جواب:
"آدمی" اور "انسان" دونوں عربی کے ہیں، آدمی کا مطلب جو آدم کی طرف منسوب ہو خواہ مرد ہو یا عورت، انسان انس سے ہے، حیوان ناطق کو کہتے ہیں، اس لحاظ سے حضرت آدم علیہ السلام کو انسان تو کہہ سکتے ہیں مگر آدمی نہیں، البتہ عام طور پر روزمرہ زبان میں ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، لیکن ذرا گہرائی میں دیکھا جائے تو ایک لطیف فرق مزید موجود ہے۔
"آدمی" کا تعلق زیادہ تر بنی نوعِ بشر کی ظاہری شناخت سے ہوتا ہے، یعنی وہ مخلوق جو حضرت آدم علیہ السلام کی نسل سے ہے اور انسانی شکل و صورت رکھتی ہے۔ جبکہ "انسان" کا مفہوم صرف جسم تک محدود نہیں، بلکہ عقل، شعور، اخلاق، احساس اور ذمہ داری جیسی باطنی صفات کا بھی حامل ہوتا ہے۔
یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہر آدمی انسان بننے کا اہل ہوتا ہے، مگر حقیقی انسان وہی ہوتا ہے جو اپنی عقل، اخلاق اور شعور کو بروئے کار لائے۔
آدمی ہونا پیدائش سے ہے، اور انسان بننا تربیت، علم اور سیرت کا تقاضا ہے۔