وفا کی راہ پر ۔۔۔۔ غزل از زبیر زائر
وفا کی راہ پر بزدل کبھی جایا نہیں کرتے وفا کی راہ پر بزدل کبھی جایا نہیں کرتےکہ اس پر جانےوالے لوٹ کر آیانہیں کرتے بنا دیتا ہے مردہ ، غم کسی کے چھوڑ جانے کاکہ پتے چھوڑ جائیں تو شجر سایہ نہیں کرتے یہ بِن سوچے گزرجاتےہیں اپنی جان سے اکثر ارےواعظ وفا والوں […]
عروجِ عشق ۔۔۔۔ نظم ، عبد الواحد کاظم
عروجِ عشق اثر دیکھے کوئی عاشق مری شمع کے جلنے کانہیں شمع میں بھی بارد،نہیں محفل میں خاشاکی عروجِ عشق باقی ہے مری محفل کی رونق میںمیں سودائی،تو ہرجائی،تو افلاکی،میں ہوں خاکی حرارت لی محبت سے ، نصیحت لی حکایت سےمیں خاکی ہوں تو لیلیٰ کی محبت میں بنا پاکی منافق بھی بری دوزخ سے […]
محبت ۔۔۔۔ نظم از عمران اقبال
محبت میں اِک دن سیر کو نکلا، مگر کیا دیکھتا ہوں میںحسینہ مسکراتی ہے، چلو دل پھینکتا ہوں میں نہ سوچا اُس گھڑی میں نے کہ کرنے جا رہا ہوں کیا؟کسی انجان کو دل میں بسا کر پا رہا ہوں کیا؟ خدا بھی ایک ہے اپنا، یہ دل بھی ایک ہے اپناتو دل کیوں غیر […]
پھر پاس نہ دل تھا نہ جگر ۔۔۔۔ غزل از ارشد رشید
پھر پاس نہ دل تھا نہ جگر، کچھ بھی نہیں تھا پھر پاس نہ دل تھا نہ جگر، کچھ بھی نہیں تھااِس عشق کے سودے میں ضرر کچھ بھی نہیں تھاکچھ سوچ کے تنہا ہی نکل آئے تھے گھر سے منزل نہ کوئی زادِ سفر ، کچھ بھی نہیں تھاہر سمت ملے دھوپ میں کُمھلائے […]
پندار کا نشہ ۔۔۔۔ غزل
پندار کا نشہ یہ اتر کیوں نہیں جاتا پِندار کا نشہ یہ اُتر کیوں نہیں جاتاجب کچھ نہیں باقی تو ہُنر کیوں نہیں جاتا کیا تم سے کہیں کیوں ہم اکیلے ہیں چمن میں ہجرت پہ پرندوں کی شجر کیوں نہیں جاتا تریاقِ مُحبت بھی اگر وقت ہے یارو اس زہر کا پھر دل سے […]
مجھے پاگل بنا کر جانے والے!
مجھے پاگل بنا کر جانے والے! دوانے پن سے جاں کیسے چھڑاؤں؟مجھے پاگل بنا کر جانے والے! طلب کی راہ میں مصروف کر کےنہ جا ایسے رلا کر جانے والے! بھلانے کا کہیں کچھ طے ہوا تھا؟زبردستی بھلا کر جانے والے! کلیجا منہ کو آیا ہے ، خبر ہے؟مجھے خود سے جدا کر جانے والے! […]
عاشقانہ مزاج
عاشقانہ مزاج پایا ہے عاشقانہ مزاج پایا ہےاک مرض لاعلاج پایا ہےجتنے سِمٹے ہیں فاصلے اُتنادوریوں نے رواج پایا ہےرنگ اور خوشبوؤں سے دلداریتتلیوں سا مزاج پایا ہےتیرگی میں کرن کرن ہم لوگجگنوؤں سے خراج پایا ہےعاشقی اور قرار چاہے دلکیسا سادہ مزاج پایا ہےوصل ممکن نظر نہیں آتاکتنا ظالم سماج پایا ہےروئے کچھ اسقدر […]
بند آنکھوں میں خواب کتنے تھے
بند آنکھوں میں خواب کتنے تھے بند آنکھوں میں خواب کتنے تھے دشت جاں میں سراب کتنے تھے لوحِ دل پر لکھے سوالوں کے آئنوں میں جواب کتنے تھے آج تک پوچھتا ہوں کانٹوں سے ٹہنیوں پر گلاب کتنے تھے شہر میں کوئی بھی نہ تھا تم سا میرے جیسے جناب کتنے تھے ہم نے […]
ہم سے ہوتا نہیں سفر تنہا
ہم سے ہوتا نہیں سفر تنہا ہم سے ہوتا نہیں سفر تنہا دل کا رہتا نہیں نگر تنہاہر طرف بھیڑ ہے جدھر دیکھو اس جہاں میں نہیں بشر تنہاملنا جلنا بہت ضروری ہے عشق ہوتا نہیں امر تنہا خوف طاری ہے دل پہ جانے کیوں لگ رہا ہے یہاں بشر تنہامیرے جیون کا تم سہارا […]
تو حُسن کا محور ہے، تو حُسن کا پیمانہ ۔ غزل از شاہ رئیس
تو حُسن کا محور ہے، تو حُسن کا پیمانہ تو حُسن کا محور ہے، تو حُسن کا پیمانہ تو واسطے میرے ہے اک گوہرِ یک دانہ مُسکان لبوں پر لا ، آنکھوں کو نہ نیچے رکھ صدقہ ترے ہونٹوں کا، نینوں کا ہو نذرانہ تو شمعِ فروزاں ہے، تو شعلۂ آتش ہے جل جائے گا […]