محمد اسامہ سَرسَری

لاگ اِن ہوکر 100 کوائنز مفت میں حاصل کریں۔

اس بات سے رہتا ہوں پریشان مسلسل ۔۔۔۔ غزل از محمد شیر عالم

اس بات سے رہتا ہوں پریشان مسلسل اس بات سے رہتا ہوں پریشان مسلسلرستہ ہے اجل کا تو بیابان مسلسل دنیا میں کوئی بات بھی مانی نہیں تم نےجب روک رہا تھا تمیں قرآن مسلسل مخلوق خدا اور بھی دنیا میں ہے عالمؔانساں ہی اٹھاتا ہے کیوں نقصان مسلسل؟ تو بھول گیا بات یہ کیسے […]

بچوں کے لیے نظمیں بنام اکڑ شاہ

اکڑ شاہ اکڑ شاہ اک شخص نادان تھاوہ اس بات سے لیکن انجان تھا تھی اس کی طبیعت میں آوارگیحماقت وہ کرتا تھا یک بارگی وہ قرضوں کے مارے پریشان تھااصولِ تجارت سے انجان تھا خریدار آتے تھے بس خال خالکہ موسم کا رکھتا نہ تھا وہ خیال کہ سردی میں وہ گولے گنڈے رکھےتو […]

دل تو کہتا ہے ۔۔۔۔ نظم از ارشد رشید

دل تو کہتا ہے کہ حالات پہ کچھ بات کروں آشکار  اپنے سُلگتے ہوئے جذبات کروں دل تو کہتا ہے کہ حالات پہ کچھ بات کروں چپ رہوں گا تو یہ ظالم کی مدد ہی ہوگی خامشی بھی کسی کافر کی رسد ہی ہوگی دل میں بھی آگ ہے ایسی کہ قلم جل جائے گر […]

کوئی اس ستم گر کو ۔۔۔۔ غزل از نوح ناروی

کوئی اس ستم گر کو آگاہ کر دے کہ باز آئے آزار دینے سے جھٹ پٹ کوئی اس ستم گر کو آگاہ کر دے کہ باز آئے آزار دینے سے جھٹ پٹ اِدھر کی اُدھر آج ہوتی ہے دنیا ،مریضِ محبت بدلتا ہے کروٹ کبھی پردہ داری کبھی خود نمائی کبھی کچھ رکاوٹ کبھی کچھ […]

مظلوم کو انصاف یوں پاتے نہیں دیکھا ۔۔۔۔ غزل از محمد شیر عالم

مظلوم کو انصاف یوں پاتے نہیں دیکھا مظلوم کو انصاف یوں پاتے نہیں دیکھاظالم کو کبھی دار پہ آتے نہیں دیکھا زردار کی آرائشیں دم ہی نہیں لیتیںمسکین کودو وقت بھی کھاتے نہیں دیکھا تعداد بہت کم تھی مگر ابن علی تھےمیدان انھیں چھوڑ کے جاتے نہیں دیکھا جس طرح کی قربانیاں تھیں آل نبی […]

حضرت عثمانِ غنی ۔۔۔۔ نظم از حافظ واجد علی واصف

عثمانؓ ہے ہمارا ، ہمیں جان سے ہے پیارا عثمانؓ ہے ہمارا ، ہمیں جان سے ہے پیارا رکھو نہ بغض لوگو! ، عثمانؓ سے خدارا عظمت انہیںؓ خدا نے ، بخشی جدا جہاں میں کردارِ دلنشیں کا روشن ہے وہؓ ستارا کرتے ہیں پیار ، اہلِ ایمان انؓ سے دل سے یہ شخص جنتی […]

گُلِ حریف ۔۔۔۔ غزل از حسیب جمال

گُلِ حریف تری زلف کی پناہ میں ہے گُلِ حریف تری زلف کی پناہ میں ہےعجب چراغِ رقابت شبِ سیاہ میں ہے۔دوآتشہ ہے یہ شعلہ جو میری آہ میں ہےکہ میرے ساتھ مرا خواب قتل گاہ میں ہے۔کہیں اسے ہی نہ کہتے ہوں صورِ اسرافیلعجیب شورِ قیامت دلِ تباہ میں ہے۔فصیلِ چشم پہ کتنے چراغ […]

خواب نامہ ۔۔۔۔ نظم از جواد جمیل

خواب نامہ اک شخص نے خوابوں سے لکھی ایک کہانیتعبیر کے صفحوں پہ قلم کرنے کی ٹھانی تقلید میں کیا صاحبِ دستار جو آئےگلزار ہوا آہِ شرر بار کا پانی تدبیر کے اوراق میں کچھ اور لکھا تھاتقدیر کے صفحات پہ تھی اور کہانی وہ لمحہ لہو خیز کہ اے کاش نہ آتامٹی کے حوالے […]

وار ایسا ہو کہ ۔۔۔۔ غزل از اسد رضا سحر

وار ایسا ہو کہ بالکل بھی نہ خالی جائے وار ایسا ہو کہ بالکل بھی نہ خالی جائےصلح کی ورنہ کوئی راہ نکالی جائےحیف ہےان پہ جو بنتے ہیں جدائی کا سببایسے لوگوں کی طرف آگ اچھالی جائےجب بھی ہونے لگے وحشت تو یہ دل کرتا ہےچاروں جانب تری تصویر بنا لی جائےروز کرتی ہے […]