محمد اسامہ سَرسَری

لاگ اِن ہوکر 100 کوائنز مفت میں حاصل کریں۔

شاعری کا مقصد:
==========
شعر و شاعری کے بہت سے مقاصد ہیں ، من جملہ ان کے ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ ہماری بات قاری تک اچھے سے اچھے انداز میں پہنچے ، اسے پڑھنے میں لطف محسوس ہو ، لے اور آہنگ پر مشتمل ان “شعر” یا “نظم” نامی جملوں کو پڑھنے والا اپنی خوبصورت آواز میں پڑھ کر لطف لے رہا ہو اور سننے والا بھی جھوم جھوم کر محظوظ ہو۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
نثر اور نظم میں فرق:
==========
جس طرح انسان نے ہر چیز کے لیے ایک مختلف آواز کا نام دے کر الگ الگ الفاظ وضع کیے ، پھر مختلف کیفیات اور کاموں کی طرف اشارہ کرنے کے لیے ان الفاظ کو مختلف انداز میں جوڑ جوڑ کر ایک زبان کی شکل دی پھر ہر خطے اور ہر وقت کے لوگوں نے اپنے اپنے بدلتے مزاجوں کے پیش نظر مختلف زبانوں کو وجود دیا اور یہ تمام تبدیلیاں خوب سے خوب تر کا سفر کرتی رہی ہیں ، اسی طرح ہر زبان کے لوگوں نے ایک ترقی یافتہ تبدیلی یہ بھی پیش کی ہے کہ اپنی باتوں کو ایک آہنگ میں پیش کیا جائے ، اسی آہنگ پر مشتمل باتوں کو “نظم” کا نام دیا گیا اور اس کے مقابلے میں بغیر آہنگ والی سادہ سی گفتگو یا تحریر کو “نثر” کے نام سے ذکر کیا جانے لگا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ترقی پذیر سفر:
=========
سادہ گفتگو یا تحریر سے نظم کی طرف کے اس خوشنمائی کو بڑھانے والے سفر میں  بہت سی تبدیلیاں وجود میں آنے لگیں ، پہلے آہنگ میں کلام کہا جانے لگا ، پھر قوافی  شامل کرکے اس حسن کو دو چند کردیا گیا ، پھر قافیے کو طول دے کر اس کے متحد حصے کو ردیف کا نام دیا گیا اور مردف و مقفی کلام کو اور زیادہ اچھی نظر سے دیکھا اور سمجھا جانے لگا ، یوں دھیرے دھیرے علم العروض کے ماہرین نے وزن اور آہنگ پر مشتمل عرق ریز تحقیقات پیش کیں ، علم القافیہ کے ماہرین نے قوافی و ردیف کے بے شمار اصول وضع کیے ، پھر منظوم کلام پر توجہ دینے والے ناقدین و ماہرین نے بھی خوب سے خوب تر کے اس ترقی پذیر سفر میں نظم کی متعدد اقسام (غزل ، قطعہ ، رباعی ، نظم وغیرہ) سے متعارف کرایا اور آج الحمدللہ ہمارے سامنے دواوین کے دواوین موجود ہیں جن میں اس طرح کے تمام خوب صورت اور عمدہ سے عمدہ انداز میں اکابر شعرائے کرام نے اپنے اعلیٰ خیالات کو پیش کیا ہے ، یہ سلسلہ تاحال جاری ہے اور رہتی دنیا تک ہر کام کی طرح زبان و بیان میں بھی انسان کا یہ ترقی پذیر سفر جاری و ساری رہے گا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ریاضت:
====
مگر آہنگ ، قافیہ و ردیف کی ان متعدد پابندیوں نے ایک طرف اگر تحریر و گفتگو کو بے حد حسن و جمال بخشا ہے تو دوسری طرف اس کا ایک بہت بڑا نقصان بھی سامنے آیا ہے ، جو حساس لوگوں نے شدت کے ساتھ محسوس کیا ہے کہ یہ ساری قیودات مل کر شاعر کے عمدہ ترین تخیل کو بہت حد تک بدل دیتی ہیں اور شاعر اپنے دماغ میں آنے والے اعلی تخیل کو شعر کی صورت میں ڈھالتے ہوئے وزن ، بحر ، قافیہ اور ردیف کے سحر سےایسا مسحور ہوجاتا ہے کہ خود اسے اپنے تخیل کے بدل جانے کی خبر تک نہیں ہوتی ، پھر کچھ وقت بعد جب وہ اس سحر سے آزادی پاتا ہے تو اپنے شعر کو دیکھ کر حیرت و افسوس کیے بغیر نہیں رہتا۔
