سوال:
اسکول میں کسی بھی لیکچر کے آغاز پر۔۔۔بسم اللہ مکمل بولنے کے علاوہ میں وائٹ بورڈ پر بھی اس نیت سے لکھ دیتا ہوں کہ لکھائی کا آغاز بھی اللہ کے نام سے ہو۔۔۔مگر کچھ لوگوں کے کہنے پر یہ فکر دامن گیر رہتی ہے۔۔کہ اس کو بعد میں مٹایا جاتا ہے۔۔اور سیاہی کے ذرات بھی گر جاتے ہیں یا ڈسٹر پر لگ جاتے ہیں۔۔اور اس طرح بے ادبی کا شائبہ ہے۔۔۔ساتھ یہ خیال بھی آتا ہے کہ مذہبی تدریس میں تو قرآنی آیات و احادیث مبارکہ لکھنا بھی مجبوری ہوتی ہے۔۔۔۔اس شش و پنج کی کیفیت میں کس بات کو کس نیت سے عمل میں لائیں۔۔۔۔؟
جواب:
اس کا تعلق نیت سے ہے، اگر معاذ اللہ کوئی تحقیر و اہانت کی نیت سے قرآنی آیت کو کہیں سے مٹاتا ہے تو یہ حد درجے بے ادبی اور دین و ایمان کے خسارے کی بات ہے، لیکن اگر کوئی تعلیم کی نیت سے لکھنے اور مٹانے کا عمل کرتا ہے جیسا کہ وائٹ بورڈ پر یا کاغذ پر لکھتے ہیں اور مٹا دیتے ہیں تو یہ جائز ہے کیونکہ اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے اور الامور بمقاصدھا، کہ کام میں اصل چیز مقصد ہے اور یہاں مقصد تعلیم ہے نہ کہ تحقیر۔
اسی طرح یہ ذرات اگر نیچے گرتے ہیں تو مجبوری کی وجہ سے یہ بھی بے ادبی شمار نہیں ہوں گے۔
یہی حکم موبائل وغیرہ سے آیات اور دعاؤں کو ڈیلیٹ کرنے کا ہے کہ تحقیر کی نیت سے نہ ہو تو جائز ہے۔
واللہ اعلم