہی مفتی بنانا، یہی وجہ ہے کہ یہ مکمل کورس طالبعلم کو نہ مربوط علم دیتا ہے، نہ کسی فن کا امام بناتا ہے، بلکہ یہ ہر ہر فن کی بیسک پڑھا کر طالبعلم کے اندر استعداد پیدا کردیتا ہے کہ وہ اپنے اس علمی سفر کو آگے جاری رکھ سکے، لہذا فضلائے درس نظامی درج ذیل امور ذہن میں رکھیں تو ان شاء اللہ ضرور ترقی کریں گے:
(1) لوگوں کو دینی مسائل بتانے میں حد درجے محتاط رہیں اور...
درس نظامی ایک بالکل غیر جانب دار اور بنیادی کورس ہے، اس کا مقصد نہ فرقہ واریت پڑھانا ہے نہ ہی مفتی بنانا، یہی وجہ ہے کہ یہ مکمل کورس طالبعلم کو نہ مربوط علم دیتا ہے، نہ کسی فن کا امام بناتا ہے، بلکہ یہ ہر ہر فن کی بیسک پڑھا کر طالبعلم کے اندر استعداد پیدا کردیتا ہے کہ وہ اپنے اس علمی سفر کو آگے جاری رکھ سکے، لہذا فضلائے درس نظامی درج ذیل امور ذہن میں رکھیں تو ان شاء اللہ ضرور ترقی کریں گے:
(1) لوگوں کو دینی مسائل بتانے میں حد درجے محتاط رہیں اور مسئلہ مستحضر نہ ہونے کی صورت میں ”لا ادری“ کہنے میں ذرا سا بھی تامل نہ کریں۔
(2) فنون درس نظامی میں سے جس میں خصوصی ذوق رکھتے ہیں اس میں خصوصی محنت کریں اور اس کے لیے کسی ادارے میں تخصص کروایا جاتا ہو تو ضرور کریں۔
(3) کسی اللہ والے کی صحبت میں مسلسل بیٹھنا شروع کریں تاکہ علم کی صورت کے ساتھ ساتھ حقیقت بھی ملنا شروع ہوجائے۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
دورِ حاضر میں وقت بچانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے کلام لکھوا کر اس میں عروضی یا لسانی ترامیم کرنا تکنیکی اعتبار سے تو ممکن ہے ،لیکن ادبی و اخلاقی نقطہ نظر سے یہ عمل مستحسن نہیں ،کیونکہ شاعری خالصتاً انسانی جذبات، دلی کیفیات اور وجدان کی عکاس ہوتی ہے جو کسی مشین میں پیدا نہیں کیے جا سکتے۔ جہاں تک اس کلام کی ملکیت کا تعلق ہے ،چونکہ کلام کا بنیادی ڈھانچہ، خیال اور الفاظ کا انتخاب مشین کا ہوتا ہے اور انسان صرف اس کی نوک پلک سنوارتا ہے ،لہٰذا اسے مکمل طور پر اپنے...
دورِ حاضر میں وقت بچانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے کلام لکھوا کر اس میں عروضی یا لسانی ترامیم کرنا تکنیکی اعتبار سے تو ممکن ہے ،لیکن ادبی و اخلاقی نقطہ نظر سے یہ عمل مستحسن نہیں ،کیونکہ شاعری خالصتاً انسانی جذبات، دلی کیفیات اور وجدان کی عکاس ہوتی ہے جو کسی مشین میں پیدا نہیں کیے جا سکتے۔ جہاں تک اس کلام کی ملکیت کا تعلق ہے ،چونکہ کلام کا بنیادی ڈھانچہ، خیال اور الفاظ کا انتخاب مشین کا ہوتا ہے اور انسان صرف اس کی نوک پلک سنوارتا ہے ،لہٰذا اسے مکمل طور پر اپنے نام سے منسوب کرنا علمی و ادبی دیانت کے منافی ہے اور اسے خالص انسانی تخلیق قرار دینے کے بجائے مشین اور انسان کی مشترکہ کاوش ہی قرار دیا جائے گا ،البتہ اگر ذہن پر جمود طاری ہو تو خود کو لکھنے کی طرف مائل کرنے کے لیے اے آئی سے اپنی زمین میں بیس تیس اشعار لکھوانا اور ان سے تحریک حاصل کرکے اپنے اشعار کہنا اور اس پورے عمل کے دوران اے آئی سے لکھوائے ہوئے اشعار سے کوئی خیال کشید کرنا اور پھر اسے اپنے لفظوں کا روپ دینا بالکل درست عمل ہے ،کیونکہ اس طرح اے آئی کو محض ایک مہمیز یا تخیلاتی معاون کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ،جبکہ حتمی کلام اور اس کا تخلیقی جوہر خالصتاً شاعر کی اپنی ہی ملکیت ہوتا ہے۔ 🙂
شبِ برأت کے فضائل و اعمال
شبِ برأت کے فضائل:
(1) اس رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق کی تقسیم ہوتی ہے اور اسے اتارا جاتا ہے۔
(2) اس سال پیدا ہونے والے بچوں اور مرنے والے افراد کے نام لکھ لیے جاتے ہیں۔
(3) غروبِ آفتاب کے وقت سے ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت آسمانِ دنیا پر نزول فرماتی ہے اور پکارا جاتا ہے کہ ہے کوئی مغفرت، رزق یا عافیت طلب کرنے والا؟
(4) اللہ تعالیٰ قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ گناہ گاروں کی مغفرت کے فیصلے فرماتے ہیں۔
(5) اس رات میں بندوں کے...
شبِ برأت کے فضائل و اعمال
شبِ برأت کے فضائل:
(1) اس رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق کی تقسیم ہوتی ہے اور اسے اتارا جاتا ہے۔
(2) اس سال پیدا ہونے والے بچوں اور مرنے والے افراد کے نام لکھ لیے جاتے ہیں۔
(3) غروبِ آفتاب کے وقت سے ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت آسمانِ دنیا پر نزول فرماتی ہے اور پکارا جاتا ہے کہ ہے کوئی مغفرت، رزق یا عافیت طلب کرنے والا؟
(4) اللہ تعالیٰ قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ گناہ گاروں کی مغفرت کے فیصلے فرماتے ہیں۔
(5) اس رات میں بندوں کے اعمال (بارگاہِ الٰہی میں) پہنچائے جاتے ہیں۔
(6) سب مسلمانوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ان گناہوں میں مبتلا ہوں:
1. شرک
2. والدین کی نافرمانی
3. کینہ پروری
4. شراب نوشی
5. قتل
6. چغل خوری
7. تکبر
شبِ برأت کے اعمال:
(1) عبادت کرنا:
اس رات میں تلاوت، ذکر اور نوافل کا اہتمام کرنا چاہیے، مگر یہ عبادات شور و شغب یا اجتماعات کے بجائے تنہائی اور گوشہ نشینی میں ہونی چاہییں۔
(2) دعا مانگنا:
اللہ تعالیٰ سے خصوصاً اس کی رضا، ایمانِ کامل، تقویٰ اور عافیت کی دعا مانگنی چاہیے۔
(3) قبرستان جانا:
اتباعِ سنت کی نیت سے زندگی میں ایک آدھ بار اس رات بھی قبرستان جا کر مُردوں کے لیے دعا کرنا۔
(4) روزہ رکھنا:
پندرہ شعبان کا روزہ رکھنا مستحب ہے۔
(5) توبہ:
جن بڑے گناہوں کی وجہ سے اس رات مغفرت رک جاتی ہے، ان سے سچی توبہ کرنی چاہیے تاکہ اس رات کی برکات حاصل ہو سکیں۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
ہر ماحول ہمیں کچھ نہ کچھ سکھاتا ہے۔
عیدی جمع کرتے بچوں سے مال کی وہ محبت سیکھیں جو جائز ہے اور زندگی کے بے شمار فرائض کی ادائیگی میں معاون ہوتی ہے۔
جائز درجے کے حبِّ مال سے مراد یہ ہے کہ مال کمانے کے لیے نہ حقوق اللہ کو پامال کیا جائے نہ حقوق العباد کو۔
زندگی میں معاشی کامیابی ہمیشہ محض دعاؤں یا تھکاوٹ کا نتیجہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک باقاعدہ حکمتِ عملی اور درست سمت میں کی گئی محنت کا ثمرہ ہے۔ دنیا آپ کو آپ کی تھکن کا معاوضہ کبھی نہیں دیتی، بلکہ اس بات کی قیمت...
