علم میراث کورس کا تعارف
محمد اسامہ سَرسَری کا تیار کردہ علم میراث کورس 17 اسباق پر مشتمل ہے، اس میں میراث کی بنیادی ابحاث کی مشق کروائی جاتی ہے۔کورس کے مشمولات
• اہم مفتی بہ مسائل• اہم اصطلاحات کی تشریح
• حساب کا طریقہ
• ذوی الفروض
• عصبات
• ذوی الارحام
• عول کا طریقہ
ہر سبق تحریری ہے اور ہر سبق میں مشق کروائی جاتی ہے۔
کورس کے اختتام پر ادارہ شمس المکاتب کی سند بھی دی جاتی ہے۔
ادارے کی اسناد یہاں دیکھیں
بطور نمونہ پہلا سبق: (ترکے کے مصارف)
جس مرد یا عورت کا انتقال ہوجائے اس کی ملکیت کی تمام چیزیں (یعنی نقد رقم + بینک بیلنس + موبائل اکاؤنٹ کی رقم + وہ رقم جو اس نے دوسروں کو بطور قرض دے رکھی ہے + وہ رقم جو تجارت وغیرہ کے سلسلے میں لوگوں پر اس کی نکلتی ہے + مکان + دکان + زمین + سواری) یہ سب ترکے میں شامل ہے۔ترکہ بالتریب چار جگہ خرچ کیا جاتا ہے:
(1) سب سے پہلے میت کے کفن دفن کا معتدل خرچہ ترکے میں سے کیا جائے۔
(2) پھر میت کے تمام قرضے ادا کیے جائیں۔
(3) پھر مرحوم نے اگر وصیت کر رکھی ہو تو ایک تہائی مال میں سے اسے ادا کیا جائے۔ (وصیت نہ ایک تہائی سے زیادہ میں نافذ ہوتی ہے نہ وارثوں کے لیے معتبر ہے الا یہ کہ تمام وارثین راضی ہوں۔)
(4) درج بالا تینوں جگہوں پر خرچ کرنے کے بعد جو مال بچ جائے اسے شریعت کے اصولوں کے مطابق مرحوم / مرحومہ کے وارثوں میں تقسیم کیا جائے گا ، اگر وارث صرف ایک ہو تو سارا مال وہی لے گا۔
کام:
(1) ایک شخص کا انتقال ہوا ، اس کے پاس 50 ہزار روپے تھے ، کفن دفن کا خرچہ 15 ہزار روپے ہے اور اس پر 5 ہزار روپے ایک شخص کا قرضہ ہے ، نیز اس نے وصیت کر رکھی تھی کہ میرے مرنے کے بعد میرا آدھا مال مدرسے کے طلبہ کو دے دیا جائے ، وارثوں میں اس کا صرف ایک بیٹا ہے ، بتائیے اس کے مال میں سے یہ چاروں کا کام کس طرح کیے جائیں گے؟
(2) ایک عورت نے وصیت کر رکھی تھی کہ میرے مرنے کے بعد میرا سارا مال میرے بیٹے عاصم کا ہے ، جبکہ اس کا ایک اور بیٹا قاسم بھی ہے جو کہ اس وصیت سے ناخوش ہے ، پھر اس عورت کی وفات ہوجاتی ہے ، والدہ کو قبرستان میں دفنانے کے بعد گھر آکر قاسم اپنے بھائی کو بجائے پورا مال دینے کے آدھا دیتا ہے ، کیا یہ درست ہے؟