تاہم اکابر شعرائے کرام کو اکابر بنانے والی صفت بھی یہی تھی کہ انھوں نے ان تمام پابندیوں کے باوجود ایسے ایسے اشعار پیش کیے ہیں جنھوں نے ان شعراء کو آج بھی ہمارے درمیان تذکروں اور تعریفوں کی صورت میں زندہ رکھا ہے ، یہ صفت ان لوگوں میں یا تو خداداد ہوتی تھی یا پھر بے حد ریاضت کے بعد وہ اس مقام تک پہنچتے تھے ، آج بھی الحمدللہ جو لوگ خوب مشق کرتے ہیں اور اپنے اشعار پر ہر قسم کی تنقید کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور ایک ایک خیال کو بیس بیس انداز میں پیش کرنے کے بعد کسی ایک صورت پر جب مطمئن ہوتے ہیں تو اس ریاضت کے عمل سے گزر کر یہ لوگ بھی اور ان کے اشعار بھی عوام و خواص میں مقبولیت پاہی لیتے ہیں جو کہ ان کا حق ہے اور مسلسل ریاضت کے بعد وجود میں آنے والا ایک شعر تمام شعراء کو زبانِ حال سے چیلنج کرتا ہے کہ اسی زمین میں اسی خیال کو اس سے بہتر کوئی پیش نہیں کرسکتا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
آزاد نظم:
=====
تاہم ، انھی ماہر شعرائے کرام نے قافیہ و ردیف کی گوناگوں پابندیوں کی بہت زیادہ حوصلہ افزائی بھی نہیں کی اور ناقدین سمیت سب کا اس بات پر اتفاق رہا ہے کہ شعر کے لحاظ سے بیان کردہ تمام پابندیوں میں سے وہ پابندیاں تو ضرور لی جائیں جن کے بغیر چارہ نہیں ہے ، جیسے غزل کے اندر بحر کی پابندی ہے ، قوافی میں اتحادِ روی کی پابندی ہے ، لیکن جو پابندیاں ایسی ہیں کہ شاعر اپنے اختیار سے خود پر لازم کرتا ہے ان پر عمدگیِ تخیل کو ترجیح دی جائے ، جیسے ردیف کی پابندی ہے ، مقطع میں اپنا نام یا تخلص ذکر کرنے کی پابندی ہے ، قوافی میں روی سے پہلے والے حروف کے اتحاد کی پابندیاں ہیں  ، زمین تنگ سے تنگ رکھنے کا شوق ہے وغیرہ۔
آپ اکابر شعراء کے دواوین اٹھاکر دیکھیں ، قوافی اور ردیف آسان تر ہی ملیں گے ، کچھ ہی شعراء ہیں جنھوں نے مسلسل یا زیادہ تر مشکل زمینیں پیش کی ہیں۔
پھر اسی تناظر میں یہ واقعہ ہوا کہ قافیے کی پابندی اس سوچ کی زد میں آگئی اور یوں “نظم معرا” وجود میں آئی ، جس میں بحر کی تو قید ہوتی تھی ، مگر قوافی کی پابندی نہیں کی جاتی تھی تاکہ خیال اچھے سے اچھے انداز میں پیش کیا جاسکے اور قافیے کے نہ ہونے سے کلام کی جو خوبصورتی مجروح ہورہی ہے وہ کمی اس آزادی کے ملنے پر دیگر محاسن و صنائع کے ذریعے پوری کردی جائے۔
پھر اسی آزادی پسند سوچ کا ایک شاخسانہ “آزاد نظم” کی حوصلہ افزائی کی صورت میں سامنے آیا، جس میں قافیے کے ساتھ بحر کو بھی الوداع کہہ دیا گیا مگر ان دونوں (قافیہ و بحر) کے ترکِ التزام سے جمالیاتی لحاظ سے جو کمی آنے لگی تھی وہ اس ملنے والی آزادی کے ہوتے دیگر بدائع و صنائع سے پوری کی جانے لگی اور خوبصورت سے خوبصورت “آزاد نظمیں” کہی گئیں ، یوں دھیرے دھیرے “آزاد نظم” نے اردو شعر و ادب کی دنیا میں مستقل ایک صنف کی صورت اختیار کرلی ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
آزاد نظم کا مطلب:
==========
اب سوال یہ ہے کہ “آزاد نظم” کا کیا مطلب ہے ، کیا یہ ہر لحاظ سے آزاد ہوتی ہے یا اس کی آزادیاں محدود ہیں اور دیگر پابندیاں اس پر بھی عائد ہوتی ہیں۔
اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ اس کی آزادیاں محدود ہیں۔
تفصیلی جواب یہ ہے کہ “آزاد نظم” میں دو لفظ ہیں ، ایک “آزاد” اور دوسرا “نظم” ، پہلے لفظ کا تقاضا یہ ہے کہ اسے کچھ ایسی آزادیاں ملنی چاہییں جو اس کے مقابل دیگر اصنافِ نظم (غزل ، قطعہ ، رباعی وغیرہ) میں نہیں ہوتیں ، دوسرے لفظ “نظم” کا تقاضا یہ ہے کہ اسے اتنی آزادی بھی نہ دی جائے کہ پھر اس میں اور “نثر” میں کوئی فرق نہ رہے۔
لہٰذا “آزاد نظم” قافیے ، ردیف اور تعداد ارکان کی پابندیوں سے آزاد ہوسکتی ہے ، مگر اس میں ایک یا متعدد ارکان کی تکرار ضروری ہوتی ہے ، کیونکہ اگر یہ پابندی بھی ختم کردیں تو پھر آہنگ بالکل ختم ہوجانے کی وجہ سے “آزاد نظم” اور “نثر” میں کوئی فرق نہ رہے گا ، سوائے اس کے کہ نثر کو ہم پیراگرافوں کی شکل میں لکھتے ہیں اور اسے اپنی صواب دید پر چھوٹی بڑی سطروں میں ، مگر یہ فرق اندازِ تحریر کا ہے نہ کہ اسلوبِ کلام کا ، نیز بعض لوگ اسے “نثری نظم” کا نام دیتے ہیں، غور کیا جائے تو یہ نام ہی اجتماع ضدین کی وجہ سے غلط ہے کہ کوئی بھی کلام یا تو نثر ہوگا یا نظم، نثر کا مطلب بکھیرنا اور نظم کے معنی ہیں پرونا، ہم کسی بھی چیز یا کلام کو کیسے بیک وقت بکھیر اور پرو سکتے ہیں؟
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
آزاد نظم کی آزادیاں:
===========
آزاد نظم تین لحاظ سے آزاد ہوتی ہے: (1)بحر (2)قافیہ (3)ردیف
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بحر کی آزادی:
اردو زبان میں سو سے زیادہ بحریں تو وہ ہیں جو مستعمل ہیں ، ان کے علاوہ بھی اگر کوئی شاعر اپنے طور پر ایک خود ساختہ وزن کے مطابق پوری غزل لکھ ڈالے تو اس کی بھی اجازت ہے ، بشرطیکہ پھر پوری غزل میں وہ اس وزن کو ملحوظ رکھے ، بس یہ کہا جائے گا کہ یہ غیر مستعمل وزن ہے۔
“آزاد نظم” کو اس پابندی سے آزادی دی گئی ہے ، شاعر کی مرضی ہے کہ وہ آزاد نظم کسی ایک بحر میں رکھے یا اس بحر کا صرف کچھ حصہ لے لے یا صرف ایک یا متعدد ارکان لے لے۔
جیسے بحر متقارب ہے فعولن فعولن فعولن فعولن
آزاد نظم میں چاہیں تو اسی وزن کے مطابق سارے مصرعے لکھیں یا چاہیں تو اس کے آخر سے کچھ بھی حذف کردیں ، جیسے::
فعولن فعولن فعولن فعولان
فعولن فعولن فعولن فعولن
فعولن فعولن فعولن فعو
فعولن فعولن فعولن ف
فعولن فعولن فعولن
فعولن فعولن فعو
فعولن فعولن ف
فعولن فعولن
فعولن فعو
فعولن ف
فعولن
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
قافیے کی آزادی:
آزاد نظم میں اختیار ہے کہ اسے مقفی رکھا جائے یا بغیر قافیے کے لکھا جائے ، پھر مقفی رکھنے میں بھی مزید یہ اختیار ہے کہ علم قافیہ کی شرائط آزاد نظم کے قوافی پر لاگو کی جائیں یا نہ کی جائیں ، مثلا غزل کے قوافی میں اتحادِ روی ضروری ہے، یہ نہ ہو تو کہا جائے گا کہ یہ شعر ایطائے جلی یا خفی کا شکار ہے، مگر آزاد نظم میں جب یہ اختیار ہے کہ قوافی رکھیں یا نہ رکھیں تو قوافی رکھنے کی صورت میں یہ اختیار بدرجہ اولی حاصل ہوگا کہ ان میں اتحاد روی کا خیال رکھا جائے یا نہ رکھا جائے جیسے “آنکھیں” اور “باتیں” کو غزل کے مطلع میں بطور قافیہ رکھنا ٹھیک نہیں ہے ، مگر آزاد نظم میں رکھ سکتے ہیں۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ردیف کی آزادی:
غزل میں یہ اختیار شاعر کو حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنی غزل کو غیر مردف رکھے یعنی اس میں ردیف کا التزام ہی نہ کرے بلکہ ہر شعر کا اختتام قافیے پر کرے، لیکن اگر کوئی شاعر اپنی غزل میں مطلع ایسا کہے جس میں قوافی کے بعد ردیف بھی ہے تو اب شاعر پر لازم ہے کہ وہ اس غزل کا ہر شعر مقفی و مردف کہے، مگر آزاد نظم میں شاعر کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ردیف رکھے یا نہ رکھے اور یہ بھی اختیار دیا گیا ہے کہ کچھ سطریں مردف رکھیں اور کچھ غیر مردف۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
آزاد نظم کی پابندیاں:
============
آزاد نظم میں تین پابندیاں ہوتی ہیں:
(1)معنوی ربط (2)خوبصورت الفاظ اور تراکیب (3)رکن یا ارکان کا تکرار
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(1) معنوی ربط:
آزاد نظم معنوی لحاظ سے مکمل مربوط ہونی چاہیے، شروع سے لے کر آخر تک قاری کو محسوس ہو کہ ایک عمدہ خیال کو دل کش انداز میں پرویا گیا ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(2)خوبصورت الفاظ اور تراکیب:
چونکہ قافیہ ، ردیف اور بحر کے لحاظ سے شاعر نے خود کو آزاد کردیا ہوتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ ان تینوں چیزوں سے کلام میں جو حسن پیدا ہوتا ہے اس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اپنے عالی تخیل کو پیش کرنے کے لیے دل نشین الفاظ ، شائستہ تراکیب اور شستہ اسلوب اختیار کرے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(3)رکن یا ارکان کا تکرار:
آزاد نظم میں تیسری پابندی یہ ہے کہ اس میں کسی ایک رکن یا متعدد ارکان کو کسی بھی مخصوص ترتیب سے ملحوظ رکھا جائے، بعض لوگ اس کی پابندی نہیں کرتے، خیال بھی اچھا ہوتا ہے ، الفاظ اور تراکیب بھی قابل تعریف ہوتے ہیں، مگر اس تیسری پابندی کو ملحوظ نہ رکھنے کی وجہ سے ان کا وہ کلام بجائے “آزاد نظم” بننے صرف “آزاد” رہ جاتا ہے، جسے آج کل بعض لوگ “نثری نظم” کا نام دینے پر مصر ہیں۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
آزاد نظم کا فارمیٹ:
===========
“آزاد نظم” میں صرف ارکان کی پابندی ہے، انھیں سالم رکھنا ہے یا مزاحف؟  کس تعداد اور ترتیب میں رکھنا ہے؟ اگر ایک سے زیادہ ارکان رکھنے ہیں تو کون کونسے رکھنے ہیں؟ اور کس تعداد اور ترتیب میں رکھنے ہیں؟ آخری رکن کو مکمل رکھنا ہے یا توڑنا ہے پھر اگر توڑنا ہے تو اگلی سطر کو رکن کی ابتدا سے شروع کرنا ہے یا جہاں سے توڑا ہے اسی کے بعد سے شروع کرنا ہے؟ یہ سب شاعر کی صواب دید پر منحصر ہے، البتہ اگر ایک سطر کا آخری رکن سالم رکھا ہے تو اس کے بعد والی سطر کی ابتدا رکن کے درمیان سے نہیں کرنی چاہیے۔
اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ آزاد نظم کی صورتوں کی تعداد بتانا مشکل ہے، البتہ آسانی کے لیے چند خاکے پیش کیے جاتے ہیں:
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
پہلا خاکہ: (مفردبحر، مکمل، آخری رکن سالم)
فعولن فعولن فعولن فعولن
فعولن فعولن فعولن فعولن
فعولن فعولن فعولن فعولن
فعولن فعولن فعولن فعولن
یا
فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن
فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن
فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن
فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن
یا
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
یا
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دوسرا خاکہ: (ایک سالم رکن کمی بیشی کے ساتھ، آخری رکن سالم)
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
مفاعیلن مفاعیلن
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
مفاعیلن
مفاعیلن مفاعیلن
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
تیسرا خاکہ: (دو سالم رکن کمی بیشی کے ساتھ، آخری رکن سالم)
فاعلن مفاعیلن فاعلن مفاعیلن
فاعلن مفاعیلن فاعلن
فاعلن مفاعیلن فاعلن مفاعیلن
فاعلن
فاعلن مفاعیلن
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
چوتھا خاکہ: (ایک سالم رکن، کمی بیشی کے ساتھ ، آخری رکن توڑ کر)
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فا
علاتن فاعلاتن فاعلاتن فا
فاعلاتن فاعلاتن فاعلا
تن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
پانچواں خاکہ: (دوسالم  رکن، کمی بیشی کے ساتھ، آخری رکن توڑ کر)
فاعلاتن مفاعلاتن فاعلاتن مفاعلن
فاعلاتن مفاعلاتن فاعلاتن مفا
علاتن فاعلاتن مفاعلاتن فاعلن
فاعلاتن مفاعلاتن فاعلات
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
چھٹا خاکہ: (ایک مزاحف رکن،کمی بیشی کے ساتھ، آخری رکن توڑ کر)
مفاعلن مفاعلن مفاعلن مفاعلن
مفاعلن مفا
مفاعلن مفاعلن مفاعلن مفا
علن مفاعلن م
فاعلن مفاعلن مفاعلن مفاعلن
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ساتواں خاکہ: (دو مزاحف رکن،کمی بیشی کے ساتھ، آخری رکن توڑ کر)
مفاعلن فعِلاتن مفاعلن فعِلاتن
مفاعلن فعِلاتن مفاعلن
فعِلاتن مفاعلن فعِلا
مفاعلن فعِلاتن مفاعلن فعِلا
تن مفاعلن فعِلاتن مفا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
آٹھواں خاکہ: (مزاحف مفرد  بحر، کمی بیشی کے ساتھ)
فعْل فعول فعول فعو
ل فعْل فعول فعول فعول
فعلن فعلن فعلن فعلن
فعل فعولن فعل
فعولن فعل فعو
لن فعل فعَل
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
نواں خاکہ: (مزاحف مرکب بحر، کمی بیشی کے ساتھ، آخری رکن سالم)
فاعلاتن فعِلاتن فعِلاتن فعِلن
فاعلاتن فعِلاتن فعِلاتن
فعِلن فاعلاتن  فعِلاتن
فاعلاتن فعِلاتن فعِلاتن
فعِلن
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
دسواں خاکہ: (مزاحف مرکب بحر، آخری رکن توڑ کر)
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
مفعول فاعلات مفاعیل
فاعلن مفعول فاعلات
مفعول فاعلات مفا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
افراط اور تفریط پر مبنی خیالات:
==============
(1) آزاد نظم شاعری نہیں ہے۔
(2) آزاد نظم میں رکن کی پابندی بھی نہیں ہونی چاہیے اور اسے “نثری نظم” کہا جائے۔
(3) آزاد نظم کی طرح غزل میں بھی بحر اور قوافی کی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔
(4) جو شاعر سے صادر ہو وہ شعر ہے خواہ وہ جملے عروض، قوافی، گرامر، روزمرہ وغیرہ کے اصول پر پورے اتریں یا نہ اتریں۔
(5) اصل چیز تخیل ہے، وزن، رکن، قافیہ وغیرہ سب بے کار کی باتیں ہیں۔

طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری