محمد اسامہ سَرسَری

لاگ اِن ہوکر 100 کوائنز مفت میں حاصل کریں۔

”احکام اسلام عقل کی نظر میں“ کی تلخیص

کتاب: احکام اسلام عقل کی نظر میں
مؤلف: حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ
ملخص: محمد اسامہ سَرسَری

(“الحِكَم الجميلة” لمحمد اسامہ سرسری، تلخيصالمصالح العقيلة للاحكام النقيلة” للشيخ محمد اشرف علی التھانوی قدس سرہ)


۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مقدمے کا خلاصہ

(1) جس طرح کسی ملک کے قوانین کی پابندی کرنا ہر ایک کے لیے ضروری ہے، کوئی یہ کہنے کا حق نہیں رکھتا کہ میں فلاں قانون پر عمل نہیں کروں گا کیونکہ مجھے اس کی لاجک سمجھ میں نہیں آئی، اسی طرح اللہ تعالی کے تمام احکام پر عمل کرنے میں ایک سچے مسلمان کی تسلی کے لیے یہ بات کافی ہونی چاہیے کہ قرآن و سنت سے ثابت ہے۔

(2) قرآن و سنت سے ثابت شدہ کسی شرعی حکم کو قبول کرنے کے لیے مصلحت و حکمت کا مطالبہ کرنا اللہ سبحانہ و تعالی کے ساتھ بغاوت ہے۔

(3) اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے احکام میں بے شمار حکمتیں اور مصلحتیں موجود ہیں اور ان کے معلوم ہونے سے بہت سے کمزور ایمان والوں کے دلوں کی تسلی ہوجاتی ہے۔

(4) اگر کسی کا یہ مزاج ہو کہ وہ حکمت و مصلحت کو دیکھ کر ہی اللہ کا کوئی حکم قبول کرتا ہے تو اس کا علاج یہی ہے کہ اسے اس سے روکا جائے، مگر یہ علاج طالب صادق ہی کے لیے مفید ہے۔

(5) احکام کی حکمتوں اور مصلحتوں کو متعدد لوگوں نے مرتب کیا ہے مگر باقاعدہ تصنیف کی شکل میں جو کتاب میرے سامنے آئی ہے وہ درست نہیں بلکہ نقصان دہ ہے اور اس سے بچنے کی اگر ترغیب دی جائے تو متبادل کتاب پیش کیے بغیر یہ ترغیب اثر نہیں کرے گی۔

(6) میری یہ کتاب ان لوگوں کے لیے نقصان دہ ہے جن کے دلوں میں احکام کی مصلحتیں پڑھ کر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے احکام کی وقعت کم ہوجاتی ہے یا وہ کسی بھی دینی مسئلے پر چلنے کے لیے اس مسئلے کی حکمت کا معلوم ہونا ضروری سمجھنے لگ جاتے ہیں، ایسے لوگوں کو یہ کتاب پڑھنے کی اجازت نہیں۔

(7) حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی کتاب “حجت اللہ البالغہ” بھی اسی موضوع پر ہے مگر عوام کے لیے اس کا مطالعہ مناسب نہیں۔

(8) میری اس کتاب کے ساتھ یہ دو کتابیں معلومات میں مزید اضافہ کریں گی: (الف) حجت اللہ البالغہ (مؤلف: شاہ ولی اللہ) (ب) اسرار الشریعۃ (مؤلف: فاضل ابراہیم آفندی)

(9) میں اپنی اس تالیف میں اکیلا نہیں بلکہ شاہ ولی اللہ اور فاضل ابراہیم آفندی مجھ سے پہلے یہ کام کرچکے ہیں، لہذا اسے میرا تفرد نہ سمجھا جائے۔

(10) اس طرز کا کام قرآن و سنت سے ثابت ہے، حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے حجت اللہ البالغہ کے خطبے میں یہ ثابت کیا ہے۔

وضو کی 10 حکمتیں

ظاہر اور باطن دونوں کی صفائی اہم ہے اور اس لحاظ سے صفائی اور طہارت کے چار درجے ہیں:
(1) ظاہری گندگی اور ناپاکی دور کرنا
(2) اعضاء کو گناہوں سے بچانا
(3) دل کو برے اوصاف سے پاک کرنا
(4) ضمیر کو غیر اللہ سے صاف کرنا

وضو میں بے شمار حکمتیں ہیں جو قرآن، احادیث اور کتب طب سے ماخوذ ہیں، ان میں سے 10 یہ ہیں:
(1) وضو سے غفلت دور ہوتی ہے تاکہ نماز میں انسان پورے دھیان کے ساتھ اللہ تعالی کے سامنے کھڑا ہوسکے۔
(2) جسم سے زہریلا مواد نکل کر کھلے ہوئے اعضاء یعنی ہاتھ، پاؤں، چہرے اور سر پر آکر ٹھہر جاتا ہے اور مختلف پھوڑوں کی شکل میں ظاہر ہوتا رہتا ہے، وضو سے یہ گندا مواد ختم یا کم ہو جاتا ہے۔
(3) وضو کرنے والا اللہ تعالی کا محبوب بن جاتا ہے، ان اللہ یحب التوابین ویحب المتطھرین۔
(4) نورانیت بڑھتی ہے اور بہیمیت کی تاریکی دور ہوتی ہے۔
(5) عقل میں اضافہ ہوتا ہے۔
(6) گناہوں سے جو نور زائل ہوتا ہے وہ وضو کی وجہ سے دوبارہ مل جاتا ہے، حدیث میں ہے کہ روز قیامت اس امت کے ہاتھ پاؤں اور چہرے روشن ہوں گے۔
(7) فرشتوں سے مشابہت ہوتی ہے اور شیاطین سے دوری ہوجاتی ہے، یوں وضو کی وجہ سے انسان خدا کے دربار میں حاضری کے قابل ہوجاتا ہے۔
(8) نماز عظیم الشان امر ہے اور اللہ تعالی کا شعار ہے، اس لیے وضو اس کے لیے لازم کیا گیا، مفتاح الصلاۃ الطھور (وضو نماز کی چابی ہے)۔
(9) دربار شاہی میں حاضری کے آداب میں سے ہے کہ ظاہری حلیہ ٹھیک کرلیا جائے، اس لیے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے دربار میں حاضری کا بھی تقاضا ہے کہ ظاہری اعضاء کو صاف کرلیا جائے۔
(10) بے ہوشی، غشی اور غفلت کو دور کرنے میں ان اعضاء پر پانی ڈالنا یا چھڑکنا دنیاوی تجربے اور مشاہدے کی رو سے مفید ہے، وضو سے بھی اسی طرح غفلت دور کرکے تقویت اور بیداری حاصل کی جاتی ہے تاکہ اللہ تعالی کے سامنے آنے کے قابل ہوجائے جسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند، لاتأخذہ سنۃ ولا نوم، یہی وجہ ہے کہ نشہ و مستی کی حالت میں نماز کی اجازت نہیں، لاتقربوا الصلوۃ وانتم سکاری۔

اعمالِ وضو کی حکمتیں

(1) بسم اللہ پڑھنے کی حکمت:
تاکہ وضو جیسی اطاعت بھی غفلت سے شروع نہ ہو ورنہ ثواب نہیں ملے گا۔ لا وضوء لمن لم يذكر اسم الله عليه. (جامع ترمذی)

(2) پانی اور مٹی سے پاکی کی حکمت:
پانی اور مٹی سے پاکی حاصل ہونا فطرت اور عقل سلیم کے مطابق ہے اور اس کی تین وجوہات ہیں:
(الف) حضرت ادم علیہ السلام کو پانی اور مٹی سے پیدا کیا گیا ہے لہذا ان دونوں میں طبعی اور شرعی طور پر مناسبت ہے اس لیے طہارت ان دونوں سے درست ہوتی ہے۔
(ب) ہر زندہ چیز کی زندگی اور خوراک کو اللہ نے پانی اور مٹی سے جوڑا ہے، اسی لیے یہ دونوں ہر جگہ دستیاب ہیں۔
(ج) منہ کا مٹی سے الودہ کرنا اللہ کو پسند ہے۔

(3) اعضائے وضو مخصوص ہونے کی حکمت:
انسانی جسم میں سات چیزیں ایسی ہیں جو دو رخی ہیں یعنی ان سے نیکی بھی کر سکتا ہے اور گناہ بھی اور وہ یہ ہیں: زبان، آنکھ، کان، دماغ، سر (جس میں ناک بھی شامل ہے۔)، ہاتھ، پاؤں اور شرمگاہ، انھی سات سے گناہ کر کے بندہ سات جہنم کا مستحق ہوتا ہے (لھا سبعة ابواب) اور انھی سات سے نیکی کر کے سات جنت اور ایک اضافی بطور انعام یعنی آٹھ جنت پاتا ہے، لہذا استنجا کرنے کے بعد باقی چھ کو وضو میں دھویا جاتا ہے۔ ما منكم من أحد يتوضأ فيسبغ الوضوء ثم يقول: أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبد الله ورسوله، إلا فتحت له أبواب الجنة الثمانية، يدخل من أيها شاء (صحیح مسلم)

(4) وضو کی ترتیب کی حکمت:
یہ ترتیب (پہلے منہ، پھر ہاتھ، پھر سر اور پھر پاؤں دھونا) اس لیے رکھی گئی کہ وضو سے گناہ معاف ہوتے ہیں اور گناہ بھی اسی ترتیب سے ہوتے ہیں، چنانچہ پہلے کلی کروائی گئی، کیونکہ زبان کے گناہ عموما سب سے پہلے ہوتے ہیں، جسے کفر، غیبت، چغلی، گالم گلوچ اور لایعنی، پھر ناک میں پانی ڈال کر ناجائز سونگھنے کا گناہ اور علامتی طور پر تکبر کا گناہ زائل کیا جاتا ہے، پھر چہرہ دھو کر چہرے کے گناہ بشمول بد نظری معاف ہوتے ہیں، اسی طرح انسان دیکھنے اور بولنے کے بعد ہاتھ کے گناہ پر آتا ہے تو پھر ہاتھ دھلوائے گئے، پھر چونکہ سر، کان اور گردن کے گناہ نسبتاً کم ہوتے ہیں، اس لیے ان کا مسح کروایا گیا، پھر آخر میں پاؤں دھلوائے گئے کہ پاؤں کے گناہ عموما سب سے آخر میں ہوتے ہیں۔

(5) دائیں اور بائیں کی حکمت:
(الف) دائیں کو بائیں پر فضیلت ہے، اس لیے جن کاموں میں دونوں کا استعمال ہو تو پہل افضل سے کی جاتی ہے اور جن کاموں میں کسی ایک کا استعمال کافی ہو تو اچھے کاموں کو دائیں سے اور گندگی دور کرنے والے کاموں کو بائیں سے کیا جاتا ہے۔ ویؤت کل ذی فضل فضله.
(ب) ہر چیز کو اس کا حق دینا مرتبہ اعتدال ہے۔ كان رسول الله ﷺ يحب التيامن؛ يأخذ بيمينه، ويعطي بيمينه، ويحب التيمن في جميع أموره. (سنن نسائی)
(ج) انسان کے ہر مناسب اور نامناسب فعل کا اثر اس کے دل پر پڑتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اگر استنجا اور ناک صاف کرنے کے لیے دائیں ہاتھ کا استعمال کیا جائے یا کھانا بغیر عذر کے بائیں ہاتھ سے کھایا جائے تو یہ دل کی سختی اور غمگینی کا باعث ہوتا ہے۔