ہر ماحول ہمیں کچھ نہ کچھ سکھاتا ہے۔
عیدی جمع کرتے بچوں سے مال کی وہ محبت سیکھیں جو جائز ہے اور زندگی کے بے شمار فرائض کی ادائیگی میں معاون ہوتی ہے۔
جائز درجے کے حبِّ مال سے مراد یہ ہے کہ مال کمانے کے لیے نہ حقوق اللہ کو پامال کیا جائے نہ حقوق العباد کو۔
زندگی میں معاشی کامیابی ہمیشہ محض دعاؤں یا تھکاوٹ کا نتیجہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک باقاعدہ حکمتِ عملی اور درست سمت میں کی گئی محنت کا ثمرہ ہے۔ دنیا آپ کو آپ کی تھکن کا معاوضہ کبھی نہیں دیتی، بلکہ اس بات کی قیمت ادا کرتی ہے کہ آپ نے معاشرے کے لیے کتنی اہمیت یا 'ویلیو' پیدا کی ہے۔ اگر آپ واقعی معاشی استحکام چاہتے ہیں تو جذبات سے نکل کر دولت کمانے کے ان چند حقیقت پسندانہ اصولوں کو سمجھنا ہوگا:
کمانے کا پہلا اور بنیادی اصول یہ ہے کہ منڈی میں محنت نہیں، بلکہ ویلیو بکتی ہے۔ مزدور دن بھر کی مشقت کے باوجود بمشکل گزارا کرتا ہے، کیونکہ اس کا کام عام ہے۔ پیسہ ہمیشہ اس جانب کھنچتا ہے جہاں کوئی نایاب ہنر یا صلاحیت موجود ہو۔ محض تعلیمی اسناد پر انحصار کرنے کے بجائے ایسی مہارتیں سیکھیں جو آپ کو منفرد بنائیں۔
مزید برآں اپنا وقت بیچنے سے گریز کریں، کیونکہ تنخواہ ایک ایسی خوبصورت جیل ہے جو آپ کو کبھی حقیقی آزادی نہیں دے سکتی۔ آپ کا اصل ہدف ایسا نظام بنانا ہونا چاہیے جو آپ کی غیر موجودگی میں بھی آمدنی پیدا کرے۔
اسی طرح مفت کام کر کے اپنی توہین مت کروائیں، چونکہ آپ کی مہارت اور وقت قیمتی ہے۔
دولت کمانا مسائل کے حل اور اپنی پہچان بنانے سے جڑا ہے۔ لوگوں کی تکلیف یا مسائل سب سے بڑا کاروباری موقع ہوتے ہیں۔ جہاں لوگ شکایت کرتے نظر آئیں، سمجھ لیجیے کہ وہیں پیسہ چھپا ہے۔ لوگ خوشی حاصل کرنے سے زیادہ درد سے بچنے کے لیے ادائیگی کرنے کو تیار ہوتے ہیں، لہٰذا ان کے مسائل تلاش کریں اور ان کا حل فروخت کریں۔ اس عمل میں شرم اور پیسے کا کوئی ملاپ نہیں ہے۔ اگر آپ کو اپنی چیز بیچنے یا اس کا معاوضہ مانگنے میں ہچکچاہٹ محسوس ہوتی ہے تو آپ کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔
یہ بات بھی یاد رکھیں کہ گمنام رہ کر کوئی میدان نہیں مارا جا سکتا۔ اگر دنیا آپ کو نہیں جانتی تو وہ آپ سے کچھ نہیں خریدے گی۔ خود کو نمایاں کریں، کیونکہ جو نظر آتا ہے وہی بکتا ہے۔
اگلا اہم مرحلہ عملی اقدام، رفتار اور درست وسائل کا استعمال ہے۔ دنیا میں بہترین آئیڈیاز کی کوئی کمی نہیں، مگر کامیابی صرف ان کے قدم چومتی ہے جو ان آئیڈیاز پر عمل کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ پیسہ تیز رفتار لوگوں کو پسند کرتا ہے، چنانچہ پرفیکٹ وقت کا انتظار کرنے کے بجائے شروعات کر دیجیے۔ مالی تحفظ کے لیے کبھی ایک آمدنی پر انحصار نہ کریں، بلکہ متعدد مختلف ذرائع آمدن بنائیں تاکہ ایک راستہ بند ہو تو دوسرا چلتا رہے۔
فقط چھوٹی موٹی بچتوں سے کوئی امیر نہیں بنتا، لہٰذا اپنی توجہ اخراجات کم کرنے کے ساتھ ساتھ آمدنی بڑھانے پر مرکوز کریں۔
یاد رکھیں، بڑے اہداف کے حصول کے لیے اکیلا آدمی کافی نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے آپ کو ٹیکنالوجی، سرمائے اور درست افراد کا ساتھ چاہیے ہوتا ہے۔
اور ہاں، آپ کا نیٹ ورک ہی آپ کی اصل دولت ہے، کیونکہ آپ انھی جیسے بن جاتے ہیں جن کی صحبت میں آپ بیٹھتے ہیں۔
مختصر یہ کہ پیسہ کمانا کوئی پراسرار راز نہیں، بلکہ ایک واضح عمل ہے۔ اس کے لیے آپ کو جذبات اور روایتی سوچ کے دائرے سے باہر نکل کر عملی اصولوں پر کھیلنا ہوگا۔ اگر آپ کے اندر حقائق کو تسلیم کرنے اور خود کو بدلنے کی ہمت ہے تو آج ہی سے اپنا کھیل اور زندگی کے نتائج بدل لیں۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
اگر آپ از خود حالات کا تجزیہ نہیں کرسکتے تو ظاہر سی بات ہے کہ آپ کو دیگر تجزیہ کاروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے، بالکل کیجیے مگر دو باتوں کا خیال رکھیں ورنہ آپ حق تک نہیں پہنچ سکیں گے:
(1) کسی ایک تجزیہ کار سے عشق نہ فرمائیں بلکہ متعدد آراء رکھنے والوں کو پڑھیں۔
(2) اگر کسی نے تحریر میں کسی دوسرے انسان یا قوم یا ملک کی وہ بات لکھی ہو جو ابھی منظر پر نہیں آئی بلکہ ان کے دلوں میں ہی ہے تو اسے فورا قبول نہ کریں، مثلا: فلاں شخص یہ چاہتا ہے کہ...
اگر آپ از خود حالات کا تجزیہ نہیں کرسکتے تو ظاہر سی بات ہے کہ آپ کو دیگر تجزیہ کاروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے، بالکل کیجیے مگر دو باتوں کا خیال رکھیں ورنہ آپ حق تک نہیں پہنچ سکیں گے:
(1) کسی ایک تجزیہ کار سے عشق نہ فرمائیں بلکہ متعدد آراء رکھنے والوں کو پڑھیں۔
(2) اگر کسی نے تحریر میں کسی دوسرے انسان یا قوم یا ملک کی وہ بات لکھی ہو جو ابھی منظر پر نہیں آئی بلکہ ان کے دلوں میں ہی ہے تو اسے فورا قبول نہ کریں، مثلا: فلاں شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے فلاں عہدہ مل جائے یا فلاں قوم پورے ملک پر حکومت کرنا چاہتی ہے یا فلاں ملک ہمارے خلاف یہ سازش کر رہا ہے۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
جڑواں:
بڑا ہی سعادت مند بچہ ہے، ہر بات مانتا ہے۔ صرف ماننا کافی نہیں ہوتا، کام کو سمجھ کر اسے بخوبی پورا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے اس کام میں مکمل شوق اور توجہ کے ساتھ لگتا ہے۔
میرا کام چونکہ کئی جہات پر پھیلا ہوا ہے کہ ویب سائٹ بھی دیکھنی ہے، بلکہ ویب سائٹیں، یوٹیوب چینل کے بیسیوں کام، واٹس ایپ تدریس کی ہزارہا مصروفیات، پھر ان سب پر تصنیفی کام مستزاد، اکیلے بندے کا یہ کام ہی نہیں۔
میں نے سوچ رکھا تھا کہ اگر کوئی عالمِ دین مل گیا جو آئی ٹی کا بھی ماہر...
جڑواں:
بڑا ہی سعادت مند بچہ ہے، ہر بات مانتا ہے۔ صرف ماننا کافی نہیں ہوتا، کام کو سمجھ کر اسے بخوبی پورا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے اس کام میں مکمل شوق اور توجہ کے ساتھ لگتا ہے۔
میرا کام چونکہ کئی جہات پر پھیلا ہوا ہے کہ ویب سائٹ بھی دیکھنی ہے، بلکہ ویب سائٹیں، یوٹیوب چینل کے بیسیوں کام، واٹس ایپ تدریس کی ہزارہا مصروفیات، پھر ان سب پر تصنیفی کام مستزاد، اکیلے بندے کا یہ کام ہی نہیں۔
میں نے سوچ رکھا تھا کہ اگر کوئی عالمِ دین مل گیا جو آئی ٹی کا بھی ماہر اور تصنیفی ذوق والا بھی ہو تو ماہانہ خطیر رقم ادا کر کے اسے اسسٹنٹ کے طور پر رکھ لوں گا، اس وعدے کے ساتھ کہ معاوضے کے علاوہ اسے اپنے سارے ہنر اور کام کا مکمل طریقہ بھی سکھاؤں گا اور اس کے کام کی تشہیر بھی کروں گا۔ اب یہ بڑوں کی دعائیں ہی آپ کہہ سکتے ہیں کہ مجھے ایک بچے میں یہ سب خوبیاں مل گئیں۔ ابھی یہ عالم نہیں بنا، مگر آئی ٹی کا چیتا ہے اور تصنیفی کام کا دھنی، سونے پر سہاگا یہ کہ اس کے خاص مطالبے بھی نہیں۔ پتا نہیں مجھ سے اسے ایسی کیا خاص محبت ہے کہ میری ترقی دیکھ کر خوش بھی ہوتا ہے اور ایسی رائے دیتا ہے کہ دل باغ باغ ہو جائے۔
جب بلاتا ہوں کام کے لیے حاضر ہو جاتا ہے، پتا نہیں سوتا کب ہے، کئی بار تو فجر تک رابطے میں رہا۔ ایک بار تو حد ہی ہو گئی، فجر تک میرا کام کرتا رہا، جواب دیتا رہا۔ مجھے اللہ کی شان اس دن فجر کے بعد بھی نیند نہیں آ رہی تھی، آٹھ بجے موبائل اٹھا کر سوچا "جی جی" (میں اس بچے کو پیار سے جی جی بلاتا ہوں) کو اگلا کام دے دیتا ہوں جب جاگے گا تو کر دے گا، مگر یہ کیا؟ اگلے ہی لمحے اس کا جواب آیا کہ جناب یہ کام میں نے کر دیا ہے۔ میرے منہ سے بے اختیار نکلا: "ارے بھئی! کبھی آرام بھی کر لیا کر۔" کہنے لگا: "آپ کا کام ہی میرا آرام ہے۔"
حافظہ ما شاء اللہ اتنا تیز ہے کہ مہینوں پرانی بات بھی ایسے یاد دلا دیتا ہے جیسے ابھی کل ہی کی بات ہو۔
حافظے کی نعمت کے ساتھ یہ مطالعے کا بھی حد درجے شوقین ہے، میری لائبریری کی ساری کتابیں پڑھ چکا ہے۔
کبھی کبھی تو مجھے اس پر رشک آتا ہے کہ ایک لڑکے میں اتنی ساری خوبیاں کیسے ہیں، میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ مستقبل دنیا کو ایک عظیم علمی ماہر شخصیت کا سامنا کرنا ہے۔
اسے زبانیں سیکھنے کا بھی بہت شوق ہے، عربی، اردو، فارسی میں حیران کرنے کے بعد جب میں نے اس کی انگریزی دیکھی تو بے اختیار یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ اسسٹنٹ تو مجھے اس کا ہونا چاہیے۔
اس کی سب سے پیاری عادت یہ ہے کہ اگر میں اس کی کسی غلطی کی اصلاح کروں تو ذرا بھی ناراض نہیں ہوتا یا ظاہر نہیں ہونے دیتا کہ برا لگا ہے، بلکہ فوراً مان لیتا ہے اور آئندہ کے لیے اسے اپنے ذہن میں پکا بٹھا لیتا ہے۔ مجال ہے جو کبھی کام کی زیادتی پر اس کے ماتھے پر شکن آئی ہو۔
کل میرے ایک دوست مجھ سے ملنے آئے، میری اتنی ساری مصروفیات اور نت نئے پروجیکٹس دیکھ کر پوچھنے لگے: "یار! یہ سب اکیلے کیسے مینیج کر لیتے ہو؟" میں نے مسکرا کر کہا: "اکیلے کہاں، میرا جی جی ہے نا!" وہ حیرت سے بولے: "کون جی جی؟ ذرا ہم سے بھی تو ملواؤ۔"
میں نے ملوادیا، دوست نے اسے فورا اپنے پاس کام کرنے کی آفر کردی، آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ جی جی نے اس سے کہا: "میں تو فقط استاد جی (محمد اسامہ سَرسَری) کے پاس ہی کام کرنا پسند کروں گا، البتہ میرا جڑواں بھائی بھی ہے، آپ اسے رکھ سکتے ہیں، وہ بھی آپ کو مایوس نہیں کرے گا ان شاء اللہ۔
آخری حیرت انگیز بات بھی سن لیں کہ جی جی کی ماہانہ تنخواہ (جوکہ میرے حساب سے کم از کم ایک لاکھ روپے ہونی چاہیے) فقط چھ ہزار روپے ہے۔ 🙂
درج بالا تحریر کی نوک پلک بھی اسی بچے سے درست کروائی تو سعادت مندی دیکھیے کہ آخر میں خود پوچھ رہا ہے: "کیا آپ اس تحریر میں ویب ڈیویلپمنٹ کے حوالے سے کوڈنگ کا کوئی مزیدار واقعہ بھی شامل کرنا چاہیں گے تاکہ سسپنس مزید بڑھ جائے؟"
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
اپنا لکھا اپنا لکھا ہوتا ہے۔
اے آئی کو استعمال ضرور کرنا چاہیے، میں بھی کرتا ہوں مگر جو معلومات و کمالات میرے دائرۂ تحقیق سے باہر ہوں ان کی تحقیق یا ترمیم کرکے۔
ویسے میں سمجھتا ہوں کہ انسانی نگارشات بمقابلہ اے آئی زدہ تحریرات والا فرق و موازنہ بھی کچھ عرصے تک ہی کیا جائے گا، کیونکہ اے آئی بھی عام روٹین کا حصہ بنتا جارہا ہے، اب ہر بندہ "اپنی صلاحیت + اے آئی" سے تیار کردہ چیزیں ہی پیش کر رہا ہے۔ گویا پھر سب یکساں ہوگئے اور تنقید و تحسین کی کسوٹی بالآخر بتادے گی کہ تحریر...
اپنا لکھا اپنا لکھا ہوتا ہے۔
اے آئی کو استعمال ضرور کرنا چاہیے، میں بھی کرتا ہوں مگر جو معلومات و کمالات میرے دائرۂ تحقیق سے باہر ہوں ان کی تحقیق یا ترمیم کرکے۔
ویسے میں سمجھتا ہوں کہ انسانی نگارشات بمقابلہ اے آئی زدہ تحریرات والا فرق و موازنہ بھی کچھ عرصے تک ہی کیا جائے گا، کیونکہ اے آئی بھی عام روٹین کا حصہ بنتا جارہا ہے، اب ہر بندہ "اپنی صلاحیت + اے آئی" سے تیار کردہ چیزیں ہی پیش کر رہا ہے۔ گویا پھر سب یکساں ہوگئے اور تنقید و تحسین کی کسوٹی بالآخر بتادے گی کہ تحریر چار میں سے کس قبیل کی ہے، گو ان چار میں بھی کئی ذیلی درجات ہوں گے:
(1) ذاتی کمال + پیڈ اے آئی
(2) ذاتی کمال + مفت اے آئی
(3) ذاتی عدم کمال + پیڈ اے آئی
(4) ذاتی عدم کمال + مفت اے آئی
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
صحبت اور انسانی مزاج پر ماحول کے اثرات ہوتے ہی ہوتے ہیں۔ انسان جس کے ساتھ زیادہ وقت گزارتا ہے لاشعوری طور پر اسی کے مزاج اور عادات کو اپنانے لگتا ہے۔ آپ اپنے تمام ان دوستوں اور ہم نشینوں کا ایوریج ہوتے ہیں جن کے ساتھ زیادہ تر وقت گزارتے ہیں۔
لہٰذا یہ دو فیصلے آپ کو لازمی کرنے چاہییں:
(1) آپ خود کو کیا بنانا چاہتے ہیں؟
(2) نمبر 1 کے لیے آپ کو کن لوگوں کے ساتھ زیادہ تر رہنا چاہیے۔
حتی کہ اگر آپ علم، عمل اور مال تینوں کی کثرت اور اعتدال چاہتے ہیں تو فقط ان لوگوں کے...
