نسب میں بھی تھیں برتر حضرتِ خنسا
شجاعت کی تھیں پیکر حضرتِ خنسا
تماضر ان کا اصلی نام ہے ، لیکن
لقب ان کا ہے اشہر حضرتِ ”خنسا“
رسولِ پاک سے تھیں یہ بڑی دس سال
تھیں یعنی کہ معمر حضرت خنسا
ہوئی تھی پہلی شادی عبدِ عزّٰی سے
تھیں صابر بیوہ ہوکر حضرتِ خنسا
بنے مرداس ان کے شوہرِ ثانی
رہیں ان سے بھی جڑ کر حضرتِ خنسا
ہوئے چار ان کے بیٹے اور اک بیٹی
مربّی ان کی مادر حضرتِ خنسا
بہت سے لائے اسلام ان کی دعوت سے
مبلغ بھی تھیں بڑھ کر حضرتِ خنسا
اسامہ! ان کے شعروں کا ہے اک دیوان
تھیں اک ماہر سخن ور حضرتِ خنسا