جواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنھم وارضاھم ، دونوں کے بلند مقام کا معاملہ ایسا ہے جیسے ہم سے کہا جائے کہ آسمان کی دور ترین کہکشاؤں مثلاً IC 1101 یا TON 618 میں سے کس کی وسعت زیادہ ہے۔ ہم چھوٹے، کمزور اور گناہوں میں ڈوبے انسان جو زمین سے چند فٹ کا بھی منظر ٹھیک سے نہیں دیکھ سکتے، وہ ان بے پایاں نورانی ہستیوں کے مقام کا موازنہ کیسے کر سکتے ہیں؟ اصل بات یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے دونوں کو عظمت عطا کی ہے اور ہمارا کام محبت، عقیدت اور ادب کے ساتھ سر جھکانے کا ہے، نہ کہ ناپ تول کرنے کا۔ 🙂