صحبت اور انسانی مزاج پر ماحول کے اثرات ہوتے ہی ہوتے ہیں۔ انسان جس کے ساتھ زیادہ وقت گزارتا ہے لاشعوری طور پر اسی کے مزاج اور عادات کو اپنانے لگتا ہے۔ آپ اپنے تمام ان دوستوں اور ہم نشینوں کا ایوریج ہوتے ہیں جن کے ساتھ زیادہ تر وقت گزارتے ہیں۔
لہٰذا یہ دو فیصلے آپ کو لازمی کرنے چاہییں:
(1) آپ خود کو کیا بنانا چاہتے ہیں؟
(2) نمبر 1 کے لیے آپ کو کن لوگوں کے ساتھ زیادہ تر رہنا چاہیے۔
حتی کہ اگر آپ علم، عمل اور مال تینوں کی کثرت اور اعتدال چاہتے ہیں تو فقط ان لوگوں کے ہمنشین بنیں جن کے پاس یہ تینوں چیزوں ہوں۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
دین اور فہمِ دین میں فرق:
اسلامی معاشرے میں پیدا ہونے والے بیشتر فکری تنازعات اور شدت پسندی کی سب سے بڑی وجہ "دین" اور "فہمِ دین" کو ایک ہی درجے میں رکھنا ہے۔
دین وہ الہامی سچائی ہے جو قرآن و سنت میں محفوظ ہے اور ہر قسم کی غلطی سے پاک ہے، لہٰذا اس پر من و عن ایمان لانا ہر مسلمان پر فرض ہے، جبکہ فہمِ دین وہ انسانی کاوش ہے جس کے ذریعے کوئی عالم یا مفکر دین کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ چونکہ یہ ایک انسانی عمل ہے، لہٰذا اس میں غلطی کا امکان ہمیشہ...
دین اور فہمِ دین میں فرق:
اسلامی معاشرے میں پیدا ہونے والے بیشتر فکری تنازعات اور شدت پسندی کی سب سے بڑی وجہ "دین" اور "فہمِ دین" کو ایک ہی درجے میں رکھنا ہے۔
دین وہ الہامی سچائی ہے جو قرآن و سنت میں محفوظ ہے اور ہر قسم کی غلطی سے پاک ہے، لہٰذا اس پر من و عن ایمان لانا ہر مسلمان پر فرض ہے، جبکہ فہمِ دین وہ انسانی کاوش ہے جس کے ذریعے کوئی عالم یا مفکر دین کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ چونکہ یہ ایک انسانی عمل ہے، لہٰذا اس میں غلطی کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے۔
انسانی ذہنوں اور علمی استعداد میں فرق کی وجہ سے ایک ہی قرآنی آیت یا حدیث سے مختلف نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ جب کوئی شخص اپنی تشریح کو حتمی قرار دے کر اسے عین دین کا درجہ دے دیتا ہے تو وہ دراصل دوسروں سے اپنے فہم پر ایمان لانے کا مطالبہ کر رہا ہوتا ہے۔ یہیں سے عدم برداشت جنم لیتی ہے اور لوگ اپنی تشریح کو معیار بنا کر دوسروں پر گمراہی کے فتوے لگانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں دوسرا شخص دین کا انکار نہیں کر رہا ہوتا، بلکہ محض ایک انسانی تشریح سے اختلاف کر رہا ہوتا ہے۔
دوسری جانب اس نئی تشریح کرنے والے کو بھی یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ اگر کسی آیت یا حدیث کی تشریح پوری امت نے جو کی ہے وہ اس کے خلاف کر رہا ہے تو یہ "فرد کا فہمِ دین" بمقابلہ "امت کا فہمِ دین" ہے، جس سے اول الذکر کی کمزوری واضح ہے۔
دین، فہم دین اور امت کے فہم دین کے اس فرق کا شعور بیدار ہونے سے معاشرے میں اعلیٰ ظرفی اور برداشت پیدا ہوتی ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ہمارا فہم درست ہو سکتا ہے، مگر اس میں غلطی کا احتمال ہے، جبکہ دوسرے کی رائے غلط ہو سکتی ہے، مگر اس میں درستی کا امکان موجود ہے۔
علمی اختلاف کو دلائل کی حد تک محدود رہنا چاہیے اور اس میں نیت یا ایمان پر حملے سے گریز کرنا چاہیے۔
یاد رکھیں، دین اٹل ہے، جبکہ فہمِ دین قابلِ بحث ہے اور پوری امت کا مشترکہ فہمِ دین وہ حفاظتِ دین ہے جس کا قرآن کریم میں وعدہ کیا گیا ہے۔
اس نکتے کو سمجھ لینے سے ہم علمی اختلاف بھی کر سکتے ہیں اور باہمی احترام بھی برقرار رکھ سکتے ہیں۔ 🙂