محمد اسامہ سَرسَری

لاگ اِن ہوکر 100 کوائنز مفت میں حاصل کریں۔

صوم عاشورا پر کچھ علمی اشکالات

سوال:

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ حضرت بخاری شریف کی حدیث نمبر 2004 میں ہے کہ جب حضور مدینہ آئے تو یہود کو دیکھا کہ دس محرم کا روزہ رکھتے ہیں جب پوچھا گیا تو بتایا گیا کہ اس دن موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے نجات ملی اس خوشی میں ، تو حضور نے روزہ رکھنے کا حکم دیا کہ ہم زیادہ حقدار ہے ۔ دوسری بات بخاری شریف میں ہی ہے اور نور الانوار میں بھی ہے رمضان المبارک سے قبل عاشورہ کا روزہ فرض تھا ۔ فرض کیسے ہوگیا حالانکہ موسیٰ علیہ السلام کی مناسبت سے روزہ رکھا گیا تھا اور رمضان المبارک کی فرضیت دو ہجری شعبان میں آئی خیر اسکی ایک توجیہ میرے ذہن میں آتی ہے مزید آپ سے گزارش ہے تیسری بات حضور کو بتایا گیا کہ یہود بھی دس محرم کا روزہ رکھتے ہیں فرمایا اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو ایک روزہ ساتھ ملاؤں گا لیکن حضور کا اِنتقال ہوگیا ۔ اب ذہن میں تشویش ہے کہ یہود کے روزے کا تو پہلے سال علم ہوگیا تھا اور پھر دس ہجری تک مدینہ سے تمام یہود کے قبائل کا قلع قمع ہوگیا تھا اب  کیسے یہ بات سامنے آئی ۔ یہ بات ہے ۔ شفقت فرماتے ہوئے رہنمائی فرمائیں ۔ جزاکم اللہ خیرا

جواب:

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ معارف الحدیث میں اس کی تفصیل موجود ہے، ملاحظہ کیجیے: اس حدیث کے ظاہری الفاظ سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے بعد مدینہ پہنچ کر ہی عاشورہ کے دن روزہ رکھنا شروع فرمایا۔ حالانکہ صحیح بخاری و صحیح مسلم ہی میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی صریح روایت موجود ہے کہ قریش مکہ میں قبل از اسلام بھی یومِ عاشورہ کے روزے کا رواج تھا اور خود رسول اللہ ﷺ بھی ہجرت سے پہلے مکہ معظمہ میں یہ روزہ رکھا کرتے تھے۔ پھر جب آپ نے مدینہ ہجرت فرمائی تو یہاں آ کر آپ نے خود بھی یہ روزہ رکھا اور مسلمانوں کو اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ یوم عاشورہ زمانہ جاہلیت میں قریش مکہ کے نزدیک بھی بڑا محترم دن تھا اسی دن خانہ کعبہ پر نیا غلاف ڈالا جاتا تھا اور قریش اس دن روزہ رکھتے تھے۔ قیاس یہ ہے کہ حضرت ابراہیمؑ و اسماعیلؑ کی کچھ روایات اس دن کے بارے میں ان تک پہنچی ہو گی اور رسول اللہ ﷺ کا دستور تھا کہ قریش ملت ابراہیمی کی نسبت سے جو اچھے کام کرتے تھے ان میں آپ ﷺ ان سے اتفاق اور اشتراک فرماتے تھے۔ اسی بناء پر حج میں بھی شرکت فرماتے تھے۔ پس اپنے اس اصول کی بناء پر آپ قریش کے ساتھ عاشورہ کا روزہ بھی رکھتے تھے، لیکن دوسروں کو اس کا حکم نہیں دیتے تھے .... پھر جب آپ مدینہ طیبہ تشریف لائے اور یہاں کے یہود کو بھی آپ ﷺ نے عاشورہ کا روزہ رکھتے دیکھا اور ان سے آپ کو یہ معلوم ہوا کہ وہ یہ مبارک تاریخی دن ہے جس میں حضرت موسیٰؑ اور ان کی قوم کو اللہ نے نجات فرمائی تھی اور فرعون اور اس کے لشکر کو غرقاب کیا تھا (اور مسند احمد وغیرہ کی روایت کے مطابق اسی یوم عاشورہ کو حضرت نوحؑ کی کشتی جودی پہاڑ پر لگی تھی) تو آپ ﷺ نے اس دن کے روزے کا زیادہ اہتمام فرمایا، اور مسلمانوں کو عمومی حکم دیا کہ وہ بھی اس دن روزہ رکھا کریں۔ بعض احادیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے اس کا ایسا تاکیدی حکم دیا جیسا حکم فرائض اور واجبات کے لیے دیا جاتا ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ربیع بن معوذ بن عفراء ؓ اور سلمہ بن الاکوع سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یوم عاشورہ کی صبح مدینہ کے آس پاس کی ان بستیوں میں جن میں انصار رہتے تھے یہ اطلاع بھجوائی کہ جن لوگوں نے ابھی کچھ کھایا پیا نہ ہو وہ آج کے دن روزہ داروں کی طرح رہیں ..... ان حدیثوں کی بناء پر بہت سے ائمہ نے یہ سمجھا ہے کہ شروع مین عاشورہ کا روزہ واجب تھا، بعد میں جب رمضان مبارک کے روزے فرض ہوئے تو عاشورہ کے روزے کی فرضیت منسوخ ہو گئی اور اس کی حیثیت ایک نفلی روزے کی رہ گئی ہے جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد ابھی اوپر گزر چکا ہے کہ " مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اس کی برکت سے پہلے ایک سال کے گناہوں کی صفائی ہو جائے گی۔ " اور صوم یوم عاشورہ کی فرضیت منسوخ ہو جانے کے بعد بھی رسول اللہ ﷺ کا معمول یہی رہا کہ آپ رمضان مبارک کے فرض روزوں کے علاوہ سب سے زیادہ اہتمام نفلی روزوں میں اسی کا کرتے تھے۔ (معارف الحدیث، کتاب الصوم، باب: یوم عاشورہ کا روزہ اور اس کی تاریخی اہمیت، حدیث نمبر: 950)