جلوہ نہیں ہے نظم میں حسن قبول کا ۔۔۔۔ غزل از میر تقی میر
جلوہ نہیں ہے نظم میں حسن قبول کا جلوہ نہیں ہے نظم میں حسن قبول کادیواں میں شعر گر نہیں نعت رسولؐ کا حق کی طلب ہے کچھ تو محمدؐ پرست ہوایسا وسیلہ ہے بھی خدا کے حصول کا مطلوب ہے زمان و مکان و جہان سےمحبوب ہے ملک کا فلک کا عقول کا احمدؐ […]
ہر ذی حیات کا ہے سبب جو حیات کا ۔۔۔۔ غزل از میر تقی میر
ہر ذی حیات کا ہے سبب جو حیات کا ہر ذی حیات کا ہے سبب جو حیات کانکلے ہے جی ہی اس کے لیے کائنات کا بکھری ہے زلف اس رخ عالم فروز پرورنہ بناؤ ہووے نہ دن اور رات کا در پردہ وہ ہی معنی مقوم نہ ہوں اگرصورت نہ پکڑے کام فلک کے […]
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا ۔۔۔۔ غزل از میر تقی میر
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھاخورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا ہنگامہ گرم کن جو دل ناصبور تھاپیدا ہر ایک نالے سے شور نشور تھا پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تئیں معلوم اب ہوا کہ بہت […]
دشوار ہے زمیں پہ ۔۔۔۔ غزل از معدوم فیروزی
دشوار ہے زمیں پہ یوں چلنا قدم قدم دشوار ہے زمیں پہ یوں چلنا قدم قدمکیجے دعا کہ اب ملے بھی کوئی ہم قدمبستی کو میری تیرا نشیمن متاعِ فخرہستی کو میری تیرے تصرف کا دم قدمجوشِ وصال کیسا ہو ہوشِ خیال کیارکھ دے جہاں پہ آپ کا حسنِ ستم قدمشام و سحر کا ان […]
کالی سیاہ رات ۔۔۔۔ غزل از محمد وسیم آدر
کالی سیاہ رات کوئی مسئلہ نہ تھا کالی سیاہ رات کوئی مسئلہ نہ تھاہوتا اگر وہ ساتھ، کوئی مسئلہ نہ تھاتذلیل کر رہے تھے مخالف یہی ہے دکھکرتا اگر وہ ہاتھ کوئی مسئلہ نہ تھامحفل جما کے بیٹھ گیا کس لیے وہاں ؟وقتی ہیں مشکلات، کوئی مسئلہ نہ تھاتربت پہ آج آ کے مری رو […]
کچے مکان ٹوٹ کے ۔۔۔۔ غزل از شاہد حسین استوری
کچے مکان ٹوٹ کے اب غار ہو گئے کچے مکان ٹوٹ کے اب غار ہو گئےاس پار کے جو زخم تھے اس پار ہو گئےکھیلا تھا کمسنی میں بہت دوستوں کے ساتھاب کیا کریں کہ وہ بھی سمجھدار ہو گئےگاوں میں جو سکون تھا وہ شہر میں کہاںڈھونڈا سکون شہر میں اور خوار ہو گئےتنہا […]
لہجہ ہے تلخ جس کا ۔۔۔۔ غزل از امان زرگر
لہجہ ہے تلخ جس کا، جو آتش مزاج ہے لہجہ ہے تلخ جس کا، جو آتش مزاج ہےوہ یارِ تند خو مرے پہلو میں آج ہے ہے اک فریب خوبئِ عالم مرے لئےنظروں میں رنگ و نور کا وہ امتزاج ہے اٹکی ہے جان لب پہ مرے چارہ گر بتاجز مرگ دردِ دل کا کہیں […]
آغاز ہی میں ۔۔۔۔ غزل از یعقوب پرواز
آغاز ہی میں کہہ گیا وہ بات آخری آغاز ہی میں کہہ گیا وہ بات آخریہونا ہی تھی یہ پہلی ملاقات آخریکہہ دو امیرِ شہر کو بس ہو چکی بہتاس شہر میں فقیر کی ہے رات آخریجس دن عدو کو جان کے لالے پڑے رہےترکش میں اہنے تیر تھا اُس رات آخریلایا گیا تھا دار […]
فن ایسا ہو کہ ۔۔۔ غزل از فیاض ڈومکی
فن ایسا ہو کہ کوزے میں دریا سمیٹ لے فن ایسا ہو کہ کوزے میں دریا سمیٹ لےمصرع کہو تو ایسا ، جو قصہ سمیٹ لےہے تیرے ظرف سے بڑا میرا وجودِ خاکآدھا بکھیر دے، مجھے آدھا سمیٹ لےممکن ہے ہار تھک کے زمانے سے آج وہرو کر کَہے خدا سے خدارا سمیٹ لےکس کو […]
نعتِ رسولِ مقبول ﷺ ۔۔۔۔ از محمد احمد زاہد
نعتِ رسولِ مقبول ﷺ قلبِ حزیں جو عشقِ نبی میں نہا گیادارِ بقا سمٹ کے نگاھوں میں آگیا روزِ ازل سے لمسِ پیمبرﷺ کا منتظرآمد سے ان کی عرش بھی معراج پا گیا ذکرِ رسولِ پاکﷺ کا فیضان دیکھیےقلب و نظر میں شمعِ محبت جلا گیا در پر گیا جو قاسمِ خلدِ بریںﷺ کے میںواللہ! […]