(6) تین بار دھونے کی حکمت:
(الف) چونکہ وضو سے توبہ کی طرح گناہ معاف ہوتے ہیں اور توبہ کے تین ارکان ہیں: ماضی پر ندامت، حال میں ترک اور مستقبل میں نہ کرنے کا عزم تو وضو میں بھی ہر رکن کو دھونے میں تین کے عدد کو ملحوظ رکھا گیا۔
(ب) تین سے کم میں نفس پر اثر نہیں ہوتا اور یہ تفریط ہے اور تین سے زیادہ دھونے میں اسراف ہے، اس لیے حد مقرر کر دی، چنانچہ صحابی نے پوچھا کہ کیا وضو میں بھی اسراف ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نَعَمْ، وَإِنْ كُنْتَ عَلَى نَهْرٍ جَارٍ.

(7) مسح ایک بار کی حکمت:
چونکہ مسح میں ضرر دور کرنا مقصود ہے کہ سر کو دھونے میں مشقت زیادہ ہے، اس لیے مسح کی تعداد بھی ایک ہی رکھی ہے، کیونکہ اگر تین بار مسح کیا جائے تو سر اچھا خاصا گیلا ہو جائے گا۔

(8) مسواک کی حکمت:
(الف) احکم الحاکمین کے دربار میں مکمل صفائی سے حاضری ہو سکے۔
(ب) منہ کی بدبو سے مسجد کے نمازیوں اور فرشتوں کو تکلیف نہ ہو۔

(9) وضو کا بچا ہوا پانی پینے کی حکمت:
چونکہ وضو سے ظاہری اعضاء صاف ہوتے ہیں اور ان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، اس لیے وضو کے بعد باقی پانی پی کر گویا بندہ اللہ سے دعا کر رہا ہے کہ اے اللہ! جس طرح اس پانی سے تو نے میرا ظاہر پاک صاف کر دیا اسی طرح میرا باطن بھی پاک صاف کر دے۔

(10) وضو کے بعد کی دعا کی حکمت:
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ.
یعنی اے اللہ! مجھے توبہ کرنے والوں اور پاکیزہ لوگوں میں شامل فرمادے۔
چونکہ اعضائے وضو کو دھونے میں زبان حال کی توبہ ہے، اس لیے آخر میں دعا پڑھتے ہیں تاکہ زبانِ قال سے بھی توبہ ہوجائے۔

اعضائے وضو کی حکمتیں

(1) ناک صاف کرنے کی حکمت:
(الف) ناک کی بلغمی رطوبتیں دور کرنا ہر قوم کے نزدیک پسندیدہ ہے۔
(ب) تکبر ختم کرنے اور کسرِ نفسی کا استعارہ ہے۔

(2) ہاتھ کہنی تک دھونے کی حکمت:
(الف) تاکہ وہ تمام رگیں دھل جائیں جو بالواسطہ یا بلاواسطہ دل اور جگر تک پہنچتی ہیں۔
(ب) کہنی سے کم عضو ناتمام ہے، نفس پر اس کا اثر کم ہوگا۔

(3) سر کے مسح کی حکمت:
سر، کان اور گردن کا مسح ہے نہ کہ دھونے کا حکم، کیونکہ انھیں دھونا بہت مشکل ہے، ما یرید اللہ لیجعل علیکم من حرج۔

(4) پاؤں کو ٹخنوں تک دھونے کی حکمت:
(الف) دماغ تک پہنچنے والی کچھ رگیں پاؤں کی انگلیوں سے اور کچھ ٹخنوں سے شروع ہوتی ہیں، ان سب کو دھونے سے دماغ کے مضر بخارات بجھ جاتے ہیں، وارجلکم الی الکعبین۔
(ب) ٹخنے اکثر ننگے رہتے ہیں جس گرد و غبار اور مضر جراثیم لگ جاتے ہیں، یہ سب دھل جائیں۔
(ج) ٹخنے سے کم عضو ناتمام ہے، نفس پر اس کا اثر کم ہوگا۔

