محمد اسامہ سَرسَری

لاگ اِن ہوکر 100 کوائنز مفت میں حاصل کریں۔

سوال:
ایک صاحب اِن دنوں قرآن کریم پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
اچھی بات ہے۔ کوئی الجھن ہو تو کہنا چاہیے۔
سوال سے کسی کو روکنا اسلام کا مزاج نہیں ہے جیسا کہ مشہور ہوگیا ہے یا کہنا چاہیے کہ دین بیزاروں نے مشہور کردیا ہے۔

کسی چاردیواری میں، کسی بند ماحول میں ، کسی منظم ادارے میں تو آپ انتظاماً اور دوسری حکمتوں کی وجہ سے بہت ساری پابندیاں لگا سکتے ہیں،لگانی بھی چاہییں لیکن اذہان میں جو الجھنیں ہیں، زبانوں پر جو سوال ہیں، اسلام ان پر ہرگز پابندی نہیں لگاتا، اور کیسے لگا سکتا ہے کہ سوال تو محترم ہے، سوال علم کا دروازہ ہے بلکہ سوال تو آدھا علم ہے!

البتہ بات وہی ہے جو ہر معقول آدمی کہتا ہے کہ سوال تب محترم ہے جب علم کی خاطر کیا جائے، تضحیک اور جگت سے پاک ہو۔
ورنہ تمسخر اڑانے کے لیے کیے گئے ’’سوال‘‘ کا ’’جواب‘‘ بھی پھر اسی پیرائے میں دیا جاتا ہے۔
سوال میں تضحیک و تمسخر کا ذرہ بھی شامل ہو جائے تو اس کی حرمت ختم ہوجاتی ہے۔

اب جہاں تک ’’اُن‘‘ صاحب کی بات ہے، برسوں تک ان کی شرارتیں دیکھ کر کوئی بدگمانی نہیں بلکہ یقین ہے کہ وہ سوال کی حرمت والے نہیں محض اٹینشن سیکر ہیں!
شہرت اور جاہ کے شدید بھوکے۔
اور خود کل کسی کمنٹ میں وہ بے ساختہ اعتراف کر بھی چکے ہیں کہ تحریر کو لاکھوں تک پہنچانے کی تدبیر بخوبی جانتا ہوں!
(اسکرین شاٹ پہلے کمنٹ میں)
٭

قواعد اور زبان:
خیر انھوں نے دو دن قبل ادب کا طالب علم ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے قرآن میں گرامر کی غلطیوں کے حوالے سے مستشرقین کی کتاب سے ایک صفحہ پوسٹ کیا اور لکھا کہ علماء کہتے ہیں کہ قرآن برتر ہے، گرامر اس کے تابع ہوگی، جبکہ عربی زبان تو عیسائیوں کی بھی ہے، اس لیے یہ کوئی جواب نہیں ہے!

اس پر ابو الحسین آزاد بھائی نے انھیں بہترین علمی جواب دیاہے جو پڑھنے کے لائق ہے۔
ان کی پوسٹ پر ہم نے درج ذیل کمنٹ کیاتھا:
’’خود کو ادب کا طالب علم کہنے والے یہ صاحب اتنا نہیں سمجھتے کہ زبان قواعد کی نہیں اہل زبان کے تابع ہوتی ہے۔ قواعد زبان سے پہلے آسمان سے نہیں اترتے بلکہ قواعد تو کہتے ہی اہل زبان کے بولنے کے انداز اور بول چال مرتب کرنے کو ہیں، جو زبان کے بدلنے کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ زیدی کے فکری والد جوش ملیح آبادی بھی اسی بیابان میں یعنی قواعد کو برتر جان کر بچوں کی طرح ٹھوکریں کھاتے رہے۔ مثلا شکر گزار کو مشکور بولنا غلط ہے، رہائش غلط ہے وغیرہ!‘‘

اس کمنٹ پر تفصیل کا مطالبہ ہوا تو کچھ باتیں عرض ہیں:
’’زبان قواعد کی نہیں بلکہ قواعد زبان کے تابع ہیں۔
اس بات کی سند یہ ہے کہ ہماری روایت میں کسی لفظ کے استعمال کی سند قواعد کی کتاب سے نہیں بلکہ اردو کلاسکل دور کے اہل زبان استاد شعراء سے لی جاتی ہے۔
استاد شاعر اور قواعد نویس دونوں میں تضاد ہو جائے تو ماہر لسانیات کی قواعد کی کتاب پکڑ کر استاد شعراء کی غلطی نہیں نکالی جائے گی بلکہ کہا جائے گا کہ کسی زمانے میں تو یہ قاعدہ درست ہوگا، لیکن اب استادوں نے فلاں لفظ کو اس طرح برتا ہے تو اب یہی فصیح ہے اور یہی قاعدہ بن گیا ہے!
یہ اس لیے کہ زبان کا سب سے بڑا قاعدہ ہی ’’اہل زبان کا استعمال‘‘ ہے۔

اب یہ دیکھ لیجیے کہ قرآن کی زبان عربی کے اہل زبان کون تھے؟
جزیرۃ العرب کے رہنے والے!
وہ مشرکین جو ایک طرف اسلام کے اولین دشمن تھے اور دوسری طرف ایسے زبان دان کہ ان کی زبان دانی اور ادب وبلاغت مسلمہ ہے!
سو انھوں نے حضور پر کہانت، جادو، جنون کے بہتان سے لے کر آپ کے قتل تک ہر حربہ آزمایا مگر نہیں کیا تو قرآن میں گرامر کی غلطیاں پکڑنے کا وہ کام نہیں کیا جو ہزار برس بعد کے مستشرقین نے کیا ہے۔
مشرکین عرب کے لیے تو آسان تھا کہ محمد بن عبدللہ اور ان کے خدا کے کلام کی غلطیاں نکال کر ٹھٹھا اڑاتے۔

یہ بالکل وہی بات ہے جیسے آج یوٹیوب سے فارسی کا کوئی تیس ویڈیو کا کورس کرنے والا شخص تو مرزا غالب اور علامہ اقبال کے فارسی کلام میں غلطیاں نکالنے لگے لیکن علامہ اور مرزا کے معاصرین معاندین  مثلا ذوق  تمام تر مخالفت کے باوجود اس زمانے میں یہ کام نہ کریں!
کیونکہ وہ جانتے تھے کہ زبان میں غلطی ہے ہی نہیں!

اردو زبان کے حوالے سے بھی یہی بات ہے۔
میر تقی میر، مرزا سودا، انیس، مرزا غالب اور علامہ اقبال کی اردو سند ہے نہ کہ اردو قواعد نویسوں کی۔
مثلاً ایک تحقیق کے مطابق 1747 میں شائع ہونے والی بنجمن شلزے کی جرمن زبان میں لکھی ہوئی ہندوستانی گرامر کو ماہرینِ اُردوکی پہلی باقاعدہ گرامر قرار دیتے ہیں، پھر جان گل کرائسٹ جو فورٹ ولیم کالج میں انگریزوں کو اردو پڑھایا کرتے تھے، نے 1796 میں اردو قواعد کی سب سے تفصیلی کتاب لکھی۔
تو اب ہم اپنی زبان کے لیے ڈچ اور انگریز قواعد نویسوں سے حوالے پکڑیں گے یا میر اور غالب سے؟

یہ بات دراصل ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک انگریز کے قرآن میں گرامر کی غلطی والے مشہور اعتراض پر انگریزی زبان کے حوالے سے کہی تھی۔
اپنی مشہور کتاب ’’محاضراتِ سیرت‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’چند سال پہلے چار پانچ جلدوں میں ایک کتاب شائع ہوئی۔ اس میں قرآنِ پاک کے بارے میں دورِ جدید کے صفِ اوّل کے مستشرقین کے منتخب مضامین شائع ہوئے۔ ان مضامین میں ایک عجیب و غریب بات یہ کہی گئی ہے کہ قرآنِ پاک میں صرفی نحوی اغلاط ہیں۔ اس بات کو بہت زور و شور سے بیان کیا گیا۔

