محمد اسامہ سَرسَری

لاگ اِن ہوکر 100 کوائنز مفت میں حاصل کریں۔

لگا ہوا ہوں ۔۔۔۔ غزل از صائم جی

لگا ہوا ہوں میں اسکا بھی حل نکالوں گا لگا ہوا ہوں میں اسکا بھی حل نکالوں گاتمھاری یاد کا نعم البدل نکالوں گاتمھارے ہجر کی کثرت سے میں توانا ہوںمجھے یقین ہے صحرا سے جل نکالوں گاکرشمہ سازیِ انساں سے کچھ بعید نہیںازل ابد سے ابد سے ازل نکالوں گایہ عشق مجھ سے نکمے […]

راہِ الفت میں ۔۔۔۔ غزل از محمد اسماعیل سیفی

راہِ الفت میں نہ احساسِ زیاں رہتا ہے راہِ الفت میں نہ احساسِ زیاں رہتا ہےجان جاتی ہے مگر ہوش کہاں رہتا ہےاب کسی چیز کا غم ہے نہ گلہ ہے کوئیاب فقط کوچۂ جاناں کا گماں رہتا ہےباغ الفت کے مقدر میں بہاریں ہی نہیںموسمِ گل میں خزاؤں کا سماں رہتا ہےیہ زمانے کے […]

دشوار ہے زمیں پہ ۔۔۔۔ غزل از معدوم فیروزی

دشوار ہے زمیں پہ یوں چلنا قدم قدم دشوار ہے زمیں پہ یوں چلنا قدم قدمکیجے دعا کہ اب ملے بھی کوئی ہم قدمبستی کو میری تیرا نشیمن متاعِ فخرہستی کو میری تیرے تصرف کا دم قدمجوشِ وصال کیسا ہو ہوشِ خیال کیارکھ دے جہاں پہ آپ کا حسنِ ستم قدمشام و سحر کا ان […]

کالی سیاہ رات ۔۔۔۔ غزل از محمد وسیم آدر

کالی سیاہ رات کوئی مسئلہ نہ تھا کالی سیاہ رات کوئی مسئلہ نہ تھاہوتا اگر وہ ساتھ، کوئی مسئلہ نہ تھاتذلیل کر رہے تھے مخالف یہی ہے دکھکرتا اگر وہ ہاتھ کوئی مسئلہ نہ تھامحفل جما کے بیٹھ گیا کس لیے وہاں ؟وقتی ہیں مشکلات، کوئی مسئلہ نہ تھاتربت پہ آج آ کے مری رو […]

پرانے زخموں پہ ۔۔۔۔ غزل از ندیم احمد

پرانے زخموں پہ رکھ کے مرہم ،نیا ہی منظر دکھا رہی ہیں پرانے زخموں پہ رکھ کے مرہم ،نیا ہی منظر دکھا رہی ہیںبہاریں ہم کو نجانے کیوں کرچمن میں پھر سے بلا رہی ہیںاسی چمن کی عنایتوں سے ہوا تھا چھلنی یہ سینہ میراکتابِ ماضی کی تلخ یادیں لہو کے آنسو رلا رہی ہیںیہ […]

نت نیا ہنگامۂ محشر ۔۔۔۔ غزل از تصور سمیع

نت نیا ہنگامۂ محشر بپا مٹی میں ہے نت نیا ہنگامۂ محشر بپا مٹی میں ہےدیکھ کتنا ظرف، کتنا حوصلہ مٹی میں ہےخاک کے پتلوں کو سعیِ غیر حاصل مت سمجھاس جہاں کا ہر خزانہ ہی چھپا مٹی میں ہےمبتلائے عشق کو لاؤ، مسیحائی کریںلادوا سارے مریضوں کی دوا مٹی میں ہےخاک زادوں کو کہاں […]

کچے مکان ٹوٹ کے ۔۔۔۔ غزل از شاہد حسین استوری

کچے مکان ٹوٹ کے اب غار ہو گئے کچے مکان ٹوٹ کے اب غار ہو گئےاس پار کے جو زخم تھے اس پار ہو گئےکھیلا تھا کمسنی میں بہت دوستوں کے ساتھاب کیا کریں کہ وہ بھی سمجھدار ہو گئےگاوں میں جو سکون تھا وہ شہر میں کہاںڈھونڈا سکون شہر میں اور خوار ہو گئےتنہا […]

غربت نے، در بدر کیا ہے ۔۔۔۔ غزل از محمد شیر عالم

غربت نے، در بدر کیا ہے غربت نے، در بدر کیا ہےبزدل کو بھی، نڈر کیا ہےجتنا بھی دکھ ملا ہے تم سےہم نے وہ در گزر کیا ہےتم جس کا سوچتے ہی ڈر جاوہم نے طے وہ سفر کیا ہےنکلا ہوں میں اُسی کی خاطردل میں جس کے بھی گھر کیا ہےمیں تیرا تو […]

منہ سے تو بس ۔۔۔۔ غزل از محمد شیر عالم

منہ سے تو بس کلام ہوتا ہے منہ سے تو بس کلام ہوتا ہےدل سے ہو پھر سلام ہوتا ہےہاتھ اٹھائے ہوے گزر جانایہ تو رسما سلام ہوتا ہےاوئے ہیلو یہ وہ کیا ہے سببندے کا کوئی نام ہوتا ہےجو ہو منسوب نام سے ان کےخوبصورت وہ نام ہوتا ہےسیکھو استاذ سے معلم کادل میں […]

لہجہ ہے تلخ جس کا ۔۔۔۔ غزل از امان زرگر

لہجہ ہے تلخ جس کا، جو آتش مزاج ہے لہجہ ہے تلخ جس کا، جو آتش مزاج ہےوہ یارِ تند خو مرے پہلو میں آج ہے ہے اک فریب خوبئِ عالم مرے لئےنظروں میں رنگ و نور کا وہ امتزاج ہے اٹکی ہے جان لب پہ مرے چارہ گر بتاجز مرگ دردِ دل کا کہیں […]