(5) وضو و غسل کے تمام اعضاء کی حکمت:
اسلام ظاہر اور باطن دونوں کی پاکی کو ملحوظ رکھتا ہے، وضو اور غسل سے گناہ معاف کرنے کی ترغیب آئی، لہذا بندے چاہیے کہ ہر عضو کو دھوتے وقت اس سے ہونے والے گناہوں کی معافی بھی ملحوظ رکھے اور آئندہ ان خطاؤں سے بچنے کی بھی نیت کرے۔

تیمم کی حکمتیں

(1) متبادل پیش کرنے میں حکمت:
اللہ تعالی کی عادت ہے کہ بندوں پر جو کام دشوار ہوتا ہے اس میں آسانی پیدا کردیتے ہیں اور آسانی کی بہترین صورت یہ ہے کہ متبادل آسان کام دے دیا جائے لہذا وضو دشوار ہونے کی صورت میں متبادل کے طور پر تیمم کا حکم دیا گیا، اگر متبادل نہ ہوتا تو دو نقصان ہوتے: (الف) بندے متردد اور پریشان ہوجاتے۔ (ب) ترکِ طہارت کے عادی ہوجاتے۔

(2) مٹی سے طہارت حاصل کرنے کی چار حکمتیں:
بظاہر مٹی سے طہارت حاصل کرنا عقل کے خلاف ہے کیونکہ مٹی خود آلودہ ہوتی ہے، اس کے باوجود تیمم کے لیے مٹی کے انتخاب میں یہ حکمتیں ہیں:
(الف) اس دنیا کی ہر چیز پانی اور مٹی سے بنی ہے اور نشو و نما میں بھی اللہ نے ان دونوں کو سبب بنایا ہے اس لیے جسمانی و روحانی طہارت کے لیے بھی انھی دونوں کا انتخاب کرلیا گیا۔
(ب) پانی اور مٹی درج بالا مناسبت کی وجہ سے پانی (جس سے گندگی دور کرنے کا عام رواج ہے) کی غیر موجودگی میں مٹی ہی اس کے قائم مقام بنانے کے لیے زیادہ مناسب ہے۔
(ج) پانی کا استعمال دشوار ہو تو چونکہ زمین اور مٹی ہر جگہ موجود ہے لہذا مٹی ہی ہے جس سے یہ حرج دور ہوسکتا ہے۔
(د) منہ کو خاک آلود کرنے میں عاجزی ہے اور عاجزی اللہ کو پسند ہے ، یہی وجہ ہے کہ سجدے میں منہ کو مٹی سے نہ بچانا مستحب ہے۔

(3) سر اور پاؤں کا مسح نہ ہونے کی دو حکمتیں:
(الف) کیونکہ مٹی کا سر پر ڈالنا ناپسندیدہ ہے کیونکہ مصیبت میں لوگ سر پر مٹی ڈالتے ہیں اور پاؤں پر پہلے ہی مٹی لگی ہوتی ہے، جبکہ حکم اس چیز کا ہوتا ہے جو پہلے سے حاصل نہ ہو تاکہ نفس اس سے متنںہ ہوجائے۔
(ب) سر پر ہمیشہ اور پاؤں پر موزوں کی صورت میں مسح ہوتا ہے، تیمم چونکہ آسانی کے لیے ہے اس لیے جن اعضا کو ہمیشہ دھویا جاتا ہے ان کے مسح کا حکم دیا گیا اور جن پر مسح کیا جاتا ہے ان کا مسح بھی ساقط کیا گیا۔

(4) وضو اور غسل کا تیمم ایک جیسا ہونے کی حکمت:
سارے بدن کا مسح کرنے میں حرج ہے اور بہائم کے ساتھ مشابہت ہے، اس لیے جس طرح وضو کے تیمم میں سر اور پاؤں کا مسح ساقط ہوا اسی طرح غسل کے تیمم میں باقی سب اعضا کا مسح بھی ساقط کردیا گیا۔

غسل کی 12 حکمتیں

(الف) جنبی و حائض کے لیے مسجد میں داخل ہونے اور تلاوت قرآن کرنے کی ممانعت کی حکمت:
(1) مسجد شعائر میں سے ہے اور نماز و قرآن اللہ سے ہم کلام کرتا ہے، ان کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ ہر قسم کی نجاست سے پاک صاف ہوکر حاضر ہو۔

(ب) نومسلم غسل کی حکمتیں:
(2) کفر ایک نہایت بری چیز تھی، جب نومسلم غسل کرتا ہے تو ظاہری طور پر بھی وہ خود کو ایک بری چیز سے باہر نکلتا ہوا محسوس کرتا ہے۔
(3) یہ غسل اس نومسلم کے لیے پیغام ہے کہ جس طرح ظاہر کو پانی کے ذریعے گندگیوں سے دھویا ہے اسی طرح باطن کو بھی کفریہ عقائد سے دھوڈالے۔

(ج) حائضہ کے غسل کی حکمتیں:
(4) حیض کے خون کو قرآن نے اذٰی(گندگی) قرار دیا ہے، جس گندگی سے جسم بار بار آلودہ ہو اس سے نفس ناپاک ہوجاتا ہے، اس ناپاکی کو غسل سے دور کروایا گیا۔
(5) مسلسل خون نکلنے سے پٹھے کمزور ہوجاتے ہیں جو کہ غسل سے تر و تازہ اور قوی ہوجاتے ہیں۔

(د) غسلِ جنابت کی حکمتیں:
(6) منی سارے جسم سے نکلتی ہے، اسی لیے قرآن نے اسے سُلالہ کا نام دیا ہے، سُلالہ کہتے ہیں کسی چیز نکالی ہوئی شے کو۔ غسل میں سارا جسم دھلوایا گیا تاکہ پورے جسم کی کمزوری دور ہوجائے۔ چونکہ پیشاب پاخانہ محض کھانے پینے کا فضلہ ہوتا ہے اس لیے ان کے بعد غسل واجب نہیں ہوتا۔
(7) جنابت سے جسم میں سستی اور غفلت پیدا ہوجاتی ہے جبکہ غسل سے دل میں قوت اور بدن میں چستی آجاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ سلیم الفطرت لوگ اس غسل کے بعد محسوس کرتے ہیں جیسے کوئی بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہو۔
(8) جنابت سے انسان کی فرشتوں سے مماثلت کم ہوجاتی اور ایک طرح کی دوری پیدا ہوجاتی ہے، غسل کرنے سے یہ دوری ختم ہوجاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ صحابہ سے روایت ہے کہ جب انسان سوتا ہے تو اس کی روح آسمان کی طرف جاتی ہے، اگر پاک ہو تو اسے سجدے کا حکم ہوتا ہے ورنہ نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنبی جب سونے لگے تو وضو کرلے۔
(9) جماع سے فراغت پر دل میں دل میں تنگی اور غم کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے پھر جب انسان غسل کرکے اچھے کپڑے پہنتا ہے اور خوشبو لگاتا ہے تو راحت اور خوشی محسوس کرتا ہے۔
(10) ماہر اطباء کا کہنا ہے کہ جماع کے بعد غسل کرنے سے کمزوریاں دور ہوجاتی ہیں اور بدن روح کے لیے مفید ہے، سو غسل سے بدن اور روح دونوں کو تقویت ملتی ہے۔
(11) جماع سے جو لذت حاصل ہوتی ہے اس میں بھی ذکر الہی سے غفلت پائی جاتی ہے، غسل سے اس کی تلافی ہوجاتی ہے۔
(12) نطفہ خارج ہونے سے بدن کے تمام مسامات کھل جاتے ہیں اور کبھی ان سے پسینہ نکلتا ہے جس کے ساتھ اندر کا گندا مواد بھی نکل کر مسامات پر آکر ٹھہر جاتا، اگر اسے دھویا نہ جائے تو خطرناک بیماریوں کا خدشہ ہے۔ غسل کی برکت سے یہ خدشہ باقی نہیں رہتا۔


طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری