شاعری ، نظم اور نثر میں فرق:
اگر کلام میں وزن ہو تو اسے کلامِ موزوں کہتے ہیں۔
اور اگر بات میں وزن ہو تو اسے شاعری کہتے ہیں.
شاعری اگر کلام موزوں کے ذریعے ہو تو اسے نظم کی کسی صنف (شعر/ غزل/ پابند نظم/ آزاد نظم وغیرہ) میں شمار کرتے ہیں۔
اور اگر کلامِ موزوں کے ذریعے نہ ہو تو وہ نثر کی کسی صنف (مضمون/ کہانی / انشائیہ / نثری شاعری وغیرہ) میں شمار کی جاتی ہے۔
البتہ کلام منظوم اگر شاعری سے محروم ہو تو اسے “کلامِ مظلوم” کہنا چاہیے۔ 🙂
=================
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری