جواب:
صغریٰ کو مقدمۂ ثانیہ (ثانوی مقدمہ) کہا جاتا ہے، لیکن قیاس میں اسے پہلے اس لیے لایا جاتا ہے کہ یہ قیاس کی بنیاد فراہم کرتا ہے اور موضوع کو خاص طور پر متعین کرتا ہے۔ قیاس میں ترتیب یوں ہوتی ہے:
(1) صغریٰ مقدمہ: یہ ایک خاص دعویٰ یا مفروضہ پیش کرتا ہے، جو موضوع سے متعلق ہوتا ہے۔
مثال: زید انسان ہے۔
(2) کبریٰ مقدمہ: یہ عمومی قاعدہ یا اصول پیش کرتا ہے، جس پر صغریٰ کی بنیاد ہوتی ہے۔
مثال: تمام انسان فانی ہیں۔
(3) نتیجہ: دونوں مقدمات کو ملا کر نتیجہ نکالا جاتا ہے۔
مثال: لہٰذا زید فانی ہے۔
صغریٰ کو پہلے رکھنے کی وجہ:
- یہ سامع کے لیے موضوع کی وضاحت کرتا ہے اور قیاس کے مخصوص پہلو پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔
- یہ قیاس کی بنیاد کے طور پر کام کرتا ہے، جس کے بغیر کبریٰ کا اطلاق ممکن نہیں۔
- منطقی ترتیب میں، صغریٰ اور کبریٰ کو نتیجہ کے ساتھ جوڑنے میں آسانی ہوتی ہے۔
اگر صغریٰ کو بعد میں رکھا جائے، تو قیاس کی وضاحت میں دشواری ہو سکتی ہے، اس لیے اسے پہلے لانا ضروری سمجھا جاتا ہے۔