سبق نمبر (1): تحقیقی مضمون تیار کرنے کا طریقہ
یہ ایک اسمارٹ ٹول ہے جس سے آپ کئی طرح کے کام لے سکتے ہیں، انھی میں سے ایک چیز تحقیقی مضمون تیار کروانے کی سہولت ہے، کیونکہ یہ ٹول وسیع پیمانے پر معلومات فراہم کرنے اور موضوعات پر تفصیلی جوابات دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آج ہم اسی کو سیکھیں گے۔
سب سے پہلے آپ کو موضوع کا انتخاب کرنا ہے، یہ کام آپ خود بھی کرسکتے ہیں کیونکہ آپ کو کس موضوع پر دسترس حاصل ہے یہ آپ ہی کو پتا ہے، البتہ چیٹ جی پی ٹی سے آپ یہ پوچھ سکتے ہیں کہ مجھے اس طرح کے موضوعات میں دلچسپی ہے، بتائیے فی زمانہ ان میں سے کس پر لکھنا زیادہ بہتر ہے، یہاں چیٹ جی پی ٹی آپ کو مختلف موضوعات کے مختلف اعتبار سے بہتر ہونے کی وضاحت بھی پیش کرے گا۔
اب آپ اس موضوع پر ابتدائی تحقیق اور سوالات تیار کریں اور پھر چیٹ جی پی ٹی سے اس کی مزید معلومات حاصل کریں۔
اب آپ ابتدائی مسودہ تیار کرنے کے بعد اس کا جائزہ لیں اور آخر میں مضمون کے تمام حوالہ جات اور مآخذ شامل کریں، اس کام میں بھی اولا چیٹ جی پی ٹی سے پوچھیں لیکن بعد ازاں ان تمام حوالہ جات کی از خود کتب بینی کرکے مراجعت ضرور کریں۔
خلاصہ یہ کہ چیٹ جی پی ٹی ایک جدید ٹیکنالوجی ہے جو تحقیقی مضامین تیار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کورس کے پہلے سبق میں آپ کو سب سے پہلے موضوع کا انتخاب کرنا سیکھنا ہوگا، جس کے لیے آپ چیٹ جی پی ٹی سے مشورہ لے سکتے ہیں۔ ابتدائی تحقیق اور سوالات تیار کرنے کے بعد چیٹ جی پی ٹی سے مزید معلومات حاصل کریں۔ مسودہ تیار کرنے کے بعد اس کا جائزہ لیں اور مضمون میں حوالہ جات اور مآخذ شامل کریں، جن کی تصدیق آپ خود بھی لازمی کریں۔
اہم بات: چیٹ جی پی ٹی کو آپ اپنے دل کی بات جتنی زیادہ تفصیل سے بتائیں گے اس کا جواب اتنا ہی اچھا آئے گا اور اگر آپ کو اس جواب سے تسلی نہ ہو تو رائٹ کلک یا لانگ پریس کرکے اسے ری جنریٹ کردیں، ہر بار یہ پہلے سے بہتر جواب دینے کی کوشش کرتا ہے۔ یاد رکھیں، چیٹ جی پی ٹی کو دنیا جہاں کی معلومات ہیں سوائے آپ کی چاہت کے اور آپ کو دنیا کی معلومات اگرچہ بالکل نہ ہو مگر اپنی چاہت کا مکمل علم ہے، لہٰذا آپ اپنا کام (چاہت کا اظہار) اگر اچھی طرح کریں گے تو چیٹ جی پی ٹی بھی اپنا کام (صحیح معلومات پیش کرنا) احسن طریقے سے پیش کرسکے گا۔
کام: پیش کردہ تفصیل کے مطابق ایک تحقیقی مضمون تیار کریں اور چیٹ جی پی ٹی سے ملنے والی نئی معلومات پیش کریں۔
سبق نمبر (2): ایک عملی مشق
فرض کریں کہ آپ کا موضوع ہے: “چیٹ جی پی ٹی سے فائدہ اٹھانے کے طریقے” آپ چیٹ جی پی ٹی سے مختلف سوالات کرکے اس موضوع پر ایک بہترین مضمون تیار کرسکتے ہیں۔ میں آپ کو اپنے سوالات اور چیٹ جی پی ٹی کے جوابات دکھاتا ہوں۔
میں: میرے ہر سوال کا مختصر اور ایک پیراگراف میں جواب دیجیے۔
چیٹ جی پی ٹی: ٹھیک ہے، میں آپ کے ہر سوال کا مختصر اور ایک پیراگراف میں جواب دوں گا۔
میں: چیٹ جی پی ٹی کو تحقیق میں کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے؟
