حضرت مولانا شمس الرحمٰن عباسی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا شمار اس دور کے جلیل القدر بزرگوں میں ہوتا ہے۔ آپ نے سلسلہ نقشبندیہ کے روحانی طریق کو اپنایا۔ آپ کے پہلے مرشد و مربی شیخ العرب و العجم حضرت مولانا عبدالغفور العباسی مدنی رحمہ اللہ تعالیٰ تھے، اس کے بعد آپ مولانا سید زوار حسین شاہ نقشبندی رحمہ اللہ تعالیٰ کے زیر تربیت رہے۔ پھر آپ نے کئی مشائخ و اساتذہ سے فیض حاصل کیا، جن میں مولانا مستجاب خان رحمہ اللہ تعالیٰ اور مولانا عبد الحق العباسی مدنی نقشبندی غفوری رحمہ اللہ تعالیٰ شامل ہیں۔
آپ نے 29 ذوالحجہ 1423ھ (مطابق 2003ء) کو خانقاہ غفوریہ حقانیہ نقشبندیہ کی بنیاد رکھی، جو تصوف سے وابستہ ایک روحانی مرکز ہے۔ آپ نے ذکر کی محفل کا آغاز صوفی محمد اقبال رحمہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کیا، جو شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا رحمہ اللہ تعالیٰ کے خلیفہ تھے۔
حضرت مولانا شمس الرحمٰن عباسی صاحب دامت برکاتہم العالیہ اپنی توانائیاں اور وقت اس بات پر صرف کر رہے ہیں کہ لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہو اور وہ سنتِ نبوی ﷺ کو مضبوطی سے تھامنے کی خواہش دل میں بیدار کرلیں۔
آپ کا شریعت سے غیر متزلزل تعلق اور سچی وابستگی ہی ہے جو طلبہ و علماء کی ایک بڑی تعداد کو آپ کا مرید بنا چکی ہے۔