انہی دنوں مجھے ایک مغربی ملک جانے کا اتفاق ہوا تھا۔ وہاں ایک صاحب جو مسلمانوں کے ساتھ قدرے ہمدردی رکھتے تھے، نے ایک دن اس کتاب کا ذکر کیا اور کہا کہ قرآنِ پاک میں صرفی و نحوی اغلاط پائی جاتی ہیں۔ یہ بڑی عجیب بات ہے۔
میں نے ان سے پوچھا کہ انگریزی زبان کی قدیم ترین گرامر کی کتاب کب لکھی گئی تھی؟
بتایا گیا کہ دو سو یا سوا دو سو سال پہلے لکھی گئی تھی۔
میں نے کہا اگر انگریزی گرامر کی کسی کتاب میں اور شکسپیئر کے کلام میں کوئی تناقض ہو تو آپ شکسپیئر کو نحوی غلطی کا مرتکب کہیں گے یا اس کتاب کے مصنف کو غلطی کا مرتکب اور اس کے بیان کو غلط قرار دیں گے جس نے گرامر کی کتاب لکھی ہے؟

کہنے لگے کہ یقینا مصنف نے غلط لکھا ہو گا۔
میں نے کہا کہ عربی زبان میں گرامر کی جو قدیم ترین کتابیں لکھی گئیں وہ نزولِ قرآن کے دو سو برس بعد لکھی گئیں اور غیر عربوں نے لکھیں۔ اگر قرآنِ مجید میں گرامیٹیکل مسٹیک ہوتی تو کفارِ مکہ اور مشرکین اور پوری عرب دنیا خاموش نہ رہتی اور اس غلطی کا بتنگڑ بنا دیتی۔ وہ عرب فصحاء جو قرآن کے چیلنج کے جواب میں خاموش تھے، وہ اس غلطی کی نشاندہی کرتے، لیکن کبھی بھی کسی بڑے سے بڑے ادیب اور عرب کے بڑے سے بڑے شاعر نے قرآنِ مجید کے کسی اسلوب یا انداز کو عربی زبان اور گرامر سے متعارض نہیں کہا۔
عربی زبان وہ ہے جو قرآنِ پاک میں بیان ہوئی ہے۔ عربی زبان وہ ہے جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زبانِ مبارک سے نکلی۔ جس کو دشمنوں نے، اپنوں پرایوں دونوں نے عربی زبان کا اعلیٰ ترین معیار قرار دیا۔ جنھوں نے قرآنِ مجید کے ادبی اعجاز کے سامنے سرِ تسلیم خم کیا، لہٰذا اس اصول کی رو سے قرآنِ مجید اور حدیث رسول کی زبان ہی اصل، معیاری اور ٹکسالی عربی زبان ہوگی اور اگر گرامر کی کسی کتاب میں اس کے خلاف لکھا گیا ہے تو غلط لکھا گیا ہے۔ (از محاضراتِ سیرت۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی)
٭

جہاں تک ہمارے کمنٹ میں جوش صاحب کے حوالے سے بات ہے تو وہ بھی زیدی صاحب ہی کی طرح  تھے۔بیک وقت دہریے بھی تھے اور بہترین مرثیہ (جو ایک مذہبی صنف ادب ہے) گو بھی۔🙃
وہ بھی بہت جوش سے زبان میں قیاس سے کام لیتے ہوئے اہل زبان میں مستعمل زبان میں غلطیاں نکالا کرتے اور اصلاح فرمایا کرتے تھے۔
مثلاً لفظ رہائش کی ہم نے مثال دی تو اس لفظ پر جوش ملیح آبادی کا اعتراض یہ تھا کہ رہنے سے رہائش بنانا غلط ہے، ورنہ پینے سے پینائش بھی بناؤ،رہنا سنسکرت سے ہے تو فارسی کے قاعدے سے رہائش کیوں؟  اس لیے رہائش کی بجائے قیام گاہ کہا جائے۔

یہ اعتراض فارسی کے گھر میں رہ کر تو بالکل درست ہے مگر جب اردو کے گھر میں یہ لفظ آگیا تو محض بیکار بات ہے۔
جس کا گھر اسی کی مرضی، سو اردو کے گھر میں اردو اہل زبان کسی لفظ کو جس طرح استعمال کریں گے وہی درست ہوگا۔
اچھا پھر یہی اعتراض تو قیام گاہ پر بھی ہوسکتا ہے کہ قیام عربی ہے اور گاہ فارسی!

جوش صاحب کے تقریبا تمام مشہور لسانی اعتراضات کا یہی حال ہے کہ دوسری زبانوں پر قیاس کرتے ہوئے فتویٰ دیتے ہیں، جیسے مشکور کی بحث!

محمد فیصل شہزاد