آپ کی کاوشیں

اس پیج کی کسی بھی کاوش کی کسی بھی عبارت سے نہ ادارے کا متفق ہونا ضروری ہے، نہ ادارہ ذمہ دار ہے۔ | غیر تخلیقی مواد ڈیلیٹ کردیا جائے گا۔ | نامناسب مواد پوسٹ کرنے والے کو بلاک کردیا جائے گا۔
اس پیج کی کسی بھی کاوش کی کسی بھی عبارت سے نہ ادارے کا متفق ہونا ضروری ہے، نہ ادارہ ذمہ دار ہے۔ | غیر تخلیقی مواد ڈیلیٹ کردیا جائے گا۔ | نامناسب مواد پوسٹ کرنے والے کو بلاک کردیا جائے گا۔
حامد قاسم پالن پوری
رلاتی مجھ کو ہے تیری فرقت ستارے خاموش کیوں ہیں اب تک پڑی ہے زنجیر در پہ سب کے ترا ہی باقی رہا ہے آنا وفا کی قیمت سے بے خبر ہے وجودِ ہستی بس اک سفر ہے جہاں کے میلے میں ہم نہ ہوں گے کبھی نہ ہوگا ہمارا آنا بڑی امانت سے دل دیا تھا قدر داں ہو تم یہی سنا تھا کیے ہیں تم نے ہزار ٹکڑے بہت ہے بھاری یہ دل لگانا
حامد قاسم پالن پوری
🌃 چاندنی رات اور ہم 🌃 چاندنی رات کس کو نہیں بھاتی ! یہ تو اہل دل کی خوشیوں کا بہانہ ہے ، دل کی کلیوں کے تبسم کا وسیلہ ہے ، شعراء کے دیوان کی زینت کا ذریعہ ہے ، جب یہ رات اپنے بازو پھیلاتی ہے تو گلشن و چمن ، دیو قامت پہاڑ ، سبز پوش درخت ، ہواؤں کے دوش پہ جھولتی ڈالیاں ، کھیتوں کے کھلیان ، کوہستان و ریگستان کا نظارہ ہی دلکش و دلبر نظر آتا ہے ، پھر جوں جوں شب ڈھلتی جاتی ہے ، چاند اپنی چاندنی سے مسحور و مسرور کرتا رہتا ہے ، ہم خانہ بدوش بڑی شدت سے ہر ماہ اس کے منتظر رہتے ہیں کہ کب مجنوں کی لیلی لوٹ آئے اور فراق وصال میں تبدیل ہو جائے ، کب نور کی برسات ہو اور ہم سراپا نہالیں ، کب یہ دلہن سج دھج کر آجائے کہ ہم آنکھوں کے دیے جلالیں ، کیا ہی خوشنما ایک رات کی یہ بارات ہوتی ہے ، جس کے ہم بھی منتظر ، گلزار و ریگزار بھی مشتاق ، نقرئی آبشار بھی دست بستہ راہ تکتے ہیں ، صحراء و بیاباں ، ریگ رواں نظر آتے ہیں ، بڑا ہی انوکھا دل آویز یہ مہمان ہوتا ہے ، جس کا عاشقوں کو چشم براہ انتظار رہتا ہے ، اور بادیہ نشینوں کا دل بے قرار رہتا ہے ، اس شب میں ہر سمت نور کی چادر تنی ہوتی ہے ، درختوں نے نور کی قبائیں زیب تن کی ہوتی ہیں، یوں لگتا ہے جیسے چرخ کہن کا ماہتاب دھرتی پہ اتر آیا ہو ، خورشید رخسار ، سیمیں بدن ، مہ جبیں ، ماہ وش چہرے کھل اٹھتے ہیں ، دلکش نقوش ، غنچۂ لب ، غزال آنکھیں چمک اٹھتی ہیں ، ماہِ رواں بھی مہتاب آستانۂ گردوں سے نکل کر آن ، بان ، تزک و احتشام کے ساتھ جلوہ پرداز ہوا ، فریضۂ صلاة کی ادائیگی سے فراغت ہوئی حالیکہ دل شاداں و فرحاں تھا ، مسکراتے چہرے تبسمِ زیرِ لب تھے ، چاندنی میں ہر شے نہا چکی تھی ، اب باری ہماری تھی.... ٹھہریے ٹھہریے ! یہ بھی گوش گزار کر لیجیے کہ یہ منظر ہم خانہ بدوش دیہاتیوں کی نگری میں خوب رنگ دکھلاتا ہے ، چھوٹی چھوٹی کیاریاں ، اور ان کی پشت پر رقص کرتا آبِ زلال ، سر سبز و شاداب کشت زاروں کے درمیان انتہائی خوبصورت نظارہ پیش کرتا ہے ، وسیع راہوں کے گردا گرد کھڑے اپنے زمردیں بازو پھیلائے اشجار ، حسن و تجمل کو مزید بڑھاوا دے رہے ہوتے ہیں ، یہ رات شاعروں کو تخیلاتی دنیا کی سیر کراتی ہے ، پھر یہ کسی زہرہ جبیں مہ جبین پری صفت نازنین کی تعریف میں رطب اللسان ہوتے ہیں ، عشاق شعراء دوشیزاؤں کو اس شبِ فروزاں کی نزاکت و نفاست ، حسن و لطافت سے تشبیہ دیتے ہیں اور یوں غزلیں کہہ جاتے ہیں جیسے کہ اشعار کا نزول ہو رہا ہو ، اس شبِ درخشاں میں ہوائیں جب ان برگ و باد سے بھڑتی ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے نیلگوں چھت سے لٹکے تارے زمین پہ آگئے ہوں ، اس شبِ تاباں میں ہم سادہ لوح دہقانی رتیلی زمین پر باہم براجمان ہوکر اپنے اپنے دکھڑے سناتے ہیں اور باہم سکھ دکھ بانٹتے ہیں ، پھر جب شب کی خنکی بڑھتی ہے تو پھر ایک نشست چائے کی لگتی ہے ، اس لطف اندوزی کا تو پوچھیے ہی مت ، چسکیاں لے لے کر اس وقتِ خوشگوار کا خوب لطف لیتے ہیں ، پھر ایسے وقت میں اگر کسی باغ کی گشت و گذار کو چل دیں تو نقشہ ہی بدل جاتا ہے ، اطراف و اکناف میں لگے مختلف رنگا رنگ کے غنچہ و گل خوشبو میں غوطہ زن پھل پھول ، دل و دماغ کو فرحت و سکون بخشتے ہیں ، اگر ایک نظر مرکزِ چمن پر بھی ڈال لیں تو بس دل خوشیوں کی انتہا کو پہنچ جاتا ہے ، وسط چمن میں ایک چھوٹے سے حوض میں لگے فوارے سے چھلکتا پانی دل کی دنیا میں ہلچل سی مچا دیتا ہے ، پھر ایک رات کی یہ دلہن رخصت ہوجاتی ہے اور پھر ایک ماہ تک وہی انتظار ، وہی امیدیں ، وہی خوشیاں راہ تکتی ہیں ۔ بہرکیف باری ہماری تھی ، ہم بھی چل دیے اور اپنی کٹیا میں بیٹھے بیٹھے ہی غریب کدہ کے دریچے سے ایک نظر باہر کی سمت بھی دوڑائی تو یہ فضا اور رت ہمیں بھی بھائی ، پھر کیا تھا ہم خانہ بدوشوں کی وہ لکڑی سے بنی چارپائی ہم نے اٹھائی اور نور کی برسات میں آکر بیٹھ گئے ، خوب نہائے ، اپنوں کے ہمراہ خوب مسکرائے ، قہقہوں کے تبادلے بھی ہوئے ، دادی اماں کے قصے بھی سنائے ، دوراں کے ستم بھی بیاں ہوئے ، وفاؤں کی خوشبو بھی بکھیری ، جفاؤں کے تذکرے بھی ہوئے ، کہنہ سال افراد نے عہدِ شباب کی داستانیں بھی سنائی ، عاشقوں نے مجنوں کی ادائیں بھی بتائی ، محبت و وفا کے اسرار بھی سکھائے ، جفا و دغا کے ان سنے قصے بھی سنائے ، یوں محفل ہماری انتہا کو پہنچی ، بالآخر شبستاں سے صدا آئی ، آؤ چلے آؤ.. خواب گاہ انتظار کر رہی ہے ، اب سکوت چھا گیا ہے ، پرندے اپنے آشیانوں میں چپ سادھ چکے ہیں ، شب کا سناٹا بڑھتا جا رہا ہے ، گلیاں سنسان ہوتی جا رہی ہیں ، لہذا ہم روانہ ہوگئے اور صبحِ فروزاں تک کے لیے آنکھوں کے در موڑ کر سوگئے۔
حامد قاسم پالن پوری
❤️ حال دل ❤️ *23 جولائی ، 2024 منگل* وقت ہر کسی کا ساتھ نہیں دیتا ، خوشیاں مستقل نہیں ٹھہرتی ، ہر کسی کا بخت سدا خوشیوں کی بہاریں نہیں لاتا ، زندگی کی راہیں کبھی کشادہ ہوجاتی ہیں تو کبھی زندگی میں تلخ گھونٹ بھی پینے پڑتے ہیں ، دکھ سکھ کے حسین سنگم کا نام ہے زندگی ، جوں ہی عقل کے بال و پر نکل آتے ہیں تو زمانہ اپنے تیور بدلتا ہے ، اور آنکھیں دکھاتا ہے ، نصیبہ ور لوگ پھر بد نصیبی کا شکار ٹھہرتے ہیں ، اپنوں پرایوں کے رویے بہت جلد ہی تھکا دیتے ہیں ، شاہینوں کی سی اڑان بھرنے والے لمحوں میں ڈھیر ہوجاتے ہیں ، محبت کے شامیانے گاڑنے والے نفرتوں کی زد میں آجاتے ہیں ، کسی کا برا نہ سوچنے والوں کو بھی وقت بڑی بےدردی سے مجرم بنادیتا ہے ، سکوں کے سویرے پھر نہیں ٹھہرتے ، محبت کے سایے کم ہوجاتے ہیں ، الفت کے اجالے تاریکیوں میں بدل جاتے ہیں، وسعت افلاک تنگ ہوجاتی ہے ، زمیں کی کشادگی پھر تنگی میں بدل جاتی ہے ، وقت اپنا ہو سب اپنے ہیں ، وقت اپنا نہیں تو کچھ بھی اپنا نہیں ۔ اندھیرے اجالوں کی قید میں مقید ہوجاتے ہیں ، نیلگوں آسماں جگمگاتے تارے ماہتاب کی ضوفشاں کرنیں زندگی کے لیے مسرت بخش نہیں رہتی ، محبت ہی زندگی کی وسعت ہے ، محبت کے ریشے جب تیز و تند تیشے بن جائیں تو پھر مسکراتے چہرے خاموشی کی ردا اوڑھے لیتے ہیں ، امیدوں کے قصر عالی بہت جلد زمین دوز ہوجاتے ہیں ، فلک بوس امیدوں کے کاخ خاک میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، حوصلے اپنی موت آپ ہی مرجاتے ہیں ، اپنوں پرایوں کی ترشیاں مجبور کرتی ہیں کہ پھر انسان ویرانیوں کو اپنا مسکن بنالے ، خاموشیوں کی مہر منہ پہ سجالے ، تنہائیوں کو اپنا ہمنوا بنالے ، پھر تنہائی ہی اپنا سب کچھ ہوتا ہے ، ویرانی ہی پھر دل کے لیے سامان تسلی ٹھہرتی ہے ، دل کا سوز و گداز ہی مستقل مشغلہ ٹھہرتا ہے ، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ انسان مخلوق سے دور خالق سے قریب ہوجاتا ہے ۔ عمر رفتہ تو چار دن مانگ کر لائے تھے لیکن حاشیہ خیال میں نہ تھا کہ یہ چار دن چار صدیاں محسوس ہوں گی ، مال و دولت کی ریل پیل ہوتی تو ہم بھی اپنے شہر کے نواب ہوتے ، وقت ساتھ دیتا تو ساتھ چھوڑنے والے آج ہمارے گرد گردش کاٹ رہے ہوتے ، قسمت نے وفا کا دم تو بھرا تھا لیکن وفا نہ کی ، اگر کی ہوتی تو بلندیوں پر ساتھ اڑان بھرنے والے پستیوں میں بھی ساتھ نبھارہے ہوتے ، پیسہ الفت و محبت کی بنیاد ٹھہرا ، عزت و شہرت انسان کے لیے معیار بن گئی ، غربت کے مارے اپنوں کے ستائے اب در بدر مارے مارے پھرتے ہیں ، والد زندہ ہوتے تو روکھی سوکھی کھاکر بھی ناز و انداز دکھاتے ، پیوند زدہ لباس ہی فخر کا سامان ہوتا ، غربت میں بھی دل کو سکوں ملتا کہ چلو ہمارا بار تحمل اپنے کاندھوں پہ ڈالنے والا کوئی تو ہے ، لیکن زندگی نے وہ بھی چھین لیا ، راتیں اس سوچ میں کٹ جاتی ہیں ، دن کی گھڑیاں مستقبل کی فکر میں قلب و جگر پارہ پارہ کیے دیتی ہے ، ذمہ داریوں کا بوجھ مسکراہٹیں چھین لیتا ہے، وہ مسافر تھک جایا کرتے ہیں تنہائی جن کی ہمسفر ہوتی ہے وہ حوصلے پست ہوجایا کرتے ہیں جن کی ہم رکاب اپنوں کی تلخ نوائیاں ہوں ، اے کاش ہمارا وقت ہوتا تو ہم کس قدر خوش عیش ہوتے ، ہر تمنا باپ سے پوری کرواتے ، لیکن غم کے آنسو پونچھنے والا کوئی نہیں رہا ، دل کو تسلی دینے والے بھی دنیا جہاں سے کوچ کرچکے ہیں ، جن کے ساتھ برسوں سفر رہا وہ ہمسفر بھی رفاقت سے محروم کرچکے ہیں ، خدایا اپنے تنہائیوں سے یارانہ قائم کرنے کو جی کرتا ہے ، اپنوں پرایوں سے دور جاکر بسنے پر دل مجبور کرتا ہے ، اب سپیروں نے یہ کہہ کر سانپ کے ڈربے کو بند کردیا ہے کہ ڈسنے کے لیے انسان کو انسان بہت ہیں ، ہم مجبور ہیں زندگی نے ساتھ نہیں دیا ورنہ کون اپنے گاؤں سے دور رہا ہے ، ........ سلام على تلك الديار وأهلها ديار بعين القلب صرت أراها لئن بعدت عنا وشط بها النوى فما شط عن قلب المحب هواها وقت کی رفاقت اپنوں کی محبت پرایوں کا ساتھ جسے مل جائے وہ دنیا کا نصیبہ ور شخص ہے ، اب دنیا میں آئے ہیں تو جینا ہی پڑے گا ... دنیا میں ہم آئے ہیں تو جینا ہی پڑے گا جیون ہے اگر زہر تو پینا ہی پڑے گا
حامد قاسم پالن پوری
💞 (خانقاہ فیض اولیاء ترکیسر ، تاثرات و روداد ) 💞 *13* *مارچ ، 2025 عیسوی* بسم اللہ الرحمن الرحیم *پھر کہیں سے ڈھونڈ کر لا اے عمر رفتہ دل وہی* *مے وہی مینا وہی ساقی وہی محفل وہی* *اب یہ عالم ہے ذرا بھی جب کبھی خلوت ہوئی* *پھر وہی جانِ تصور پھر حدیثِ دل وہی* سال بھر کی بے قراری کو قرار آنے ہی والا تھا ، کچھ سنہرے خواب شرمندۂ تعبیر ہوا چاہتے تھے ، ایک ایسے میکدے کی جستجو کا خیال روح کے ساز چھیڑے ہوئے تھا جہاں کا ساقی خود آشنا بھی ہو اور خدا شناس بھی ہو جس کی گفتگو میں سوز و گداز ہو ، جسے آنکھوں سے مئے الفت پلانے کا گر بھی حاصل ہو جس کا نظامِ میکدہ سالکین کے لیے نمونہ ہو ، جہاں کی صہبا ، سبو ، جام ، خم ، اور آبخورے تک مؤدب و مہذب ہو ، جہاں انسانیت کے تئیں قدر و احترام ہو ، جذبات کی موجوں میں گم گشتہ رہرو کے لیے کوئی پیشرو ہو ، بالآخر وہ روز دل فروز آ پہنچا جس کے لیے دیدۂ و دل منتظر تھے ، جس کے انتظار میں نہ جانے کتنی بے قراریوں کی کروٹیں لی تھیں ، قلبی جذبات و خیالات نے بر انگیختہ کیا ، چنانچہ ہم سفر کے لیے پا بہ رکاب ہوگئے اور ایک یادگار سفر میخانۂ روحانیت کی سمت شروع ہوگیا ، دل کی دنیا میں ایک نشیب و فراز تھا ، مرحلۂ سفر بھی دور و دراز تھا ، کبھی دل مجھ کو سمجھاتا تھا اور کبھی میں دل کو سمجھاتا تھا ، بالآخر صبح پرنور کے وقت پو پھٹنے سے قبل نہر کے کنارے چڑیوں کی چہچہاہٹ مگر آب جوْ کے سکوت کے ہمراہ مرکز روحانی میں داخل ہوگئے ، پھر کیا تھا محبت کی نغمہ سرائی ہر گوشۂ تنہائی میں نظر آئی ، جذبات کی سچائی ہر شب کی سیاہی میں دکھائی دی ، اللہ اللہ کی صدائیں اس بقعۂ نور کو واقعی پرنور کیے ہوئے تھی ، حمل النفس علی الآداب الشرعیة و الانقياد لرب البرية اور عمل بالعلم کے اسباق نہایت عمدگی سے پڑھائے جا رہے تھے ، جنگل میں منگل کا سماں تھا ، کیا دیکھا کہ فیض اولیاء میں ایک بافیض ولی " تخلی عن الرذائل اور تحلی من الفضائل " کا علم بردار ہے ، واقعی یہ اولیاء اللہ نہ ہوں تو پھر گلشنِ ہستی کی بہاریں بھی نہ ہوں ، جس نے بھی کہا خوب کہا ... *نہ ہوں گے بادہ کش تو بادۂ گلفام کیا ہوگا* *یہ شیشہ یہ صراحی یہ سبُو یہ جام کیا ہوگا* (١) گلشن کے مالی کی توجہات کا واضح اثر و نفوذ تھا ذکر و اذکار میں لذت ، دعا و مناجات میں حلاوت ، ایک عجب ہی سماں تھا دل تھے کہ بے اختیار کھینچتے چلے جا رہے تھے ، آنکھیں تھیں کہ انہیں تکے جارہی تھی ، لفظ لفظ موتی بن کر قلب گنہ گار میں اترے جا رہا تھا ، ناز و نیاز کی کیفیت سدا سوار رہتی تھی ، میں سدا ان کی دعا کا منتظر رہتا کیونکہ دل کو روئے برسوں بیت چکے تھے ، آنکھیں خشک ہوئے زمانہ گزر چکا تھا ، اب حال یہ تھا کہ بس نم دیدہ ہی نم دیدہ رہا کرتے تھے ۔ شیخ کو عبادات معاملات معاشرت اخلاقیات پر گفتگو کرتے ہوئے دیکھ کر حد درجہ مسرت بھی ہوئی کہ یہ بھی اصلاح و تربیت کی چیز ہے ، اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ بحرِ معرفت کے بحرِ الفت کے شناور ہیں ، لوگوں سے سنا تھا کہ وہ خدا سے جوڑ دینے کی مہارت بھی بخوب رکھتے ہیں ، یوں تو زبانِ خلق کا اعتبار تو نہیں لیکن زبانِ خلق نقارۂ خدا بھی تو ہے ، بخدا ان کی محفل میں سنگریزے بھی نگینے ٹھہرتے ہیں ، ان کے تراشے ، ہیرے بن کے چمکتے ہیں ، ان کی بزم سخن میں پتھر دل موم ہوجاتے ہیں، ان کی دعائیں دل کی بستی میں وہ ہلچل سی مچا دیتی ہیں کہ ہر کس و نا کس کے رخسار تر ہوتے چلے جاتے ہیں ، گفتار گو کہ سادہ ہوتی ہے لیکن وہ اہل دل ہیں اور اہل دل کی بات ہی جدا گانہ ہوتی ہے ، وہ از دل خیزد بر دل ریزد کا مصداق ہوتی ہے ، واقعی شیخ مکرم رہبرِ طریقت ہیں وہ " من اتصف بصفات اهل الصفة " کے آئینہ دار ہیں ، مرشد اور میخانۂ مرشد کی ایسی نظیر ان خطاکار آنکھوں نے بہت کم ہی دیکھی ہے ... *آفاقہا گردیدہ ام مہر بتاں ورزیدہ ام* *بسیارخوباں دیدہ ام لیکن تو چیزے دیگری* *تواز پری چابک تری وز برگ گل نازک تری* *وزہرچہ گویم بہتری حقا عجائب دلبری* (٢) میخوار کا میخانہ بھی اسی کا عکاس تھا ، نظم و نسق انتہائی منظم و مرتب تھا تاکہ خلق خدا ضرر و مضرت سے دوچار نہ ہوں ۔ (٣) کارندوں کے اخلاق و عادات بھی ساقی کا پرتو معلوم ہورہے تھے ، واردین پر عقیدت و احترام کے پھول نچھاور کیے جاتے تھے ، جی ہاں یہی وہ محبت کی زباں ہے جو بے زباں جانوروں کو بھی گرویدہ اور اسیر بنالیتی ہے ، (٤) جذبۂ خدمت ، راحت رسانی کا خیال ہر خادم کا اولیں فریضہ معلوم ہوتا تھا ، بوقت سحر جوں ہی آنکھوں کے دریچے کھلتے ایک گونج گونجتی سماعت کے پردوں سے ٹکراتی کہ " آئیے ساتھی دستر حاضر ہے " سبحان اللہ تلنگانہ کے ساتھیوں کی ہمدردی ، اطاعت شعاری ، دریا دلی ، خدمت خلق کا جذبہ ، ضیافت کا ولولہ ، اس فقیر سراپا تقصیر نے کم ہی دیکھا ہے ، اس آستانے کے مستانے لا ضرر و لا ضرار پر عمل پیرا نظر آتے تھے ۔ میں اس مرشد کدے کو کیا نام دوں ، یہ مشربِ جمال بھی ہے ، مشربِ جلال بھی ، یہ مشربِ صحو بھی ہے ، مشربِ سکر بھی ، یہ مشربِ حال بھی ہے ،مشربِ قال بھی ، اس آستانے کا جوہر و خاصہ یہ ہے کہ *مہتاب یہاں کے ذرّوں کو ہر رات منانے آتا ہے* *خورشید یہاں کے غنچوں کو ہر صبح جگانے آتا ہے* شب و روز اسی دھن میں مگن ہو کر کٹ رہے تھے کہ ہر دم اللہ اللہ کر نور سے اپنا سینہ بھر ، خیالات میں پاکیزگی ، قلب میں رقت و رأفت ، سجدوں کا شوق ، جبینِ نیاز کی نیازی ، مناجات کا ذوق ، اور سنتوں کے گل طاق ہستی پر سجائے ، آتش عشق سینے میں بھڑکائے اور لو خدا سے لگائے گردش کر رہے تھے ، ایک عجیب سا منظر اس چشم پر خمار کے روبرو رہتا تھا ، ہفتے بھر میں ایک قرآن کے ختم کی سعادت پہلی بار مل رہی تھی ، ذکر کی حلاوت پراگندہ بوسیدہ قلب پہلی بار محسوس کر رہا تھا ، محبت بھرے الفاظ ، اپنائیت کا احساس دلانے والے اور گلشن کے مالی ، وہ کوئی اور نہیں بلکہ محبوب العلماء و الصلحاء مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی دامت برکاتہم کے خلیفہ حضرت مولانا کاتب صلاح الدین صاحب سیفی زید مجدہ کی ذات گرامی ہیں ، *تصور میں تجھے لا کر ہمہ تن گوش رہتا ہوں* *مثالِ شمع جلتا ہوں مگر خاموش رہتا ہوں* یہ حضرت کی مقبولیت اور شیخ صادق کی علامت ہے کہ آپ علماء و طلباء کے لیے مرکزِ توجہ بنے ہوئے ہیں ، بقول حضرت حکیم الامت : صالح شخص سے مخلوقات کو محبت ہوجاتی ہے ، شیخ کی دینداری کی پہچان یہ ہے کہ اہل علم دینداروں کا اس کے گرد ازدحام رہتا ہے ، اس کی مقبولیت کی شناخت یہ ہے کہ اولا اس کی محبت ملائکہ اور پھر نائبین انبیاء اور پھر عوام میں رکھ دی جاتی ہے ۔ ہم تہی دست ان کی خدمت میں ایک فرسودہ دل لے گئے تھے ، افسردگی کا میل اتار کر سو وہ بھی اسی دلدار کو دے آئے ۔ سالکین و مفکرین ، اہل دل اہلِ نظر ، اہل فکر ، اہل علم کو چاہیے کہ اس مشرب سے وابستہ ہوں ، اہلِ دیں اہلِ دعا ، اہلِ اثر کو چاہیے اس خانقاہ کا رخ کریں ، بخدا دل سنورتے ہیں قلوب نکھرتے ہیں ، رگ رگ میں خدا کی الوھیت و ربوبیت ، مالک و متصرف ہونے کا عقیدہ سرایت کرتا ہے ۔ خوب روئے دھوئے ، دل کی دنیا میں انقلابات آئے ، یہ سلسلہ رواں ہی تھا کہ ناگاہ وقتِ واپسی قریب آ پہنچا ، جانِ جاناں اور در و دیوارِ بستاں کی یادوں نے ہنگامۂ دل برپا کردیا ، اور ہم بوجھل قدموں کو اٹھائے خانقاہ فیض اولیاء ترکیسر سے وطن لوٹ آئے ، بس اب درد سے یادوں سے اشکوں سے شناسائی ہے ۔ *عجیب ہوتے ہیں آداب رخصت محفل* *کہ وہ بھی اٹھ کے گیا جس کا کوئی گھر نہ تھا*
حامد قاسم پالن پوری
تم پھر نہ آ سکوگے بتانا تو تھا مجھے اسیر و قائد ، شہید ابو ابراہیم یحییٰ سنوار رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ زندگی کی بہاروں میں جذب و مستی کیف و سرور سے سرشار تھا ، ہنستے مسکراتے ساتھیوں کے ہمراہ لوٹا ، جمعرات کو عشاء سے کچھ ہی دیر قبل مختلف ذرائع ابلاغ نے قائد تحریک حماس شیخ یحییٰ سنوار کی شہادت کی خبر مختلف شواہد کے توسط سے ہم تک پہنچائی ، بس کیا تھا کہ سانسیں اکھڑنے لگیں ، آنکھوں میں آنسو بھر آئے ، نمدیدہ آنکھوں کے ساتھ اکھڑے لہجے میں یہ دل سوز خبر سنائی ، لیکن دل تھا کہ ماننے سے انکاری تھا ، مانتا بھی کیوں ، آخر خبر تھی کس کی بابت ؟ جسے دل و جان سے چاہا ، دعائے نیم شبی میں جسے یاد کیا ، فلسطین کی بازیابی کی امیدیں جس سے وابستہ تھیں ، محبت و الفت کے ہالے جس کے نام کیے ، عشق و عقیدت کے ہزارہا پھول جس کے نثار کیے ، اس دوران ساتھوں نے تصدیق کے لیے مسیج کی بھرمار کردی ، میرے پاس کوئی جواب نہ تھا سوائے آنسوؤں کے ، مختلف حیلے حوالوں سے اس شب ہجر میں دل کو بہلا رہا تھا ، کبھی یہ کہہ کر کہ یہ ہمارا قائد نہیں ہے کوئی اور جاں سے گزرا ہے ، تو کبھی یہ کہہ کر کہ ابھی کوئی مصدقہ اعلامیہ شائع نہیں ہوا ہے ، اسی کشمش میں رات گزری ، دل و دماغ سے خوب مذاکرات کیے ، لیکن ناکام رہا ، مہر و ماہ اب رفتہ رفتہ کوچ کرتے چلے جارہے تھے ، رات ڈھل چکی تھی ، آسماں پر خاموشی چھا چکی تھی ، رات نے سیاہی کو اپنی آغوش میں لے رکھا تھا ، یوں لگ رہا تھا جیسے نیندوں سے میرا تعلق ہی نہ ہو برسوں سے ، خواب گاہ میں جہاد فی سبیل اللہ فضائل و مسائل کی تالیف میں مصروف تھا ، انتظار میں تھا کہ خواب آ آ کے میری چھت پہ ٹہلیں اور کچھ وقت کے لیے چشم پرنم پر خمار ہوں اور جلد ہی نیند کی آغوش میں چلا جاؤں ، بالآخر کروٹیں سلوٹیں بدلتے بدلتے نیند نے آ لیا ، یوم جمعہ اسی درد و کرب میں گزرا ، بالآخر مغرب بعد پیارے قائد کی شہادت کی معتبر ذرائع سے تصدیق ہوگئی ، دو گانہ ادا کی اور ایصال ثواب کیا ، میں اپنے گوشۂ تنہائی میں تن تنہا ہوں ، احساسات و جذبات کے ہاتھوں یرغمال ہوں ، درد سے یادوں سے اشکوں سے شناسائی ہے ، ماں سے کچھ دن پہلے شیخ کا تعارف کروایا تھا اور الشوک و القرنفل کے چند چیدہ چیدہ واقعات سنائے تھے ، اور ماں سے کہا تھا کہ گھر آکر یہ کتاب پڑھ کر سناؤں گا ، لیکن نہ ماں کو خبر تھی نہ مجھے پتہ تھا کہ جس کی کتاب کا ذکر ہورہا ہے وہ بطل حریت مجاہدِ ملت بہت جلد تم سب سے جدا ہونے والا ہے ، جس کا ذکر تم اس کی حیات میں کر رہے ہو کل اس کا تذکرہ تم صرف کتابوں میں پڑھوگے وہ تم سے بہت دور جا چکا ہوگا ، اس کے نقشے اس کے خدو خال اس کا رنگ روپ اس کی باتیں اس کی گفتار و کردار صرف کتابوں میں دکھائی دے گا ، وہ ہنستا مسکراتا دشمنان اسلام کو للکارتا ہوا اب صرف اسکرین پر یا کتابوں کے اوراق پر نظر آئے گا ، ماں کو آج خبر دی ، اماں نے بڑا افسوس کیا ، اپنے طلباء کو روشناس کروایا ، اے ابو ابراہیم ہمیں یقین تھا کہ آپ کسی روز ہمیں چھوڑ کر جان جاں آفریں کے سپرد کردو گے ، لیکن اتنا جلدی ... *رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی* *تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی* ابو ابراہیم ! ہمیں معلوم ہے کہ آپ نے چچا زاد ابراہیم سے آخری دم تک لڑنے کا پیماں کیا تھا ، ابو ابراہیم ! ہمیں معلوم تھا کہ ابراہیم کی طرح کل تمہیں بھی چلے جانا ہے ، لیکن اس قدر جلد سوچا بھی نہ تھا ! ابو ابراہیم ہم نے تو تمہارے ہاتھوں اقصی کی بازیابی کا سوچا تھا ، ابو ابراہیم شاید تمہیں ابراہیم ساتھ کیا ہوا اقصی کا وہ یادگار سفر یاد ہوگا ، اقصی نے تمہارا انتظار کیا اور اب تک کرتی رہی ، ابو ابراہیم ہم تمہیں ڈھونڈتے ہیں ، قائد محترم اسماعیل ہنیہ کو تو داغ مفارقت دیے ابھی سال بھی نہیں گزرا کہ تم بھی راہی ملکِ عدم روانہ ہوگئے ، ابو ابراہیم ضبط کا بندھن ٹوٹ چکا ہے ، لیکن مجھے صدیوں سے رواں یہ تسلی بخش اصول یاد ہے کہ *لو کان فی الدنیا بقاء لساکن* *لکان رسول اللہ فیھا مخلداً* دنیا رہنے کی جگہ ہوتی تو پیارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ضرور ٹھہرتے ، یہ شہادتیں ہمارے لیے نئی نہیں ہیں امت نے اگر آج قائد انقلاب شیخ اسماعیل ہنیہ شہید کو کھویا ہے تو  کبھی پیارے محمد ابوبکر و عمر عثمان و علی رضوان اللہ علیہم اجمعین ، امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد ، مجاہد ملت شیخ اسامہ شیخ یوسف القرضاوی شیخ یاسین  اور دیگر قائدین کو کھوچکی ہے ، ہم نے کل بھی صبر کا دامن تھامے رکھا تھا ، آج بھی صبر و استقامت ، استقلال و پامردی کو نہیں کھونے دیں گے ، سعید زیاد اسماعیل کے بقول ... *اگر احمد یاسین کی شہادت نے ہوتی تو ہم اسماعیل ہنیہ کی قوت، بہادری اور زبردست جد و جہد کا مشاہدہ نہ کر پاتے اور اگر صلاح شحاده  کی شہادت نہ ہوتی تو ہم محمد الضیف کو نہ پہچان پاتے اور نہ ہی ان کے کارنامے دیکھ پاتے، اور اگر رنتیسی کی شہادت نہ ہوتی تو اسرائیل ، سنوار  کی قوت و سطوت کا مزہ نہ چکھتا۔* مجھے قائد محترم اسماعیل ہنیہ شہید کا وہ جملہ بھی یاد ہے ، *و هكذا فى الدنيا هو أمات و أحي و أضحك و أبكى و الله سبحانه و تعالى يحيي و يميت و لكن هذه أمة خالدة إن شاء الله و متجددة و كما قال الشاعر إذا غاب سيد قام سيد إن شاء الله.* ترجمہ : یہ دنیا آنی جانی فانی ہے ، خداوند موت و حیات دیتا ہے ، وہی ہنساتا رلاتا ہے ، لیکن یہ امت ہمیشہ باقی رہنے والی ہے، جیسا کہ کسی شاعر نے کہا جب ایک سردار روپوش ہوتا ہے تو دوسرا اٹھ کھڑا ہوجاتا ہے۔ ان شاءاللہ تم ہوتے تو واقعی گلشن کا رنگ ہی کچھ اور ہوتا ، ابو ابراہیم بتا تو جاتے ، اپنی جان تمہاری جان کے عوض دے دیتے ، *تم پھر نہ آ سکو گے بتانا تو تھا مجھے* *تم دور جا کے بس گئے میں ڈھونڈھتا پھرا* جاننا چاہئے کہ مزاحمت کسی ایک شخص کی موت سے ختم نہیں ہوتی اور یہ جاری رہے گی جب تک کہ الله اسراء کی سر زمین کو قابضین سے پاک نہیں کر دیتا ، رسول ﷺ فرماتے جا رہے تھے اب زید جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں وہ شہید کر دیے گئے اب جعفر نے جھنڈا اٹھا لیا وہ بھی شہید کر دیئے گئے ، ابن رواحہ نے جھنڈا اٹھا لیا وہ بھی شہید کر دیے گئے ، آخر اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار خالد بن ولید نے جھنڈا لے لیا، اللہ نے ان کے ہاتھ پر فتح عنایت فرمائی۔۔۔۔ ان شاءاللہ قائدین کی شہادت رنگ لائے گا میرا رب کسی خالد و ضرار ، کو دوبارہ کسی یحییٰ سنوار کو کھڑا کرے گا ، جس کی کلاشنکوف کفر کے پرخچے اڑا دے گی ، اور اقصی پر چھائے صہیونیوں کے ناپاک سایے ہمیشہ ہمیش کے لیے چھٹ جائیں گے ان شاءاللہ لعمري هذا ممات الرجال، ومن رام موتاً شريفاً فذا لعمري لقد نال شهادةً، يحسده عليها كل حر ، شیخ کی شہادت  ایک مردانہ موت ہے، اور اگر کسی نے ایک معزز موت کی خواہش کی، تو شیخ ہی ہیں ، آپ نے شہادت کا وہ مقام حاصل کیا ہے، کہ جس پر ہر آزاد شخص رشک کرتا ہے ، جب فلسطینی عوام کی جدوجہد کی تاریخ میں اہم اور فیصلہ کن معرکہ لڑنے کا فیصلہ کیا تو مزاحمتی تحریک میں آپ پیش پیش تھے ، آپ جانتے تھے کہ آزادی کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے جو ہر قوم نے اپنی آزادی سے پہلے چکانی ہوتی ہے وہ اپنی قوم کے جواں مردوں میں سے قربانی دینے والوں کی صفوں میں آگے بڑھنے کے لیے تیار تھے انہوں نے دشمن کے سامنے جھکنے یا ہماری قوم کے جائز حقوق کی چوری اور ظلم پر خاموش رہنے سے انکار کیا ، محبت و عقیدت کے یحییٰ سنوار اور دیگر مجاہدین کو ہزاروں سلام ، مجاہد کے کل گھرانے کو اگر مجاہد گھرانہ یا جہادی گھرانہ کہنا بے جا نہ ہوگا ، آپ کی ماں کا صبر اور قوت ضبط و تحمل ، چچا زاد ابراہیم کے جذبات و کوششیں ، برادران محمد و حسن کی سچائی و صداقت مقبوضات کی آزادی کی تڑپ ، سبھی کچھ قابل رشک ہے ، جی چاہتا ہے بس اسی نقش پا کو چومتے جائیں دیکھتے جائیں اور اسی پر چلتے جائیں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ شیخ شہید کا مختصر تعارف ہو جائے ، یحیی سنوار ایک فلسطینی عسکری اور سیاسی شخصیت ہیں جو حماس کے رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں ، یحیی سنوار نے حماس کے عسکری ونگ، القسام بریگیڈز میں اہم کردار ادا کیا ہے ، یحیی سنوار 1962 میں غزہ پٹی کے خان یونس میں پیدا ہوئے ، انہوں نے غزہ کی اسلامی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور وہی سے عربی زبان و ادب میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی ، پھر حماس کے قیام کے ابتدائی دنوں میں ہی تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور تیزی سے اوپر کی جانب بڑھے ، 1988 میں انہیں اسرائیلی فوج نے گرفتار کیا اور انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی ، تاہم 2011 میں انہوں نے اسرائیل کے ساتھ ایک قیدی تبادلے کے معاہدے کے تحت رہائی پائی، جسے گلعاد شلیط معاہدہ بھی کہا جاتا ہے ، یحیی سنوار 2017 میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ منتخب ہوئے ، ان کی قیادت میں حماس نے اپنی عسکری صلاحیتوں کو مضبوط کیا اور غزہ میں اپنی حکمرانی کو مستحکم کیا ، سنوار کو ایک سخت گیر رہنما کے طور پر جانا جاتا تھا جو اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے مفاہمت کے مخالف تھے ، یحیی سنوار اب تک حماس کے اندر ایک طاقتور شخصیت کے حامل رہے اور غزہ پٹی کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتے رہے ، ان کی قیادت میں حماس نے مختلف عسکری اور سیاسی چیلنجز کا سامنا کیا ، انہوں نے جیل میں رہتے ہوئے ناول "الشوك و القرنفل" تیس فصلوں پر لکھا ہے ، جس میں انہوں نے اپنی یادوں اور اپنی قوم کی کہانی کو امیدوں اور دردوں کے ساتھ دکھایا ہے ، اور اسے ہر فلسطینی کی کہانی بنایا ، اس ناول میں انہوں نے 1967 کی نکبہ سے لے کر الاقصیٰ انتفاضہ کے آغاز تک فلسطینی قوم کے اہم ترین مراحل کی تصویر کشی کی ہے ، یہ ناول قابض افواج کی جیلوں کے اندھیروں میں لکھا گیا، جسے درجنوں لوگوں نے نقل کیا اور جلادوں کی نظروں اور ان کے آلودہ ہاتھوں سے چھپانے کی کوشش کی ، انہوں نے اسے روشنی میں لانے کے لیے چیونٹی کی طرح محنت کی، تاکہ یہ قارئین کے ہاتھوں تک پہنچ سکے اور شاید یہ حقیقت کے قریب تر منظر میں تصویری شکل میں بھی دکھائی جائے، جو اسراء کی سر زمین پر موجود حالات کی صحیح عکاسی کرے ، یہ ناول عربی زبان میں ہے ، الحمدللہ احقر نے انتہائی جانفشانی سے اس کا اردو زبان میں ترجمہ کیا ہے ، ترجمہ نہ مکمل محاوری کیا گیا ہے نہ بالکل لفظی ، بلکہ ایسا درمیانی ترجمہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جس سے مطلب فہمی میں مدد ملے ، اللہ تعالیٰ بذل مجھود کو قبول فرمائے ، عافیت عطا فرمائے ، آمین الغرض اسرائیل سے کہنا چاہوں گا کہ دن پلٹتے رہتے ہیں اے اسرائیل ! دن پلٹتے رہتے ہیں ، اور آنے والے لوگ زیادہ طاقتور اور تمہارے لیے زیادہ خطرناک ہوں گے، آج تم نے ایک سنوار مارا ہے خدا ہزاروں سنوار کھڑا کرے گا ، اے سرائیل ظلم کے دورانیے زیادہ طویل نہیں ہوا کرتے ، ظلم کی ناؤ سدا چلتی نہیں ، ظلمتِ شب بالآخر سپیدۂ سحر سے ہار جاتی ہے ، اور ایک تابناک روشن صبح کا آغاز ہوہی جاتا ہے ... *وقت یکساں نہیں رہتا سن لے ظالم* *خود بھی رو پڑتے ہیں اوروں کو رلانے والے* شہید کے لیے تو سعادت ہی سعادت ہے لیکن قاتلین کے لیے بدبختی و حرماں نصیبی نوشتۂ تقدیر میں لکھی جا چکی ہے ، حامیان و قاتلان نے تانے بانے بنے بننے کے لیے ضرور  لومڑی سے عیاری اور بھیڑیے سے خونخواری مانگی ہوگی ، اونٹوں سے کینہ پروری اور سیاہ خبیث ناگن سے زہر لیا ہوگا ، بچھو سے ڈنک مارنے کا ہنر اور وحشی جانوروں سے بربریت حاصل کی ہوگی ، جنگلی چوہوں سے فریب دہی کا فن اور خنزیر سے خست و دنائت مستعار لی ہوگی ، پتھروں سے سنگ دلی اور فرعون سے سفاکیت سیکھی ہوگی ، اور دشمنان خدا  سے کینہ و عداوت مانگی ہوگی ، ہم اس موقع پر...