چیٹ جی پی ٹی: چیٹ جی پی ٹی کو تحقیق میں استعمال کرنے کے کئی طریقے ہیں۔ سب سے پہلے آپ اسے اپنے تحقیقاتی سوالات کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ ٹول آپ کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مزید تفصیلی اور جامع سوالات تشکیل دے سکتا ہے، جس سے آپ کی تحقیق کی سمت واضح ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ، چیٹ جی پی ٹی مختلف مآخذ سے معلومات جمع کر کے آپ کو فراہم کر سکتا ہے، جس سے آپ کو تحقیق کے لیے درکار مواد تک آسانی سے رسائی مل جاتی ہے۔ آخر میں آپ اپنے تحقیقی مواد کی تصحیح اور تدوین کے لیے بھی چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کر سکتے ہیں۔
میں: چیٹ جی پی ٹی کی کون سی خصوصیات تحقیق کے لیے مفید ہیں؟
چیٹ جی پی ٹی: تحقیق کے لیے چیٹ جی پی ٹی کی تین خصوصیات انتہائی مفید ہیں: کریشن (Creation)، کلیکش (Collection)، اور کریکشن (Correction)۔ کریشن کا مطلب ہے کہ چیٹ جی پی ٹی آپ کے سوالات کی بنیاد پر نیا مواد تیار کر سکتا ہے، جیسے تحقیقی سوالات، تجزیے، یا خیالات۔ کلیکش کا مطلب ہے کہ چیٹ جی پی ٹی مختلف ذرائع سے معلومات اکٹھی کر سکتا ہے، جیسے حوالہ جات، مضامین، یا کتابوں کے اقتباسات۔ آخر میں کریکشن کا مطلب ہے کہ چیٹ جی پی ٹی آپ کے تیار کردہ مواد میں تصحیح اور تدوین کے عمل کو بہتر بنا سکتا ہے، جیسے کہ گرامر کی غلطیوں کو درست کرنا، جملوں کو بہتر بنانا، یا پیچیدہ خیالات کو سادہ الفاظ میں پیش کرنا۔
میں: چیٹ جی پی ٹی کو تحقیق کے علاوہ کن کن شعبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے؟
چیٹ جی پی ٹی: چیٹ جی پی ٹی کو تحقیق کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جیسے کہ تعلیم، کاروبار، اور تخلیقی تحریر۔ تعلیم میں، اس کو تدریسی مواد تیار کرنے، طلبہ کے سوالات کے جوابات دینے، اور نصاب کی تشکیل میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کاروبار میں، یہ تجزیاتی رپورٹس تیار کرنے، مارکیٹ کے رجحانات کی پیشگوئی کرنے، اور کسٹمر سپورٹ فراہم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ تخلیقی تحریر میں، چیٹ جی پی ٹی کہانیاں، مضامین، اور شاعری لکھنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔
آخر میں پھر وہی اہم بات: جیسا کہ پہلے سبق میں بتایا تھا، چیٹ جی پی ٹی کو آپ جتنا زیادہ تفصیل سے بتائیں گے، اس کا جواب اتنا ہی جامع ہوگا۔ تحقیق کے دوران آپ اپنے سوالات میں گہرائی پیدا کریں اور چیٹ جی پی ٹی سے مزید باریک بینی سے معلومات حاصل کریں۔
کام: اپنی ذاتی یا پیشہ ورانہ دلچسپی کے کسی بھی موضوع پر چیٹ جی پی ٹی سے خوب سوچ سمجھ کر تین مختلف سوالات پوچھیں۔ پھر اس کے جوابات کی روشنی میں ایک ایسا مختصر مضمون تیار کریں جو آپ کی دانست میں لوگوں کے لیے بالکل نیا اور معلومات افزا ہو۔
سبق نمبر (3): چیٹ جی پی ٹی پر لطیفے سنائیں
پہلے دو اسباق میں ہم نے چیٹ جی پی ٹی کے علمی استعمالات پر بات کی، اس سبق میں ہم سیکھیں گے کہ چیٹ جی پی ٹی پر تفریح طبع کے لیے یا اپنے کسی جریدے یا کتاب میں شامل کرنے کے لیے لطیفے بنوانے کا درست طریقہ کیا ہے؟
ایک طریقہ تو سیدھا سا یہ ہے کہ آپ لکھیں “مجھے ایک لطیفہ سنائیں۔” تو اس کا جواب کچھ اس طرح کے لطیفے پر مشتمل ہوگا:
ایک آدمی ڈاکٹر کے پاس گیا اور بولا، “ڈاکٹر صاحب، جب بھی میں چائے پیتا ہوں، مجھے آنکھوں کے سامنے دھندلا نظر آتا ہے۔”
ڈاکٹر نے پوچھا، “چائے کب پیتے ہو؟”
آدمی نے جواب دیا، “جب بھی چینی کا ڈھکن کھولتا ہوں!”
