بعض دوستوں کو مدارس میں پڑھائی جانے والی عربی گرامر میں رٹوں، گردانوں، صیغوں اور تعلیلات پر اعتراض ہے کہ جب دنیا کی ہر زبان محض ڈائرکٹ بول چال والے طریقے سے سیکھی سکھائی جاسکتی ہے تو عربی کیوں نہیں؟
دیکھیں، عربی زبان سیکھنے کا مقصد اگر عرب ممالک میں جاکر گفتگو میں سہولت پیدا کرنا ہے تو ڈائرکٹ بول چال سیکھنا کافی ہے، گرامر کی ضرورت نہیں، لیکن درس نظامی میں جو رٹے، گردانیں اور تعلیلات وغیرہ ہیں اس کا مقصد طالب علم کی عقلی و ذہنی مشق کے ساتھ ساتھ قرآن و حدیث پر باریک بینی کے ساتھ غور و خوض کے قابل بنانا ہے، یہ چیز اہل عرب کو بھی عربی گرامر سیکھے بغیر نہیں حاصل ہوسکتی جیسے اردو شعر و ادب کے بنیادی قواعد پڑھے بغیر غالب و اقبال کو کما حقہ نہیں سمجھ سکتے۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری