محمد اسامہ سَرسَری

لاگ اِن ہوکر 100 کوائنز مفت میں حاصل کریں۔

پہلا سبق: اسم ، فعل ، حرف

اسم: وہ لفظ جو کسی شخص، جگہ، چیز، عمل یا صفت کا نام ہو۔ جیسے: زیدٌ (شخص)، مدینةٌ (جگہ)، کتابٌ (چیز)، النصر (عمل) اور الناصر (صفت)

مثال: زیدٌ طالبٌ (زید ایک طالب علم ہے)، هٰذا کتابٌ (یہ ایک کتاب ہے)۔

فعل: وہ لفظ جو کسی کام کے ہونے یا کرنے کو ظاہر کرے اور جس میں زمانہ (ماضی، حال یا مستقبل) بھی مذکور ہو، جیسے: کَتَبَ (اس نے لکھا)، یَکتُبُ (وہ لکھتا ہے)، سَیَکتُبُ (وہ لکھے گا)۔

حرف: وہ لفظ جو اسماء اور افعال کو آپس میں جوڑتا ہے اور خود مکمل معنی نہیں دیتا، جیسے: فی (میں)، مِن (سے)، إلی (کی طرف)۔

کام: ایک چھوٹی آیت کے اسم ، فعل اور حرف کی نشان دہی کریں۔

دوسرا سبق: مصدر ، مشتق ، جامد

مصدر: جس سے بہت سے الفاظ بنتے اور صادر ہوتے ہیں۔

مشتق: جو مصدر سے بنتا ہے۔

جامد: جو نہ خود کسی سے بنے، نہ اس سے کوئی لفظ بنے۔

مصدر کی مثالیں: الحمد (تعریف کرنا)، النظر (دیکھنا)، السمع (سننا)، الاکل (کھانا)، الشرب (پینا)

مشتق کی مثالیں: حامد، محمود، منظر، مناظر، سامع، سامعین، مأکول، مشروبات

جامد کی مثالیں: الحجر (پتھر)، الشجر (درخت)، الباب (دروازہ)، الجدار (دیوار)، السقف (چھت)

پہچاننے کا طریقہ: افعال (ماضی ، مضارع ، امر ، نہی) سب مشتق ہیں۔ حروف (من، فی، عن، علی وغیرہ) سب جامد ہیں۔ اسم اگر ترجمے میں “نا” ہو تو مصدر ہے (جیسے: الاکل – کھانا) ورنہ مشتق یا جامد ہوگا۔

کام: تینوں کی دو دو مثالیں قرآن کریم سے پیش کریں۔

تیسرا سبق: معرب مبنی

معرب: وہ لفظ جس کے آخری حرف میں زبر، زیر، پیش وغیرہ کی تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔

مبنی: وہ لفظ جس کا آخر تبدیل نہیں ہوتا۔

اسم، فعل اور حرف میں سے حروف سب مبنی ہیں۔

فعل کی تین قسمیں: ماضی، مضارع اور امر۔ ماضی اور امر مبنی ہیں جبکہ مضارع معرب ہے۔

اسم کی دو قسمیں: متمکن اور غیر متمکن۔ متمکن معرب ہوتا ہے اور اس کی سولہ قسمیں ہیں، جبکہ غیر متمکن مبنی ہوتا ہے اور اس کی آٹھ قسمیں ہیں: (1) ضمیر، (2) اسم اشارہ، (3) اسم موصول، (4) اسم فعل، (5) اسم صوت، (6) اسم ظرف، (7) اسم کنایہ، (8) مرکب بنائی۔

کام: قرآن کریم سے ایسے تین الفاظ پیش کریں جن کا آخر قرآن میں بدل بدل کر آیا ہو۔

مکمل کورس کیجیے