محمد اسامہ سَرسَری

لاگ اِن ہوکر 100 کوائنز مفت میں حاصل کریں۔

قریب پندرہ سال پرانا نمکین پارہ: 🙂

گھر سے نکل رہا تھا میں تیار ہوکے آج
یاروں کے ساتھ بیٹھ کے کرنا تھا مجھ کو راج

سوچا تھا، رات دیر سے آؤں گا اپنے گھر
سوؤں گا گھر میں آتے ہی میں لمبی تان کر

سینے میں ایک دم سے کوئی ٹوٹ سا گیا
بیگم کی جب صدا سنی، سنیے مری ذرا

جانا ہے آپ کو تو بصد شوق جائیے
بس واپسی میں ساتھ یہ کچھ چیزیں لائیے

دھنیا ، پودینہ ، مرچیں ، کڑی پتے اور پیاز
مہنگا ہے سب یہاں پہ ، چلے جانا امتیاز

چاول، نمک، اچار، ٹشو، چینی، دلیہ، دال
مضبوط اور اچھی پلیٹیں، پیالے، تھال

اسٹیل کا پتیلا بڑا دیکھ لیجے گا
اچھا سا اک پپیتا ذرا دیکھ لیجے گا

چکر لگائیے گا گلی کی دکاں کا بھی
لے لیجیے گا ناشتہ اور دودھ اور دہی

بچوں کے بھی کھلونے ذرا دیکھ لینا کچھ
جاتے ہوئے فقیر کو صدقہ بھی دینا کچھ

کیوں دیر کر رہے ہیں کھڑے رہ کے سَرسَری!
اب جائیں بھی نا اور نبھائیں نا دوستی

شاعر:
محمد اسامہ سَرسَری