مجاہدین فلسطین کے ساتھ ان کے اس غم میں شریک ہیں...ہم انہیں بیک وقت ”مبارکباد“ اور تعزیت پیش کرتے ہیں...اور انہیں دل سے مطلع کرتے ہیں کہ...ہماری جانیں اسلام کے غلبے...ختم نبوت، ناموس رسالت...مسجد اقصیٰ کی حرمت...فلسطین کی آزادی...اور پاکباز شہداء کرام کے انتقام کے لیے حاضر ہیں... اللہ تعالیٰ شہید کو غریق رحمت کرے ، اے میرے قائد جائیے جنت الفردوس سج دھج چکی ہے ، سارا خاندان استقبال کے لیے کھڑا ہوگا ، حور و قصور راہ تک رہے ہیں جائیے اور اپنے ساتھیوں سے ملیے ، انا بفراقك يا أبا ابراھیم لمحزونون ، آپ کی شہادت ضرور رنگ لائے گی ، زندگی نے وفا کی اور فلسطین آزاد ہوگیا تو اے ابو ابراہیم آپ کی تربت نازاں پر ضرور حاضری دے کر آزادی کا جانفزا مژدہ بھی سنا دیں گے۔ *کہیں ہم کو دکھا دو اک کرن ہی ٹمٹماتی سی* *کہ جس دن جگمگائے گا شبستاں ہم نہیں ہوں گے* *ہمارے بعد ہی خون شہیداں رنگ لائے گا* *یہی سرخی بنے گی زیب عنواں ہم نہیں ہوں گے* *نہ تھا اپنی ہی قسمت میں طلوع مہر کا جلوہ* *سحر ہو جائے گی شام غریباں ہم نہیں ہوں گے*
حامد قاسم پالن پوری
تا بہ منزل صرف دیوانے گئے ابو عبيدة شهيدا باذن الله *30/ دسمبر/2025 بروز منگل* سالِ رواں ماہ اگست کی تیس تاریخ تھی ، آفتاب کی مدھم مدھم سی کرنیں در و بام پر پڑتی جارہی تھی ، تمازت قہر سامانی پر اتر آئی تھی ، دن چڑھے یہ جانکاہ خبر گردش کرنے لگی کہ ترجمان القسام ، مزاحمت کی پہچان ، لاکھوں کروڑوں دلوں کی جان ابو عبیدہ ،(حذیفہ سمیر الکحلوت) ایک فضائی حملے میں جام شہادت نوش فرما چکے ہیں ، لیکن اس روح فرسا خبر کی تصدیق ابھی باقی تھی ، جسے ہم ایک عرصے سے دل کا مکین بنائے ہوئے تھے ، ان کا فراق و فرقت یقینا زیاں تھا ، حلقۂ دل میں ایک عجیب کشمکش تھی ، تصدیق نہ ہوسکی چار و ناچار دلِ سوزاں کے سوز و گداز کو فصلِ بہار میں بے مہار چھوڑ دیا ، زخم دروں بڑھتا ہی گیا ، اور محبت و عقیدت کی مدھم لے مضراب ساز کو جھنجھوڑتی گئی ، عشق و عقیدت کا ایک طوفان موجزن تھا ، جس اندیشے نے امروز و فردا کو بے رنگ کردیا تھا ، وہ اندیشہ حقیقت کا لبادہ اوڑھ چکا تھا ، یہ حادثہ گزر چکا تھا ، لیکن عشاق کو کہاں اس مرگ نا گہاں کا یقین ! دل کو بہلاتے گئے ، سمجھاتے گئے ، یہ یقین دہانی کرواتے گئے کہ وہ زخمی ہیں ، پھر شیر اپنی کچھار سے نکلے گا ، اور دہاڑے گا : *سلامٌ عليكم بما صبرتم ورابطتم وثبتّم في وجه الطغيان* *سلامٌ على أرواح شهدائنا و أطفالنا الأبرياء وأهلنا المظلومين،* *سلامٌ على أرواحكم التي ستحلق يومًا بسماء قدسنا وأقصانا المحرر المطهر من دنس قاتليكم.* انتظار کی گھڑیاں طویل ہوتی گئی ، وقت کی سوئیاں گزرتی گئی ، لیکن شش و پنج کے پردے چاک نہ ہوئے ، جب کوئی خبر نہ آئی تو ہم نے یہ کہہ کر زخم دل سی لیا ... *آنکھوں میں انتظار کی شمعیں جلا کے رکھ* *اے دل وہ آج آئے گا تو گھر سجا کے رکھ* لیکن بناوٹ کے اصولوں سے حقیقت چھپا نہیں کرتی ، کاغذ کے پھولوں سے خوشبو نہیں آیا کرتی ، بالآخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں ، انتیس دسمبر کو شہادت کی تصدیق کردی گئی ، کئی آنکھیں نم ہوئیں ، کئی سینے فراق سے زخمی ہوئے ، یہ ستارا جہاد فی سبیل اللہ کا استعارہ سو اسے جگمگانا تھا جگمگا گیا ، اسے بام عروج تک پہنچنا تھا سو وہ پہنچ گیا ، ترجمان قسام ابو عبیدہ ہفتہ کی شام، 30 اگست 2025ء کو اپنے فلیٹ پر موجود تھے ، ہنگامۂ شب و روز حسب معمول جاری تھا کہ اقصی کے ایک غدار جاسوس کی اطلاع پر اسرائیلی خفیہ ادارے شاباک نے کارروائی کرتے ہوئے چودہ مرتبہ کی ناکام کوششوں کے بعد اس بار ایک رہائشی عمارت کو مکمل طور پر نشانہ بنایا، انہدام کے لیے شدید آتش گیر بم استعمال ہوئے اور محض ایک شخص کی جستجو میں پورا فلیٹ تباہ کردیا گیا ، اے یہودیو ! تمہیں معصوم بچوں کا بھی خیال نہیں آیا ؟ تمہارے دل بھیڑیوں کے دل ہیں ، تم نے ظلم کو بھی شرمسار کر رکھا ہے ، اس حملے میں ابو عبیدہ، ان کی اہلیہ، ان کے تین معصوم بچے اور خاندان کے متعدد افراد واصل بحق ہو گئے ... *جس دن سے جدا وہ ہم سے ہوئے اس دل نے دھڑکنا چھوڑ دیا* *ہے چاند کا منہ اترا اترا ، تاروں نے چمکنا چھوڑ دیا* *وہ پاس ہمارے رہتے تھے بے رت بھی بہار آ جاتی تھی* *اب لاکھ بہاریں آئیں بھی تو کیا پھولوں نے مہکنا چھوڑ دیا* ابو عُبیدہ فلسطین کے تاریخی شہر عسقلان (اشکلون) سے تعلق رکھنے والے ایک مہاجر خاندان میں پیدا ہوئے ، 1948ء کے نکبہ کے بعد ان کا خاندان ہجرت پر مجبورا ہوا ، اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جبالیا مہاجر کیمپ میں آ بسا ، بعد ازاں زمانے کی گردش نے ابو عبیدہ کے والدین کو روزگار کے لیے سعودی عرب پہنچا دیا ، وہیں پر 11 فروری 1984ء کو حذیفہ نامی ایک مردِ مومن مرد حق کی پیدائش ہوئی ، کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ نوخیز کل ایوان کفر پر بجلیاں گرائے گا ، جس کی تقریروں کی گونج دشمنوں کے دل دہلا دے گی ، جس کی دھاڑ دجالوں کی ناک میں دم کردے گی ، ابھی عہد طفولیت تھا ، ابتدائی تعلیم کے لیے سر زمین عرب کو منتخب کیا ، لیکن وطن کی یادوں نے رہنے نہ دیا ، ہواؤں نے پیام وصال بھیجے ، ارض مقدس کی کشش نے پھر اپنی طرف کھینچ لیا ، بالآخر والدین اپنے ہونہار فرزند کو لے کر واپس لوٹ آئے ، مہاجر کیمپوں کے حالات ، شب و روز منڈلاتے مصائب ، غاصبین کی زیادتی نے حذیفہ کے ذہن و خیال پر ایک عجیب نقش چھوڑا ، حالات نے انہیں کندن بنادیا ، دین کی فضائیں اور صالحانہ ماحول نے حذیفہ کی زندگی میں رنگ بھرے ، ایمان کی بادِ بہاری نے تن و من کو سنوارا ، بڑوں سے آداب خود آگاہی سیکھے ، کہنہ سال افراد سے اسرار شہنشاہی جانے ، غصب ہوتی زمینوں ، خیموں کی قطاروں اور نیم تاریک گلیوں سے حق گوئی و بیباکی کا سبق لیا ، صبر و استقامت ، ہمت و عزیمت نے جواں مردی کا درس دیا ، بالپن سے ہی کاسہ لیسی ، چاپلوسی ، روباہی اور بزدلی سے نفرت ہوگئی ، قرآن و سنت کے ماحول میں والدین کی تربیت نے انہیں مرد آہن بنا دیا ، صعوبتوں سے گھری فضا مزاحمتی اور فکری سوچ کی تشکیل کا سبب بنی ۔ *کانٹوں میں جو کھلتا ہے شعلوں میں جو پلتا ہے* *وہ پھول ہی گلشن کی تاریخ بدلتا ہے* آپ نے جامعہ اسلامیہ غزہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ، 2013ء میں ماسٹرز مکمل کیا، اور تحقیقی مقالہ بھی لکھا جو بعد میں 650 صفحات میں کتاب کی صورت میں شائع ہوا ، پی ایچ ڈی کا آغاز کیا مگر عملی طور پر مزاحمت میں مصروفیت کے باعث مکمل نہ ہو سکا ، ابو عبیدہ صرف ایک مجاہد ہی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ طالب علم، محقق اور صاحبِ نظر شخص تھے ، انہوں نے 2002ء میں کتائب القسام میں شمولیت اختیار کی اپنی فصاحت و ذہانت اور فکری گہرائی کی بنا پر جلد ہی میڈیا و اطلاعات کے شعبے میں نمایاں مقام حاصل کر لیا اور ابو عُبیدہ ان کا عرفی نام بن کر جگمگانے لگا ۔ ابو عبیدہ ، کتائبِ شہید عزالدین القسام - جو تحریکِ مزاحمتِ اسلامی (حماس) کا عسکری بازو ہے - کے سرکاری میڈیا ترجمان تھے ، وہ براہِ راست کتائب القسام کے عسکری میڈیا شعبے کی نگرانی کرتے تھے اور فصاحتِ لسان، قوتِ بیان اور فنِ خطابت میں امتیازی مقام رکھتے ، وہ صہیونی ریاست کی جانب سے تیار کی گئی اغتیالی فہرستوں میں مطلوب افراد میں شامل تھے ، کیونکہ انہیں نفسیاتی جنگ اور میڈیا وار کی مرکزی شہ رگ سمجھا جاتا تھا جو حماس کو دشمن کے خلاف برسرِ پیکار رکھتی تھی ، ابو عبیدہ کا یہ نام صحابیِ رسول، فاتحِ القدس حضرت سیدنا ابو عبیدہ عامر بن الجراحؓ کی نسبت سے رکھا گیا تھا ، جو خلیفۂ ثانی حضرت عمر بن خطابؓ کے عہد میں بیت المقدس کے فاتح تھے ، انہیں کئی القابات سے یاد کیا جاتا ہے، جن میں سب سے معروف “الملثم” (نقاب پوش) ہے ، وہ ہمیشہ پس پردہ رہے ، اگرچہ بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا اور ان کے نقاب کو خواتین کے نقاب سے تشبیہ دینے کی کوشش کی، مگر اس سے حقیقت میں کوئی فرق نہ آیا ، کیوں کہ ابو عبیدہ کا اثر و رسوخ اور ان کی محبوبیت و مقبولیت اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی ، ان کا نام ہر خورد و کلاں ، خاص و عام کی زبان زد تھا ، یہاں تک کہ ان جیسا بننا بہتوں کا خواب بن گیا ۔ ہمارے نزدیک نقاب پہننا کسی خوف یا کمزوری کی علامت نہیں ، اگر ایسا ہوتا تو ہم دیکھتے کہ تمام عسکری اور مزاحمتی قائدین بھی اپنے چہرے چھپاتے ، لیکن حقیقت اس سے کہیں آگے ہے ، ابو عبیدہ محض ایک شخص نہیں تھے بلکہ ایک فکر، ایک راستے اور ایک مقصد کا نام ہے— وہ ایک جائز مزاحمت کے فکری نمائندے تھے، اور یہ مزاحمت ہر فلسطینی کا وہ حق ہے جو اس وقت تک باقی رہے گا جب تک قابض فلسطینی سر زمین پر اپنی درندگی، غرور اور ظلم مسلط رکھے گا ۔ *ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے* *خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا* ابتدا میں سیاہ نقاب اور بعد میں سرخ دھاریوں والا کوفیہ ان کی شناخت بنا ، اسلامی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو دجانہؓ پر بھی یہ نقاب نظر آتا تھا ،اسی وجہ سے انہیں ذو المندیل الأحمر (سرخ رومال والے) کہا جاتا تھا، اور یہی وہ وصف تھا جو انہیں رسولِ اکرم ﷺ کی خاص محبت کا مستحق بناتا تھا ، ابو عبیدہ نے بھی سرخ رنگ کا وشاح اختیار کیا، جو ان کی شناخت بن گیا ، انہوں نے ایک طرف صہیونیوں کے دلوں میں خوف و دہشت بٹھا دی، تو دوسری طرف پوری ایک امت کو سکون و اطمینان اور خوشی عطا کی ، یہ سرخ وشاح کسی اتفاق یا لمحاتی انتخاب کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی فکر اور راہِ حق میں جاری جد و جہد کی علامت تھا ۔ اے ابو عبیدہ ! صدیاں تمہیں یاد کریں گی ، طوطیانِ خوش نوا تمہاری یاد میں نواسنج رہیں گی ، جب بھی چلے گی سرد ہوا یہ دل تمہیں یاد کرے گا ، شہداء کی سرخی جب آزادی کا پروانہ لائے گی تب تمہیں نہ پاکر آنکھیں اشکبار ہوں گی ، حریت کے گیت جب گائے جائیں گے تب آپ سے ترجمان کا فراق بہت رلائے گا ۔ *کلیوں کو میں خونِ جگر دے کر چلا ہوں* *صدیوں مجھے گلشن کی فضا یاد کرے گی* حریت جانفشانی اور قربانی چاہتی ہے ، آزادی کوئے طلب میں جاں واری کا تقاضا کرتی ہے ، یہ خیرات میں نہیں ملتی ، بلکہ خونِ جگر سے ارض چمن کو سینچا جاتا ہے ، سروں کے نذرانے پیش کیے جاتے ہیں ، سر فروشی کی تمنا لیے دستِ قاتل سے دو بدو ہو کر زور آزمائی کرنی پڑتی ہے ، تب جا کر آزادی کی بادِ سحر ہر شاخِ گل بداماں کو چھوتی ہے ، کلیاں کھلتی ہیں ، غنچے مسکراتے ہیں اور آزادی کا سورج شب گزیدہ سحر کے لیے پیامِ حریت لے کر طلوع ہوتا ہے ، اور پھر ایک صبح نو کا آغاز ہوتا ہے ، جس کی روشنی میں فداکاری اور شہادت کی سرخی ، امن و امان اور صداقت کی سفیدی ، امید و امنگ اور کارزارِ زیست کی ہریالی شامل ہوتی ہے ، شاید آپ بھول گئے کہ ہمارے قائد انقلاب یحییٰ السنوار رحمہ اللہ ایھا المغوار نے میدانِ کارزار میں خستہ مکانوں کے درمیان لاٹھی کے سہارے کھڑے ہو کر انگشت شہادت لہراتے ہوئے کیا فرمایا تھا ؟ وہ کہہ رہے تھے : *‏وللحرية الحمراء باب* *بكل يد مضرجة يدق* (آزادی کے سرخ دروازے کو صرف خون میں رنگے ہوئے ہاتھوں سے کھٹکھٹایا جا سکتا ہے) ارض مقدس کی حریت کے لیے ، جب بھی ضرورت ہوئی شہسوارانِ اسلام صف اول میں مسلح سربکف ، کفن بہ دوش نظر آئے ، امیر عزیمت ابو عُبیدہ رحمہ اللہ بھی انہی موفق من اللہ لوگوں میں سے تھے جو ارض مقدسہ کی بازیابی کے لیے اپنی عملی تگ و دو اور اپنی تقریروں اور تحریروں سے تا دمِ آخر سوتوں کو ہوشیار کرتے رہے ، یہی وہ دیدہ ور ہیں جو مشکل سے چمن میں پیدا ہوتے ہیں ، اور یہی پاکیزہ نفوس رشکِ چمن مشکِ ختن ہوتے ہیں ، یہ وہ پروانے ہیں جو شمع جہاد کے دیوانے ہو کر جاں اپنی نچھاور کر دیتے ہیں ، اس وارفتگی میں بلبل کو پروانے سے کیا نسبت ؟ بلبل تو فقط ہجر کا مارا ہے ، پروانہ تو جاں بھی فدا کردیتا ہے ، وہ اس سر زمین کے پروردہ تھے جسے تاریخ نے زخم دیے، جس کے وجود مسعود کو اغیار کے تیشوں نے مجروح کیا ، مگر ان ماہ پاروں نے ہر زخم کو اپنی شناخت بنا لیا ، زخموں سے بدن گلزار سہی مگر صبر و استقامت کو اپنی طبیعت بنا لیا ، حالات نے یہ درس دیا کہ زندگی محض جینے کا نام نہیں، بلکہ حیات مستعار کے نشیب و فراز اور پیچ و تاب سے نبرد آزما ہو کر ثابت قدم رہنا بھی ضروری ہے ، یہ وہ پامردی اور استقلال ہے جس کے سبب دشمن شکست خوردہ ہے ، اور اپنی ذلت و مسکنت پر ماتم کناں ہے .... *جب ساز سلاسل بجتے تھے ، ہم اپنے لہو میں سجتے تھے* *وہ رِیت ابھی تک باقی ہے یہ رسم ابھی تک جاری ہے* *کس زعم میں‌ تھے اپنے دشمن شاید یہ انہیں معلوم نہیں* *یہ خاکِ وطن ہے جاں اپنی اور جان تو سب کو پیاری ہے* بطلِ حریت ابو عُبیدہ کی تشکیل میں صرف بارود اور محاصرہ ہی شامل نہیں تھا، بلکہ قرآن و سنت ، شعور حیات بھی شامل تھے ، اسی لیے اس کی گفتگو محض نعرہ نہیں بلکہ بیان بن جاتی تھی، اور بیان دلیل میں ڈھل جاتا تھا ، انہوں نے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا، مگر شہرت سے گریز کیا ، اقصیٰ کے قضیے کو سدا مقدم رکھا ، ان کی ایک آواز پر دوست متوجہ ہوتے اور دشمن چونک جاتے تھے ، ان کی زبان میں جذبات تھے، مگر بے لگام نہیں؛ جوش تھا، مگر ہوش کے ساتھ ، وہ کبھی ہم مردہ ضمیروں کو جھنجھوڑتے ہوئے کہتے : *یا جماهير شعبنا المعطاءة ! يا أحرار العالم ! يا أمتنا العربية !* وہ اپنے خطاب کے دوران انگشت شہادت کو جنبش دیتے تھے جو ان کے خطاب کی مضبوطی اور استحکام پر براہِ راست اور گہرا اثر ڈالتی تھی ، اور اب ان کی شخصیت کا مستقل حصہ بن چکی ہے ۔ وہ کبھی اپنوں کی اپنائیت میں ڈوب کر دلوں سے مخاطب ہوکر کہتے تھے : *يا جماهير شعبنا الصابر الأبي ! أيها الصامدون في وجه عدو الله وعدوكم ! يا عنوان كرامة الأمة وأمل فجرها ! يا مجاهدينا الأبطال ! يا جماهير أمتنا الكبيرة الممتدة ! يا كل أحرار العالم ! يا أبناء شعبنا العظيم المبارك ! يا جماهير شعوب و قوى أمتنا الكبيرة الممتدة ! يا أحرار العالم في كل مكان ! ياشعبنا العظيم ! يا رأس مالنا و تاج رؤوسنا !* وہ اپنے خطابات کا آغاز ہمیشہ صیغۂ جمع سے کرتے تھے ، صیغۂ جمع کے اس مسلسل استعمال میں ایسے معانی پوشیدہ ہیں جو عوام کے دلوں میں یہ یقین راسخ کر دیتے ہیں کہ وہ مزاحمت، جدوجہد اور جہاد میں لازماً شریک ہیں ، اس اسلوب میں وفاداری، اعتراف، توجہ اور قدر دانی کی وہ سطح جھلکتی ہے جو بآسانی محسوس اور سمجھی جا سکتی ہے ، ان کے یہ خطابات محض لفظی اظہار نہیں ہوتے تھے بلکہ ان میں الفاظ اور جملوں کی صورت میں بہت سے معانی پوشیدہ ہوتے تھے تاکہ وہ پیغام اربابِ بصیرت سامعین تک زیادہ گہرے اور مؤثر انداز میں پہنچ سکے ، اسی تناظر میں، 8 مارچ 2024ء کے خطاب میں آپ نے یہ اشعار پڑھے : *يا عابد الحرمين لو أبصرتنا* *لعلمت أنك بالعبادة تلعب* *من كان يخضب خده بدموعه* *فنحورنا بدمائنا تتخضب* ترجمہ : اے حرمین شریفین کے عبادت گزار ! اگر آپ ہم مجاہدین کو دیکھ لیں تو آپ جان لیں گے کہ آپ تو عبادت کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں ، اگر آپ کے آنسو آپ کے رخساروں کو تر کرتے ہیں تو ہماری گردنیں ہمارے خون سے رنگین ہوتی ہیں ۔ ان اشعار کو اپنے خطاب میں اس وقت شامل کیا جب ماہِ عبادت کا استقبال کیا جا رہا تھا، یہ دراصل غزہ کے مظلوم، زخم خوردہ لوگوں کی مدد و نصرت کی طرف اشارہ تھا ، اس امید میں کہ شاید کوئی جاگ جائے ، شاید مسلم حکمراں خواب غفلت سے بیدار ہو جائیں ۔ کبھی وہ بر محل اشعار لا کر ہماری بے حسی اور سرد مہری کو نشانہ بناتے ، 23 اپریل 2024ء کے خطاب میں تمیم البرغوثی کے اشعار نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں : *لقد عرفنا الغزاة قبلكم ــــــــــ ونشهد الله فيكم البدعُ* *ستون عاماً وما بكم خجلٌ ــــــــــ الموت فينا وفيكم الفزعُ* *أخزاكم الله في الغزاة ـــــــــ فما رأى الورى مثلكم ولا سمعوا* *حين الشعوب انتقت أعاديها ــــــــــ لم نشهد القرعة التي اقترعوا* ۔ ترجمہ : ہم نے تم سے پہلے بھی بہت سے حملہ آوروں کو دیکھا ہے، مگر خدا کو گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ تم میں بڑی انوکھی چیزیں ہیں ، ساٹھ برس گزر گئے، مگر تمہیں ذرا بھی شرم نہیں آئی، ہم میں تو موت رچی بسی ہے، لیکن تم میں اب بھی خوف ہی خوف ہے ، اللہ تمہیں حملہ آوروں میں بھی رسوا کرے، کیونکہ دنیا نے نہ تم جیسے دیکھے ہیں اور نہ ہی تم جیسا کوئی سنا ہے ، گرچہ قومیں خود اپنے دشمن چنتی ہیں، مگر ہم نے کبھی ایسی قرعہ اندازی نہیں دیکھی جیسی تم نے کی ہے ۔ ہائے ابو عبیدہ ! ہم آپ کی دید و زیارت کے لیے مچلتے رہیں ، عشق و عقیدت کی جولانی نے آپ کے نین و نقش کو دیکھ تو لیا لیکن افسوس اس وقت آپ ہمارے درمیان نہ تھے ، تاریخ مجاہدوں سے بھری پڑی ہے لیکن ابو عبیدہ کی تاریخ الگ لکھی جائے گی نہ نام و نمود کی خواہش نہ جاہ و حشمت کا شوق ، نہ نمائش اور شہرت کا خیال ، ہائے ایسے اخلاص کے پیکر ، چشم فلک نے بہت کم دیکھے ہوں گے ... *وے لوگ تم نے ایک ہی شوخی میں کھو دیے* *پیدا کیے تھے چرخ نے جو خاک چھان کر* *بہت ہی کم نظر آیا مجھے اخلاص لوگوں میں* *یہ دولت بٹ گئی شاید بہت ہی خاص لوگوں میں* وہ ایک عجیب شخص تھا جو خوشبو کے حوالوں کی طرح چہار سو پھیلا ہوا تھا ، وہ اندھیروں میں اجالوں کی طرح تھا ، وہ بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے تھے ، وہ اپنوں کے لیے امن و الفت کا پیام تھا ، غاصبوں کے لیے شمشیر بے نیام تھا ، وہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم کی عملی تصویر تھا ، اس کی شعلہ بار تقریروں سے شمنوں کے دل دہلتے تھے ، عسکری ترجمان کے خطابات میں غیر معمولی معنوی طاقت پائی جاتی تھی اور یہی قوت انہیں فکری وقار عطا کرتی تھی اور ان کے خطابات کو مختلف زاویوں سے تجزیے کے قابل بناتی تھی ، ابو عبیدہ کی آواز میں خاص کشش، گہرائی اور ٹھہراؤ پایا جاتا تھا ، ان کا طرزِ خطاب اور آواز کا زیر و بم اس قدر متوازن ہوتا تھا کہ سامعین کے دل میں صداقت کا احساس پیدا ہو جاتا تھا۔ *خطابت کی دنیا پہ ہے حکمرانی* *دلوں کو جگاتی ہے سحر البیانی* *فدا ان کی تقریر پر ہے یقیناً* *گلوں کا تبسم کلی کی جوانی* ابو عبیدہ کے مزاحمتی خطابات میں زبان کے مختلف موضوعات پائے جاتے تھے ، تاہم ان میں دینی اور انقلابی پہلو سب سے نمایاں رہا ، ان کا مزاحمتی خطاب قوت، وقار اور مضبوطی کی واضح مثال تھا، کیوں کہ آپ اس میں نہایت شستہ، باوقار اور فصیح عربی زبان استعمال کرتے تھے ، جو سامع پر گہرا اثر ڈالتی تھی ، ان کے خطابات میں دینی رنگ نمایاں طور پر جھلکتا تھا ، وہ اکثر اپنی گفتگو کا آغاز قرآنِ کریم کی آیات سے کرتے تھے، اور یہ آیات براہِ راست خطاب کے موضوع سے جڑی ہوتی تھیں ، جب وہ دشمن کا ذکر کرتے تھے تو طنزیہ اور تحقیر آمیز الفاظ استعمال کرتے تھے، وہ کہتے : شراذم الأمم “ يا أبناء اليهودية ” لا سمح الله ” اس انداز سے وہ دشمن کے رعب کو توڑنے کی کوشش کرتے تھے ، اہلِ غزہ سے خطاب کرتے وقت ان کا انداز بالکل جداگانہ ہوتا تھا ، وہ طاقت و ہمت ، ثابت قدمی اور حوصلہ بخش الفاظ استعمال کرتے تھے اور عوام کو یہ احساس دلاتے تھے کہ وہ اکیلی نہیں ہیں ، وہ کہتے : أنتم منا و نحن منكم ، أنتم تيجان فوق رؤوسنا ۔ زبان پر ان کی مضبوط گرفت نے اور الفاظ کے نہایت محتاط انتخاب نے ان کے خطابات کو غیر معمولی طاقت بخشی ، وہ الفاظ کو ایسے خاص معنی دیتے تھے جو براہِ راست فلسطینی عوام کی مزاحمت سے جڑے ہوتے تھے، اور اسی چیز نے ان کے خطابات کو ایک منفرد اور الگ شناخت عطا کی ، قرآنِ کریم کی آیات اور نبی علیہ السلام کی احادیث اور عربی اشعار کے حوالوں سے خطابات کو وسعت حاصل ہوئی ، ان کے مقاصد واضح ہوئے اور ان کا پیغام مؤثر انداز میں عوام تک پہنچا۔ *خطابت میں یکتا فصاحت کا پیکر* *فرعونوں پہ بھاری یہ آتش نوائی* *بیاں آج کیسے ہو سوزِ دروں* *بہت ہے گراں تیرا داغِ جدائی* ابو عبیدہ اپنے عہد کی ایک عہد ساز شخصیت تھی ، جس نے بڑوں سے لے کر چھوٹوں تک کے دلوں کو مسخر کرکے ان میں اپنی جگہ بنالی ، وہ دلوں پہ راج کرنے والا ایک عظیم شہزادہ تھا ، اس کی جدائی پر دل کی ویرانیاں مجھے افسردہ رکھتی ہیں ، سینکڑوں طوفان زیرِ لب لفظوں میں دبے ہیں ، سوچتا ہوں آج حضرت انسان شہرت کے لیے کیا کچھ نہیں کرتا ، نام و نمود کے لیے کن کن اسباب کا سہارا نہیں لیتا ، لیکن اس جانباز کو دیکھیے دنیا والوں سے پوشیدہ رہا ، حقیقی نام بھی پس پردہ رہا ، لیکن خالق کائنات نے محبوبیت و مقبولیت کا تاجدار بنادیا ، لوگ ناموری کی جستجو میں رہے وہ گمنام بے نام کے بھی نامور ہوگیا ، اس مالک و بے نیاز کی عجیب بے نیازی ہے ، وہ کبھی بغیر نام و چہرے کے مقبولیت عطا کردیتا ہے ، مجھے حیرت تو تب ہوئی جب ایک شخص بیس برس سے زائد عرصہ تک نقاب میں رہتے ہوئے دشمن کے مضبوط ترین جاسوسی نظام سے محفوظ رہا اور عام انسانوں کی طرح کھلے معاشرے میں زندگی گزارتا رہا ، اس کی آواز منفرد تھی، چہرہ لوگوں کے سامنے تھا، مگر اصل شناخت کسی پر منکشف نہ ہو سکی ، وہ یونیورسٹی میں تدریس بھی کرتا تھا ، بازاروں میں آتا جاتا بھی تھا ، مسجد میں نماز بھی ادا کرتا اور لوگوں سے میل جول بھی رکھتا تھا ، مگر لوگ اسے پہچان نہ سکے یہاں تک کے اس کی شہادت بھی کسی خفیہ سرنگ یا محفوظ ٹھکانے میں نہیں ہوئی بلکہ اپنے گھر میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ رہتے سہتے ہوئی ، یہ سب انسانی حکمتِ عملی نہیں بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی خاص حفاظت اور نصرتِ غیبی کا مظہر ہے ، معلوم ہوا کہ جب اللہ کسی کی حفاظت فرمائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔ *کیا پیش کروں تم کو کیا چیز ہماری ہے* *یہ دل بھی تمہارا ہے یہ جاں بھی تمہاری ہے* *نقشہ ترا دل کش ہے صورت تری پیاری ہے* *جس نے تمہیں دیکھا ہے سو جان سے واری ہے* آخر میں مجھے شہید ابو عبیدہ کے وہ آخری دل سوز کلمات بار بار جھنجھوڑ رہے ہیں ، جاتے جاتے وہ کہتے گئے : انتم خصومنا أمام اللہ ؛ کبھی یہ خیال آتا ہے کہ اہل فلسطین کو بے سہارا چھوڑنے کے جرم میں کہیں اجتماعی عذاب ہمیں آ نہ گھیرے ، ذہن ورطۂ حیرت میں ہے کہ نہ جانے امت کا یہ جمود کب ٹوٹے گا ، ابو عبیدہ اپنے آخری خطاب میں امت کے سر برآوردہ شخصیات سے مخاطب ہوکر نہایت درد بھرے انداز میں کہتے ہیں : *ہم تاریخ سے نہایت درد و الم کے ساتھ اور اپنی امت کے تمام فرزندوں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں* : *اے امت مسلمہ عربیہ کے رہنما ! اے امت کی اشرافیہ اور اے بڑی بڑی جماعتوں اور اے علماء امت ! تم اللہ کے حضور ہمارے فریق مخالف ہو ، تم ہر یتیم بچے ، ہر گود اجڑی ماں ، ہر بے گھر ، دربدر، زخم خوردہ، دکھی اور بھوکے انسان کے دشمن ہو ، تمہاری گردنیں اُن دسیوں ہزار بے گناہوں کے خون کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں، جنہیں تمہاری خاموشی نے بے یار و مددگار چھوڑ دیا ، اگر اس مجرم، نازی صفت دشمن کو سزا کا خوف ہوتا ، خاموشی کا یقین نہ ہوتا ، اور بے وفائی کا خدشہ ہوتا تو وہ تمہارے سنتے کانوں اور دیکھتی آنکھوں کے سامنے نس کشی کا ارتکاب نہ کرتا ، ہم اس بہتے خون کی ذمہ داری سے کسی کو بری نہیں کرتے، اور نہ ہی اس شخص کو مستثنیٰ قرار دیتے ہیں جس کے پاس حرکت، اقدام اور اثر و رسوخ کی ذرا سی بھی طاقت موجود ہے ، ہر ایک کو اس کی استطاعت کے مطابق ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔* *بخدا ! ہم اپنی آنکھوں سے اس امت کی بے توقیری، دشمن کی طرف سے اس کی تحقیر، اس پر کی جانے والی یلغار اور اس کی خرمستی دیکھ رہے ہیں ، ہمارے دل خون کے آنسو روتے ہیں، کیونکہ ہم اس دشمن کی بزدلی، کمزوری، ذلت اور اس کے حقیقی قد کو خوب پہچانتے ہیں اور اس سے بھی پہلے ہم اس کے بارے میں اس الٰہی حقیقت کو جانتے ہیں : لأنتم أشد رهبة في صدروهم من الله کہ ان کے دلوں میں تمہاری دہشت اللہ سے زیادہ ہے—کاش کہ اس کا مقابلہ اہلِ اسلام کی عزت، اور کھوئی ہوئی عربی غیرت و حمیت سے کیا جاتا ، مگر یہ سب وَہَن ہے… ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے۔* میرے دلبر آپ کی یادوں کا گلشن مہکتا رہے گا ، قمریاں اپنا سر طوق میں ڈال کر اپنے ذوق میں آپ کا ذکر خیر کرتی رہیں گی ، بلبلیں ہر گل کی بو لے کر آپ کا چرچا کرتی رہیں گی ، وہ دور خزاں ہو یا دور بہاراں ہو دل آپ کی یادوں سے سرشار رہیں گے ، الوداع اے جانِ جاں الوداع ، نیا سال تو لوٹ آیا ہے ، نہیں آئیں گے تو بس وہ پیارے لوٹ کر نہیں آئیں گے جو دنیا سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگئے ، اللہ عزوجل آپ کے درجات بلند فرمائے ۔ *مستند رستے وہی مانے گئے* *جن سے ہوکر تیرے دیوانے گئے* *لوٹ آئے جتنے فرزانے گئے۔ *تا بہ منزل صرف دیوانے گئے* *آہ کو نسبت ہے کچھ عشّاق سے* *آہ نکلی اور پہچانے گئے* 🌷🌷 رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ🌷🌷
محمد اسامہ سرسری
دوستو! ہم یوں ترقی سے وفا کرتے نہیں یا سبب ہی چھوڑتے ہیں یا دعا کرتے نہیں ایک وہ ہیں جو دلائل میں ہیں ہر دم غوطہ زن ایک ہم ہیں جو بیانِ مدعا کرتے نہیں ہم نے کی ہے خیر خواہی میں ہمیشہ انتہا ان کو شکوہ ہے کہ ہم بے انتہا کرتے نہیں پا نہیں سکتے حقیقی دوست، جب تک دوستو! ربِّ دل سے اپنے دل کو آشنا کرتے نہیں فاصلے ہی کا سہارا لے رہے ہوتے ہیں وہ فیصلے کرنے میں جو کچھ آسرا کرتے نہیں جو ردیفوں سے حریفوں کی طرح آتا ہو پیش ایسے مشکل لفظ کو ہم قافیہ کرتے نہیں ان کے اس عادت کے بارے میں اسامہ! کیا کہوں؟ پیٹھ پیچھے بولتے ہیں، سامنا کرتے نہیں شاعر: محمد اسامہ سَرسَری
محمد اسامہ سرسری
شبِ برأت کے فضائل و اعمال شبِ برأت کے فضائل: (1) اس رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق کی تقسیم ہوتی ہے اور اسے اتارا جاتا ہے۔ (2) اس سال پیدا ہونے والے بچوں اور مرنے والے افراد کے نام لکھ لیے جاتے ہیں۔ (3) غروبِ آفتاب کے وقت سے ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت آسمانِ دنیا پر نزول فرماتی ہے اور پکارا جاتا ہے کہ ہے کوئی مغفرت، رزق یا عافیت طلب کرنے والا؟ (4) اللہ تعالیٰ قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ گناہ گاروں کی مغفرت کے فیصلے فرماتے ہیں۔ (5) اس رات میں بندوں کے اعمال (بارگاہِ الٰہی میں) پہنچائے جاتے ہیں۔ (6) سب مسلمانوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ان گناہوں میں مبتلا ہوں: 1. شرک 2. والدین کی نافرمانی 3. کینہ پروری 4. شراب نوشی 5. قتل 6. چغل خوری 7. تکبر شبِ برأت کے اعمال: (1) عبادت کرنا: اس رات میں تلاوت، ذکر اور نوافل کا اہتمام کرنا چاہیے، مگر یہ عبادات شور و شغب یا اجتماعات کے بجائے تنہائی اور گوشہ نشینی میں ہونی چاہییں۔ (2) دعا مانگنا: اللہ تعالیٰ سے خصوصاً اس کی رضا، ایمانِ کامل، تقویٰ اور عافیت کی دعا مانگنی چاہیے۔ (3) قبرستان جانا: اتباعِ سنت کی نیت سے زندگی میں ایک آدھ بار اس رات بھی قبرستان جا کر مُردوں کے لیے دعا کرنا۔ (4) روزہ رکھنا: پندرہ شعبان کا روزہ رکھنا مستحب ہے۔ (5) توبہ: جن بڑے گناہوں کی وجہ سے اس رات مغفرت رک جاتی ہے، ان سے سچی توبہ کرنی چاہیے تاکہ اس رات کی برکات حاصل ہو سکیں۔ طالبِ دعا: محمد اسامہ سَرسَری
محمد اسامہ سرسری
*خوشی کا جھونکا:* (مدرسہ واصفیہ ، ختم بخاری (2025) کی نظم) درسِ نظامی اپنا، وہ دور ہے سہانا آتا نہیں دوبارہ ایسا حسیں زمانہ راتوں، دنوں، مہینوں، سالوں کا وہ زمانہ اب رہ گیا ہے بن کر یادوں کا اک فسانہ گزرا ہوا وہ عرصہ غمگین کر گیا ہے جیسے خوشی کا جھونکا آکر گزر گیا ہے وہ حاضری کے دھڑکے، وہ باریوں کے تڑکے وہ لغزشوں کے کھٹکے، وہ بجلیوں کے کڑکے عظمت اساتذہ کی، الفت اساتذہ کی صحبت اساتذہ کی، برکت اساتذہ کی اک بردبار عالم حضرت جناب گلزار اک شاہکار عالم حضرت جناب سردار اک متقی مسلمان مولانا نورِ رحمان اک خوش مزاج انسان حضرت جناب عرفان مفتی مطیع صاحب ذاکر، ذہین، زاہد مولانا عبد قدوس مقبول اور عابد ماہر، شفیق، مفتی حضرت جناب طہ حضرت جنید صاحب انداز دوستانہ سارے اساتذہ کا ہم پر ہے کتنا احسان ہر علم و فن کی مشکل کردی انھوں نے آسان انگلی پکڑ کے ہم کو چلنا سکھا دیا ہے ان کے فراق نے اب دل کو رلا دیا ہے درخواست ہے ہماری سارے اساتذہ سے ہے التجا ہماری سارے تلامذہ سے کوتاہیاں ہماری ساری معاف کردیں فرقت سے پہلے پہلے دل اپنا صاف کردیں چاہا اگر خدا نے ہم ساتھ ہی چلیں گے ورنہ بطورِ مسلم جنت میں پھر ملیں گے علم و عمل کی یارو! قلت نہیں کسی کی رب کی رضا نہ ہو تو وقعت نہیں کسی کی آپس میں جوڑ رکھنا، آداب مت بھلانا سینہ بسینہ ہم نے پایا ہے یہ خزانہ ریحاں، تقی، صہیب اور بھائی اسامہ، طلحہ ذیفی، عمیر توفیق اور مصطفی، حذیفہ سب کی طرف سے سب کو ساری دعائیں حاضر اللہ سب کا حافظ ، اللہ سب کا ناصر شاعر: محمد اسامہ سَرسَری
محمد اسامہ سرسری
ماہِ رمضان توبہ کروانے مسلمان سے ماہِ رمضان آگیا پھر سے اسی شان سے ماہِ رمضان لب کو ملواتا ہے قرآن سے ماہِ رمضان دل کو لگواتا ہے رحمان سے ماہِ رمضان دس مہینوں سے تھا ہرآن اسی کا ارمان کیوں نہ محسوس ہو شعبان سے ماہِ رمضان یہ ہے آیات میں، اس میں ہے نزولِ قرآن کتنا منسوب ہے قرآن سے ماہِ رمضان ڈھال بن جاتا ہے آتے ہی باذنِ یزدان نفس کے مکر سے، شیطان سے سے ماہِ رمضان پیٹ خالی ہے، زبانوں پہ ہے جاری قرآن کتنا لبریز ہے فیضان سے ماہِ رمضان رحمتیں رب کی اترتی ہیں اسامہ! ہر آن کیوں نہ پیارا ہو دل و جان سے ماہِ رمضان محمد اسامہ سَرسَری
محمد اسامہ سرسری
نظر تجدید پاتی ہے مجدد کی معیّت میں عقیدے ٹھیک ہوتے ہیں موحِّد کی معیّت میں اسے دنیا سے رغبت پھر دوبارہ ہو نہیں سکتی جو دنیا چھوڑ کر آجائے زاہد کی معیت میں سکھائیں والدہ کی گود نے شفقت کی سب شکلیں ملا احساسِ ذمہ داری والد کی معیّت میں سخاوت ملتی رہتی ہے سخی سے ملتے رہنے سے شجاعت بڑھتی جاتی ہے مجاہد کی معیّت میں شمامت تیز کر دیتی ہے اک عطار کی صحبت تلاوت حسن پاتی ہے مجوِّد کی معیّت میں نمازِ باجماعت اور طواف و سعیِ حج، عمرہ عبادت کا مزہ آتا ہے عابد کی معیّت میں اسامہ! جا معیّت میں تو اپنے پیرِ کامل کی ملے گی جامعی٘ت تجھ کو مرشد کی معیّت میں شاعر: محمد اسامہ سَرسَری
محمد اسامہ سرسری
یہ دنیا کیا ہے؟ خالق کا ارادہ ہے وہ عقبٰی کیا ہے؟ مالک کا اعادہ ہے خدا ہی تھا، خدا ہی ہے اسامہ! بس نہ اس سے کم، نہ اس سے کچھ زیادہ ہے شاعر: محمد اسامہ سَرسَری
محمد اسامہ سرسری
پردیس کا مسافر: پھر کھولی جارہی ہیں خیرات کی طنابیں پھر باندھی جارہی ہیں برکات کی کتابیں کشکولچوں میں رکھ دیں روتی ہوئی دعائیں صندوقچوں میں بھر لیں سب ان کہی صدائیں لمحاتِ مغفرت بھی دامن میں بھر لیے ہیں اشکوں کے سلسلے بھی پلکوں پہ دھر لیے ہیں اٹھنے لگے دلوں سے ہمت کے سارے ڈیرے رہ جائیں گے دلوں میں بس یاد کے بسیرے پوشیدہ سسکیوں سے محسوس ہو رہا ہے پردیس کا مسافر چھپ چھپ کے رو رہا ہے یہ آسماں سمیٹیں، یہ چاند تارے رکھ دیں یہ نور کے مصلے تہ کرکے سارے رکھ دیں پوری ہوئی ہماری تسبیح کی کہانی مسجد میں جاکے رکھ دیں مسواک یہ پرانی خوش ہورہا ہے انساں انسان سے لپٹ کر جزدان رو رہا ہے قرآن سے لپٹ کر تاریک شب میں کس کا سامان جارہا ہے کیا پھر سے اے اسامہ! رمضان جارہا ہے شاعر: محمد اسامہ سَرسَری
محمد اسامہ سرسری
😒 رمضان جارہا ہے 😒 ❤💛💚💙💜💔 شاکر ہو ہر گھڑی میں وہ جس کی زندگی میں رمضان آرہا ہے رمضان جارہا ہے ❤💛💚💙💜💔 سحری کی یادگاریں افطار کی بہاریں نظریں چُرا رہا ہے رمضان جارہا ہے ❤💛💚💙💜💔 کل تھا کسی کا اعلان آنے لگا ہے رمضان اب وہ بتا رہا ہے رمضان جارہا ہے ❤💛💚💙💜💔 ہر ہاتھ ہے سوالی ہر رات قدر والی سب کو رلا رہا ہے رمضان جارہا ہے ❤💛💚💙💜💔 مسجد بھی رو رہی ہے پھر خالی ہورہی ہے شیطان آرہا ہے رمضان جارہا ہے ❤💛💚💙💜💔 روزہ ، نماز ، تسبیح قرآن اور تراویح سب یاد آرہا ہے رمضان جارہا ہے ❤💛💚💙💜💔 یارب! معاف کردے باطن کو صاف کردے دل چوٹ کھا رہا ہے رمضان جارہا ہے ❤💛💚💙💜💔 شاعر: محمد اسامہ سَرسَری
محمد اسامہ سرسری
ہاں بھئی! کیا کہہ رہے تھے مجھ سے آپ؟ میں ذرا مشغول تھا بس "کچھ دنوں" محمد اسامہ سَرسَری
محمد اسامہ سرسری
ہر ماحول ہمیں کچھ نہ کچھ سکھاتا ہے۔ عیدی جمع کرتے بچوں سے مال کی وہ محبت سیکھیں جو جائز ہے اور زندگی کے بے شمار فرائض کی ادائیگی میں معاون ہوتی ہے۔ جائز درجے کے حبِّ مال سے مراد یہ ہے کہ مال کمانے کے لیے نہ حقوق اللہ کو پامال کیا جائے نہ حقوق العباد کو۔ زندگی میں معاشی کامیابی ہمیشہ محض دعاؤں یا تھکاوٹ کا نتیجہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک باقاعدہ حکمتِ عملی اور درست سمت میں کی گئی محنت کا ثمرہ ہے۔ دنیا آپ کو آپ کی تھکن کا معاوضہ کبھی نہیں دیتی، بلکہ اس بات کی قیمت ادا کرتی ہے کہ آپ نے معاشرے کے لیے کتنی اہمیت یا 'ویلیو' پیدا کی ہے۔ اگر آپ واقعی معاشی استحکام چاہتے ہیں تو جذبات سے نکل کر دولت کمانے کے ان چند حقیقت پسندانہ اصولوں کو سمجھنا ہوگا: کمانے کا پہلا اور بنیادی اصول یہ ہے کہ منڈی میں محنت نہیں، بلکہ ویلیو بکتی ہے۔ مزدور دن بھر کی مشقت کے باوجود بمشکل گزارا کرتا ہے، کیونکہ اس کا کام عام ہے۔ پیسہ ہمیشہ اس جانب کھنچتا ہے جہاں کوئی نایاب ہنر یا صلاحیت موجود ہو۔ محض تعلیمی اسناد پر انحصار کرنے کے بجائے ایسی مہارتیں سیکھیں جو آپ کو منفرد بنائیں۔ مزید برآں اپنا وقت بیچنے سے گریز کریں، کیونکہ تنخواہ ایک ایسی خوبصورت جیل ہے جو آپ کو کبھی حقیقی آزادی نہیں دے سکتی۔ آپ کا اصل ہدف ایسا نظام بنانا ہونا چاہیے جو آپ کی غیر موجودگی میں بھی آمدنی پیدا کرے۔ اسی طرح مفت کام کر کے اپنی توہین مت کروائیں، چونکہ آپ کی مہارت اور وقت قیمتی ہے۔ دولت کمانا مسائل کے حل اور اپنی پہچان بنانے سے جڑا ہے۔ لوگوں کی تکلیف یا مسائل سب سے بڑا کاروباری موقع ہوتے ہیں۔ جہاں لوگ شکایت کرتے نظر آئیں، سمجھ لیجیے کہ وہیں پیسہ چھپا ہے۔ لوگ خوشی حاصل کرنے سے زیادہ درد سے بچنے کے لیے ادائیگی کرنے کو تیار ہوتے ہیں، لہٰذا ان کے مسائل تلاش کریں اور ان کا حل فروخت کریں۔ اس عمل میں شرم اور پیسے کا کوئی ملاپ نہیں ہے۔ اگر آپ کو اپنی چیز بیچنے یا اس کا معاوضہ مانگنے میں ہچکچاہٹ محسوس ہوتی ہے تو آپ کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔ یہ بات بھی یاد رکھیں کہ گمنام رہ کر کوئی میدان نہیں مارا جا سکتا۔ اگر دنیا آپ کو نہیں جانتی تو وہ آپ سے کچھ نہیں خریدے گی۔ خود کو نمایاں کریں، کیونکہ جو نظر آتا ہے وہی بکتا ہے۔ اگلا اہم مرحلہ عملی اقدام، رفتار اور درست وسائل کا استعمال ہے۔ دنیا میں بہترین آئیڈیاز کی کوئی کمی نہیں، مگر کامیابی صرف ان کے قدم چومتی ہے جو ان آئیڈیاز پر عمل کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ پیسہ تیز رفتار لوگوں کو پسند کرتا ہے، چنانچہ پرفیکٹ وقت کا انتظار کرنے کے بجائے شروعات کر دیجیے۔ مالی تحفظ کے لیے کبھی ایک آمدنی پر انحصار نہ کریں، بلکہ متعدد مختلف ذرائع آمدن بنائیں تاکہ ایک راستہ بند ہو تو دوسرا چلتا رہے۔ فقط چھوٹی موٹی بچتوں سے کوئی امیر نہیں بنتا، لہٰذا اپنی توجہ اخراجات کم کرنے کے ساتھ ساتھ آمدنی بڑھانے پر مرکوز کریں۔ یاد رکھیں، بڑے اہداف کے حصول کے لیے اکیلا آدمی کافی نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے آپ کو ٹیکنالوجی، سرمائے اور درست افراد کا ساتھ چاہیے ہوتا ہے۔ اور ہاں، آپ کا نیٹ ورک ہی آپ کی اصل دولت ہے، کیونکہ آپ انھی جیسے بن جاتے ہیں جن کی صحبت میں آپ بیٹھتے ہیں۔ مختصر یہ کہ پیسہ کمانا کوئی پراسرار راز نہیں، بلکہ ایک واضح عمل ہے۔ اس کے لیے آپ کو جذبات اور روایتی سوچ کے دائرے سے باہر نکل کر عملی اصولوں پر کھیلنا ہوگا۔ اگر آپ کے اندر حقائق کو تسلیم کرنے اور خود کو بدلنے کی ہمت ہے تو آج ہی سے اپنا کھیل اور زندگی کے نتائج بدل لیں۔ طالبِ دعا: محمد اسامہ سَرسَری
محمد اسامہ سرسری
اگر آپ از خود حالات کا تجزیہ نہیں کرسکتے تو ظاہر سی بات ہے کہ آپ کو دیگر تجزیہ کاروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے، بالکل کیجیے مگر دو باتوں کا خیال رکھیں ورنہ آپ حق تک نہیں پہنچ سکیں گے: (1) کسی ایک تجزیہ کار سے عشق نہ فرمائیں بلکہ متعدد آراء رکھنے والوں کو پڑھیں۔ (2) اگر کسی نے تحریر میں کسی دوسرے انسان یا قوم یا ملک کی وہ بات لکھی ہو جو ابھی منظر پر نہیں آئی بلکہ ان کے دلوں میں ہی ہے تو اسے فورا قبول نہ کریں، مثلا: فلاں شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے فلاں عہدہ مل جائے یا فلاں قوم پورے ملک پر حکومت کرنا چاہتی ہے یا فلاں ملک ہمارے خلاف یہ سازش کر رہا ہے۔ طالبِ دعا: محمد اسامہ سَرسَری
محمد اسامہ سرسری
جڑواں: بڑا ہی سعادت مند بچہ ہے، ہر بات مانتا ہے۔ صرف ماننا کافی نہیں ہوتا، کام کو سمجھ کر اسے بخوبی پورا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے اس کام میں مکمل شوق اور توجہ کے ساتھ لگتا ہے۔ میرا کام چونکہ کئی جہات پر پھیلا ہوا ہے کہ ویب سائٹ بھی دیکھنی ہے، بلکہ ویب سائٹیں، یوٹیوب چینل کے بیسیوں کام، واٹس ایپ تدریس کی ہزارہا مصروفیات، پھر ان سب پر تصنیفی کام مستزاد، اکیلے بندے کا یہ کام ہی نہیں۔ میں نے سوچ رکھا تھا کہ اگر کوئی عالمِ دین مل گیا جو آئی ٹی کا بھی ماہر اور تصنیفی ذوق والا بھی ہو تو ماہانہ خطیر رقم ادا کر کے اسے اسسٹنٹ کے طور پر رکھ لوں گا، اس وعدے کے ساتھ کہ معاوضے کے علاوہ اسے اپنے سارے ہنر اور کام کا مکمل طریقہ بھی سکھاؤں گا اور اس کے کام کی تشہیر بھی کروں گا۔ اب یہ بڑوں کی دعائیں ہی آپ کہہ سکتے ہیں کہ مجھے ایک بچے میں یہ سب خوبیاں مل گئیں۔ ابھی یہ عالم نہیں بنا، مگر آئی ٹی کا چیتا ہے اور تصنیفی کام کا دھنی، سونے پر سہاگا یہ کہ اس کے خاص مطالبے بھی نہیں۔ پتا نہیں مجھ سے اسے ایسی کیا خاص محبت ہے کہ میری ترقی دیکھ کر خوش بھی ہوتا ہے اور ایسی رائے دیتا ہے کہ دل باغ باغ ہو جائے۔ جب بلاتا ہوں کام کے لیے حاضر ہو جاتا ہے، پتا نہیں سوتا کب ہے، کئی بار تو فجر تک رابطے میں رہا۔ ایک بار تو حد ہی ہو گئی، فجر تک میرا کام کرتا رہا، جواب دیتا رہا۔ مجھے اللہ کی شان اس دن فجر کے بعد بھی نیند نہیں آ رہی تھی، آٹھ بجے موبائل اٹھا کر سوچا "جی جی" (میں اس بچے کو پیار سے جی جی بلاتا ہوں) کو اگلا کام دے دیتا ہوں جب جاگے گا تو کر دے گا، مگر یہ کیا؟ اگلے ہی لمحے اس کا جواب آیا کہ جناب یہ کام میں نے کر دیا ہے۔ میرے منہ سے بے اختیار نکلا: "ارے بھئی! کبھی آرام بھی کر لیا کر۔" کہنے لگا: "آپ کا کام ہی میرا آرام ہے۔" حافظہ ما شاء اللہ اتنا تیز ہے کہ مہینوں پرانی بات بھی ایسے یاد دلا دیتا ہے جیسے ابھی کل ہی کی بات ہو۔ حافظے کی نعمت کے ساتھ یہ مطالعے کا بھی حد درجے شوقین ہے، میری لائبریری کی ساری کتابیں پڑھ چکا ہے۔ کبھی کبھی تو مجھے اس پر رشک آتا ہے کہ ایک لڑکے میں اتنی ساری خوبیاں کیسے ہیں، میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ مستقبل دنیا کو ایک عظیم علمی ماہر شخصیت کا سامنا کرنا ہے۔ اسے زبانیں سیکھنے کا بھی بہت شوق ہے، عربی، اردو، فارسی میں حیران کرنے کے بعد جب میں نے اس کی انگریزی دیکھی تو بے اختیار یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ اسسٹنٹ تو مجھے اس کا ہونا چاہیے۔ اس کی سب سے پیاری عادت یہ ہے کہ اگر میں اس کی کسی غلطی کی اصلاح کروں تو ذرا بھی ناراض نہیں ہوتا یا ظاہر نہیں ہونے دیتا کہ برا لگا ہے، بلکہ فوراً مان لیتا ہے اور آئندہ کے لیے اسے اپنے ذہن میں پکا بٹھا لیتا ہے۔ مجال ہے جو کبھی کام کی زیادتی پر اس کے ماتھے پر شکن آئی ہو۔ کل میرے ایک دوست مجھ سے ملنے آئے، میری اتنی ساری مصروفیات اور نت نئے پروجیکٹس دیکھ کر پوچھنے لگے: "یار! یہ سب اکیلے کیسے مینیج کر لیتے ہو؟" میں نے مسکرا کر کہا: "اکیلے کہاں، میرا جی جی ہے نا!" وہ حیرت سے بولے: "کون جی جی؟ ذرا ہم سے بھی تو ملواؤ۔" میں نے ملوادیا، دوست نے اسے فورا اپنے پاس کام کرنے کی آفر کردی، آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ جی جی نے اس سے کہا: "میں تو فقط استاد جی (محمد اسامہ سَرسَری) کے پاس ہی کام کرنا پسند کروں گا، البتہ میرا جڑواں بھائی بھی ہے، آپ اسے رکھ سکتے ہیں، وہ بھی آپ کو مایوس نہیں کرے گا ان شاء اللہ۔ آخری حیرت انگیز بات بھی سن لیں کہ جی جی کی ماہانہ تنخواہ (جوکہ میرے حساب سے کم از کم ایک لاکھ روپے ہونی چاہیے) فقط چھ ہزار روپے ہے۔ 🙂 درج بالا تحریر کی نوک پلک بھی اسی بچے سے درست کروائی تو سعادت مندی دیکھیے کہ آخر میں خود پوچھ رہا ہے: "کیا آپ اس تحریر میں ویب ڈیویلپمنٹ کے حوالے سے کوڈنگ کا کوئی مزیدار واقعہ بھی شامل کرنا چاہیں گے تاکہ سسپنس مزید بڑھ جائے؟" طالبِ دعا: محمد اسامہ سَرسَری
عمر راجپوت
نہ اداسی کوئی صدا ہے یہاں ‎نہ خوشی کوئی دیرپا ہے یہاں ‎میاں !جنت نہیں یہ دنیا ہے ‎ہر کوئی تشنہ مدعا ہے یہاں
محمد اسامہ سرسری
حسن بٹتا جارہا ہے، دیکھیے عشق پھٹتا جارہا ہے، دیکھیے رخ سے اب پردہ سرکنے لگ گیا ابر چھٹتا جارہا ہے، دیکھیے ان کی زلفیں کھل رہی ہیں دوش پر دل سمٹتا جارہا ہے، دیکھیے حسن و عشق و عقل کی تثلیث میں کون ڈٹتا جارہا ہے، دیکھیے عاشقِ بے تاب اب دیوانہ وار نام رٹتا جارہا ہے، دیکھیے وقت اکیلا ہی نہیں ہے ہجر میں دل بھی کٹتا جارہا ہے، دیکھیے سرسریؔ! کتنی خوشی کی بات ہے غم چمٹتا جارہا ہے، دیکھیے شاعر: محمد اسامہ سَرسَری
محمد اسامہ سرسری
اللہ کے بندوں کو اللہ سے ملاتے ہیں ہم پیار سے ہر اک کو مسجد میں بلاتے ہیں مسلک سے نہ فرقے سے ہم خود کو بتاتے ہیں ہم لوگ مسلماں ہیں، اسلام سکھاتے ہیں جلتے ہوئے لوگوں کو سینے سے لگاتے ہیں اللہ کی الفت کے ہم دیپ جلاتے ہیں جنت کے نظاروں میں سوچوں کو پھراتے ہیں دوزخ سے ڈراتے ہیں، سوتوں کو جگاتے ہیں یہ اہلِ جہاں ہم کو خاطر میں نہ لاتے ہیں مفتون بتاتے ہیں ، مجنون بلاتے ہیں باتیں بھی بناتے ہیں ، آنکھیں بھی دکھاتے ہیں اس رونقِ فانی کی لالچ بھی دلاتے ہیں عریانی کے لاشوں سے دنیا کو لبھاتے ہیں دولت کے تماشوں سے عقبٰی کو بھلاتے ہیں جدت کے تقاضوں کی ترغیب دلاتے ہیں مذہب کو بدلنے کی تحریک چلاتے ہیں قرآن کی باتوں کو تشکیک میں لاتے ہیں آقا کی حدیثوں کو مشکوک بتاتے ہیں اصحابِ محمد پر بہتان لگاتے ہیں اللہ کے ولیوں پر باتیں بھی بناتے ہیں ہر بے ادبی کرکے تادیب سکھاتے ہیں ظالم ہیں مگر خود کو مظلوم دکھاتے ہیں اخلاقِ نبی سے ہم یوں خود کو مناتے ہیں آقا کی اطاعت میں ، سب کچھ سہے جاتے ہیں شیطاں کے فریبوں سے لوگوں کو بچاتے ہیں اور نفس کی چالوں سے آگاہی دلاتے ہیں قرآن کے پاروں کو سنتے ہیں ، سناتے ہیں آقا کی حدیثوں کو پڑھتے ہیں ، پڑھاتے ہیں اصحابِ محمد کا ہر قصہ سناتے ہیں اللہ کے ولیوں کی ہر بات بتاتے ہیں احکامِ شریعت ہم واضح کیے جاتے ہیں طغیانی سے پہلے ہی ہم بچنا سکھاتے ہیں ہر فتنۂ باطل سے ہم پردہ اٹھاتے ہیں ہر حملۂ قاتل سے امت کو بچاتے ہیں ہم امن کی راہوں میں ایمان سجاتے ہیں ہم جنگ کے میداں میں قرآن سکھاتے ہیں باطل کے ارادوں سے گھبرا نہیں جاتے ہیں سنت سے ، دعاؤں سے ہم حوصلہ پاتے ہیں مایوس نہیں ہوتے، محنت کیے جاتے ہیں ہمت کیے جاتے ہیں ، ہمت ہی دلاتے ہیں دلسوزی کی محفل میں ، رسوائی جو پاتے ہیں پروا نہیں کرتے ہیں ، پروانے ہیں، آتے ہیں اشراق کی برکت سے مغرب میں اذاں سن کر ہم سرسری بڑھتے ہیں ، بڑھتے چلے جاتے ہیں شاعر: محمد اسامہ سَرسَری
محمد اسامہ سرسری
اپنا لکھا اپنا لکھا ہوتا ہے۔ اے آئی کو استعمال ضرور کرنا چاہیے، میں بھی کرتا ہوں مگر جو معلومات و کمالات میرے دائرۂ تحقیق سے باہر ہوں ان کی تحقیق یا ترمیم کرکے۔ ویسے میں سمجھتا ہوں کہ انسانی نگارشات بمقابلہ اے آئی زدہ تحریرات والا فرق و موازنہ بھی کچھ عرصے تک ہی کیا جائے گا، کیونکہ اے آئی بھی عام روٹین کا حصہ بنتا جارہا ہے، اب ہر بندہ "اپنی صلاحیت + اے آئی" سے تیار کردہ چیزیں ہی پیش کر رہا ہے۔ گویا پھر سب یکساں ہوگئے اور تنقید و تحسین کی کسوٹی بالآخر بتادے گی کہ تحریر چار میں سے کس قبیل کی ہے، گو ان چار میں بھی کئی ذیلی درجات ہوں گے: (1) ذاتی کمال + پیڈ اے آئی (2) ذاتی کمال + مفت اے آئی (3) ذاتی عدم کمال + پیڈ اے آئی (4) ذاتی عدم کمال + مفت اے آئی طالبِ دعا: محمد اسامہ سَرسَری
محمد اسامہ سرسری
صحبت اور انسانی مزاج پر ماحول کے اثرات ہوتے ہی ہوتے ہیں۔ انسان جس کے ساتھ زیادہ وقت گزارتا ہے لاشعوری طور پر اسی کے مزاج اور عادات کو اپنانے لگتا ہے۔ آپ اپنے تمام ان دوستوں اور ہم نشینوں کا ایوریج ہوتے ہیں جن کے ساتھ زیادہ تر وقت گزارتے ہیں۔ لہٰذا یہ دو فیصلے آپ کو لازمی کرنے چاہییں: (1) آپ خود کو کیا بنانا چاہتے ہیں؟ (2) نمبر 1 کے لیے آپ کو کن لوگوں کے ساتھ زیادہ تر رہنا چاہیے۔ حتی کہ اگر آپ علم، عمل اور مال تینوں کی کثرت اور اعتدال چاہتے ہیں تو فقط ان لوگوں کے ہمنشین بنیں جن کے پاس یہ تینوں چیزوں ہوں۔ 🙂 طالبِ دعا: محمد اسامہ سَرسَری
حامد قاسم پالن پوری
دل کو اب تیری محبت سے نکھر جانا ہے یاد میں تیری مجھے حد سے گزر جانا ہے خانۂ دل ہے تری یادوں سے اب تابندہ ذکر سے فکر سے اور سوز سے ہے خندیدہ رفتہ رفتہ ہی سہی دل کو سنور جانا ہے یاد میں تیری مجھے حد سے گزر جانا ظلمتِ شب کے نظارے ہیں ترے جلوہ کناں مطربانِ چمن اور چرخِ کہن وجد کناں وادئ عشق ہے اور جاں سے گزر جانا ہے یاد میں تیری مجھے حد سے گزر جانا ہے دلِ ناداں ہے کہ اس کنجِ قفس سے نالاں وجہ ِِتسکینِ جگر نا رہا روئے جاناں زندگی کیا ہے یہ لمحوں میں گزر جانا ہے یاد میں تیری مجھے حد سے گزر جانا ہے دل کو لازم ہے تری یاد میں رہنا ہر دم بزمِ ماتم ہو بہاروں کا خزاں کا موسم گل تو کیا چیز ہے خاروں کو نکھر جانا ہے یاد میں تیری مجھے حد سے گزر جانا ہے میکدے میں بھی سکوں تیرے تصور سے ملا زندگی کیا ہے یہ جوہر بھی ترے در سے ملا خستہ دل تشنہ جگر تیرے نذر جانا ہے یاد میں تیری مجھے حد سے گزر جانا ہے
حامد قاسم پالن پوری
الٰہی در بدر ہو کر ترے در لوٹ آیا ہوں بہت لاچار ہوں غمگیں شکستہ قلب لایا ہوں جہانِ رنگ میں ہر سو ہیں بکھرے تیرے ہی جلوے قفس ہو یا نفس ہو تیری عظمت کے سدا چرچے الٰہی تیری خاطر میں وہ دنیا چھوڑ آیا ہوں الٰہی در بدر ہو کر ترے در لوٹ آیا ہوں شفق کی سرخیوں میں ہے افق کی رفعتوں میں ہے پہاڑوں کی بلندی پر گلوں کی نکہتوں میں ہے ہوی و حرص کے سارے بتوں کو توڑ آیا ہوں الہی در بدر ہو کر ترے در لوٹ آیا ہوں زمانے کو بنا کر اپنا دیکھا ہے میں نے مولی کوئی اپنا نہیں ہوتا سوا تیرے مرے مولی میں ساری عمر کی پونجی ترے در جوڑ لایا ہوں الٰہی در بدر ہو کر ترے در لوٹ آیا ہوں
طالب محمد یوسف
ہر مذہب میں عقائد کی حیثیت مرکزی رہی ہے اسی پر تمام ادیان کے افراد اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ اسلام نے بھی عقائد کی درستگی پر بہت زور دیا ہے ہمارے علماء کرام نے اصلاح عقائد پر جو محنت فرمائی ہے وہ کسی عقلمند سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اگر کوئی شخص ساری عمر اعمال اچھے کرتا رہے لیکن اس کے عقائد یا ان میں سے کوئی ایک عقیدہ بھی درست نہ ہو تو روز قیامت اس کے سارے اعمال غارت ہو جائیں گے۔ ہماری جماعت "اتحاد اہل السنۃ والجماعۃ" کی اولین کوشش یہی ہے کہ امت مسلمہ کو صحیح عقائد سے روشناس کرایا جائے اور ہمارے اس راستے میں اہل باطل کی جو رکاوٹیں آتی ہیں ہم بحمد اللہ ان کو ہٹانے کی ہمت بھی رکھتے ہیں ۔
حامد قاسم پالن پوری
باتوں باتوں میں اشارہ کرکے وہ گیا ہم سے کنارہ کرکے ہم تو بیٹھے ہیں جلائے اب دل دل کی دنیا میں خسارہ کرکے دل لگا تو لیا ہے ان سے مگر زخم پر زخم گوارا کرکے
حامد قاسم پالن پوری
ان ہنستے چہروں کو محبت مار دیتی ہے میں تنہا رہتا ہوں اداسی مار دیتی ہے
ہمشیرہ اخلاق برکاتی
🥀ادبی خیانت اور فکری سرقہ🥀 ✍️ہمشیرہ اخلاق برکاتی ادبی خیانت اور فکری سرقہ دو ایسے اخلاقی جرائم ہیں جو نہ صرف تخلیقی محنت کے ساتھ خیانت کرتے ہیں بلکہ علمی دنیا میں سچائی اور ایمانداری کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ ادبی خیانت میں کسی دوسرے کے الفاظ، خیالات یا تحریروں کو بغیر اجازت کے اپنا بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جب کہ فکری سرقہ میں کسی کے نظریات، تحقیق یا تخلیقی کام کو بلا حوالہ اپنے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ دونوں عمل شرعی،اخلاقی اور علمی معیار کے خلاف ہیں، کیونکہ یہ نہ صرف اصل مصنف یا محقق کی محنت کی توہین کرتے ہیں بلکہ سچائی کو چھپانے اور غیر اخلاقی طریقوں کو فروغ دینے کا سبب بنتے ہیں۔ اس سے حوصلہ افزائ کے بجاے تخلیق کاروں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے، جو علم اور ادب کی دنیا میں بے حد ضروری ہے کسی کی تحریر کو بلا اجازت شئر کرنا یا مصنف و محقق کا نام ہٹاکر اس پر اپنا نام شامل کرنا شریعت کی نظر میں بالکل درست عمل نہیں ہے اور یہ ایمانداری کے خلاف ہے کسی کے فتوی سے اس کا نام ہٹادینا اور اپنا نام لکھ کر آگے شئر کرنا شرعی اور اخلاقی طور پر غلط قرار دیا گیا ہے اور اسے علمی سرقہ چوری کی ایک قسم کہا گیا ہے اس عمل سے اجتناب کرکے اور امانت داری اور دیانت داری کا مظاہرہ کرنا اللہ عزوجل کے نزدیک پسندیدہ عمل ہے اسلام میں دیانت داری اور انصاف کا حکم دیا گیا ہے کسی کی محنت یا علم کو بغیر اس کی اجازت کے آگے شئر کرنا یا نام ہٹادینا جیسا کہ آج کل یہ بہت عام ہے اکثر دیکھا گیا ہے کہ جس کی تحریر اچھی لگی اس پر سے جس نے تحقیق کی یا اپنا تجربہ تحریری شکل میں پیش کیا تو اس کا نام ہٹاکر اپنا نام شامل کرلیتے ہیں اور مصنف و محقق کی محنت کی کوئ قدر نہیں رہ جاتی اس عمل سے پھر اس طرح یہ لوگوں کو دھوکہ دینا ہے اسی طرح اکثر وہاٹس ایپ پر گروپس بنائے ہوئے ہیں اور اتنا علم بھی نہیں ہوتا ہے اس کے بعد بھی سوال و جواب کے گروپ چلا رہے ہوتے ہیں جیسے جناب بہت بڑے علامہ ہوں بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کے کوئ طلاق کا مسئلہ پوچھ لیتا ہے تو جناب کو تو علم نہیں ہے تو وہ کسی اور سے پوچھتے ہیں اور پھر اس کے فتوی پر سے نام ہٹاکر اپنا نام شامل کرلیتے ہیں جس سے لوگوں کو پتا چلے کے جناب بہت بڑے علامہ ہیں پھر یہ بھی ہے یہ طلاق کے مسائل تھوڑے پیچیدہ ہوتے ہیں تو سائل نے سوال کچھ اور کیا اور جناب کچھ اور سمجھے اور کچھ اور سمجھ کر کسی سے پوچھ کر بتایا تو مسئلہ غلط ہی بتایا جائے گا جب سوال ہی سمجھ نہیں آیا بلکہ کچھ اور سمجھے تو اس طرح کبھی طلاق ہوگئ ہوتی ہے اور جناب نے کچھ سمجھ کر کچھ پوچھ کر جواب دیا ادھر طلاق ہوئ نہیں ہوتی ہے تو اس طرح جناب کے جواب دینے سے وہ زنا کر رہے ہوتے ہیں اللہ اکبر تو ہمیں چاہیے کے اپنے آپ کو ریاکاری میں مبتلا نہ کریں جتنا آتا ہے اتنا ہی بتائیں اور اگر کسی سے پوچھ کر بھی بتائیں تو ڈائریکٹ اسی سائل کا مسئلہ بھیجیں اور جو فتوی ملے اس پر ہرگز اپنا نام نہ ڈالیں کسی کا نام ہٹاکر کسی کی محنت کی قدر کرنا سیکھیں اور یہ امانت داری کے خلاف بھی ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ- [النساء،۵٨] بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انھیں سپرد کرو اس آیت سے پتا چلتا ہے کے اسلام میں امانت داری اختیار کرنے کا حکم ہے حضور ﷺ کی سیرت کو پڑھیں تب علم ہوگا امانت داری کیا ہوتی ہے انہوں نے اپنی امانت داری کو اس قدر بہترین نمونہ بنایا کے اپنے تو اپنے بلکہ کفار مکہ جو کے بد ترین دشمن تھے انہوں نے بھی آپ کو امین و صادق جانا سبحان اللہ قربان جاوں مدنی آقا پر اللہ عزوجل ان کے صدقے ہمیں بھی امانت داری اختیار کرنے کی توفیق بخشے *[جھوٹ اور دھوکہ دہی سے اجتناب ]* اسی طرح تحریر سے نام ہٹانا اور اپنا نام ڈالنا یا کسی کے میسجز فارورڈ کردینا یا اسکرین شارٹ لیکر دوسروں کو دینا یا رکارڈنگ کرلینا کسی کی گفتگو کی اور اس بچارے شخص کو معلوم بھی نہیں ہوتا ہے کے میری گفتگو کہاں جارہی ہے بعض دفعہ اس عمل سے سخت فساد بھی ہوجاتے ہیں یہ ایک دھوکہ کے زمرے میں آتا ہے اور تحریر سے نام ہٹانا یہ جھوٹ کے زمرے میں آتا ہے اللہ اکبر اور اسلام دھوکہ دہی اور جھوٹ والا دین نہیں ہے اپنے دین پر قائم رہیں جھوٹ کی سخت وعیدیں ہیں جیسا کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ[آل عمران،61] جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں اس آیت سے پتا چلا تحریر سے نام ہٹاکر ہم اپنا نام شامل کرکے دکھادیتے ہیں جیسے ہماری تحریر و تجربہ ہے بڑی آسانی سے اپنا نام لکھ دیتے ہیں اللہ اکبر یاد رکھیں یہ کتنا بڑا جرم ہے جھوٹ کے زمرے میں آتا ہے اور جھوٹ گناہ کبیرہ میں سے ہے جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے تو ہمیں چاہیے کے توبہ کریں اور آئندہ کبھی کسی کے فتوی و تجربات جو تحریر کئے ہوئے ہیں ان سے مصنف کا نام ہٹاکر اپنا نہیں ڈالیں گے جھوٹ کے زمرے میں تو آتا ہی ہے یہ لیکن یہ ایک طرح سے دھوکہ بھی جیساکہ حدیث پاک میں ہے ”مٙن غٙشّٙنٙا فٙلٙیْسٙ مِنّٙا“ ”جو ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں“ [صحیح مسلم: ٢٨٣] ہمیں چاہیے کہ ہم دیانت داری کو اپنا شعار بنائیں ، دوسروں کے علمی و ادبی کام کا احترام کریں اور اپنے خیالات اور تحریروں میں سچائی اور ایمانداری کو مقدم رکھیں۔ اصل کامیابی اسی میں ہے کہ ہم اپنی محنت اور تخلیقی صلاحیتوں پر بھروسا کریں اور علم کے فروغ میں اپنا حقیقی کردار ادا کریں۔ سچائی، دیانت اور علمی دیانت داری ہی وہ اصول ہیں جو علم و تحقیق کی روشنی کو ہمیشہ روشن رکھ سکتے ہیں اور معاشرے کو حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ اللہ عزوجل ہمیں اپنے علم و عمل میں اخلاص عطا فرمائے اور ہمیں دوسروں کے حقوق کا ہمیشہ خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے [آمین یا رب العالمین]
حامد قاسم پالن پوری
حد سے بھی زیادہ جن کو وقت دیا جائے وہ لوگ ہمیشہ لمحوں میں بدل جایا کرتے ہیں تم مجھ سے تعلق میں دوری ہی سدا رکھنا اپنے ہی کبھی اپنوں سے ٹکرایا کرتے ہیں
حامد قاسم پالن پوری
اب صورت سے وہ پہچانے نہیں جاتے خوابیدہ پرندے ہیں اٹھانے نہیں جاتے وہ برسوں سے ہے تم سے خفا کچھ تو ہوا ہے تم بھی بڑے ضدی ہو منانے نہیں جاتے
حامد قاسم پالن پوری
دستار فضیلت اور دردِ دل *6/ دسمبر/ 2025 بروز ہفتہ* چند سال پرانی بات ہے ، برسوں کے شدید انتظار کے بعد وہ پر کیف لمحے قریب آتے جارہے تھے ، ذمہ داریوں کا بوجھ کندھوں کو مزید بوجھل بنا رہا تھا ، جذبات کی موجوں میں اضطراب تھا ، لفظوں کی زباں گم تھی ، دل کی ترجمانی ضبطِ تحریر کی شکل میں دشوار تھی ، غمی خوشی کا ایک عجیب سنگم تھا ، دستار فضیلت کا حسین لمحہ دن بہ دن اپنی منازل طے کر رہا تھا ، میں خیالوں کی وسیع تر فضاؤں میں محو پرواز تھا ، غم حیات کی ٹیسیں رہ رہ کے اٹھا کرتی تھیں ، میرے سرپرست میرے والد کا سایۂ عاطفت سر سے اٹھ چکا تھا ، جدائی نے مسرت کے مواقع پھیکے بنا دیے تھے ، فرحت کے لمحے نہایت تلخ ہوگئے تھے ، زندگی کی رونق ماند پڑ گئی تھی ، غم کے بادل دل نا شاد پہ چھائے ہوئے تھے ، سکھوں کا موسم گزر چکا تھا ، رخِ زیبا کی زیبائی، دل تاباں کی تابانی جاتی رہی ، تنہائی نے مزید تنہا کردیا ... سو بار چمن مہکا سو بار بہار آئی دنیا کی وہی رونق دل کی وہی تنہائی وقت نے ساتھ نہیں دیا اور مجھے حقیقی غم خوار و غم گسار سے محروم کردیا ، میں دیکھ رہا ہوں کہ میرے ہم نشیں عمدہ پوشاک زیب تن کیے ہوئے ہیں ، عمدہ قسم کی خوشبوؤں سے خود کو معطر کیے ہوئے ہیں ، ہر کوئی سر اٹھائے مسکراہٹیں چہروں پہ سجائے اپنوں کے ہمراہ مسکرا رہا ہے ، میں درد دل چھپا کر آنکھوں کو اشکوں سے بچا کر ایک لاش کی طرح چل پھر رہا تھا ، کسی سے خواہی نہ خواہی محو گفتگو ہوتا تھا گوکہ غم کی لہریں تھمنے کا نام نہیں لیتی تھی ، دل چھلنی چھلنی ہورہا تھا لیکن اس خیال سے کہ شاید غم کا بہاؤ اپنی روانی کم کردے ، عارضی سکون مجھے آغوش میں لے لیوے ، یاد رکھیے کسی کے سامنے دکھ درد کا اظہار وقتی طور پر دل کا بوجھ ہلکا کر دیتا ہے ، دل دکھوں کا آشیانہ ضرور ہے لیکن ہر غم سہنے کی سکت اس میں نہیں ، یہ آشیانہ جب ویران ہوتا ہے تو سب اجڑ جاتا ہے ، اچھا خاصا انسان اپنی تازگی کھو بیٹھتا ہے ، میں نے یہ سوچ کر اپنے ہوش و حواس درست کرلیے کہ اندھیروں کی عمر زیادہ نہیں ہوتی ، رات خواہ کتنی ہی گہری ہو روشنی کی ایک کرن سے ہار جاتی ہے ، اے میرے دوست جہاں بادل برستے ہیں وہاں پھول کھلتے ہیں ، جہاں آنکھیں برستی ہیں وہاں خواب ادھورے نہیں رہتے کبھی نہ کبھی یہ شرمندۂ تعبیر ہو ہی جاتے ہیں ۔ مغرب سے قبل ایک ہجوم تھا انسانوں کی امڈتی ہوئی ایک بھیڑ تھی ، میری آنکھیں اپنوں کی متلاشی تھی ، کبھی اس بھیڑ میں نگاہیں تا دیر ٹھہر جاتی تھی ، جیسے کوئی کسی کا دست بستہ منتظر ہو ، پورے وجود سمیت گھوم کر عقابی نظروں سے شناسا چہروں کی جستجو مجھے بے چین رکھتی تھی ، نگاہیں تھک گئی اداسی کی گھٹائیں چھا گئی ، اور پھر ٹوٹے دل کی کرچیاں اٹھائے مسجد میں داخل ہوگیا ... بیت گیا ساون کا مہینہ ، موسم نے نظریں بدلیں لیکن ان پیاسی آنکھوں سے اب تک آنسو بہتے ہیں جلسے سے ایک روز قبل گھر گیا تھا ، فراغت کا تذکرہ چھڑا تو امی سے کہا کہ امی جان لوگ تو اپنے ہونہار فضلاء کو اپنی اولاد کو بطور اعزاز و اکرام لینے کے لیے اس تقریب سعید میں شرکت کرتے ہیں ، آخر مجھے کون لینے آئے گا ؟ میری اس خوشی میں کون شرکت کرے گا ؟ میری ماں کے پاس اس چبھتے سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں تھا ، یہ زندگی کا ایک عجیب و غریب موڈ تھا ، میں نے اپنے استاذ کا دیا ہوا خلعت فاخرہ زیب تن کیا ، اور قدم اٹھائے سواری کی تلاش میں چل دیا لیکن ... شاید یہ وقت ہم سے کوئی چال چل گیا رشتہ وفا کا اور ہی رنگوں میں ڈھل گیا سواریس نہ ملی پیادہ پا چل دیا ، ایک آدھ کلومیٹر کا فاصلہ دل میں جذبات کا طوفان لیے ، حسرت و غم کی تصویر بن کر طے کیے جا رہا تھا ، دل نے ساتھ چھوڑ دیا تھا ، اشکوں نے دامن بھگو دیا تھا ، ہاتھوں کی کپکپی ، اداس چہرے کی پژمردگی دل کے نہاں خانے کی عکاسی کر رہی تھی ، دل معنون ہے تو چہرہ عنواں ہے ، دل مترجم ہے تو چہرہ ترجمان ہے ، دل شیشہ ہے تو چہرہ آئینہ ہے ، اے میرے دوست حالات چہرے بدل دیتے ہیں ، وہ وقت بھلائے نہیں بھولتا ... اس وقت تو یوں لگتا تھا اب کچھ بھی نہیں ہے مہتاب نہ سورج نہ اندھیرا نہ سویرا آنکھوں کے دریچوں پہ کسی حسن کی چلمن اور دل کی پناہوں میں کسی درد کا ڈیرا میں مسجد کے پرنور ماحول میں داخل ہوچکا تھا ، تقریب اپنی شان بان کے عروج پہ پہنچی ، اور دستار بندی کا مبارک موقع سر پہ آ پہنچا ، نام پکارے جانے لگے ، اول پوزیشن حاصل کرنے والوں میں میرا نام سر فہرست تھا ، لیکن کیا خوشی جب دل ہی بجھ گیا ہو ، کیا مسرت جب روشنی کے چراغ اپنے لو بجھا چکے ہوں ، مرجھائے ہوئے پھولوں سے کیا خوشبو آئے ، خوشیوں کا تعلق تو اپنوں سے ہوتا ہے ، جب اپنے ہی نہ ہوں تو غیروں کی تالیاں دل کو نہیں چھوتی .... وہ پر وقار محفل جس کے گوشوں سے نور و نکہت چھن رہی تھی ، ہر سمت بادہ کش بادۂ محبت کے جام تھامے صہبائے طہور کے لیے دیوانہ وار آئے ہوئے تھے ، عشق و عقیدت کے پروانے شمع ایمان کے گرد محو پرواز تھے ، یوں لگ رہا تھا جیسے نور کی برسات ہورہی ہو ، اور چاند نے اپنا رخت سفر پھینک دیا ہو ، تا حد نظر سفید پوش مہمانوں کا ایک جم غفیر تھا جنہیں ایمان و یقین کی نسبت نے نشیب و فراز کی پروا نہ کرتے ہوئے دور دراز کے فاصلے سمیٹتے ہوئے یکجا کردیا تھا ، کوئی کسی کا والد تھا کوئی کسی کا بھائی تھا ، مختلف نسبتوں کے حاملین جلوہ گر تھے ، میری اچکتی نظریں ہر بار خاب و خسر لوٹتی تھی ، شاید کوئی آیا ہو ، ممکن ہے کوئی اپنا ہو ، لیکن ؛ اگر ، مگر ، شاید ، ممکن ، پر بات ٹھہر جاتی تھی ، یہ لمحے بھر کا انتظار یہ خام خیالی یہ غلط فہمی ہر بار جھوٹی تسلی دی جاتی تھی ، دل تھا کہ فریب خوردہ ، زخم رسیدہ ، وقت نے مجھے ایک نازک مرحلے پہ لا کھڑا کیا تھا ، جہاں نہ کوئی اپنا تھا نہ ہم کسی کے تھے ، دل تو پہلے ہی تھک ہار کر ساتھ چھوڑ چکا تھا ، دل سے کہتا جاتا تھا کہ اے دل تیرے انجام پہ اور اپنی قسمت پہ بہت رونا آیا ، کاش کوئی چہروں پہ لکھے درد عنوان پڑھنے والا ہوتا ، کاش کوئی آنکھوں میں چھائی دکھ کی سرخ لکیریں دیکھنے والا ہوتا ، اے میرے دوست ہر بات زباں سے بیاں نہیں ہوتی ، کچھ باتیں دل کا دفینہ ہوتی ہیں ، وہ دل میں ہی رہیں یہی بہتر ہے ، انہیں چہرے پہ سجاؤ گے تو نڈھال ہو جاؤ گے ، دل کی ہر بات زبان پر نہیں لائی جاتی، اسی لیے تو اللہ نے آہیں پیدا کی ہیں ، آنسو بنائے ہیں، طویل نیند رکھی ہے، ہلکی سی مسکراہٹ دی ہے، اور ہاتھوں کی لرزش پیدا کی ہے ، *کٹ گئی اک عمر اس افہام اور تفہیم میں* *دل کو سمجھاتا ہوں میں اور مجھ کو سمجھاتا ہے دل* *فصل گل میں سب تو خنداں ہیں مگر گریاں ہوں میں* *جب تڑپ اٹھتی ہے بجلی یاد آ جاتا ہے دل* سوزِ دروں نے سارے خواب خاکستر کردیے ، ساری تمنائیں بجھ گئیں ، میرا صبر تب جواب دے گیا جب میں نے ایک والد کو اپنے فاضل بیٹے کی پیشانی پر بوسہ دیتے دیکھا ، یہ دل تب چورا چورا ہوگیا جب فاضلین کو سینے سے لگاتے دیکھا ... *دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں* *روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں* جب دل ہی بجھ گیا ہو تو کیا لطفِ انجمن ! آرزؤں کا سارا جہان ہی لٹ چکا تھا ، میرے اساتذہ کے سوا کوئی نہیں تھا جسے میں ابا ، ابو کہہ کر پکارتا ، انسانوں کی اس بھیڑ میں رب کے بندے ضرور ملے لیکن اس لوح جبیں خط جبیں کو پڑھنے والا کوئی نہ ملا ، دعا ہوئی ملاقاتوں کا دور شروع ہوا اور بالآخر سب الوداع ہونے لگے ، ہر ایک اپنوں کے ہمراہ ہنستا مسکراتا جارہا تھا ، میں کتابیں سمیٹ رہا تھا اور پیچھے مڑ مڑ کر دیکھ رہا تھا ، تنہائی کا احساس اندر ہی اندر گھٹنے پر مجبور کر رہا تھا ، دل بجھ تو گیا تھا لیکن امید کی ایک ہلکی سی کرن کسی گوشے میں روشن تھی کہ ابھی کوئی آئے گا اور مجھے سینے سے لگائے گا اور کہے گا چلو میرے ساتھ ، میں بڑے طمطراق کے ساتھ چلوں گا ، لیکن جلد اس امید کا بھی خون ہوگیا ، اسی درمیان کسی نے کہا تمہارے خالو آئے ہیں ، یہ سن کر تن و من میں ایک برق سے دوڑ گئی ، آنکھیں چکاچوند ہو گئی ، دل بلیوں اچھلنے لگا ، جھٹ پٹ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر علیک سلیک کے لیے ہجوم میں چہرے تکتا پھرتا رہا ، کبھی مشرقی سمت گیا ، پھر خیال نے جھنجھوڑا تو مغربی سمت گیا پھر دل نے کہا صحنِ چمن میں ہوں گے ، وہاں پہنچا لیکن وہاں بھی کوئی سراغ نہ ملا ، پھر سوچا کہ کہیں دار الحدیث میں ہوں گے لیکن وہاں بھی پتہ نہ ملا ، اب تو وہ ہلکی سی کرن بھی روپوش ہوگئی ، زخمی دل کو مزید دھچکا لگا ، سر جھکائے اپنی نشست پر لوٹ آیا ، ہائے کیا خوشی رہ گئی تھی کہ میں خوشیاں مناتا ... *سنتے ہیں خوشی بھی ہے زمانے میں کوئی چیز* *ہم ڈھونڈتے پھرتے ہیں کدھر ہے یہ کہاں ہے ؟* اے میرے دوست ! خوشی کے لمحے بہت عارضی ہوتے ہیں ، یہ اپنی انتہا پر پہنچ کر ایک اور نیا دکھ پیدا کرلیتی ہے ، سکھ تو بے وفا ہے ایک ڈھلتی چھاؤں ہے ، اس لیے دکھ کو اپنا ساتھی بنانا یہ ہمیشہ ساتھ دے گا ، اس کے بعد مجھے پرخلوص چہروں سے بھی ایک گونہ وحشت سے ہوگئی ، وقت نے سارے پردے چاک کردیے ، اپنے پرایوں کا فرق واضح کردیا تھا ، اب تو بس مفاد و مطلب کی گرد لوگوں کے آبگینوں پر اٹی رہتی ہے ، محبت اور اپنائیت کا لبادہ اوڑھے جب چاہیں ایک نئی صورت بنا لیتے ہیں ، اور ایک چہرے پر کئی چہرے سجا لیتے ہیں ، اس لیے اُن کے آئینے بھی دھندلے پڑ چکے ہیں ، خدا ان لوگوں پر رحم کرے جو اتنے نقاب پہن چکے ہیں کہ اب خود بھی نہیں پہچانتے کہ وہ کون ہیں ؟ الغرض یہ عجیب اتفاق ہے کہ میرے حفظ ، عالمیت اور افتاء ان تینوں کی دستار بندی اپنوں کے بغیر ہوئی ، بہرحال میں کچھ ساتھیوں کے ہمراہ شب غم کی تاریکی میں گھر پہنچا ، میں اپنوں کے بغیر ہی گیا تھا اور اپنوں کے بغیر ہی لوٹ آیا ، میری ماں میرے بھائی بہن میرے منتظر تھے ان کی پیاری ہنستی مسکراتی صورتیں دیکھ کر میرے رستے زخم کسی حد تک بھر گئے ، رات کافی بیت چکی تھی ، منہ میٹھا کیا ، ساری سر گزشت سنائی ، اماں کے ساتھ قہقہے لگائے اور چشم پرنم کے در بھیڑ کر محو خواب ہوگئے ۔ اے میرے میرے دوست : اپنے زخموں کو بھول کر آگے بڑھیں، اور اپنے آپ کو دوسرا موقع دیں کیونکہ آپ اس کے حق دار ہیں ، اپنے زخموں میں جکڑے نہ رہیں اور نہ ہی اپنے غموں کے قیدی بنیں ، اگر جانے والے محبت کرنے والے تھے تو انہیں دل میں بسائے رکھیں کہ یہ وفاداری ہے، اور اگر وہ دھوکے باز تھے تو انہیں اپنے حال اور مستقبل کو برباد نہ کرنے دیں ، اپنے غم و حزن کے خول کو چاک کیجیے اور اپنے دل کو نئی پرواز دیجیے ، شاید آپ کے سب سے خوبصورت دن آنا ابھی باقی ہوں۔ *آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا* *وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا*
حامد قاسم پالن پوری
مرے ہمدم محبت میں مقامِ بے خودی کیا ہے لہو کے گھونٹ پی پھر جان لے گا دل لگی کیا ہے نہیں ہو لذتِ دردِ محبت سے شناسا تم نسیمِ جاں فزا بتلا انہیں دل کی لگی کیا ہے بہت بے چین رکھتی ہے مجھے یہ یورشِ پنہاں ترے بن اس چمن میں ان گلوں کی دل کشی کیا ہے مری شامِ غریباں بھی یہاں صبحِ بہاراں ہے نہ ہو گر یاد تیری پھر تو لطفِ زندگی کیا ہے دکھا کر اپنا جلوہ پھر سے وہ رخ کو چھپا بیٹھے دلِ وارفتۂ حیرت سے پوچھو بے بسی کیا ہے دلِ ناداں کو جس دن یہ معَمّا ہم نے بتلایا مرے ہم راز تم یہ جان لوگے بے رخی کیا ہے
حامد قاسم پالن پوری
💓 وصل و فراق 💓 سب قرینے اسی دل دار کے رکھ دیتے ہیں ہم غزل میں بھی ہنر یار کے رکھ دیتے ہیں محبتوں کی دنیا میں، الفتوں کے جہان رنگ و بو میں ،عشق و الفت کے بحر ذخار میں ، دکھ سکھ کے اس حسیں سنگم میں ، غمی اور خوشی ، جذبات و احساسات سے معمور اس رنگین کائنات میں ، دوستی اور یاری کا مقام و مرتبہ بھی کسی مجنون و لیلیٰ ، شیریں و فرہاد سے کم نہیں ،کبھی یادوں نے تڑپا دیا ،کبھی دل نادار دکھادیا ،کبھی چہرے پہ شگفتگی چھاگئی ، کبھی فرقتوں نے رلا دیا ،کیا یہ دوستی کی کرامت نہیں کہ حیات مستعار کے غموں کی قید میں محصور لمحے ، الجھنوں کے شکنجوں میں کسے پل،کلفتوں کے شکستہ شیشوں سے زخم خوردہ گھڑیاں ، بے لوث ہوکر خلوص کا مرہم رکھتے ہیں، دوستی رستے زخموں کے لیے دوا اور دعا دونوں کا کام کرتی ہے ، خاروں کو راہوں سے ہٹا کر پھولوں کو چن کر طاقِ ہستی پہ سجاتی ہے، وہ دن بھی کیا دن تھے ، جب ہم زندگی کی پر خطر راہوں سے بےخطر تھے، نہ منزل کا پتہ ، نہ کسی رہبر و رہزن کی خبر تھی ، نہ دوریاں تھی نہ وصل کی بیتابیاں تھی ،دنیا کے ہر غم سے بے غم تھے ،دو انگلیوں کے ملن کا نام یاری تھا ،صبح فروزاں کی باہمی رنجش و خلش شام آنے پر آفتابِ جہاں تاب کے بیتاب ہونے کے وقت دوستی میں تبدیل ہوجاتی ، ہمارے دور میں جب چراغوں اور قمقموں سے گھروں کی رونق ہوا کرتی تھی، اس وقت مکانات کچے تھے مگر لوگ من کے سچے تھے،ماں کے ساتھ چولہے کے اردگرد بیٹھ کر کھانا ہوا کرتا تھا،ہم لوگ کبھی تین چار گھنٹوں کے لیے کچھ روپوں کے عوض سائیکل کرایے پہ لیا کرتے تھے، ہمارے اس دور میں محبتوں کے تبادلے کا نام ہی دوستی اور یاری ہوا کرتا تھا ، ہم ہی وہ آخری نسل ہیں جنہوں نے پرانے دور کی برکتیں دیکھیں،اور جدید دور کی شرانگیزی کو دیکھنے کا موقع ملا ، پھر میلے کے وہ جھولے بھی گئے ،لوہے کے بدلے پانچ دس روپے کا زمانہ بھی گیا ، آم ، املی کے پیڑوں پہ پتھر چلانے، بیری سے بیر گرانے کا وقت بھی گزر گیا ، کہتے ہیں نا کہ وقت کے ساتھ ساتھ سب کچھ بدل جاتا ہے ،رفتہ رفتہ جذبات نے رخ موڑا، احساسات نے جنم لیا ،دکھ درد سے سابقہ ہونے لگا ،ہم محلے کےشریر بچے پھر شریف شمار ہونے لگے ، کل گرنے پر کہا جاتا تھا کہ دیکھ کر چلو ، جب چلنا سیکھ لیا تو ہر ایک گرانے کی کوشش میں ہے ، الغرض گلی ڈنڈے ،چھپا چھپی ، چور پولیس ،کبڈی سب کچھ چھین لیا گیا ۔ بالآخر ہم نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ ہی لیا ،لیکن دوستی کا بھرم اب بھی باقی ہے ،خلوص و محبت کا حسیں سنگم آج بھی برقرار ہے ،وہ پرانے دور کی رسم ، وہ قدیم زمانے کے ناز و نخرے ، وہ سیر و سیاحت کے چسکے آج بھی کروٹیں لیتے ہیں ۔ واقعی دوست رب کا ایک تحفہ اور نعمت ہے ،کسی نے کہا ہے کہ جب رات گہری ہو ،تاریکی اور سیاہی نے ساری دنیا کو اپنے چنگل میں لے رکھا ہو ،فکر و غم نے دل کو بوجھل بنادیا ہو ، ایسے موقع پر کسی وفادار غمخوار دوست سے لمبی گفتگو ، سارے غموں کو ختم کردیتی ہے ،ہر جائز چیز کو فدا کرنے کا نام دوستی ہے ، آپ سے جو یہ کہے کہ جو کچھ میرے پاس ہے وہ میرے دوست کا ہے، بس اسی کا نام دوستی ہے ،احساس ، اعتماد ، ساتھ نبھانے اور سکھ دکھ میں کام آنے کا نام دوستی ہے ،معلوم ہوا کہ دوستی بہت ہی قیمتی اور ایک خاص رشتہ ہے، آپ کے پاس کچھ نہ ہو بس ایک سچا دوست ہو اور ایک نیک وفادار شریک حیات ہو، تو آپ زندگی کی دشوار ترین گھاٹیوں سے گزر سکتے ہیں ،ہر ایک کو اپنی خوشی اور غم بانٹنے کو ایک سچے دوست کی ضرورت ہوتی ہے ،وہ چیزیں جو آپ اپنے اہل خانہ اور کنبے کے ساتھ بانٹ نہیں سکتے وہ اپنے دوست کے ساتھ بانٹ سکتے ہیں ،اسے شیئر کرسکتے ہیں ،ایک حقیقی اور سچا یار ہمارے جذبات سمجھتا ہے ،اور ان پر قابو پانے میں ہماری مدد کرتا ہے ،سچی دوستی نہ عمر دیکھتی ہے ،نہ ظاہری شکل و صورت ،اور نہ ہی مال و دولت کی ریل پیل ،دوستی وہ واحد رشتہ ہے جو افراد کا انتخاب خود ہی کرتی ہے ،جو رشتے ہمیں خاندان وغیرہ سے ملتے ہیں ، ان کے کوئی نہ کوئی معنی ضرور ہوتے ہیں ، دوستی ہی ایک ایسا رشتہ ہے جو بغیر کسی معنی کے پایا جاتا ہے ،کسی نے پوچھا کہ دوستی کا کیا مطلب ؟ جواب دیا گیا کہ ایک دوستی ہی تو ہے جہاں کوئی مطلب نہیں ہوتا ،جہاں مطلب آجائے وہ دوستی نہیں ہوسکتی ۔ کسی نے کیا خوب لکھا ہے: الفراق اشد من الموت ، جدائی موت سے زیادہ سخت ہے ، موت کا زخم پل بھر کے لیے پھر جاں کنی کی تکلیف ختم ہوجاتی ہے ،جبکہ دوست دوست کی جدائی میں ، ہر محب اپنے محبوب کے فراق میں ماہئ بے آب کی طرح تڑپتا ہے ، گردش کرتی ہوائیں ، خوشگوار فضائیں اسے علیل معلوم ہوتی ہیں ،گلوں کی نکہت اسے یوں محسوس ہوتی ہے ، گویا کہ وہ لبادۂ افسردگی اوڑھ کر محو خواب ہوگئی ہو ، کبھی یہ فراق و ہجر مسکنت و بے بسی کے اشک بہانے پر مجبور کردیتا ہے ، دلوں کی شکستگی سے روشن جبیں پہ پژمردگی چھاجاتی ہے ، دل کی سر سبز و شاداب بستیاں ویران ہو جاتی ہیں ، ہاں اتنا ضرور ہوتا ہے کہ کچھ پل کے لیے ذکر یار سے تاریکیاں چھٹ جاتی ہیں ، خاردار ، گلزار میں تبدیل ہوجاتے ہیں ،کیونکہ دوست کی یادیں بھی وصال سے کم نہیں ... *شک ہوتو پوچھ لو کسی حرماں نصیب سے* *ذکر حبیب کم نہیں وصل حبیب سے* چہروں کی تر و تازگی احساس و توانائی وصال یار اور ذکر حبیب سے وابستہ ہوتی ہے ، لیکن غم فراق ، جدائی کا زخم پھر بھی کم نہیں ،ہر آن لیل و نہار کی گردش،صبح و شام کے ہنگامے، طلوع ہوتا سورج اور اس کی ضیاپاش کرنیں ، آستانۂ گردوں سے جھانکتا مہر و ماہ اور اس کی ضوفشاں چاندنی، بام فلک سے لٹکتی پرنور تاروں کی قندیلیں ، سرد راتوں میں ہواؤں کے جھونکے ، الاؤ کے گردا گرد گزارے وہ لمحے ، برسات میں بھگتے ہوئے وہ درخشاں چہرے، وصل کی امید پر زندگی کے تلخ گھونٹ پینے پر مجبور کرتے ہیں ،یوں ہی وصل کی امید و تمنا میں گھڑیاں بیت جاتی ہیں ،جب چاندنی راتوں میں تارے جگمگارہے ہو ،چراغ ٹمٹمارہے ہو ،سبزہ لہک رہا ہو ،ندی نالوں میں خوبصورت آبشاروں پر پانی رقص کررہا ہو ،تب دوستوں کی یادوں کا ہجوم ہوتا ہے، موسم بہار میں جب سرد ہوائیں چلتی ہیں تو وہ شوخیاں وصل کی بیتابیاں رہ رہ کر انگڑائیاں لیتی ہیں ۔ *دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا* *جب بھی چلی سرد ہوا میں نے تجھے یاد کیا* لیکن جب وصل کی گھڑیاں قریب ہوں ، تو فراق کے چبھتے سلگتے سسکتے لمحات مسرتوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ،پھر دل کی کلیاں کھل اٹھتی ہیں ، چہروں پہ تبسم کی فضا چھاجاتی ہیں ، آرزوئیں مچلنے لگتی ہیں ، جذبات کی موجوں میں تلاطم بپا ہوتا ہے ،امنگ و ترنگ موجزن ہوجاتے ہیں ، پھر وہ پر رونق ایام لوٹ آتے ہیں ، سرد راتوں میں طویل گفتگو ، مسکراہٹوں کے تبادلے ،غم خواری اور وفاؤں کے چراغوں کی بجھتی شمعیں پھر فروزاں ہوجاتی ہیں ، سانسوں کی تکرار ذکر یار سے معطر و عطر پاش ہوجاتی ہیں ،پھر یوں محسوس ہوتا ہے ، جیسے سقف کہن سے لٹکے تارے فرش خاکی پر آگئے ہو ،خوشیاں رقص و سرود میں بےخود ہوجاتی ہیں ،آنکھوں کو نور و سرور ،قلب و جگر کو چین و سکون نصیب ہوتا ہے ،وہ خوش گوار محفلیں ،باغ و بہار مجلسیں وہ محبتوں کے بسیرے ، الفتوں سے بھری ملاقاتیں ،کچھ پل کے لیے ہی سہی ، لیکن دل دار کے لیے ایک روشن باب ، گراں مایہ سوغات، حیات مستعار کے سر ورق پہ زریں عنوانات کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
سید ذوالقرنین حیدر رضاؔ
عنوان: *”آدم خور چہرے“* اس کائنات میں چاروں اور زندگی کے خاتمے کا دور دورہ ہے۔ زندگی ہے کہ اپنی حفاظت کے لیے کائنات کے ہر کونے میں چھپتی پھرتی ہے، مگر کوئی اس پر رحم نہیں کھاتا۔ ہر شخص اسے مار ڈالنے پر تلا ہوا ہے اور وہ ہر طرف قتل و غارت گری کا شکار ہو رہی ہے۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ اس کے قاتل بھی جاندار ہی ہیں، یعنی آدم زاد؛ بلکہ ”آدم خور“ کہنا زیادہ بجا ہوگا۔ زندگی کے قاتلوں میں سب ہی اپنا اپنا کردار بخوبی نبھا رہے ہیں: کچھ اسلحہ و بارود سے، کچھ ان کی تائید و حمایت کر کے، کچھ انہیں اس جرات مندانہ اقدام پر اکسا کر، اور کچھ خاموش تماشائی بن کر۔ دوسری طرف کچھ ایسے بھی ہیں جو زندگی کو بچانا تو چاہتے ہیں، مگر موت کے خوف نے انہیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ وہ اس قدر مجبور ہیں کہ انہوں نے اپنے دل و دماغ پر پتھر کی چادریں لپیٹ لی ہیں۔ اب انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ کوئی جیے یا مرے؛ بس ان کا اپنا معمولِ حیات متاثر نہ ہو۔ جہاں تک لکھنے اور پڑھنے والوں کا تعلق ہے، تو سچ تو یہ ہے کہ نہ لکھنے والے ظالم کا کچھ بگاڑ سکے اور نہ پڑھنے والوں نے اسے اس طرح پڑھا کہ عملی میدان میں قدم رکھتے۔ یہ محض ایک بے معنی رسم بن چکی ہے کہ مذمت کے چند الفاظ لکھ، پڑھ یا بول دیے تو سمجھا کہ حق ادا ہو گیا، حالانکہ اس سے نہ ظالم کا کوئی بال باکاہوا اور نہ مظلوم کو کوئی فائدہ پہنچا۔ حق والے صدیوں سے لکھتے رہے اور پڑھنے والے پڑھ کر آگے بڑھتے رہے؛ ان تحریروں کو اب زنگ لگ چکا ہے مگر کوئی مظلوم کی مدد و نصرت کو نہ پہنچا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر زندگی ہی زندگی کی قاتل کیوں ہے؟ کاش! ایک لمحے کو رنگ و نسل، مذہب و مسلک اور ذات پات کے فرق سے پرے ہم یہ سوچیں کہ ہم سب ”زندہ“ ہیں اور اس کائنات کی تکمیل کا سبب ہیں۔ ہر ذی روح اور بے جان شے اس کار خانۂ قدرت کا ناگزیر حصہ ہے۔ پھر کیوں کسی جان کو جینے کے حق سے محروم کیا جائے؟ کیا کسی بھی مذہب یا مسلک میں بلا وجہ کسی ذی روح کا قتل جائز ہے؟ اگر ”ہاں“، تو پھر سب سے پہلے مجھے جینے کے حق سے محروم کر دیا جائے۔ اکثر مثال دی جاتی ہے کہ "فلاں جگہ کیڑے مکوڑوں کی طرح انسانوں کا خون بہایا گیا"؛ میرے نزدیک یہ بے حسی کی بدترین مثال ہے۔ کیا کیڑے مکوڑے جیتے نہیں؟ کیا وہ سانس نہیں لیتے؟ انہیں مارنے کا حق ہمیں کس نے دیا؟ صرف انسان ہی نہیں، بلکہ پوری کائنات میں موجود ہر ذی روح کو بلا وجہ اس کی زندگی سے محروم کرنا انتہائی پرلے درجے کا ظلم ہے۔ یہ ہماری بے حسی کی انتہا ہے کہ ہم نے خاموشی کو عبادت سمجھ کر ایسی چپ سادھ لی ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے، ہمیں خاموشی کا در نہیں چھوڑنا۔ لعنت ہو ایسی خاموشی پر! یہ ہرگز عبادت نہیں، بلکہ اکبر الکبائر درجے کے گناہوں میں سے ہے کہ ظلم دیکھ کر زبان بند کر لی جائے۔ ہماری خاموشی کا یہ عالم ہے کہ ہم نے اپنے جذبات، احساسات اور انسانیت کی تمام تر صفات و کمالات کو سمیٹ کر اپنے ہی وجود کے اندر کسی پرانے کھنڈر نما کوٹھے میں، ایک مضبوط لوہے کے صندوق میں بند کر دیا ہے۔ پھر اسے تالا لگا کر چابی سات سمندر پار ایسی جگہ پھینک دی ہے جس کا سراغ ہمیں خود بھی معلوم نہیں۔ اور ستم یہ ہے کہ ہمیں اس "قفل بندی" پر بڑا فخر ہے گویا یہ کوئی بہت ہی خوبصورت عمل ہو!
محمد اسامہ سرسری
دل کے جلنے سے اشک ابلتا ہے اشک گرنے سے دل پگھلتا ہے آپ کی بات ٹھیک ہے، لیکن آپ کا لہجہ زہر اگلتا ہے خواہشوں کا سمندرِ وحشی دیکھ کر چاند کیوں اچھلتا ہے حرص کا دیو آدمیّت کو دیکھتے دیکھتے نگلتا ہے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے مت بیٹھے آدمی ورنہ ہاتھ ملتا ہے جو بھی آتا ہے رہنما بن کر کیوں پھر اپنی ہی چال چلتا ہے اس کی تاثیر سَرسَری مت لو جملہ ہونٹوں سے جو پھسلتا ہے شاعر: محمد اسامہ سَرسَری
محمد اسامہ سرسری
جنگوں کی امنگوں کو ہواؤں میں اڑادو سب وحشی پتنگوں کو ہواؤں میں اڑادو مٹی سے اٹھے ہیں تو فلک کھول دو ان پر ہستی کے ملنگوں کو ہواؤں میں اڑادو سونے کو اڑانے کے لیے نیند اڑائی مخمل کے پلنگوں کو ہواؤں میں اڑادو ہم اپنے کلیجوں کو فضاؤں میں اچھالیں تم اپنے خدنگوں کو ہواؤں میں اڑادو کنکر نہیں پائیں گے عزائم کی بلندی تیروں یا تفنگوں کو ہواؤں میں اڑادو اے اہلِ ہویٰ! چھوڑ دو ہر حرص و ہوا تم ان راہ کے سنگوں کو ہواؤں میں اڑادو یہ فرشِ حیا ہی ہے وطن اپنا اسامہ! ان لچوں لفنگوں کو ہواؤں میں اڑادو شاعر: محمد اسامہ سَرسَری
محمد اسامہ سرسری
دین اور فہمِ دین میں فرق: اسلامی معاشرے میں پیدا ہونے والے بیشتر فکری تنازعات اور شدت پسندی کی سب سے بڑی وجہ "دین" اور "فہمِ دین" کو ایک ہی درجے میں رکھنا ہے۔ دین وہ الہامی سچائی ہے جو قرآن و سنت میں محفوظ ہے اور ہر قسم کی غلطی سے پاک ہے، لہٰذا اس پر من و عن ایمان لانا ہر مسلمان پر فرض ہے، جبکہ فہمِ دین وہ انسانی کاوش ہے جس کے ذریعے کوئی عالم یا مفکر دین کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ چونکہ یہ ایک انسانی عمل ہے، لہٰذا اس میں غلطی کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ انسانی ذہنوں اور علمی استعداد میں فرق کی وجہ سے ایک ہی قرآنی آیت یا حدیث سے مختلف نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ جب کوئی شخص اپنی تشریح کو حتمی قرار دے کر اسے عین دین کا درجہ دے دیتا ہے تو وہ دراصل دوسروں سے اپنے فہم پر ایمان لانے کا مطالبہ کر رہا ہوتا ہے۔ یہیں سے عدم برداشت جنم لیتی ہے اور لوگ اپنی تشریح کو معیار بنا کر دوسروں پر گمراہی کے فتوے لگانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں دوسرا شخص دین کا انکار نہیں کر رہا ہوتا، بلکہ محض ایک انسانی تشریح سے اختلاف کر رہا ہوتا ہے۔ دوسری جانب اس نئی تشریح کرنے والے کو بھی یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ اگر کسی آیت یا حدیث کی تشریح پوری امت نے جو کی ہے وہ اس کے خلاف کر رہا ہے تو یہ "فرد کا فہمِ دین" بمقابلہ "امت کا فہمِ دین" ہے، جس سے اول الذکر کی کمزوری واضح ہے۔ دین، فہم دین اور امت کے فہم دین کے اس فرق کا شعور بیدار ہونے سے معاشرے میں اعلیٰ ظرفی اور برداشت پیدا ہوتی ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ہمارا فہم درست ہو سکتا ہے، مگر اس میں غلطی کا احتمال ہے، جبکہ دوسرے کی رائے غلط ہو سکتی ہے، مگر اس میں درستی کا امکان موجود ہے۔ علمی اختلاف کو دلائل کی حد تک محدود رہنا چاہیے اور اس میں نیت یا ایمان پر حملے سے گریز کرنا چاہیے۔ یاد رکھیں، دین اٹل ہے، جبکہ فہمِ دین قابلِ بحث ہے اور پوری امت کا مشترکہ فہمِ دین وہ حفاظتِ دین ہے جس کا قرآن کریم میں وعدہ کیا گیا ہے۔ اس نکتے کو سمجھ لینے سے ہم علمی اختلاف بھی کر سکتے ہیں اور باہمی احترام بھی برقرار رکھ سکتے ہیں۔ 🙂 طالبِ دعا: محمد اسامہ سَرسَری
صاعقہ علی نوری
دائمی آواز حرف و معنیٰ کی سرحدیں امیدوں کے سارے ناتے نو میدی کی زنجیریں بھی توڑ چلی ہوں! کردگارِ صوت و سماعت! اشکوں کے پر شور یہ نالے ادھ ننگی تہذیب کے نیچے دب جاتے ہیں سناٹوں کے وحشی پنجے میرا اندر کھول رہے ہیں لمحے وحشت گھول رہے ہیں غیرت کے یہ سنگ دل پتلے میرے لبوں کے قفل بنے ہیں لیکن تیری پھونک ہے کیسی اندر باہر شور اٹھا ہے روح کا پنچھی ڈول رہا ہے ہر سو تو پر تول رہا ہے مجھ میں دائم بول رہا ہے صاعقہ علی نوری
نازیہ نزی
کیا برابر کا محبت میں اثر ہوتا ہے دل ادھر ہوتا ہے ظالم نہ ادھر ہوتا ہے ہم نے کیا کچھ نہ کیا دیدۂ دل کی خاطر لوگ کہتے ہیں دعاؤں میں اثر ہوتا ہے دل تو یوں دل سے ملایا کہ نہ رکھا میرا اب نظر کے لیے کیا حکم نظر ہوتا ہے میں گنہ گار جنوں میں نے یہ مانا لیکن کچھ ادھر سے بھی تقاضائے نظر ہوتا ہے کون دیکھے اسے بیتاب محبت اے دل تو وہ نالے ہی نہ کر جن میں اثر ہوتا ہے