اگرچہ ہنسی اس پر بھی آئے گی مگر اس وجہ سے نہیں کہ یہ لطیفہ اچھا بلکہ اس وجہ سے کہ یہ بے سر و پا لطیفہ ہے۔
میں پہلے عرض کرچکا ہوں کہ چیٹ جی پی ٹی سے اپنے دل کی چاہت کے مطابق جواب حاصل کرنے کے لیے آپ کو اپنے سوال پر خوب محنت اور توجہ سے کام لینا ہوگا، ہمارے اس سوال کو اے آئی کی اصطلاح میں پرومٹ (Prompt) کہتے ہیں۔
اب یہی دیکھیں کہ ایک لطیفے کو کتنے پہلوؤں سے ہم پوچھ سکتے ہیں:
- لطیفے کی نوعیت بتاکر، مثلاً: “مجھے ایک دلچسپ لطیفہ سنائیں۔” یا “ایک سنجیدہ لطیفہ سنائیں۔”
- موضوع منتخب کرکے، مثلاً: “مجھے آئی ٹی کے بارے میں لطیفہ سنائیں۔”
- کردار کا انتخاب کرکے، مثلاً: “مجھے ڈاکٹر اور مریض پر مبنی لطیفہ سنائیں؟”
- زبان کی وضاحت کرکے، مثلاً: “مجھے عربی زبان میں ایک لطیفہ سنائیں۔”
- کلچر کی وضاحت کرکے، مثلاً: “مجھے پاکستانی لطیفہ سنائیں۔”
- سائز بتاکر، مثلاً: “مجھے ایک مختصر لطیفہ بتائیں۔” یا “مجھے ایک طویل لطیفہ سنائیں۔”
اب کچھ عملی مثالیں دیکھیں: (مگر ہنسنا منع ہے۔ 🙂)
میں: مجھے ایک لطیفہ سنائیں جو بے حد ہنسانے والا ہو، اردو میں ہو، پاکستانی کلچر کے مطابق ہو، دو احمقوں پر مشتمل ہو اور بہت زیادہ طویل نہ ہو۔
چیٹ جی پی ٹی: دو دوست، علی اور احمد، چائے پینے بیٹھے تھے۔ علی نے کہا، “احمد، تمہیں معلوم ہے کہ ہمارے ملک میں سب سے بڑی سرمایہ کاری کیا ہے؟”
احمد نے حیران ہو کر پوچھا، “کیا؟”
علی نے جواب دیا، “وقت!”
احمد نے کہا، “کیسا؟”
علی بولا، “کیونکہ جب بھی ہم کسی چیز کی طرف دیکھتے ہیں، ہم کہتے ہیں، ‘ابھی وقت آئے گا!'”
احمد نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا، “تم تو وقت کے بڑے ماہر نکلے!”
علی نے مسکرا کر کہا، “نہیں، بس وقت کو ضائع کرنے کا ماہر ہوں!”
میں: سیاسی لطیفہ سنائیں۔
چیٹ جی پی ٹی: ایک سیاستدان جلسے میں تقریر کر رہا تھا: “ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اگر ہماری حکومت آئی تو ہم پل بنا دیں گے!”
مجمع سے ایک آدمی بولا: “لیکن یہاں تو دریا ہی نہیں ہے!”
سیاستدان فوراً بولا: “دریا بھی بنا دیں گے!”
میں: نحوی لطیفہ سنائیں۔
چیٹ جی پی ٹی: ایک طالب علم اپنے استاد سے پوچھتا ہے، “استاد جی، اگر ’کھڑا‘ فعل ہے، تو ’بیٹھا‘ کیا ہوگا؟”
استاد نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، “بیٹھا ’حالِ کمزور‘ ہے!”
میں: ایسا لطیفہ سنائیں کہ ہنسی نہ آئے۔
چیٹ جی پی ٹی: ایک بار ایک عالم اپنے طلباء کو درس دے رہا تھا اور کہا، “اگر تمہارے پاس علم ہے، تو اسے لوگوں تک پہنچاؤ، لیکن ذرا احتیاط کے ساتھ۔”
ایک طالب علم نے سوال کیا، “احتیاط سے کس طرح؟”
عالم نے جواب دیا، “کیونکہ بعض اوقات علم کی زیادہ مقدار بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے، جیسے کہ بہت زیادہ نمک کھانے سے صحت متاثر ہوتی ہے!”
میں: سرچ کرکے وہ لطیفہ پیش کریں جسے سب سے اچھا ریسپانس ملا ہو۔
چیٹ جی پی ٹی: میں براہ راست ویب سرچ نہیں کر سکتا، لیکن یہاں ایک لطیفہ ہے جو عموماً لوگوں میں مقبول ہوتا ہے:
دو دوست پارک میں بیٹھے تھے۔ ایک نے کہا، “یار، میں نے سنا ہے کہ ایک آدمی نے درخت کے نیچے بیٹھ کر اتنی کتابیں پڑھی ہیں کہ اب درخت کی جڑیں بھی مطالعہ کرنے لگی ہیں!”
دوسرا دوست بولا، “واقعی؟”
پہلا دوست بولا، “ہاں، اور سب سے حیرت کی بات یہ ہے کہ درخت نے بھی اپنی ٹہنیاں بڑھا لیں ہیں تاکہ مزید کتابیں پکڑ سکے!”
میں: آم اور پیاز پر لطیفہ سنائیں۔
چیٹ جی پی ٹی: ایک بار ایک آدمی نے اپنے دوست سے کہا، “یار، آج کل تو آم بہت مہنگے ہیں!”
دوست نے جواب دیا، “ہاں، اور پیاز تو اتنے سستے ہیں کہ چالاک لوگ آم کو پیاز کے ساتھ ملا کر کھا رہے ہیں!”
آدمی حیران ہو کر بولا، “کیسے؟”
دوست مسکرا کر بولا، “کیونکہ پیاز کا رونا آم کی خوشبو کو بھلا دیتا ہے!”
میں: عربی میں لطیفہ پیش کریں۔
چیٹ جی پی ٹی: ذات من يروّج عن الحمار من هو؟
قال أحدهم: “هو الذي يحاول أن يقنع الناس أن الحمار يمكنه أن يطير.”
سأله آخر: “وماذا عن الحمار؟”
أجاب: “الحمار يحاول أن يظهر للناس أنه لا يزال يركب على الأرض!”
خلاصہ: چیٹ جی پی ٹی سے لطیفے سننے کے لیے پرومٹ میں لطیفے کی نوعیت، موضوع، کردار، زبان، کلچر اور سائز کو واضح کریں۔ اس طرح آپ کو وہ لطیفے ملیں گے جو آپ کی دلچسپی کے مطابق ہوں گے۔ اور اگر لطیفہ مطلب کا نہ ہو تو اسے رائٹ کلک یا لانگ پریس کریں، نیا لطیفہ آجائے گا۔
کام: چیٹ جی پی ٹی سے مختلف پرومٹس کے ذریعے لطیفے سنیں اور اپنا پرومٹ اور لطیفہ پیش کریں۔
سبق نمبر (4): چیٹ جی پی ٹی سے کہانی لکھوانے کا درست طریقہ
ایک بار پھر بتادوں کہ جب ہم چیٹ جی پی ٹی سے کسی سوال کا جواب مانگتے ہیں تو یہ تین مراحل میں کام کرتا ہے:
1. کلیکشن (Collection): پہلے مرحلے میں چیٹ جی پی ٹی آپ کے سوال کا تجزیہ کرکے متعلقہ معلومات اکٹھی کرتا ہے۔ یہ معلومات مختلف مآخذ سے جمع کی جاتی ہیں جو کہ چیٹ جی پی ٹی کے ماڈل کے اندر محفوظ کی گئی ہیں۔
2. کریشن (Creation): اگلے مرحلے میں چیٹ جی پی ٹی ان معلومات کی بنیاد پر نیا مواد تخلیق کرتا ہے۔ مثلاً اگر آپ نے کہانی لکھوانی ہے تو یہ کہانی کے مختلف عناصر جیسے کہ کردار، ماحول اور پلاٹ کو از خود تشکیل دیتا ہے۔
3. کرکشن (Correction): آخر میں چیٹ جی پی ٹی اپنے تخلیق کردہ اس مواد کی تصحیح کرتا ہے، تاکہ جواب خوب سے خوب تر شکل میں پیش کرسکے۔
یہ تین کام کرکے چیٹ جی پی ٹی ہمیں مطلوبہ مواد فراہم کردیتا ہے، لیکن اگر ہم اردو میں اس سے کام کرواتے ہیں تو یہ ان تین کاموں کے ساتھ ایک چوتھا کام ترجمانی کا بھی کرتا ہے کہ جو جواب تیار کرتا ہے وہ انگریزی میں ہوتا ہے، پھر چیٹ جی پی ٹی اسے اردو میں منتقل کردیتا ہے۔
اب اگلا کام ہمیں کرنا ہوگا اور وہ ہے اس سے حاصل شدہ جواب کو دیکھنا اور اسے اپنے مزاج کے مطابق درست اور تبدیل کرنا۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ چیٹ جی پی ٹی سے ایک کہانی کیسے لکھوا سکتے ہیں، کہانی لکھوانے کے لیے آپ اپنے پرومٹ میں چار چیزوں کی وضاحت پیش کریں تاکہ کہانی اچھے سے اچھے انداز میں وجود میں آسکے:
(1) کہانی کا موضوع اور بنیاد مثلاً: “مجھے دوستی پر کہانی سنائیں۔”
(2) کرداروں کا انتخاب مثلاً: “کہانی میں دو مرکزی کردار ہونے چاہییں، جن میں ایک کا نام احمد اور دوسرے کا نام فہد ہو۔”
(3) ماحول کی وضاحت کریں، مثلاً: “کہانی کسی دیہاتی علاقے میں پیش آئے۔”
(4) کہانی کا مقصد مثلاً: “کہانی کا اختتام اس بات پر ہو کہ دوستی کی طاقت سب مشکلات پر غالب آ جاتی ہے۔”
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
عملی مثال (1)
میں:
مجھے ایک کہانی سنائیں جس میں دو دوستوں کی کہانی ہو، کرداروں کے نام احمد اور فہد ہوں، اور کہانی کسی دیہاتی علاقے میں پیش آئے۔ کہانی کا اختتام دوستی کی اہمیت پر ہو۔
چیٹ جی پی ٹی:
احمد اور فہد بچپن سے بہترین دوست تھے۔ وہ دونوں ایک چھوٹے سے دیہات میں رہتے تھے، جہاں زندگی سادہ اور خوشیوں سے بھرپور تھی۔ ایک دن دونوں دوستوں کے درمیان ایک غلط فہمی ہو گئی جس کی وجہ سے ان کی دوستی میں دراڑ آ گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ دراڑ گہری ہوتی چلی گئی، لیکن دیہات میں پیش آنے والی ایک بڑی مشکل نے ان دونوں کو دوبارہ قریب کر دیا۔ فہد کو ایک سنگین بیماری لاحق ہو گئی اور وہ بہت پریشان تھا۔ احمد نے اپنی تمام ناراضی بھلا کر اپنے دوست کی مدد کی اور اس کے ساتھ کھڑا رہا۔ اس واقعے نے ان دونوں کو یہ سبق دیا کہ سچی دوستی کبھی نہیں مر سکتی اور ہر مشکل کا سامنا مل کر کیا جا سکتا ہے۔
۔ ۔ ۔
عملی مثال (2)
میں:
ایک مختصر سی کہانی لکھو جو تجسس سے بھرپور ہو اور اس کا اختتام چونکا دینے والا ہو۔
چیٹ جی پی ٹی:
رات کے سناٹے میں، ایک نوجوان لڑکی اپنی دادی کے پرانے گھر کی الماری میں رکھی ایک پراسرار ڈائری کو کھولتی ہے۔ جیسے ہی وہ پہلی تحریر پڑھنا شروع کرتی ہے، اسے احساس ہوتا ہے کہ یہ ڈائری اس کے ماضی کی کہانیاں نہیں بلکہ اس کے مستقبل کی تفصیلات بیان کر رہی ہے۔ خوف کے عالم میں، وہ جلدی سے آخری صفحہ پلٹتی ہے اور وہاں لکھا دیکھتی ہے: “کل رات، وہ اس ڈائری کو دوبارہ کھولے گی اور…”. اسی لمحے، دروازہ زور سے کھلتا ہے، اور وہ خود کو اسی لمحے کا سامنا کرتے ہوئے پاتی ہے جس کا ذکر ڈائری میں تھا۔
۔ ۔ ۔
عملی مثال (3)
میں:
ایک مختصر سی کہانی لکھو جو مزاح سے بھرپور ہو اور اس کا اختتام ہنسنے پر مجبور کر دینے والا ہو۔
چیٹ جی پی ٹی:
ایک شخص نے بازار سے نیا موبائل خریدا اور فخریہ انداز میں دوستوں کو دکھانے لگا۔ ایک دوست نے پوچھا، “کیا خاص بات ہے اس موبائل کی؟” وہ بولا، “اس میں اتنے فیچرز ہیں کہ یہ بتا نہیں سکتا!” دوست نے مذاقاً کہا، “چلو، آواز تو سناؤ!” وہ فوراً موبائل کو کان سے لگا کر بولا، “ہیلو؟” اچانک اس کی بیوی کی آواز آئی، “گھر آؤ، سبزی لانا بھول گئے ہو!” سب دوست ہنسنے لگے اور وہ موبائل چھپاتے ہوئے بولا، “ارے یار، یہ فیچر تو فیکٹری سیٹنگز میں تھا!”
۔ ۔ ۔
عملی مثال (4)
میں:
ایک مختصر سی کہانی لکھو جو غم سے بھرپور ہو اور اس کا اختتام ہنسنے پر مجبور کر دینے والا ہو۔
چیٹ جی پی ٹی:
ایک بوڑھا آدمی ہر روز پارک کی ایک بینچ پر بیٹھ کر اپنی مرحوم بیوی کی یاد میں آنسو بہاتا تھا۔ وہ لوگوں کو بتاتا کہ کیسے وہ دونوں ایک دوسرے سے بےپناہ محبت کرتے تھے اور کیسے اس کی بیوی اچانک اسے چھوڑ کر چلی گئی۔ ایک دن، ایک چھوٹا بچہ اس کے پاس آیا اور معصومیت سے پوچھا، “دادا، آپ کی بیوی کیوں چلی گئی؟” بوڑھے نے سسکتے ہوئے جواب دیا، “بیٹا، وہ اوپر چلی گئی۔” بچہ حیران ہو کر بولا، “وہاں کیا WiFi اچھا تھا؟” بوڑھا آدمی پہلے حیران ہوا، پھر ہنسنے لگا، اور بولا، “شاید اسی لیے!”
۔ ۔ ۔
عملی مثال (5)
میں:
ایک دلچسپ کہانی لکھو۔ موضوع: بجلی جانے پر گرمی کی برداشت ، کردار: حلیمہ اور اس کا چھوٹا بھائی حمزہ ، ماحول: متوسط گھر ، مقصد: میں برداشت پیدا ہوسکے۔
چیٹ جی پی ٹی:
حلیمہ اور اس کا چھوٹا بھائی حمزہ ایک متوسط گھر میں رہتے تھے۔ ایک دن بجلی اچانک چلی گئی اور گھر میں شدید گرمی پھیل گئی۔ حلیمہ نے اپنے بھائی کو تسلی دی، “فکر نہ کرو، ابھی تھوڑی دیر میں یہ گرمی ختم ہوجائے گی۔”
حمزہ، جو گرمی سے بے زار تھا، نے کہا، “کیسے ختم ہوگی؟ گرمی بہت زیادہ ہے!” حلیمہ نے اسے بہلاتے ہوئے کہا، “ہم ایک کھیل کھیلیں گے۔”
حلیمہ نے کچھ پنکھے، برف کی ٹکیاں، اور ایک پالتو جانور، جو تھوڑا سا ٹھنڈا تھا، جمع کیا۔ اس نے کہا، “ہم ان چیزوں کا استعمال کرتے ہوئے ایک ‘گرمی کا مقابلہ’ کھیلیں گے۔ دیکھو، کون سب سے زیادہ وقت گرمی کی برداشت کر سکتا ہے۔”
حمزہ نے ہنس کر کہا، “یہ کیسے ممکن ہے؟” حلیمہ نے مزاحیہ انداز میں کہا، “دیکھو، سب سے پہلے ہم پنکھے کی ہوا کو اپنی جان بچانے والا سمجھیں گے، پھر برف کی ٹکیاں ہمیں ٹھنڈک دیں گی، اور پالتو جانور بھی ہمارے ساتھ ہوگا۔”
انہوں نے کمرے میں ان سب چیزوں کا استعمال کرتے ہوئے، کھیل کے دوران مزے کرنے لگے۔ وہ برف کی ٹکیاں کھا کر اور پنکھے کی ہوا سے لطف اندوز ہو کر، گرمی کی شدت کو کم کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ حلیمہ نے حمزہ کو بتایا کہ یہ کھیل صرف مزے کا نہیں بلکہ برداشت سیکھنے کا بھی ہے۔
پھر، جب بجلی واپس آئی، اور گھر میں ٹھنڈک واپس آئی، تو حمزہ نے خوشی سے کہا، “یہ کھیل تو واقعی دلچسپ تھا! گرمی کی برداشت نے ہمیں سیکھا کہ ہم مشکل حالات کا سامنا کس طرح کر سکتے ہیں۔” حلیمہ نے مسکراتے ہوئے کہا، “دیکھو، برداشت کرنے کی سب سے بڑی بات یہی ہے کہ ہم مل کر مشکل حالات کا سامنا کریں، اور ان کے دوران بھی مزے کریں۔” خلاصہ:
کہانی لکھوانے کے لیے چیٹ جی پی ٹی سے واضح طور پر موضوع، کردار، ماحول، اور مقصد کی وضاحت کریں۔ اس طرح آپ کو وہ کہانی ملے گی جو آپ کے تخیل کے عین مطابق ہو۔
کام:چیٹ جی پی ٹی سے مختلف پرومپٹس کے ذریعے کہانی لکھوائیں اور اپنی پسندیدہ کہانی مع پرومٹ پیش کریں۔
طالبِ دعا: محمد اسامہ سَرسَری
سبق نمبر (5): چیٹ جی پی ٹی سے مشورہ کرنے کا طریقہ
چیٹ جی پی ٹی محض معلومات فراہم کرنے کا آلہ نہیں، بلکہ مختلف مہارتوں کا حامل ہے۔ یہ ہمیں ہماری ضروریات کے مطابق مفید مشورے دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آپ چیٹ جی پی ٹی سے زندگی کے مختلف شعبوں میں مشورہ کر سکتے ہیں، چاہے وہ تعلیمی مشورے ہوں، کاروباری فیصلے ہوں یا روزمرہ کی زندگی کے مسائل کا آسان حل۔
چیٹ جی پی ٹی سے درج ذیل کسی بھی سطح پر آپ مشورہ کرسکتے ہیں:
- تعلیمی منصوبے بنانے میں
- ریسرچ کے لیے مواد تیار کرنے میں
- مضامین اور کہانیوں کو مرتب کرنا اور ان کے اسلوب کی اصلاح کرنے میں
- کاروباری منصوبے، مارکیٹنگ کی حکمت عملی، نیز مالی منصوبہ بندی میں
- صحت مند غذا کے منصوبے اور ورزش کے لیے
- سفر کی منصوبہ بندی اور مقامات کی تفصیل میں
- کمپیوٹر، موبائل اور سافٹ ویئر کے مسائل میں
- گھریلو کاموں، خریداری اور نظام الاوقات کے حوالے سے
- دوستی، شادی، اور دیگر سماجی تعلقات کے مسائل پر
- ان کے علاوہ بھی کئی دیگر امور پر
عملی مثالیں:
-
میں: میں کراچی میں رہتا ہوں، مجھے آن لائن ارننگ شروع کرنی ہے اور پھر ایک سال میں اس میں خوب ترقی کرنی ہے، مگر میرے پاس پیسے بالکل نہیں، نہ ہی مجھے کوئی فن یا ہنر آتا ہے، نہ ہی تعلیم ہے، بس ایک موبائل ہے اور پڑوسی کے وائی فائی سے انٹرنیٹ چلالیتا ہوں، میں آن لائن ارننگ کیسے شروع کروں؟ میں دن کے بارہ گھنٹے محنت کرنے کے لیے تیار ہوں، میرے پاس سواری بھی نہیں ہے۔
چیٹ جی پی ٹی کا مشورہ: آپ کے لیے درج ذیل تجاویز مفید ہوسکتی ہیں:… -
میں: میں کراچی میں رہتا ہوں، مجھے پیسے کمانے ہیں اور پھر ایک سال میں اس میں خوب ترقی کرنی ہے، مگر میرے پاس پیسے بالکل نہیں، نہ ہی مجھے کوئی فن یا ہنر آتا ہے، نہ ہی تعلیم ہے، نہ ہی موبائل کی سہولت ہے، میں پیسے کمانا کیسے شروع کروں؟ میں دن کے بارہ گھنٹے محنت کرنے کے لیے تیار ہوں، میرے پاس سواری بھی نہیں ہے۔
چیٹ جی پی ٹی کا مشورہ: آپ کو جسمانی محنت والے کاموں پر غور کرنا چاہیے۔… -
میں: مجھے گٹکا اور چھالیا کھانے کی لت لگ چکی ہے، کئی بار کوشش کے باوجود نہیں چھوڑ سکا، کیا کروں؟
چیٹ جی پی ٹی کا مشورہ: آپ اس لت سے چھٹکارا پانے کے لیے پیشہ ورانہ مدد حاصل کریں، جیسے کہ کسی معالج یا مشیر سے رجوع کریں، جو نشہ چھڑانے میں مہارت رکھتا ہو۔… -
میں: بال نارمل سے زیادہ گر رہے ہیں اور سر میں جوئیں بھی ہوگئی ہیں، کوئی آسان علاج بتائیں۔
چیٹ جی پی ٹی کا مشورہ: بالوں کو مضبوط اور صحت مند رکھنے کے لیے پروٹین سے بھرپور غذائیں جیسے انڈے اور مچھلی، وٹامن اے سے بھرپور سبزیاں جیسے گاجر اور پالک، اور وٹامن سی سے بھرپور پھل جیسے سنگترہ اور لیموں مفید ہیں۔…
کام: چیٹ جی پی ٹی سے مختلف امور پر مشورے طلب کریں اور ان میں سے اپنے پسندیدہ مشورے مع سوالات پیش کریں۔
طالبِ دعا: محمد اسامہ سَرسَری
سبق نمبر (6): چیٹ جی پی ٹی بطور ٹولز
1. تحریر:
چیٹ جی پی ٹی کے ذریعے ہم اپنے مطلوبہ موضوع پر تفصیلی تحریر تیار کروا سکتے ہیں، چاہے وہ مضمون ہو، بلاگ پوسٹ، یا کوئی رپورٹ۔
2. تحریر میں تبدیلی یا کمی بیشی:
اپنی تحریروں میں مطلوبہ ترامیم، اضافے یا حذف بھی ہم چیٹ جی پی ٹی سے بآسانی کرسکتے ہیں۔
3. رپورٹ شیٹ:
اپنے ڈیٹا کی بنیاد پر رپورٹ شیٹس تیار کروانے میں چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کریں، جیسے کہ نتائج کی سمری، گراف اور چارٹس وغیرہ۔
4. حساب کتاب:
مختلف قسم کے حسابات جیسے کہ مالیاتی حسابات، شماریاتی تجزیے یا کسی بھی قسم کی کیلکولیشن کے لیے چیٹ جی پی ٹی سے کام لے سکتے ہیں۔
5. آئیڈیے:
کسی بھی نئے پروجیکٹ، مضمون یا اور کسی کام کے لیے آئیڈیاز کی ضرورت ہو تو چیٹ جی پی ٹی سے نئے اور تخلیقی آئیڈیاز حاصل کرسکتے ہیں۔
6. ایس ای او:
ویڈیوز یا ویب سائٹس کے لیے موزوں کی ورڈز کے انتخاب میں چیٹ جی پی ٹی ایک بہترین ٹول ہے۔
7. کوڈنگ:
اگر آپ کو ویب ڈیولپمنٹ، سافٹ ویئر انجینئرنگ یا کسی دوسرے مقصد کے لیے کوڈ کی ضرورت ہو تو چیٹ جی پی ٹی ایک ماہر اور رضاکارانہ پروگرامر بھی ہے۔
8. ترجمہ:
مختلف زبانوں میں ترجمہ کرنے کے لیے بھی چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کرسکتے ہیں۔
9. کورسز:
چیٹ جی پی ٹی سے کسی بھی فن ہنر یا زبان سیکھنے کے لیے آپ اسباق لے سکتے ہیں، آپ کے کہنے پر یہ آپ کو مشق بھی کرائے گا۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
عملی مشق:
میں:
بارش سے متعلق ایک خوبصورت سا پیراگراف لکھو۔
چیٹ جی پی ٹی:
بارش قدرت کا ایک حسین تحفہ ہے جو زمین کو زندگی بخشتی ہے۔ بادلوں کے گرجنے اور بجلی کی چمک کے ساتھ جب بارش کی بوندیں زمین پر گرتی ہیں، تو ہر چیز جیسے نکھر جاتی ہے۔ درختوں کے پتے تازہ ہو جاتے ہیں، پرندے خوشی سے چہچہانے لگتے ہیں، اور مٹی کی خوشبو دل کو سکون بخشتی ہے۔ بارش نہ صرف موسم کو خوشگوار بناتی ہے بلکہ دلوں کو بھی ایک عجیب سی راحت اور سرور بخشتی ہے، جیسے قدرت کی طرف سے سکون کا پیغام ہو۔ یہ لمحہ عارضی ہو سکتا ہے، مگر اس کی خوبصورتی دیر تک یاد رہتی ہے۔
میں:
اس تحریر میں کل کتنے حروف ہیں؟ کتنے الفاظ ہیں اور کتنے جملے ہیں؟
چیٹ جی پی ٹی:
اس تحریر میں کل 519 حروف، 86 الفاظ، اور 5 جملے ہیں۔
میں:
اس تحریر کو مختصر کرکے پچیس لفظوں سے کم میں پیش کرو۔
چیٹ جی پی ٹی:
بارش زمین کو تازگی بخشتی ہے، درخت نکھر جاتے ہیں، پرندے خوش ہوتے ہیں، اور فضا میں مٹی کی خوشبو پھیل جاتی ہے۔
میں:
اس تحریر کو طویل کرکے ایک ہزار حروف سے زیادہ کردو۔
چیٹ جی پی ٹی:
بارش ایک قدرتی نعمت ہے جو زمین کو زندگی بخشتی ہے اور ماحول کو خوشگوار بناتی ہے۔ جب آسمان پر بادل چھا جاتے ہیں اور ٹھنڈی ہوا چلنے لگتی ہے، تو دلوں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ بادلوں کا گرجنا اور بجلی کا چمکنا، گویا یہ اعلان کرتے ہیں کہ بارش ہونے والی ہے۔ بارش کی پہلی بوند جب زمین کو چھوتی ہے تو مٹی کی خوشبو فضا میں پھیل جاتی ہے، جو ایک منفرد احساس پیدا کرتی ہے۔ یہ خوشبو بچپن کی یادوں کو تازہ کر دیتی ہے، جب ہم بارش میں بھیگتے اور خوش ہوتے تھے۔ بارش کے قطرے درختوں کے پتوں پر پڑتے ہیں، جو انہیں نکھار دیتے ہیں۔ پرندے خوشی سے چہچہانے لگتے ہیں، اور درختوں پر نئے پتے اگنے لگتے ہیں۔ بارش کا پانی جھیلوں، دریاؤں اور تالابوں کو بھر دیتا ہے، جس سے پانی کی کمی دور ہو جاتی ہے۔ کسانوں کے چہروں پر مسکراہٹ آ جاتی ہے، کیونکہ بارش ان کی فصلوں کے لیے رحمت ہوتی ہے۔ بارش نہ صرف زمین کو سیراب کرتی ہے بلکہ دلوں کو بھی تازگی بخشتی ہے۔ یہ انسان کو سکون اور طمانیت کا احساس دلاتی ہے۔ بچے بارش میں کھیلنے کا موقع ڈھونڈتے ہیں، پانی میں چھپاکے مارتے ہیں، اور اپنی معصوم خوشیوں کا اظہار کرتے ہیں۔ بارش کی وجہ سے گرمی کی شدت کم ہو جاتی ہے، اور موسم ٹھنڈا اور خوشگوار ہو جاتا ہے۔ بارش کے بعد جب سورج کی کرنیں پانی کے قطروں پر پڑتی ہیں تو ایک خوبصورت قوس و قزح کا منظر سامنے آتا ہے، جو قدرت کی خوبصورتی کی عکاسی کرتا ہے۔ بارش کی آواز دل کو سکون پہنچاتی ہے، جیسے قدرت ایک پرسکون موسیقی بجا رہی ہو۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے جو دلوں کو راحت دیتا ہے اور زندگی کی ہلچل سے دور لے جاتا ہے۔ بارش کی بوندیں گویا پیغام دیتی ہیں کہ ہر مشکل کے بعد آسانی آتی ہے، اور ہر خشک سالی کے بعد بہار کا موسم ضرور آتا ہے۔ اس طرح بارش صرف ایک موسمی عمل نہیں بلکہ زندگی کی امید کی علامت ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یاد رکھیں:
مشین جتنی بھی عمدہ اور ماہر ہو، انسان کی صلاحیتیں ہمیشہ مقدم رہیں گی، آپ کے سوچنے کی صلاحیت ہمیشہ اس مشین سے آگے رہے گی، اس کی دلیل یہ ہے کہ چیٹ جی پی ٹی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے آپ کوئی بھی نئے سے نیا آئیڈیا سوچ کر اسے اس ٹول کے ذریعے خوب سے خوب تر انداز میں بروئے کار لا سکتے ہیں۔
کام:
اوپر دیے گئے ٹولز میں سے کسی ایک کو استعمال کرتے ہوئے یا کسی نئے ٹول کا آئیڈیا لڑا کر اس پر چیٹ جی پی ٹی سے کام لیں اور اپنا تجربہ درج کریں۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری